Baaghi TV

Tag: یمن

  • یونانی فوج  نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے

    یونانی فوج کے زیر استعمال امریکی فضائی دفاعی نظام (پیٹریاٹ) نے سعودی عرب میں یمن سے داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل مار گرائے۔

    رائٹرز کے مطابق یونانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہےکہ سعودی عرب میں تعینات یونانی فوج کے زیر استعمال فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کے روز یمن سے ینبع کی آئل ریفائنریوں کی جانب داغےگئے 2 بیلسٹک میزائل تباہ کردیے سعودی سول ڈیفنس نے حملےکے خدشےکے پیش نظر ینبع میں ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنےکی ہدایت کی یمن سے 2 بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا جن کا ہدف ینبع کی آئل ریفائنریاں تھیں۔ایک دوسرے ذریعے نے بھی دونوں میزائلوں کو فضا میں تباہ کیے جانے کی تصدیق کی۔

    واضح رہےکہ یونان نے 2021 میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدےکے تحت امریکی پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام سعودی عرب میں تعینات کیا تھا، جسے یونانی فوجی چلاتے ہیں،اس کا مقصد سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچےکا تحفظ ہے، یہ واقعہ دوسرا موقع تھا جب یونانی اہلکاروں نے سعودی عرب میں اس نظام کے ذریعےکسی حملےکو ناکام بنایا۔

  • حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    حوثیوں کی سعودی جہازوں اور شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ

    یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکا بندی پر عملی اقدامات شروع کرتے ہوئے سعودی جہازوں اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کو براہِ راست وارننگ جاری کر دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے لیے ایف ایم ریڈیو پر انگریزی زبان میں ایک مختصر پیغام نشر کیا، جس میں سعودی عرب سے وابستہ تمام جہازوں کو ریڈ سی کے بجائے خلیجِ عدن کے راستے سفر کرنے کی ہدایت کی گئی پیغام میں کہا گیا کہ اگر سعودی جہازوں نے حوثیوں کی ہدایات پر عمل نہ کیا تو وہ ان کے حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

    یونان کی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی مارسکس کے مطابق یہ اعلان خطے میں سمندری سلامتی کی صورتِ حال میں ایک اہم اور خطرناک پیشرفت ہے، کیونکہ اب کشیدگی فضائی اور سیاسی محاذ سے بڑھ کر بحری راستوں تک پہنچ چکی ہے، اگر حوثیوں نے اس ناکا بندی پر عملی کارروائی شروع کی تو ابتدائی طور پر سعودی ملکیت یا سعودی مفادات سے وابستہ تجارتی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حوثیوں نے پیر کے روز سعودی عرب کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا تھا، بیان میں کہا گیا تھا کہ 20 جولائی سے سعودی بندرگاہوں پر کارگو کی نقل و حرکت حوثیوں کی جانب سے ممنوع تصور کی جائے گی، جب کہ خلاف ورزی کرنے والے جہاز پابندیوں اور ممکنہ فوجی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔

    حوثیوں کی جانب سے شپنگ کمپنیوں کو ای میل کے ذریعے بھی خبردار کیا گیا کہ وہ سعودی عرب کی کسی بھی بندرگاہ پر سامان کی لوڈنگ یا ان لوڈنگ سے گریز کریں،ایسی سرگرمی میں ملوث جہازوں کو کسی بھی مقام پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    سعودی جہازوں کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان کے بعد سعودی عرب کی جانب سے اس کی سخت مذمت کی گئی بحیرۂ احمر اس وقت سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کا اہم متبادل راستہ بن چکا ہے، کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    بحری تجزیاتی ادارے ’کپلر‘ کے اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 19 جولائی کے دوران باب المندب کی گزرگاہ سے 209 تجارتی جہاز گزرے، جب کہ حوثی ماضی میں بھی اس علاقے میں متعدد جہازوں پر حملے کر چکے ہیں،باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سمندر ی تجارت کا تقریباً 15 فی صد حصہ گزرتا ہے،ماہرین کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی شپنگ صنعت کو سالانہ تقریباً 20 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

  • اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    اسرائیل پر حوثی حملے صرف وارننگ ہیں جنگ میں شمولیت نہیں،سابق امریکی سفیر

    سابق امریکی سفارتکار نبیل خوری کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملے مکمل جنگی شمولیت نہیں بلکہ محض انتباہ ہیں۔

    الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے یمن میں امریکی مشن کے سابق نائب سربراہ نبیل خوری نے کہا کہ حوثیوں نے صرف چند میزائل فائر کیے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک پیغام دیا جا سکے خطے میں امریکی افواج کی آمد اور ممکنہ بڑے پیمانے پر کشیدگی کی باتوں کے پیش نظر یہ اقدام ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف ایک بڑے حملے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جیسا کہ اس سے قبل نہیں دیکھا گیا۔

