Baaghi TV

Tag: یمن

  • پاکستان کی  یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    پاکستان کی یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    اسلام آباد: پاکستان نے یمن میں دوبارہ تشدد بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ یمن میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں، یکطرفہ اقدامات صورتحال کو مزید کشیدہ، امن کوششوں کو نقصان اور خطے کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنےکے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی سے وابستگی کو دہرایا ہے سعودی عرب کی سکیورٹی پاکستان کے لیے اہم ہے، ہر ممکن تعاون جاری رہےگا، پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ یمن مسئلے کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی بنیاد پر راستہ اختیار کیا جائے، امید ہے یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر جامع اور دیرپا حل کی طرف بڑھیں گی، یمن میں پائیدار تصفیہ خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ

  • یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

    یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

    یمن کی راس العیسی بندرگاہ کے قریب تیل بردار بحری جہاز پر ڈرون حملہ ہوا ہے، جس میں جہاز میں موجود 27 پاکستانی متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈرون حملے کے باعث جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ عملے کے پاس آگ بجھانے کے کوئی آلات موجود نہیں تھے۔ عملے کو وقتی طور پر جہاز سے نکالا گیا لیکن بعد ازاں زبردستی دوبارہ جہاز میں بھیج دیا گیا۔ذرائع کے مطابق جہاز تہران سے تیل لے کر یمن جا رہا تھا۔ واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملے کے افراد کو جہاز کے ایک کمرے میں یرغمال بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب متاثرہ پاکستانیوں کے لواحقین نے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

    سندھ کابینہ میں ردوبدل، وزرا کے قلمدان تبدیل

    نوشکی بازار میں دستی بم دھماکا، ایک جاں بحق، 9 افراد زخمی

    ایران-روس کے درمیان 25 ارب ڈالر کے ایٹمی بجلی گھر وں کامعاہدہ

  • یمنی فوج کے میزائل حملے ، اسرائیل کا بن گوریون ایئرپورٹ بند

    یمنی فوج کے میزائل حملے ، اسرائیل کا بن گوریون ایئرپورٹ بند

    یمن کی مسلح افواج نے اسرائیل کے معروف بن گوریون ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے –

    یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کی گئی، ان کے مطابق حملے میں ذوالفقار بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا جس نے مقبوضہ لُد میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا،یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائی دفاع، جسے امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے، میزائل کو روکنے میں ناکام رہا۔

    انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے میزائل نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد لاکھوں صہیونی باشندے خوف و ہراس کے عالم میں پناہ گاہوں کی طرف بھاگے اور ایئرپورٹ کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنی پڑیں،غزہ کے مظلوم عوام جن حالات کا سامنا کررہے ہیں، وہ تمام اقوام پر فرض کرتے ہیں کہ وہ مذہبی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے تمام پابندیوں کو توڑ دیں اور اسرائیل کے بے مثال جرائم کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھائیں،انہوں نے واضح کیا کہ یمن غزہ کی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

    پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کی کرسی کی صفائی کرکے ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیئے گئے

    مزید برآں یمنی افواج نے گزشتہ رات مقبوضہ فلسطین میں مزید اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا،یحییٰ سریع کے مطابق یمنی میزائل فورس نے ایک نیا ہائپرسانک بیلسٹک میزائل مقبوضہ القدس کے مغرب میں ایک حساس اسرائیلی فوجی مرکز پر داغا اور میزائل نے مکمل کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا ایک یمنی ڈرون نے مقبوضہ حیفا کے علاقے میں اسرائیل کے ایک اہم مقام کو بھی نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ حملہ بھی بالکل اپنے ہدف پر لگا۔

    اسرائیل کی جانب سے ان دعووں پر تاحال کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اگر یہ حملے ثابت ہو جاتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔

    بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

  • یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کردیا جس کے بعد تل ابیب میں بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

