Baaghi TV

Tag: ہیکرز

  • 20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا ڈیٹا ہیک ہوگیا

    20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا ڈیٹا ہیک ہوگیا

    20 لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں کا سافٹ ویئر پر استعمال ہونے والا ڈیٹا ہیک ہوگیا اور سافٹ ویئر پر استعمال ہونے والا 20 لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں کا ڈیٹا ہیک ہوچکا ہے جبکہ ہیکرز نے ریسٹورنٹس میں استعمال ہونے والا سافٹ ویئر ہیک کرلیا، 20 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کا پرسنل ڈیٹا انٹرنیٹ پر فروخت کےلیے دستیاب ہے۔

    ہیکرز نے انٹرنیٹ پر ڈیٹا برائے فروخت کا اشتہار بھی دے دیا۔ جیو نیوز نے ہیکرز کی اپ لوڈ کی گئی تصاویر حاصل کرلیں، اشتہار کے ہمراہ کئی پاکستانیوں کا پرسنل ڈیٹا سیمپل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ہیکرز کا کہنا ہے کہ ہم نے 250 سے زائد ریسٹورنٹس کا کسٹمر ڈیٹا بیس ہیک کرلیا ہے، شہریوں کے کریڈٹ کارڈ نمبرز اور موبائل نمبرز کا ڈیٹا بھی سیمپل میں موجود ہے۔

    کس شہری نے کس ریسٹورنٹ میں کتنی بار اور کتنی ادائیگی کی اس کا سارا ڈیٹا بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔ انٹرنیٹ پر برائے فروخت 22 لاکھ شہریوں کے ڈیٹا کی قیمت 2 بٹ کوائن مانگی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک بٹ کوائن کی قیمت 27 ہزار ڈالر ہے، پاکستانی روپوں میں دو بٹ کوائن کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
    ذرائع کے مطابق ہیکرز کے اشتہار میں چھوٹے بڑے درجنوں ریسٹورنٹس کے نام بھی موجود ہیں۔ مخصوص سافٹ ویئر پاکستان میں سیکڑوں ریسٹورنٹس استعمال کرتے ہیں۔ ادھر سائبر کرائم سرکل کا کہنا ہے کہ معاملے سے متعلق تاحال کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

  • سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اورحساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش

    سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اورحساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش

    وزیر اعظم آفس نے بڑے سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اور حساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش کا باقاعدہ انکشاف کر دیا

    سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کے سینیئر سرکاری عہدیداران کے موبائل فون ہیک کرنے اور حساس معلومات کے حصول کی کوشش کا پتا چلا ہے۔ نگران حکومت نے تمام سرکاری افسران کو چوکنا رہنے اور اِیسے کسی بھی میسیج کا جواب نہ دینے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

    جاری اعلامیہ کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے حکومت کے سینیئر سرکاری عہدیداران کے موبائل فون ہیک کرنے اور حساس معلومات کے حصول کی کوشش بے نقاب کی ہے، ملوث عناصر نے سینیئر سرکاری عہدیداران کے نام پر سرکاری افسران و بیوروکریسی سے حساس معلومات کے حصول کی مزموم کوشش کی،اس کے لئے واٹس ایپ پر موبائل ہیکنگ لنک بھیج کر معلومات کے حصول کی بھی کوشش کی،

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    30 بور پستول کا نام کیمرہ نائن ایم ایم کا نام میموری کارڈ، وقار ڈان کا گرفتاری کے بعد انکشافات

    حکومت نے تمام سرکاری افسران کو چوکنا رہنے اور ایسے کسی بھی میسیج کا جواب نہ دینے کی ہدایت کر دی، افسران کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ایسا موبائل پیغام موصول ہونے پر فوری طور پر کابینہ ڈویژن کو اطلاع دی جائے.پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اس معاملے میں پوری طرح الرٹ ہیں.

