Baaghi TV

Tag: ہیکرز

  • روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    سائبرسیکیوریٹی کمپنی گروپ۔ آئی بی نامی ایک کمپنی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ روسی زبان بولنے والوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ کمپیوٹر ہیکنگ، پاس ورڈ چوری اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گروپ-آئی بی نے ایمیزون اور پے پال سمیت اکاؤنٹس کے پاس ورڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ادائیگی کے ریکارڈ اور کرپٹو بٹوے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میلویئر استعمال کرنے والے گروپوں کی نشاندہی کی-

    ایلون مسک کی دولت میں 100 ارب ڈالرز کی کمی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی زبان بولنے والے لوگوں نے رواں سال کے دوران پہلے سات ماہ میں 6300 الیکٹرنکس آلات یا مشینیوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سات لاکھ کمپیوٹرز یا دوسری چیزوں کے ‘ پاس ورڈز ‘ چوری کیے ہیں۔ اس طرح 1300 سے زیادہ افراد کےکریڈٹ کارڈز کی تفصیلات کا حصول ممکن بنایا۔ تاہم سعودی عرب میں یہ وارداتیں مقابلتاً کم ہوئی ہیں جہاں صرف 1,400 سے کم لوگوں سے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اکٹھی کیں۔

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہزاروں آلات بھی ہیک کیے گئے اور کریڈٹ کارڈ اور دوسرے الیکٹرانک آلات کی تفصیلات چوری کی گئیں۔

    یہ گروپ غلط آلات کے استعمال سے انفارمیشن چوری کرتے اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چھانٹتے ہیں۔ پھر اس انفامیشن کو سوشل میڈیا اکاونٹس کے زریعے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

    ‘ گروپ ۔ آئی بی ‘ اس سے پہلے بھی اسی نومبر میں بتایا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر نے ایک بڑی ریکروٹمنٹ کمپنی کو بھی سعودیہ میں ہیک کر لیا تاکہ اس سے متعلق افراد اور بنکوں تک رسائی ممکن بنا سکے ، یہ کام بنکوں سے رقم چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔

    فرانس میں تاجر کے گھر پرانسپکشن کے لیے آیا ٹیکس انسپکٹر قتل

    ایک رپورٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم نے پتہ چلایا ہے کہ کمپیوٹرز سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سعودی کمپنیوں کے 1000 سے زائد جعلی ورژنز بنائے۔ تاکہ لوگوں اشتہارات بذریعہ سوشل میڈیا متاثر کر سکے۔ ان عناصر نے جولائی میں سائبر کرائمز کی مہم کو زیادہ وسعت دے دی ہے۔

    گروپ-آئی بی نے جولائی میں یہ بھی انکشاف کیا کہ سائبر کرائمینلز نے مشرق وسطیٰ میں صارفین کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر فشنگ مہم شروع کی تھی، جس میں 270 سے زیادہ ڈومینز کی نشاندہی کی گئی تھی جو مشہور پوسٹل سروس برانڈز کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا…

    ماضی میں دس سال قبل 2012 میں سعودی عرب کی معرف کمپنی ‘ آرامکو’ کی ہیکنگ ایک بڑا ایشو بنی تھی۔ یہ ایک بڑی ہیکنگ کا واقعہ تھا کٹنگ سورڈ آف جسٹس نامی ایک گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تیل اور گیس کی پیداوار کو روکنے کے مقصد سے تقریباً 30,000 کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا۔

    گروپوں نے میلویئر کا استعمال کیا جو لوگوں کےانٹرنیٹ براؤزرز، جیسےای میل سروسز اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس میں محفوظ کردہ معلومات کو جمع کرنے کے قابل تھا۔ جب ہیکرز بینک کی تفصیلات جیسی معلومات حاصل کرتے ہیں، تو وہ اسےپیسہ اور ڈیٹا چوری کرنے یا چوری شدہ معلومات کو "سائبر کرائمینل انڈر گراؤنڈ” پر فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

  • ہیکرز کا  ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    ہیکرز کا ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر حملہ