    نبیل خوری کے مطابق حوثی یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم اب بھی موجود ہیں، اور اگر ایران کے خلاف مکمل کارروائی کی گئی تو ہم بھی اس میں شامل ہو جائیں گے، تاہم فی الحال وہ عملی طور پر مکمل جنگ میں شامل نہیں ہوئے اگر حوثی اس تنازع میں مکمل طور پر شامل ہوتے ہیں تو ان کا سب سے اہم اور خطرناک اقدام آبنائے باب المندب کو بند کرنا ہو سکتا ہے، جو بحیرہ احمر کا داخلی راستہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حوثی کشتیوں، بارودی سرنگوں یا میزائلوں کے ذریعے اس اہم گزرگاہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں نبیل خوری کے بقول انہیں صرف چند بحری جہاز وں پر حملہ کرنا ہوگا، جس کے بعد بحیرہ احمر سے گزرنے والی تمام تجارتی جہاز رانی رک سکتی ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ ایسا اقدام ایک سرخ لکیر ثابت ہوگا، جس کے بعد یمن کے خلاف فوری فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کو پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملہ داغا تھا، جس کی حوثی فوجی ترجمان یحیی ساری نے تصدیق کی تھی۔

  • پاکستان کی  یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    پاکستان کی یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    اسلام آباد: پاکستان نے یمن میں دوبارہ تشدد بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ یمن میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں، یکطرفہ اقدامات صورتحال کو مزید کشیدہ، امن کوششوں کو نقصان اور خطے کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنےکے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی سے وابستگی کو دہرایا ہے سعودی عرب کی سکیورٹی پاکستان کے لیے اہم ہے، ہر ممکن تعاون جاری رہےگا، پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ یمن مسئلے کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی بنیاد پر راستہ اختیار کیا جائے، امید ہے یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر جامع اور دیرپا حل کی طرف بڑھیں گی، یمن میں پائیدار تصفیہ خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ

  • یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

    یمن کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ، جہاز میں 27 پاکستانی پھنس گئے

    یمن کی راس العیسی بندرگاہ کے قریب تیل بردار بحری جہاز پر ڈرون حملہ ہوا ہے، جس میں جہاز میں موجود 27 پاکستانی متاثر ہوئے ہیں۔

    ڈرون حملے کے باعث جہاز میں آگ بھڑک اٹھی جبکہ عملے کے پاس آگ بجھانے کے کوئی آلات موجود نہیں تھے۔ عملے کو وقتی طور پر جہاز سے نکالا گیا لیکن بعد ازاں زبردستی دوبارہ جہاز میں بھیج دیا گیا۔ذرائع کے مطابق جہاز تہران سے تیل لے کر یمن جا رہا تھا۔ واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عملے کے افراد کو جہاز کے ایک کمرے میں یرغمال بنایا گیا ہے۔

    دوسری جانب متاثرہ پاکستانیوں کے لواحقین نے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

    سندھ کابینہ میں ردوبدل، وزرا کے قلمدان تبدیل

    نوشکی بازار میں دستی بم دھماکا، ایک جاں بحق، 9 افراد زخمی

    ایران-روس کے درمیان 25 ارب ڈالر کے ایٹمی بجلی گھر وں کامعاہدہ

  • یمنی فوج کے میزائل حملے ، اسرائیل کا بن گوریون ایئرپورٹ بند

    یمنی فوج کے میزائل حملے ، اسرائیل کا بن گوریون ایئرپورٹ بند

    یمن کی مسلح افواج نے اسرائیل کے معروف بن گوریون ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے –

    یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی فلسطینی عوام اور مزاحمتی قوتوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کی گئی، ان کے مطابق حملے میں ذوالفقار بیلسٹک میزائل استعمال کیا گیا جس نے مقبوضہ لُد میں واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا،یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائی دفاع، جسے امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے، میزائل کو روکنے میں ناکام رہا۔

    انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل سے میزائل نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا، جس کے بعد لاکھوں صہیونی باشندے خوف و ہراس کے عالم میں پناہ گاہوں کی طرف بھاگے اور ایئرپورٹ کو اپنی سرگرمیاں معطل کرنی پڑیں،غزہ کے مظلوم عوام جن حالات کا سامنا کررہے ہیں، وہ تمام اقوام پر فرض کرتے ہیں کہ وہ مذہبی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے تمام پابندیوں کو توڑ دیں اور اسرائیل کے بے مثال جرائم کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھائیں،انہوں نے واضح کیا کہ یمن غزہ کی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک اسرائیلی حملے بند نہیں ہوتے اور محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

    پیوٹن سے ملاقات کے بعد کم جونگ کی کرسی کی صفائی کرکے ڈی این اے کے ثبوت مٹا دیئے گئے

    مزید برآں یمنی افواج نے گزشتہ رات مقبوضہ فلسطین میں مزید اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا،یحییٰ سریع کے مطابق یمنی میزائل فورس نے ایک نیا ہائپرسانک بیلسٹک میزائل مقبوضہ القدس کے مغرب میں ایک حساس اسرائیلی فوجی مرکز پر داغا اور میزائل نے مکمل کامیابی سے ہدف کو نشانہ بنایا ایک یمنی ڈرون نے مقبوضہ حیفا کے علاقے میں اسرائیل کے ایک اہم مقام کو بھی نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ حملہ بھی بالکل اپنے ہدف پر لگا۔