    آپ کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

    دنیا کے تیسرے بڑے ہیکر کا انٹرویو ہیکر پاکستانی نہیں ہے، سنئے اہم انکشافات

    پیسے نہیں مانگ رہا، جمعہ کو مزید آڈیو جاری کروں گا۔ ہیکر کا پیغام

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

  • ہیکرز ہیلپ لائن سے ملتے نمبروں سے کال کرکے لوٹنے لگے

    ہیکرز ہیلپ لائن سے ملتے نمبروں سے کال کرکے لوٹنے لگے

    قصور
    یو بی ایل بینک لمیٹڈ کے صارف کے ساتھ فراڈ،ہیکرز نے کال کرکے کوڈ منگوایا اور 60 ہزار نکلوا لئے،بینک کی ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبرز سے کالز کرکے شہریوں کو ورغلا کر پن کوڈ حاصل کیا جاتا ہے،شہریوں سے محتاط رہنے کی درخواست

    تفصیلات کے مطابق ہیکرز نے شہریوں کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے
    ہیکرز بینک کی ہیلپ لائن سے ملتے جلتے نمبرز سے کال کرکے شہریوں کو ورغلا کر ان کے اکاؤنٹس سے پیسے نکال رہے رہیں
    گزشتہ دن قصور کے قصبے مصطفی آباد للیانی کے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کے صارف کو بینک کی ہیلپ سے ملتے نمبر
    +211 118 285 88
    سے کال آئی کہ آپ کا اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہے لہذہ اپنا پن کوڈ بتائیں صارف نے کہا کہ آپ بینک سے بات نہیں کر رہے لہذہ میں آپکو نہیں بتاؤنگا جس پہ ہیکر نے کہا کہ آپ بینک کا ہیلپ نمبر اے ٹی ایم پہ دیکھیں ہم اسی نمبر سے بات کر رہے ہیں
    شہری نے بینک ہیلپ لائن سے ملتے نمبر کو بینک کا نمبر سمجھ کر اپنا پن کوڈ اور سم پہ آنے والا میسج ان کو بتا دیا جس کے فوری بعد شہری کے اکاؤنٹ سے مبلغ 60000 روپیہ نکال لئے گئے

    واضع رہے کہ جاز کیش،یو بی ایل اومنی و دیگر بینک کی ہیلپ لائنز سے ملتے جلتے نمبروں سے ہیکر کال کرتے ہیں ان کالز نمبرز سے پہلے اصل ہیلپ لائن نمبرز سے ایک آدھ بلخصوص + اضافی ہوتا ہے لہذہ شہری احتیاط سے کام لیں اور کسی کو بھی اپنی معلومات فراہم نا کریں

  • ہیکرز نے تاوان  ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    روسی ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پر امریکی مریضہ کی برہنہ تصاویر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق روسی ہیکرز نے 4 مارچ کو امریکی ریاست پینسلوینیا کے اسپتال لی ویلی ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈیٹا پر سائبر حملہ کیا جس کے بعد 6 مارچ کو اسپتال انتظامیہ نے سائبر حملے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو آگاہی دی تاہم ہیکرز اسپتال کا ڈیٹا چرانے میں کامیاب رہے۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    ہیکرز نے اسپتال انتظامیہ کو ای میل کی گئی جس میں انہوں نے لکھا کہ لمبے عرصے سے ہم آپ کے نیٹ ورک میں موجود تھے اور آپ کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے، جس میں مریضوں کی تفصیلات، ان کے پاسپورٹس کی مندرجات، سوال نامے، نجی معلومات اور برہنہ تصاویر شامل ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ڈارک ویب پر ڈیٹا جاری نہ کرنے کے بدلے میں ہیکرز کی جانب سے 15 لاکھ امریکی ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی فوج نے اپنے ہی گاؤں پر گولہ گرادیا ،3 دیہاتی ہلاک اور متعدد زخمی

    اسپتال کی جانب سے تاوان کی رقم دینے سے انکار کے بعد ہیکرز نے کینسر کی مریضہ کی تفصیلات پر مبنی سات دستاویزات اور ریڈی ایشن اونکولوجی ٹریٹمنٹ لیتے ہوئے تین برہنہ تصاویر کے اسکرین شاٹس سمیت دیگر ڈیٹا ڈارک ویب پر اپلوڈ کر دیا۔

    ہیکرز نے کہا کہ ہمارے بلاگ کو دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی، اور آپ کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچے گی-

    امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے جنوری میں کہا تھا کہ بلیک کیٹ نے 1.5 ملین ڈالر تک تاوان کا مطالبہ کیا ہےایلنٹاؤن، پنسلوانیا میں مقیم کمپنی نے کہا کہ مریض کا ڈیٹا شائع کرنا ‘قابل نفرت’ تھا۔