    تہران: ایران میں احتجاجی مظاہروں کے انفارمیشن قذاقی کے ہیکر گروپ’’ اینونیمس‘‘ کے ملک میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس پر حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو اس گروپ نے ایرانی وزارت انٹلیجنس کی ویب سائٹ پر قدغن لگائی اور ایک اس ویڈیو جاری کردی۔

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    گروپ نے اس ویڈیو کلپ میں یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جو کہ رہا وہ ایرانی عوام کے لئے ایک اہم پیغام ہے۔ گروپ نے تصدیق کی کہ اس نے انٹرنیٹ پر ایرانی وزارت انٹلیجنس کی سرکاری ویب سائٹ پر حملہ کیا ہے اور یہ خوشی کی ابتدا ہے۔

    گروپ نے حکومت کی مخالفت کرنے والے جملے شائع کیے اور ان ہفتوں سے جاری مظاہروں کو دبانے کی مہم کی مذمت بھی کی ۔

    واضح رہے کہ اینونیمس گروپ نے گذشتہ ماہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اعلان کیا تھا کہ اس نے "ایران آپریشن ” شروع کردیا ہے ، جس کی وجہ سے حکومت کی بہت سی ویب سائٹوں میں خلل پڑے گا اور یہ مہسا امینی کی موت کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا جائے گا۔

    جاپان کا ایران میں سفارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ

    اس وقت سے ایران میں بہت سے سرکاری ویب گاہوں کو سائبر اٹیکس سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ جن ویب سائٹس پر حملے کئے گئے ان میں وزارت مواصلات کی ویب سائٹ ، ایرانی ٹیکس افیئرز اتھارٹی کی ویب سائٹ ، ایرانی انفارمیشن ٹیکنالوجی آرگنائزیشن کی ویب سائٹ اور ایرانی وزارت صنعت ، کان کنی اور تجارت کی ویب سائٹ شامل ہے۔

    سرکاری میڈیا سے تعلق رکھنے والی سرکاری ترجمان کی ویب سائٹ کو بھی متاثر کیا گیا۔ "اینونیمس ” گروپ نے کہا وہ اظہار رائے کی آزادی کے حق کا دفاع کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس گروپ نے بین الاقوامی کمپنیوں کی کئی ویب سائٹس پر حملہ کیا تھا۔

    سوڈان: نسلی فسادات میں دو روز کے دوران 200 سے زائد افراد ہلاک

  • سندھ پولیس:انسداد دہشت گردی کا ای میل اکاؤنٹ ہیک

    سندھ پولیس:انسداد دہشت گردی کا ای میل اکاؤنٹ ہیک

    سندھ پولیس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی شعبہ سائبر دہشت گردی کا شکار ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہیکرز نے سی ٹی ڈی کا غیرسرکاری ای میل اکاؤنٹ کے ذریعے کئی موبائل کال ڈیٹا ریکارڈ بھی منگوائے اور ای میل اکاؤنٹ میں موجود سیکڑوں ای میلز کے ڈیٹا تک بھی رسائی لی۔

    ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ گزشتہ ماہ کا ہے تاہم اب صورت حال معمول پر ہے اعلیٰ سطح کی انکوائری جاری ہے، ہیک ای میل اکاؤنٹ سے اہم ڈیٹا تک رسائی روک دی گئی ہے، کال ڈیٹا اور سی آر او سمیت اہم ڈیٹا سینیئر افسران کے حکم سے مشروط کردیا گیا ہے، ای میل ہیک ہونے کی تحقیقات میں حساس اداروں سے بھی معاونت لی گئی ہے۔

    سائفر: میں اس بات پر قائل نہیں کہ کوئی سازش ہوئی ہے،عارف علوی

    ذرائع کے مطابق ای میل آئی ڈی ہیک کرنے اور کئی روز تک استعمال کرنے میں ملوث آئی پی ایڈریس پاکستان کی نہیں، یہ کارروائی یورپی ملک سے کی گئی تھی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دورانیے میں سی ٹی ڈی کے تمام سسٹم بند رکھے گئے تھے، ہیک کی گئی گوگل اکاؤنٹ کی ای میل آئی ڈی فوری بند کر دی گئی تھی، ابتدائی طور پر ادارے کے اندرونی عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