    اسرائیل کی جانب سے ان دعووں پر تاحال کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اگر یہ حملے ثابت ہو جاتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔

    بلوچستان: سیاسی جماعتوں کا 8 ستمبر کو صوبے بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان

  • یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمنی حوثیوں کا اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ، تل ابیب میں بھگدڑ،کئی افراد زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر میزائلوں سے حملہ کردیا جس کے بعد تل ابیب میں بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔

    رپورٹ کے مطابق میزائل حملے کے ساتھ ہی وسطی اسرائیل میں سائرن بج اٹھے،اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یمن کے حوثیوں کی طرف سے فائر کیے گئے میزائل فضا میں ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے، واقعے کے دوران فضائی دفاعی نظام نے میزائل کو روکنے کی کئی کوششیں کیں تاہم، اسرائیلی پولیس کے مطابق اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق یمن کے حوثی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف تین کارروائیاں کی ہیں، جن میں ایک بیلسٹک میزائل بین گوریون ایئرپورٹ کی جانب فائر کرنا بھی شامل ہےحملے کا دعویٰ حوثی گروہ کے فوجی ترجمان یحییٰ سَریع نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کیا۔

    سندھ کابینہ کے 3 وزرا جامعات کے پرو چانسلر مقرر

    ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ، جو یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں پر قابض ہے، اسرائیل پر حملے کر رہا ہے اور تجارتی جہاز رانی کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈال رہا ہے،حوثی گروہ کئی بار کہہ چکا ہے کہ اس کے حملے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔

    خیبرپختونخوا: سیلاب متاثرہ اضلاع میں وبائی امراض پھیلنے لگے

  • یمن کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ

    یمن کا اسرائیلی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ

    یمن کی مسلح افواج نے فلسطینیوں کی حمایت میں گزشتہ رات فلسطین ٹو نامی ہائپرسانک بیلسٹک میزائل کے ذریعے صیہونی حکومت کے سب سے اہم ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایران کے پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی افواج نے ایک بیان میں اس کارروائی کا اعلان کیا، جس میں کہا گیا کہ انہوں نے تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ایئرپورٹ کو فلسطین-2 پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا،یہ کارروائی اپنے ہدف میں کامیاب رہی، اور 40 لاکھ سے زائد صیہونی حملہ آوروں کو پناہ گاہوں میں فرار ہونے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل ہو گئیں۔

    یہ حملہ اس فضائی ناکہ بندی کے سلسلے کا حصہ ہے جو یمنی افواج اسرائیلی حکومت پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے کے مقصد سے نافذ کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی غزہ پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط مکمل محاصرے کے خلاف ایک ردعمل بھی ہےفضائی ناکہ بندی کے دوران یمنی افواج نے متعدد مواقع پر اس ہوائی اڈے کی طرف ایسے میزائل فائر کیے ہیں۔

    کراچی: بینک کی کیش وین لوٹنے والے گروہ کے 2 ملزمان گرفتار

    اسی جمعے کو، اٹلی اور بھارت کی قومی ایئرلائنز نے بن گوریون ایئرپورٹ کے لیے اپنی پروازوں کی معطلی کو بالترتیب 30 ستمبر اور 25 اکتوبر تک توسیع دینے کا اعلان کیا،یہ ناکہ بندی مئی میں نافذ کی گئی تھی، جو فلسطینیوں کی حمایت میں یمنی افواج کے اسرائیلی حساس اور اسٹریٹجک اہداف کے خلاف جاری آپریشنز میں ایک اہم اضافہ تھی، یہ کارروائیاں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی نسل کشی کے آغاز کے بعد شروع ہوئی تھیں۔

    کراچی :ہوٹلوں کو ہدف بنانے کا خطرہ،امریکی حکومت کے اہلکاروں پرعارضی پابندی عائد

    مارچ سے اب تک یمنی افواج تقریباً 67 بیلسٹک میزائل اور 18 مسلح ڈرون اسرائیلی اہداف کی جانب فائر کر چکی ہیں،یمنی افواج کے بیان کے مطابق دشمن کی حرکات اور ان کے ان منصوبوں پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد یمن کی حمایت روکنا ہےیہ اشارہ اسرائیلی حکومت کے ان شدید حملوں کی طرف تھا جو وہ یمن کے اہم انفرااسٹرکچر پر کر رہی ہے تاکہ صنعا کو فلسطینیوں کی حمایت سے باز رکھا جا سکےتاہم، یمنی افواج نے زور دیا کہ وہ اور یمنی عوام انتہائی چوکس اور دشمن کے ہر اقدام کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، جب تک کہ وہ ناکام نہ ہو جائیں، جیسے کہ پچھلے دور میں دیگر منصوبے، سازشیں، اور حرکتیں ناکام ہو چکی ہیں۔

    بھارت کو ایشیائی کھیلوں کی سیاست میں بڑا دھچکہ، پاکستان کی سفارتی فتح