    کمپنی نے کہا، ‘یہ غیر ذمہ دارانہ مجرمانہ فعل کینسر کا علاج کروانے والے مریضوں کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور LVHN اس نفرت انگیز رویے کی مذمت کرتا ہے-

    ہیلتھ کیئر کمپنی کے سی ای او برائن نیسٹر نے کہا کہ وہ ابھی تک اس واقعے میں ملوث معلومات کی شناخت کر رہے ہیں ہم ان لوگوں کو نوٹس فراہم کریں گے جن کی معلومات اس میں شامل تھیں۔

  • ہیکرز کا ایف بی آئی کے نیویارک آفس میں سائبر اٹیک

    ہیکرز کا ایف بی آئی کے نیویارک آفس میں سائبر اٹیک

    ہیکرز نے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے نیویارک آفس میں ایک پراسرار سائبر اٹیک کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس اور چین کے ساتھ مغربی تناؤ کے درمیان ہیکرز نے ایف بی آئی کے سب سے بڑے دفتر کے کمپیوٹرز کو نشانہ بنا ڈالا ہے حکام نے اطلاع دی کہ دفتر سائبر اٹیک پر قابو پانے کےلیے کام کررہا ہےحملے سے گزشتہ دنوں کمپیوٹر نیٹ ورک کا ایک حصہ متاثر ہوا ہے۔

    انٹرنیٹ کے بارے ایلون مسک کی ماضی میں کی گئی پیشگوئی درست ثابت

    سی این این کے مطابق کے مطابق ایف بی آئی حکام کاخیال ہےکہ یہ واقعہ بچوں کےجنسی استحصال کی تصاویراورنیٹ ورکس کی تحقیقات میں استعمال ہونے والے کمپیوٹر سسٹم سے متعلق ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس واقعہ سے آگاہ ہے اور اضافی معلومات حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے ایف بی آئی نے اپنے بیان میں زور دیا کہ یہ واقعہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہے سائبر اٹیک کی تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    واضح رہے دفتر نے خود 2021 کے نومبر میں ایک ہیکنگ کا واقعہ بھی دیکھا تھا جس میں ایک پارٹی نے ایف بی آئی کے ذریعے استعمال ہونے والے ای میل ایڈریس کو امریکہ میں سرکاری اور مقامی قانون نافذ کرنے والے حکام سے بات چیت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

    ہزاروں تنظیموں کو جعلی ای میلز بھیجی گئی تھیں اور ان ای میلز کے ذریعے بھیجے گئے مبینہ خط میں بتایا گیا تھا کہ کوئی خطرہ ہے۔ اس وقت ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کا اعلان کیے بغیر اس واقعے کو سافٹ ویئر کی کمزوری سے منسوب کیا تھا۔

    رجیم چینج سے متعلق امریکا پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں،امریکا

  • برطانوی صحافی اور سیاسی شخصیات ایرانی اور روسی ہیکرز کے نشانے پر

    برطانوی صحافی اور سیاسی شخصیات ایرانی اور روسی ہیکرز کے نشانے پر

    برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی اور روسی ہیکرز حساس ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے برطانوی صحافیوں اور سیاسی شخصیات کے کمپیوٹر ڈیٹا پر سائبر حملے کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے’ بی بی سی‘ کے مطابق برطانوی انٹیلی جنس اینڈ سکیورٹی سروس سے منسلک نیشنل سینٹر فار سائبر سکیورٹی نے ایک بیان میں کچھ افراد اور اداروں کو نشانہ بنانے والی ہیکنگ کی کوششوں میں اضافے پر روشنی ڈالی۔

    دہشتگردوں کو مدد فراہم کرنے کے الزام میں برطانوی فوج کا اہلکار گرفتار

    این سی ایس سی نے کہا کہ ہیکرز عام طور پر ایران اور روس کے بارے میں تحقیق اور کام کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں،اس نے ہیکنگ گروپوں کو اپنے اہداف کے تعاقب میں "بے رحم” قرار دیا۔