    اب سی ٹی ڈی کے آئی ٹی سسٹم کو اب انتہائی طور پر محفوظ بنا دیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر سی ٹی ڈی کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

    ڈیپارٹمنٹل سپورٹس کی بحالی کا نوٹیفکیش جاری،پاکستان ہاکی فیڈریشن وزیراعظم شہباز شریف کی مشکور

  • ایرانی ویب سائٹس پر چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ

    ایرانی ویب سائٹس پر چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ

    ایرانی ویب سائٹس کو چند روز میں دوسری بار سائبر حملہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :غیر ملکی ذرائع و ابلاغ کے مطابق ایرانی وزارت ثقافت اور مرکزی بینک کی ویب سائٹ کو ہیکرز کے ایک گروپ نے کامیاب سائبرحملے کا نشانہ بنایا ایک مرکزی سائٹ کی انٹرنیٹ پر تلاش کے دوران ویب سائٹ کی جگہ ایک خرابی کا نشان دکھایا۔

    ایرانی حکومت کی ویب سائٹس ہیک ہونے کا انکشاف


    ہیکٹیوسٹ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے فرانزک ریسرچ سینٹر کو ہیک کیا ہے۔ اس سے قبل اس نے ایرانی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے ساتھ ساتھ فارس نیوز ایجنسی اور آئی آر آئی بی نیوز کو بھی ہیک کیا تھا۔

    جبکہ ایرانی حکام نے مرکزی بینک کے نظام کی ہیکنگ کی تصدیق کی اور سرکاری ارنا کےمطابق ہیکرز بینک کی ویب سائٹ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔


    مشہور ہیکنگ گروپ ’انانیمس‘ نے مرکزی بینک کے ساتھ ساتھ ایرانی وزارت ثقافت و رہنمائی کی ویب سائٹ کو ہیک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔


    یہ سائبر حملہ اس وقت ہوا جب جب تہران میں یونیورسٹی کے طلباء مہسا امینی کے قتل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے سرکاری حکام، پولیس کے زیر حراست افراد کے ساتھ بدسلوکی کی مذمت کی اور امینی کے قتل کی کھلے عام تحقیقات کامطالبہ کیا نوجوان خاتون کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ملک کے مغرب میں کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے-

    ہندوانتہاپسند رہنما شراب کی بوتل لےکرخاتون کےگھرگُھس گیا


    واضح رہے کہ ایران میں پولیس تشدد سے نوجوان لڑکی مہسا امینی کے قتل کے خلاف ایرانی عوام کا احتجاج آج پانچویں روز بھی جاری امینی کی ہلاکت کیخلاف احتجاج میں شدت آگئی ایرانی حکومت نے احتجاج کو کچلنے کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کو بند کردیا ہے جن میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام شامل ہیں۔


    نیز ملک بھر میں کئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس اور موبائل فون سروس بھی معطل کردی گئی ہے جس کی وجہ سے آبادی کا بڑا حصہ رابطے سے محروم ہوگیا ہے ملک میں فیس بک، ٹیلی گرام، ٹوئٹر اور یوٹیوب استعمال کرنے کی پہلے ہی اجازت نہیں۔ جس کی وجہ سے عملا ایران کا باقی دنیا سے سماجی رابطہ منقطع ہوکر رہ گیا۔ وزیر ٹیلی کمیونی کیشن عیسیٰ زارع پور نے کہا ہے کہ سکیورٹی خدشات کی بنا پر پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔

    ایران میں زلزلے سے 5 افراد ہلاک اور 44 زخمی

    سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں اب تک متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ایرانی حکومت نے اب تک 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں 6 مظاہرین اور 2 سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں تاہم سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔


    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایران میں حجاب نہ کرنے پر پولیس نے 22 سالہ مھسا امینی کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر وہ کومہ میں چلے جانے کے بعد دوران علاج زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔

  • ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    سلیکان ویلی: ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے-