    رپورٹ کے مطابق میزائل حملے کے ساتھ ہی وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل فضا میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے، واقعے کے دوران فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو روکنے کی کئی کوششیں کیں تاہم، اسرائیلی پولیس کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق یمن کے حوثی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف تین کارروائیاں کی ہیں، جن میں ایک بیلسٹک میزائل بین گوریون ایئرپورٹ کی جانب فائر کرنا بھی شامل ہےحملے کا دعویٰ حوثی گروہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سَریع نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کیا۔

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ، جو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں پر قابض ہے، اسرائیل پر حملے کر رہا ہے اور تجارتی جہاز رانی کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈال رہا ہے،حوثی گروہ کئی بار کہہ چکا ہے کہ اس کے حملے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

  • یمن کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ

    یمن کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ

    یمن کی مسلح افواج نے فلسطینیوں کی حمایت میں گزشتہ رات فلسطین ٹو نامی ہائپرسانک بیلسٹک میزائل کے ذریعے صیہونی حکومت کے سب سے اہم ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی افواج نے ایک بیان میں اس کارروائی کا اعلان کیا، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو فلسطین-2 پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا،یہ کارروائی اپنے ہدف میں کامیاب رہی، اور 40 لاکھ سے زائد صیہونی حملہ آوروں کو پناہ گاہوں میں فرار ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔

    یہ حملہ اس فضائی ناکہ بندی کے سلسلے کا حصہ ہے جو یمنی افواج اسرائیلی حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے نافذ کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی غزہ پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط مکمل محاصرے کے خلاف ایک ردعمل بھی ہےفضائی ناکہ بندی کے دوران یمنی افواج نے متعدد مواقع پر اس ہوائی اڈے کی طرف ایسے میزائل فائر کیے ہیں۔

    کراچی: بینک کی کیش وین لوٹنے والے گروہ کے 2 ملزمان گرفتار

    اسی جمعے کو، اٹلی اور بھارت کی قومی ایئرلائنز نے بن گوریون ایئرپورٹ کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی کو بالترتیب 30 ستمبر اور 25 اکتوبر تک توسیع دینے کا اعلان کیا،یہ ناکہ بندی مئی میں نافذ کی گئی تھی، جو فلسطینیوں کی حمایت میں یمنی افواج کے اسرائیلی حساس اور اسٹریٹجک اہداف کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک اہم اضافہ تھی، یہ کارروائیاں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی نسل کشی کے آغاز کے بعد شروع ہوئی تھیں۔

    کراچی :ہوٹلوں کو ہدف بنانے کا خطرہ،امریکی حکومت کے اہلکاروں پرعارضی پابندی عائد

    مارچ سے اب تک یمنی افواج تقریباً 67 بیلسٹک میزائل اور 18 مسلح ڈرون اسرائیلی اہداف کی جانب فائر کر چکی ہیں،یمنی افواج کے بیان کے مطابق دشمن کی حرکات اور ان کے ان منصوبوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد یمن کی حمایت روکنا ہےیہ اشارہ اسرائیلی حکومت کے ان شدید حملوں کی طرف تھا جو وہ یمن کے اہم انفرااسٹرکچر پر کر رہی ہے تاکہ صنعا کو فلسطینیوں کی حمایت سے باز رکھا جا سکےتاہم، یمنی افواج نے زور دیا کہ وہ اور یمنی عوام انتہائی چوکس اور دشمن کے ہر اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جب تک کہ وہ ناکام نہ ہو جائیں، جیسے کہ پچھلے دور میں دیگر منصوبے، سازشیں، اور حرکتیں ناکام ہو چکی ہیں۔