    این سی ایس سی جو کہ یو کے کی سائبر اور انٹیلیجنس ایجنسی GCHQ کا حصہ ہےاورسائبر سیکیورٹی کے مشورے دیتا ہےنے وضاحت کی کہ حملے عوام کو نہیں بلکہ مخصوص افراد اور گروہوں کو نشانہ بنا رہے تھے، جن میں سیاستدان، اہلکار، صحافی، کارکن اور تھنک ٹینکس شامل ہیں۔

    سینٹر کے سربراہ پال چیچسٹر نے کہا کہ یہ مہمات جو روس اور ایران میں مقیم لوگوں کی طرف سے چلائی جاتی ہیں، آن لائن ڈیٹا چوری کرنے اور ممکنہ طور پر حساس نظاموں سے نمٹنے کے لیے اپنے اہداف کو نشانہ بناتی ہیں۔

    صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    بیان میں خاص طور پر دو گروہوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ روس میں واقع "SEABORGIUM” اور ایران میں واقع "TE453” (TA453) سائبر گروپ سرگرم ہیں مگر دونوں دونوں کی مہمات الگ الگ ہیں، دونوں گروہ ایک جیسی تکنیک استعمال کرتے ہیں اور ایک جیسے مقاصد رکھتے ہیں۔

    اپنے بیان میں مرکز نے اشارہ کیا کہ سائبر حملے عام لوگوں کو نشانہ نہیں بناتے ہیں بلکہ مخصوص شعبوں، خاص طور پر تعلیم، دفاع، سرکاری تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں، تھنک ٹینکس، سیاست دانوں، صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

    ہیکرز اعتماد پیدا کرنے کے لیے اکثر حقیقی رابطوں کا استعمال کرتے ہیں، اور نقصان دہ کوڈ پر مشتمل ایونٹس یا زوم میٹنگز میں جعلی دعوت نامے بھیجتے ہیں۔ اگر اس پر کلک کیا جاتا ہے، تو ان اکاؤنٹس سے ہیکر کو حساس معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

  • روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    سائبرسیکیوریٹی کمپنی گروپ۔ آئی بی نامی ایک کمپنی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ روسی زبان بولنے والوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ کمپیوٹر ہیکنگ، پاس ورڈ چوری اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گروپ-آئی بی نے ایمیزون اور پے پال سمیت اکاؤنٹس کے پاس ورڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ادائیگی کے ریکارڈ اور کرپٹو بٹوے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میلویئر استعمال کرنے والے گروپوں کی نشاندہی کی-

    ایلون مسک کی دولت میں 100 ارب ڈالرز کی کمی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی زبان بولنے والے لوگوں نے رواں سال کے دوران پہلے سات ماہ میں 6300 الیکٹرنکس آلات یا مشینیوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سات لاکھ کمپیوٹرز یا دوسری چیزوں کے ‘ پاس ورڈز ‘ چوری کیے ہیں۔ اس طرح 1300 سے زیادہ افراد کےکریڈٹ کارڈز کی تفصیلات کا حصول ممکن بنایا۔ تاہم سعودی عرب میں یہ وارداتیں مقابلتاً کم ہوئی ہیں جہاں صرف 1,400 سے کم لوگوں سے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اکٹھی کیں۔

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہزاروں آلات بھی ہیک کیے گئے اور کریڈٹ کارڈ اور دوسرے الیکٹرانک آلات کی تفصیلات چوری کی گئیں۔

    یہ گروپ غلط آلات کے استعمال سے انفارمیشن چوری کرتے اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چھانٹتے ہیں۔ پھر اس انفامیشن کو سوشل میڈیا اکاونٹس کے زریعے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

    ‘ گروپ ۔ آئی بی ‘ اس سے پہلے بھی اسی نومبر میں بتایا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر نے ایک بڑی ریکروٹمنٹ کمپنی کو بھی سعودیہ میں ہیک کر لیا تاکہ اس سے متعلق افراد اور بنکوں تک رسائی ممکن بنا سکے ، یہ کام بنکوں سے رقم چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔

    فرانس میں تاجر کے گھر پرانسپکشن کے لیے آیا ٹیکس انسپکٹر قتل

    ایک رپورٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم نے پتہ چلایا ہے کہ کمپیوٹرز سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سعودی کمپنیوں کے 1000 سے زائد جعلی ورژنز بنائے۔ تاکہ لوگوں اشتہارات بذریعہ سوشل میڈیا متاثر کر سکے۔ ان عناصر نے جولائی میں سائبر کرائمز کی مہم کو زیادہ وسعت دے دی ہے۔