    باغی ٹی وی : سائبر سیکیورٹی کے یوٹیوب چینل ’’انفینیٹ لاگنز‘‘ نے اپنی تازہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ’’فشنگ‘‘ (phishing) کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہےیہ ویڈیو سائبر سیکیورٹی ماہرین کےلیے ہے جس میں ’’مسٹر ڈاکس‘‘ (mr.d0x) نامی ایک وائٹ ہیٹ ہیکر کے حوالے سے ’’بِٹ بی‘‘ (BitB) طریقے کی تفصیل بیان کی گئی ہے

    انفینیٹ لاگنز، مسٹر ڈاکس اور آرس ٹیکنیکا پراس بارے میں شائع ہونےوالی ایک خبر کےمطابق اس طریقے کو ’’براؤزر اِن دی براؤزر‘‘ (BitB) کہا جاتا ہے یہ نیا طریقہ اس قدر شاطرانہ ہے کہ ایک سمجھدار اور ہوشیار رہنے والا انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا سکتا ہے ’’بِٹ بی‘‘ کا انحصار ’’تھرڈ پارٹی لاگ اِن‘‘ پر ہے جو آج دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس استعمال کررہی ہیں۔

    تھرڈ پارٹی لاگ اِن میں آپ کو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہونے کےلیے علیحدہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے موجودہ گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ کی تصدیق کرواتے ہوئے اس ویب سائٹ پر لاگ اِن ہوسکتے ہیں۔

    اس مقصد کےلیے ’’او آتھ‘‘ (OAuth) نامی اوپن پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن کےلیے گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ وغیرہ کی خودکار، فوری اور محفوظ تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے (کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی خریدار ادائیگی کا طریقہ منتخب کرتا ہے جیسے پے پال۔)

    ’’بِٹ بی‘‘ طریقے کے تحت ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگویج (HTML) میں کاسکیڈنگ اسٹائل شیٹ (CSS) نامی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے، تھرڈ پارٹی لاگ اِن کےلیے ایک ایسی پاپ ونڈو بنائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصل تصدیقی (آتھورائزیشن) ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے اس ونڈو کی ایڈریس بار میں یو آر ایل بھی بالکل اصل دکھائی دیتا ہے جیسے کہ accounts.google.com وغیرہ ونڈو کی ترتیب اور طرز عمل اصل چیز سے یکساں نظر آتے ہیں۔

    ہینڈل mr.d0x استعمال کرنے والے ایک محقق نے پچھلے ہفتے تکنیک کی وضاحت کی۔ اس کا تصور کے ثبوت کا استحصال ایک ویب صفحہ سے شروع ہوتا ہے جس میں کینوا کی بڑی محنت سے درست جعل سازی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کوئی وزیٹر ایپل، گوگل، یا فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے لاگ ان کرنے کا انتخاب کرتا ہے، جعلی کینوا صفحہ ایک نیا صفحہ کھولتا ہے جو واقف نظر آنے والے OAuth صفحہ کی طرح نظر آتا ہے۔

    یہ نیا صفحہ بھی ایک دھوکہ ہے اس میں وہ تمام گرافکس شامل ہیں جو ایک شخص لاگ ان کرنے کے لیے گوگل کا استعمال کرتے وقت دیکھنے کی توقع کرے گا۔ اس صفحہ میں گوگل کا جائز پتہ بھی ہے جو ایڈریس بار میں ظاہر ہوتا ہے۔ نئی ونڈو براؤزر ونڈو کی طرح برتاؤ کرتی ہے اگر حقیقی Google OAuth سیشن سے منسلک ہو۔

    اگر کوئی ممکنہ شکار جعلی Canva.com صفحہ کھولتا ہے اور گوگل کے ساتھ لاگ ان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو "یہ ایک نئی براؤزر ونڈو کھولے گا اور URL accounts.google.com پر جائے گا،” mr.d0x نے ایک پیغام میں لکھا کہ جعلی کینوا سائٹ "کوئی نئی براؤزر ونڈو نہیں کھولتی ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی نئی براؤزر ونڈو کھولی گئی ہو لیکن یہ صرف HTML/CSS ہے۔ اب وہ جعلی ونڈو URL کو accounts.google.com پر سیٹ کرتی ہے، لیکن یہ ایک وہم ہے۔”

    ایک اچھا خاصا سمجھدار انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اس تھرڈ پارٹی لاگ اِن ونڈو میں اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ لکھ کر اینٹر کردیتا ہے… اور اس طرح وہ لاعلمی میں اپنی اہم ترین معلومات کسی نامعلوم ہیکر کو فراہم کردیتا ہے۔

    ایک ساتھی سیکیورٹی محقق نے اس مظاہرے سے کافی متاثر ہو کر ایک YouTube ویڈیو بنائی جس میں زیادہ واضح طور پر دکھا یا گیا ہے کہ تکنیک کیسی ہے یہ بھی واضح کیا کہ تکنیک کیسے کام کرتی ہے اور اس پر عمل کرنا کتنا آسان ہے۔

    آرس ٹیکنیکا کی متعلقہ پوسٹ میں سیکیورٹی ایڈیٹر ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ کو پہچاننے اور اس سے بچنے کےلیے کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔

    وہ لکھتے ہیں کہ ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ میں نمودار ہونے والی لاگ اِن ونڈو علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ’’براؤزر کے اندر براؤزر‘‘ ونڈو ہوتی ہے جو بظاہر ایک الگ اور اصلی لاگ اِن ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے یہ لاگ اِن ونڈو اصلی ہے یا نقلی؟ اگر وہ دائیں بائیں حرکت دینے پر اپنی جگہ سے ہل رہی ہے تو وہ جعلی لاگ اِن ونڈو ہے کیونکہ اسے ’سی ایس ایس‘ کی مدد سے ظاہری طور پر ایسی شکل دی گئی ہے۔

    ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ پہچاننے کا جو دوسرا طریقہ بتایا ہے، وہ کچھ مشکل ہے۔

    اس میں آپ کو لاگ اِن ونڈو پر رائٹ کلک کرکے inspect سلیکٹ کرنا ہوگا، جس کے بعد نمودار ہونے والی انسپکشن ونڈو میں لکھی عبارت (ٹیکسٹ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا، جہاں اِن پُٹ کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ محفوظ کرنے کےلیے کسی نامعلوم ویب سائٹ کا ایڈریس درج ہوگا اس طرح آپ کو خود ہی اس جعلی لاگ اِن ونڈو کی حقیقت کا پتا چل جائے گا۔

    ان کے علاوہ، آپ چاہیں تو آزمائش کی غرض سے اس لاگ اِن ونڈو میں غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ اینٹر کیجیے۔ اگر یہ اصلی ہوگی تو غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ کا پیغام دے گی، لیکن جعلی لاگ اِن ونڈو انہیں ’’درست‘‘ کے طور پر قبول کرلے گی۔

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک فشنگ کے بیشتر حملوں کو پہچاننا بہت آسان ہوا کرتا تھا لیکن ’’بِٹ بی‘‘ طریقہ بہت پیچیدہ ہے جس سے بچنے کےلیے صارفین کو تصدیق کے متبادل طریقوں سے بھی باخبر رہنا ہوگا؛ اور اکثر صارفین سہل پسندی میں ایسا نہیں کرتے۔

    مسٹر ڈاکس کے مطابق، فشنگ کا نیا طریقہ اگرچہ کچھ ہفتے پہلے ہمارے علم میں آیا ہے لیکن ہیکرز اسے غالباً 2020 سے استعمال کررہے ہیں-

  • روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ

    ماسکو:روس کی خلائی ایجنسی کا سسٹم ہیک کرلیا:ہیکرز کا دعویٰ ،اطلاعات کے مطابق ہیکرز کے گروپ ’اینونمس‘ نے روس کی خلائی ایجنسی(روسکوسموس) کو ہیک کرنے کا دعویٰ کردیا اور کہا ہے کہ پیوٹن کا خلائی سرگرمیوں پر اب کنٹرول نہیں رہا۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اینونمس نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت اپنی خلائی سرگرمیوں اور سیٹلائٹس کا کنٹرول اب کھو چکی ہے کیوں کہ ہم نے روسکوسموس کو ہیک کرکے بند کردیا ہے۔

    روسی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل اولیگوچ نے ہیکرز کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے اینونمس کو غیرضروری اور دھوکے باز گروپ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایجنسی سے متعلق خبریں حقیقت کے منافی ہیں۔
    اولیگوچ نے کہا کہ ہماری خلائی سرگرمیاں اور کنٹرول سینٹرز معمول کے مطابق آپریٹ کررہے ہیں۔ روسی اسپیس انڈسٹری سائبر حملوں سے محفوظ ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل ہیکرز کی ٹیم نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 300 سے زائد روسی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرکے یوکرین پر حملے میں شامل روسی ٹینک کے عملے کو ٹینک چھوڑنے کے عوض 53 ہزار ڈالر کی پیشکش کی۔

    اینونمس کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی ارب ڈالرز ان روسی فوجیوں کے لیے جمع کیے ہیں جو جنگ سے دست بردار ہوکر اپنا ٹینک سفید جھنڈا لگا کر چھوڑ دیں گے۔

  • کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے لگے،ہیکرز ان اکاؤنٹس سے کیا کام لیتے ہیں ؟چونکا دینے والے انکشاف

    لاہور: ہیکرز کم استعمال ہونے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرنے لگے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کرتے رہیں، اگر کم استعمال کریں گے تو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے سائبر فراڈیے ان کے اکاؤنٹس ہیک کر لیں گے، پھر ان اکاؤنٹس کے ذریعے مالی فراڈ کریں گے،غیر اخلاقی وڈیوز شیئر ہو سکتی ہیں۔

    ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے:عالمی برادری نوٹس لے: وزیر خارجہ

    ایف آئی اے سائبر ونگ کے اعداد وشمار کے مطابق سوشل میڈیا ہیکنگ کی وارداتیں پنجاب بھر میں پھیل چکی ہیں، ایف آئی اے سائبر ونگ کو لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں سے ڈھائی ہزار آن لائن ہیکنگ کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں فون ریکارڈ نگ ہیکنگ، کمپنیوں کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کی ایک اور وکٹ گر گئی، بلاول

    ایف آئی اے کے مطابق زیادہ تر لوگوں کے بینک اکاؤنٹس ہیک کر کے ان کو لاکھوں، کروڑوں روپے سے محروم کر دیا گیا، ایف آءی کو ایسی شکایات موصول بھی ہوئیں جن میں فیس بک اور ٹوئٹر، انسٹاگرام کو ہیک کر کے اس پر غیراخلاقی وڈیوز اپ لوڈ کی گئیں اس کیلئے چوری شدہ سافٹ ویئر کا سہارا لیا گیا۔

    الیکشن کمیشن میں اسحاق ڈار نااہلی کیس سماعت کیلئے مقرر

    سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت سے ایسے صارفین جو اپنے فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ٹوئٹر اکاؤنٹس خود نہیں بنا سکتے، ان کی ساری تفصیلات ان کے پاس ہوتی ہیں جو یہ اکاؤنٹس بناتے ہیں ۔

    کل ہند کی بیٹی کی پکار تھی آج ہند کی بیٹی کی للکار ہے ازقلم :غنی محمود قصوری

  • ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    ہیکرزناکام، ایف بی آئی نے 2.3 ملین ڈالرزکے بٹ کوائنز کی تاوان کی رقم واپس ضبط کر لی

    واشنگٹن: امریکا میں ایک گیس پائپ لائن کو تاوان کے لیے کمپیوٹر کے ذریعے ہیک کرنے والے ہیکرز سے تاوان کی بٹ کوائنز رقم واپس لے لی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے ہیکرز سے 2.3 ملین ڈالرز مالیت کی کرپٹو کرنسی کی تاوانی رقم واپس حاصل کر لی ہے، یہ رقم کالونیل پائپ لائن نامی کمپنی نے ہیکرز کو ادا کی تھی۔