    بھارت کو ایشیائی کھیلوں کی سیاست میں بڑا دھچکہ، پاکستان کی سفارتی فتح

  • حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

    حوثیوں کا اسرائیل سے ڈیل کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ نے کہا کہ اسرائیل پورٹس کے ساتھ ڈیل کرنے والی کسی بھی کمپنی کے جہازوں کو نشانہ بنائیں گے، ہماری کال نہ ماننے والی شپنگ کمپنیوں پر حملہ کیا جائے گا چاہے ان کی منزل کہیں بھی ہو۔

    رپورٹ کے مطابق حوثیوں کے دوسرے گروپ نے بھی جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا وہ ان تمام کمپنیوں کے بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے جو اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ کاروبار کرتی ہیں، یمن کی مسلح افواج تمام ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرائیں۔

    سی ویو سے مرد و خاتون کی لاشیں برآمد، ریٹائرڈ پولیس اہلکار کا بیٹا قتل

    حوثی فوج کے ترجمان نے ایک ٹی وی بیان میں متنبہ کیا کہ اگر ان کمپنیوں نے ان کی وارننگ کو نظرانداز کیا، تو ان کے جہازوں کو کسی بھی منزل پر جا رہے ہوں، نشانہ بنایا جائے گا، یمنی مسلح افواج عالمی برادری سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ اس کشیدگی سے بچنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ غزہ میں جارحیت بند کرے اور محاصرہ ختم کرے، ہمارا مقصد صرف یمن اور فلسطین کے عوام کے حقوق کا تحفظ ہے۔

    کمبوڈیا اور تھائی لینڈ فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر رضامند

    دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ محاصرے اور امداد بندش کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہیں حماس کا کہنا ہے کہ فضا سے گرائی جانے والی امداد ڈراما ہے اور اسے مسترد کرتے ہیں،امداد فراہمی سے ہی بات چیت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ حماس رہنما خلیل الحیہ نے کہا اسرائیل مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر رہا ہے اسرائیل کا مقصد صرف وقت ضائع کرنا اور مزید نسل کشی کرنا ہے مذاکرات میں اسرائیلی فوج کے انخلا اور امداد کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا ہم نے مشکل مذاکرات کیے، ہر ممکن لچک دکھائی،فلسطینی عوام مایوسی کا شکار ہیں، ہمارے لوگ اسرائیل کی مذاکراتی چالوں کو قبول نہیں کریں گے۔

  • یمنی شہری کی اپنے بچے کے سامنے بھوک سے مرنے کی ویڈیو نے دنیا کو ہلا دیا

    یمنی شہری کی اپنے بچے کے سامنے بھوک سے مرنے کی ویڈیو نے دنیا کو ہلا دیا

    اب: ایک یمنی شخص کی اپنے بچے کے سامنے بھوک سے مرنے کی دردناک ویڈیو نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : ویڈیو میں دکھایا گیا کہ بھوک سے نڈھال ایک یمنی شہری اپنی آخری سانس لے کر چل بسا جبکہ بچے کو معلوم نہیں تھا کہ اس کا باپ ایک دردناک منظر میں موت کے منہ میں چلا گیا ہے، یہ دردناک واقعہ ایک ایسے ایسے شہر میں پیش آیا ہے جہاں سے حوثی گروپ سالانہ اربوں ریال کماتا ہے۔

    یمنی کارکنوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر یاسر احمد البکار نامی شہری کی تصاویر پھیلا دی گئیں، البکار کی روح اس وقت پرواز کر گئی جب وہ شہر ’’اب‘‘ کے شمال مغرب میں واقع المعا ین کے علاقے میں فٹ پاتھ پر تھا اس کے سامنے روٹی کا ایک ٹکڑا تھا اور اس کے ساتھ اس کا کمسن بچہ عمار بھی موجود تھا، ویڈیو میں دکھائے جانے دردناک مناظر بھوک، غربت اور درد کی کیفیت کو ظاہر کر رہے تھے۔