    گروپ-آئی بی نے جولائی میں یہ بھی انکشاف کیا کہ سائبر کرائمینلز نے مشرق وسطیٰ میں صارفین کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر فشنگ مہم شروع کی تھی، جس میں 270 سے زیادہ ڈومینز کی نشاندہی کی گئی تھی جو مشہور پوسٹل سروس برانڈز کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا…

    ماضی میں دس سال قبل 2012 میں سعودی عرب کی معرف کمپنی ‘ آرامکو’ کی ہیکنگ ایک بڑا ایشو بنی تھی۔ یہ ایک بڑی ہیکنگ کا واقعہ تھا کٹنگ سورڈ آف جسٹس نامی ایک گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تیل اور گیس کی پیداوار کو روکنے کے مقصد سے تقریباً 30,000 کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا۔

    گروپوں نے میلویئر کا استعمال کیا جو لوگوں کےانٹرنیٹ براؤزرز، جیسےای میل سروسز اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس میں محفوظ کردہ معلومات کو جمع کرنے کے قابل تھا۔ جب ہیکرز بینک کی تفصیلات جیسی معلومات حاصل کرتے ہیں، تو وہ اسےپیسہ اور ڈیٹا چوری کرنے یا چوری شدہ معلومات کو "سائبر کرائمینل انڈر گراؤنڈ” پر فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

  • ہیکرز کا  ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    ہیکرز کا ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    تہران: ایران میں احتجاجی مظاہروں کے انفارمیشن قذاقی کے ہیکر گروپ’’ اینونیمس‘‘ کے ملک میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو اس گروپ نے ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر قدغن لگائی اور ایک اس ویڈیو جاری کردی۔

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    گروپ نے اس ویڈیو کلپ میں یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جو کہ رہا وہ ایرانی عوام کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔ گروپ نے تصدیق کی کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایرانی وزارت انٹلیجنس کی سرکاری ویب سائٹ پر حملہ کیا ہے اور یہ خوشی کی ابتدا ہے۔

    گروپ نے حکومت کی مخالفت کرنے والے جملے شائع کیے اور ان ہفتوں سے جاری مظاہروں کو دبانے کی مہم کی مذمت بھی کی ۔

    واضح رہے کہ اینونیمس گروپ نے گذشتہ ماہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ اس نے "ایران آپریشن ” شروع کردیا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی بہت سی ویب سائٹوں میں خلل پڑے گا اور یہ مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جائے گا۔

    جاپان کا ایران میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ

    اس وقت سے ایران میں بہت سے سرکاری ویب گاہوں کو سائبر اٹیکس سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن ویب سائٹس پر حملے کئے گئے ان میں وزارت مواصلات کی ویب سائٹ ، ایرانی ٹیکس افیئرز اتھارٹی کی ویب سائٹ ، ایرانی انفارمیشن ٹیکنالوجی آرگنائزیشن کی ویب سائٹ اور ایرانی وزارت صنعت ، کان کنی اور تجارت کی ویب سائٹ شامل ہے۔

    سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والی سرکاری ترجمان کی ویب سائٹ کو بھی متاثر کیا گیا۔ "اینونیمس ” گروپ نے کہا وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا دفاع کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس گروپ نے بین الاقوامی کمپنیوں کی کئی ویب سائٹس پر حملہ کیا تھا۔

    سوڈان: نسلی فسادات میں دو روز کے دوران 200 سے زائد افراد ہلاک

  • سندھ پولیس:انسداد دہشت گردی کا ای میل اکاؤنٹ ہیک

    سندھ پولیس:انسداد دہشت گردی کا ای میل اکاؤنٹ ہیک

    سندھ پولیس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی شعبہ سائبر دہشت گردی کا شکار ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہیکرز نے سی ٹی ڈی کا غیرسرکاری ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے کئی موبائل کال ڈیٹا ریکارڈ بھی منگوائے اور ای میل اکاؤنٹ میں موجود سیکڑوں ای میلز کے ڈیٹا تک بھی رسائی لی۔

    ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ ماہ کا ہے تاہم اب صورت حال معمول پر ہے اعلیٰ سطح کی انکوائری جاری ہے، ہیک ای میل اکاؤنٹ سے اہم ڈیٹا تک رسائی روک دی گئی ہے، کال ڈیٹا اور سی آر او سمیت اہم ڈیٹا سینیئر افسران کے حکم سے مشروط کردیا گیا ہے، ای میل ہیک ہونے کی تحقیقات میں حساس اداروں سے بھی معاونت لی گئی ہے۔

    سائفر: میں اس بات پر قائل نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے،عارف علوی

    ذرائع کے مطابق ای میل آئی ڈی ہیک کرنے اور کئی روز تک استعمال کرنے میں ملوث آئی پی ایڈریس پاکستان کی نہیں، یہ کارروائی یورپی ملک سے کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دورانیے میں سی ٹی ڈی کے تمام سسٹم بند رکھے گئے تھے، ہیک کی گئی گوگل اکاؤنٹ کی ای میل آئی ڈی فوری بند کر دی گئی تھی، ابتدائی طور پر ادارے کے اندرونی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    اب سی ٹی ڈی کے آئی ٹی سسٹم کو اب انتہائی طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

    ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی بحالی کا نوٹیفکیش جاری،پاکستان ہاکی فیڈریشن وزیراعظم شہباز شریف کی مشکور

  • ایرانی ویب سائٹس پر چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ

    ایرانی ویب سائٹس پر چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ

    ایرانی ویب سائٹس کو چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ذرائع و ابلاغ کے مطابق ایرانی وزارت ثقافت اور مرکزی بینک کی ویب سائٹ کو ہیکرز کے ایک گروپ نے کامیاب سائبرحملے کا نشانہ بنایا ایک مرکزی سائٹ کی انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ویب سائٹ کی جگہ ایک خرابی کا نشان دکھایا۔

    ایرانی حکومت کی ویب سائٹس ہیک ہونے کا انکشاف


    ہیکٹیوسٹ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے فرانزک ریسرچ سینٹر کو ہیک کیا ہے۔ اس سے قبل اس نے ایرانی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ فارس نیوز ایجنسی اور آئی آر آئی بی نیوز کو بھی ہیک کیا تھا۔

    جبکہ ایرانی حکام نے مرکزی بینک کے نظام کی ہیکنگ کی تصدیق کی اور سرکاری ارنا کےمطابق ہیکرز بینک کی ویب سائٹ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔


    مشہور ہیکنگ گروپ ’انانیمس‘ نے مرکزی بینک کے ساتھ ساتھ ایرانی وزارت ثقافت و رہنمائی کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔


    یہ سائبر حملہ اس وقت ہوا جب جب تہران میں یونیورسٹی کے طلباء مہسا امینی کے قتل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے سرکاری حکام، پولیس کے زیر حراست افراد کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کی اور امینی کے قتل کی کھلے عام تحقیقات کامطالبہ کیا نوجوان خاتون کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملک کے مغرب میں کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے-

    ہندوانتہاپسند رہنما شراب کی بوتل لےکرخاتون کےگھرگُھس گیا


    واضح رہے کہ ایران میں پولیس تشدد سے نوجوان لڑکی مہسا امینی کے قتل کے خلاف ایرانی عوام کا احتجاج آج پانچویں روز بھی جاری امینی کی ہلاکت کیخلاف احتجاج میں شدت آگئی ایرانی حکومت نے احتجاج کو کچلنے کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو بند کردیا ہے جن میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام شامل ہیں۔


    نیز ملک بھر میں کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس بھی معطل کردی گئی ہے جس کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ رابطے سے محروم ہوگیا ہے ملک میں فیس بک، ٹیلی گرام، ٹوئٹر اور یوٹیوب استعمال کرنے کی پہلے ہی اجازت نہیں۔ جس کی وجہ سے عملا ایران کا باقی دنیا سے سماجی رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا۔ وزیر ٹیلی کمیونی کیشن عیسیٰ زارع پور نے کہا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی بنا پر پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

    ایران میں زلزلے سے 5 افراد ہلاک اور 44 زخمی

    سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ایرانی حکومت نے اب تک 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں 6 مظاہرین اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔


    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں حجاب نہ کرنے پر پولیس نے 22 سالہ مھسا امینی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ کومہ میں چلے جانے کے بعد دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