    ہیکرز نے ایک سائبر اٹیک کے ذریعے گزشتہ ماہ مذکورہ کمپنی کی ایسٹ کوسٹ پائپ لائن کو بند کر دیا تھا، جس کی وجہ سے ایسٹ کوسٹ میں گیس کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران ، وفاقی قانون نافذ کرنے والے اعلی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ یہ رقم حال ہی میں شروع کی جانے والی رینسم ویئر اور ڈیجیٹل ایکسٹوریشن ٹاسک فورس نے حاصل کی ہے ، جو سائبرٹیکس کے اضافے پر حکومت کے ردعمل کے حصے کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کالونیل پائپ لائن پر حملے کو حل کرنے کے لئے ، کمپنی نے 8 مئی کو مشرقی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اس کے تیل اور گیس پائپ لائنوں کو تاوان کے سامان کے ذریعے معذور کرنے کے بعد اپنے کمپیوٹر سسٹم تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے کے لئے تقریبا$ 4.4 ملین ڈالر ادا کیے۔

    ان حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کو یہ مخصوص ہدایات دی گئیں کہ وہ رقم کب اور کہاں بھیجنی ہے ، لہذا تفتیش کاروں کے لئے بھتہ خوری کے پیچھے مجرمانہ تنظیموں کے ذریعہ قائم کردہ کریپٹوکرنسی اکاؤنٹس ، عام طور پر بٹ کوائن کی ادائیگی کی رقم کا سراغ لگانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ غیر معمولی بات یہ ہے کہ فنڈز کی بازیابی کے لئےان اکاؤنٹس کو غیر مقفل کرنا ہو۔

    کالونیل پائپ لائن کیس میں عدالت کے دستاویزات جاری کی گئیں کہ ایف بی آئی نے بٹ کوائن اکاؤنٹ سے منسلک انکرپشن کی بٹن استعمال کی جس میں تاوان کی رقم فراہم کی گئی تھی۔ تاہم ، عہدیداروں نے یہ انکشاف نہیں کیا ہے کہ انہیں یہ چابی کیسے ملی۔ مجرموں نے بٹ کوائن اور دیگر کریپٹو کارنسیس کو استعمال کرنا پسند کیا ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ سارے نظام کی شناخت نہیں ہے ، اسی طرح یہ خیال بھی ہے کہ کسی بھی کریپٹو کرینسی والیٹ میں فنڈز صرف ایک پیچیدہ ڈیجیٹل کلید کے ذریعے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

    جارج ٹاؤن لا میں انسٹی ٹیوٹ برائے ٹکنالوجی قانون اور پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اپریل فالکن ڈاس نے کہا ، نجی کلید ، ایک ٹیکنالوجی کے نقطہ نظر سے ، وہ چیز ہے جس نے ان فنڈز کو ضبط کرنا ممکن بنایا تھا۔

    تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے پائپ لائن بند کرنے کے بعد تاوان کی صورت میں دی جانے والی رقم واپس حاصل کر لی ہے، ہیکرز کو رقم بٹ کوائن میں دی گئی تھی جسے اب ایف بی آئی نے ایک ورچوئل کرنسی ویلٹ سے ضبط کر لیا ہے۔

    امریکی حکام نے 63.7 بٹ کوائنز واپس لیے ہیں جن کی قیمت 2.3 ملین ڈالرز ہے، یہ رقم پائپ لائن کمپنی نے گزشتہ ماہ سائبر اٹیک کے بعد ہیکرز کو ادا کی تھی، امریکی حکام نے مشتبہ افراد کے ذریعے استعمال شدہ ورچوئل والٹ کی نشان دہی کی تھی۔

    کالونیل پائپ لائن کے مالکان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیک ہوئی پائپ لائن تک دوبارہ رسائی کے لیے ہیکرز کو تقریباً 5 ملین ڈالرز ادا کیے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے، جو اپریل میں 63 ہزار ڈالر تھی وہ اب 36 ہزار ڈالر ہو چکی ہے۔

    سائبر حملے کا علم ہونے کے بعد کالونیل پائپ لائن نے اپنے سسٹم بند کر دیے تھے تاکہ حملے کے اثرات کو محدود رکھا جا سکے، کمپنی کا کہنا تھا کہ سائبر حملے سے کچھ سرگرمیاں روکنا پڑیں اور چند آئی ٹی سسٹم متاثر ہوئے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر…

    ٹیسلا نے ماحولیاتی تحفظات کے تناظرمیں بٹ کوائن لینے سے انکار کر دیا