    متحدہ عرب امارات میں عید الاضحیٰ کی تاریخ کا اعلان ہوگیا

    یمنی میڈیا ذرائع کے مطابق البکار چار بچوں کا باپ تھا اور وہ ہزاروں شہریوں کی طرح مشکل مالی حالات میں زندگی گزار رہا تھا یہ سب شہری سخت دنوں میں بھاری مصائب کا شکار ہیں، ”البکار“ اچانک بغیر کسی وارننگ کے انتقال کرگیا وہ اپنے ننھے سے بچے کو انتہائی صدمے کی حالت میں چھوڑ کر چل بسا۔

    شناختی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ البکاربدھ کی سہ پہر تک بھوکا رہا تھا۔ وہ روٹی اور دہی کا ایک ٹکڑا اور پانی کی ایک بوتل وصول کرنے سے پہلے ہی بھوک کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کا بچہ "عمار” موجود تھا جو اپنے ہاتھ میں کیک کا ٹکڑا اور جوس کا ایک ڈبہ کافی دیر سے پکڑے ہوئے تھا۔ یہ کیک اور جوس اسے ایک راہگیر نے دیا تھا۔ راہگیر نے سمجھا تھا کہ اس کا والد سو رہا ہے۔

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    شہری البکار کے ساتھ ہونے والے اس انجام پر سماجی حلقوں اور سوشل میڈیا سائٹس پر غم کی کیفیت چھا گئی اب اور باقی گورنریٹس میں بہت سے لوگوں کی جانب سے صدمے اور المیے کا اظہار کیا گیاشہریوں نے حوثی ملیشیا کو اس کے افسوسناک انجام کا ذمہ دار ٹھہرایا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز حوثی رہنماؤں کے لیے دہشت گردی کے اکھاڑہ میں تبدیل ہو گئے حوثی عیش و عشرت اور آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور ضرورت مند شہری بھوک سے مر رہے ہیں۔

    سماجی کارکن ابراہیم عسقین نے پلیٹ فارم ’’ فیس بک‘‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یاسر البکار کی موت ہوگئی اور اس کی تصاویر دور دور تک لوگوں میں دیکھنے کے لیے پھیل گئیں، بہت سے لوگ اب گورنریٹ میں ظلم و جبر اور فالج اور دل کے دورے کے درد سے مر رہے ہیں اور ان کے بارے میں کسی کو بھی علم نہیں ہو رہا یہ لوگ اس وقت فالج کا شکار ہوتے ہیں جب وہ خود کو اپنے بچوں اور خاندانوں کے لیے روزی فراہم کرنے کے قابل نہیں پاتے ہیں۔

    اسرائیل کے وحشیانہ حملے،حماس کمانڈر سمیت مزید 60 فلسطینی شہید

  • اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    اسرائیل نے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے یمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں جمعہ کے روز یمن میں حوثی اہداف کو نشانہ بنایاجن میں ایک پاور اسٹیشن اور ساحلی بندرگاہیں شامل تھیں جمعہ کو اسرائیلی فوج کے یمن میں حوثیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیے گئے حملوں میں حدیدہ، راس عیسیٰ بندرگاہوں، حزیاز پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا ، حملوں میں 1 شخص ہلاک اور 16 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ حوثی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی قیمت چکا رہے ہیں اور انہیں مزید بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی، ادھر حماس نے یمن پر حملے کی مذمت کی۔

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اسرائیل کے تازہ ترین حملے اس وقت ہوئے جب فوج نے جمعرات کو یمن سے داغے جانے والے 2 ڈرونز کو مار گرایا،اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یمنی باغی گروپ نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر اسرائیل پر درجنوں میزائل اور ڈرون فائر کیے۔

    گوجرہ: فائرنگ سے جرمنی پلٹ شخص سمیت دو نوجوان شدید زخمی

    دوسری جانب غزہ پر بھی اسرائیلی جارحیت جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 22 فلسطینی شہید ہوگئے،اس کے علاوہ لبنان پر بھی اسرائیل نے ڈروان حملہ کیا جس میں 5 شہری شہید ہوئے۔

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات