Baaghi TV

Tag: یمن

  • ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ابو ظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی اتحاد نے یمن پر حملہ کیا ہے

    صنعا کے اللیبیہ ضلع پر سعودی جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں کم از کم 12 شہری ہلاک ہو گئے ہیں سعودی اتحاد نے ان حملوں کو ابوظہبی ہوائی اڈے اور المصافہ کے علاقے میں کل کی انصار اللہ کی کارروائی کا ردعمل قرار دیا۔ان حملوں کے نتیجے میں پانچ رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ نیز صنعاء کے اسپتالوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 12 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔

    حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ،اسکائی نیوز عربیہ نے منگل کی صبح رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی افواج نے متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں یمنی دارالحکومت صنعا پر بمباری شروع کردی ہے اتحادی فوج کے ایک بیان کے مطابق، ’’یہ فضائی حملے دھمکیوں اور فوجی ضروریات کے جواب میں شروع کیے گئے تھے۔اتحادی فضائیہ صنعا کے آسمان پر چوبیس گھنٹے آپریشن کر رہی ہے۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوجی کیمپوں اور حوثیوں کے اجتماعات سے دور رہیں

    میڈیا رپورٹ کے مطابق فضائی حملے میں سابق فوجی عہدیدار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے، حوثیوں نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حملے میں تقریبا 20 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوئے ہیں، حملےمیں متعدد گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یو اے ای کے ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ہم منصب شیخ محمد بن زاید کو فون کیا، جس کے دوران انہوں نے حوثی ملیشیا کے یو اے ای پر حملے کی مذمت کی۔دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عزم کیا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائیاں جنہوں نے مملکت اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا، دونوں ممالک کے "عزم اور ان جارحانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے عزم” میں اضافہ کریں گے، جو حوثی ملیشیا کی طرف سے انجام دیے گئے ہیں، جنہوں نے یمن میں تباہی مچا رکھی ہے، یمنی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ عوام اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے "افراتفری پھیلانے کی مذموم اور ناکام کوششیں” جاری رکھیں۔

    سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ان صریح خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان دہشت گردانہ جرائم کو مسترد اور مذمت کریں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد نے جاں بحق افراد کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
    شیخ محمد بن زاہد نے مخلصانہ جذبات کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا،گفتگو کے دوران، انہوں نے علاقائی امور اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ٹویٹر پر کہا کہ آج مملکت اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ حملے اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملیشیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔”اس کے ساتھ ہی، ہم حوثیوں کی مداخلت سے نمٹنے اور مملکت اور اپنے خطے کی سلامتی کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے پیچھے کیا ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے کا دعویٰ یمن کے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کیا، جس کے نتیجے میں ابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، متحدہ عرب امارات ، جو حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد کا رکن ہے، اور مارچ 2015 سے یمن کی حکومت کی باضابطہ حمایت کر رہا ہے – نے بڑی حد تک حوثیوں پر فائرنگ سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب نے یمن سے بھیجے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا خمیازہ برداشت کیا ہے اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کا آخری حملہ 2018 میں ہوا تھا۔

    متحدہ عرب امارات یمن سے آگے ہے، اور یمن کے ساتھ سعودی عرب کی طویل سرحد کے برعکس، اس ملک کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ہے۔ لیکن حوثیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ نہ بنانے کی طویل عرصے سے ایک فعال حکمت عملی بھی دکھائی دیتی ہے،پچھلے کچھ سالوں سے، متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی براہ راست فوجی مداخلت کو کم کیا ہے۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

  • یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ

    لندن:یمن کے نزدیک بحری جہاز پر حملے کی اطلاعات ہیں :خطے میں کچھ ہونے جارہا ہے: برطانوی بحریہ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے بحری تجاری آپریشنز کی نگراں اتھارٹی UKMTO کے ایک اعلان کے مطابق اسے یمن کی راس عیسی بندرگاہ کے نزدیک ایک جہاز پر حملہ ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ مزید تفصیلات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق اتھارٹی نے ملاحوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ علاقے میں انتہائی احتیاط اختیار کریں اور چوکنا رہیں۔ مذکورہ اتھارٹی برطانوی شاہی بحریہ کا حصہ ہے۔یمن کے صوبے الحدیدہ میں راس عیسی بندرگاہ بحیرہ احمر پر واقع ہے۔

    یمنی حکومت کے علاوہ امریاک اور دیگر ممالک ہمیشہ سے الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ حوثی ملیشیا اس علاقے میں جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے کئی مرتبہ گولہ بارود سے بھری حوثی کشتیوں کا پتہ چلایا جنہوں نے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔

    ادھرعراقی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ پیر کے روز دو مسلح ڈرونز کو مار گرایا گیا جب وہ بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے عراقی فوجی اڈے کے قریب پہنچے، انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ایران اور عراق میں اس کے اتحادیوں نے اعلیٰ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی دوسری برسی منائی۔

  • یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا

    صنعا :یمن : مارب کے مغرب اور جنوب میں لڑائی کا دوبارہ آغاز، حوثیوں کا حملہ پسپا،اطلاعات کے مطابق یمن میں‌ ایک بار پھر سخت لڑائی شروع ہوگئی ہے، ادھر یمن کے صوبے مارب میں شدید معرکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے کے مغربی اور جنوبی حصے میں یمنی فوج کی حوثی ملیشیا کے ساتھ جھڑپیں پھر سے شروع ہو گئیں۔ یمنی فوج کو عوامی مزاحمت کاروں کی معاونت حاصل ہے۔

     

     

    ایران نواز حوثیوں نے اتوار کے روز اور پیر کی صبح مارب کے مغربی محاذ الکسارہ پر متعدد عسکری گاڑیاں اکٹھا کر لیں۔ تاہم یمنی فوج کی توپوں نے ان گاڑیوں کو شدید گولہ باری سے نشانہ بنایا اور دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے کے مطابق اس دران میں حوثی ملیشیا کے 8 ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ادھر جنوبی محاذ پر یمنی فوج نے دو سمتوں سے کیے گئے حوثیوں کے حملے کو پسپا کر دیا۔ دریں اثنا فوجی توپوں نے مشرقی بلق میں تین عسکری اور ایک بکتر بند گاڑی تباہ کر دی۔

    یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جوبہ اور ملعاء میں حوثیوں کی عسکری کمک کو نشانہ بنایا۔ اس دوران میں درجنوں عسکری گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔

     

    اس سے قبل عرب اتحاد کے ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ اتحاد کی سات کارروائیوں میں البیضاء صوبے کے عسکری کیمپ السوادیہمیں راکٹوں کے لانچنگ پیڈوں ، ہتھیاروں اور عسکری گاڑیوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

    زمینی ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا کہ عرب اتحاد نے البیضاء سے آنے والی حوثیوں کی عسکری کمک کو نعمان ضلع میں تباہ کر دیا۔

    یہ پیش رفت اُس مطالبے کے بعد سامنے آئی جس میں عرب اتحاد نے یمنی شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ البیضاء صوبے میں واقع السوادیہ عسکری کیمپ سے فوری طور پر نکل جائیں۔

  • ایران نے توسیع پسندی کی روش نا بدلی تو انجام کا زمہ دار خود ہوگا، کنگ سلمان کی دھمکی

    ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، ایران کی توسیع پسندی کی یہ خواہش خود ایران کیلئے خطرناک ثابت ہوگی. ان خیالات کا اظہار کنگ سلمان نے ایک تقریب سے گفتگو کے دوران کیا.

    ان کا کہنا تھا کہ تیل کی ترسیل سے متعلق پالیسی کا مقصد خطے میں تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے. وژن 2030 سعودیہ کیلئے مزید ترقی کا زریعہ ثابت ہوگا. انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں، اور انکے قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہیں‌ گے.

    انہوں نے کہا کہ سعودیہ پر 286 میزائل جبکہ 289 ڈرون حملے ہوئے ہیں. جنکی بڑی وجہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں. انکا کہنا تھا کہ ایران کے یہ عزائم سعودیہ کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں. ایران کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ یاد رکھنا چاہئے جو وہ بوئے گا وہی کاٹے گا.انکا مزید کہنا تھا کہ امن ہماری خواہش ہے لیکن اگر کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے گا تو اسکے لیے ہم کسی بھی حد سے گریز نہیں کریں گے.

    اس حوالے سے مزید جانیں

    سعودیہ کا یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن معاہدہ خطے میں امن لا سکے گا؟

    ایران کی کس پیشکش کو سعودیہ نے سستی سوداگری قرار دے دیا

    آرامکو حملوں کا جواب دینے کے کئ آپشن موجود ہیں. سعودیہ

     

  • سعودی اتحاد میں دراڑ، یمن کے معاملے پر مشکلات کا شکار

    سعودی اتحاد میں دراڑ، یمن کے معاملے پر مشکلات کا شکار

    دبئی : سعودی عرب مشکلات کا شکار ، یمن میں‌سعودی اتحاد مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آرہا ، اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک باغی عدن پورٹ کا قبضہ چھوڑ کر اپنی پوزیشن پر واپس نہیں جاتے اس وقت تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے

    ذرائع کے مطابق یمن میں سعودی عرب نے 10 اگست کو جنوبی فورسز کی جانب سے عدن پورٹ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد باغیوں سے مذاکرات طے کیے تھے جس پر اتحاد میں دراڑ پڑ گیا ہے۔سعودی نواز حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک وہ قبضہ کیے گئے علاقوں کو نہیں چھوڑتے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلحہ کو واپس کرتے ہوئے حکومتی فورسز کو واپس آنے کی اجازت نہیں دیتے’۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