Baaghi TV

Tag: یمن

  • ایران نے توسیع پسندی کی روش نا بدلی تو انجام کا زمہ دار خود ہوگا، کنگ سلمان کی دھمکی

    ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے خطہ عدم استحکام کا شکار ہوا، ایران کی توسیع پسندی کی یہ خواہش خود ایران کیلئے خطرناک ثابت ہوگی. ان خیالات کا اظہار کنگ سلمان نے ایک تقریب سے گفتگو کے دوران کیا.

    ان کا کہنا تھا کہ تیل کی ترسیل سے متعلق پالیسی کا مقصد خطے میں تیل کی سپلائی کو محفوظ بنانا ہے. وژن 2030 سعودیہ کیلئے مزید ترقی کا زریعہ ثابت ہوگا. انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ فلسطین پر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں، اور انکے قدم سے قدم ملا کر کھڑے رہیں‌ گے.

    انہوں نے کہا کہ سعودیہ پر 286 میزائل جبکہ 289 ڈرون حملے ہوئے ہیں. جنکی بڑی وجہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں. انکا کہنا تھا کہ ایران کے یہ عزائم سعودیہ کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہیں. ایران کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ یاد رکھنا چاہئے جو وہ بوئے گا وہی کاٹے گا.انکا مزید کہنا تھا کہ امن ہماری خواہش ہے لیکن اگر کوئی ہماری خود مختاری کو چیلنج کرے گا تو اسکے لیے ہم کسی بھی حد سے گریز نہیں کریں گے.

    اس حوالے سے مزید جانیں

    سعودیہ کا یمن کے متحارب گروپوں کے درمیان امن معاہدہ خطے میں امن لا سکے گا؟

    ایران کی کس پیشکش کو سعودیہ نے سستی سوداگری قرار دے دیا

    آرامکو حملوں کا جواب دینے کے کئ آپشن موجود ہیں. سعودیہ

     

  • سعودی اتحاد میں دراڑ، یمن کے معاملے پر مشکلات کا شکار

    سعودی اتحاد میں دراڑ، یمن کے معاملے پر مشکلات کا شکار

    دبئی : سعودی عرب مشکلات کا شکار ، یمن میں‌سعودی اتحاد مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نظر نہیں آرہا ، اطلاعات کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمن کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جب تک باغی عدن پورٹ کا قبضہ چھوڑ کر اپنی پوزیشن پر واپس نہیں جاتے اس وقت تک ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے

    ذرائع کے مطابق یمن میں سعودی عرب نے 10 اگست کو جنوبی فورسز کی جانب سے عدن پورٹ کا قبضہ حاصل کرنے کے بعد باغیوں سے مذاکرات طے کیے تھے جس پر اتحاد میں دراڑ پڑ گیا ہے۔سعودی نواز حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ جب تک وہ قبضہ کیے گئے علاقوں کو نہیں چھوڑتے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اسلحہ کو واپس کرتے ہوئے حکومتی فورسز کو واپس آنے کی اجازت نہیں دیتے’۔

  • ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    ایران امریکہ تنازعہ اور مینوپیولیشن!!! بلال شوکت آزاد

    عالمی ماہرین عسکریات و جنگ اور سیاست کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں دو طاقتیں یعنی امریکہ اور ایران کا مبینہ ٹکراؤ ہوتا ہے تو وہ پھیل کر جی سی سی ممالک کے دروازے تک جائے گا۔

    بیشک یہ جنگ یا ٹکراؤ ہو یا نہ ہو پر ایک بات روز روشن کی طرح ان دونوں ممالک کے تمام سابقہ بیانات, اقدامات اور اشتراکات کے بعد واضح ہے کہ ٹکرانے والی دونوں ریاستوں کے اس ٹکراؤ کے پھیلنے سے ان کے دیرینہ اور مشترکہ مفادات مکمل ہونگے جیسے کہ

    —چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی مداخلت اور اقتصادی و تجارتی گرفت کمزور ہوگی۔

    —سی پیک منصوبہ سبوتاژ ہوگا۔

    —پاکستان کی بڑھتی ہوئی معاشی و اقتصادی اور دفاعی ترجیحات و توقعات بند گلی میں رک جائیں گی۔

    —خطے میں عدم استحکام اور عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوگی جو گریٹر اسرائیل منصوبے کی تکمیل کو سہل بنائے گی۔

    —جنگ پھیلے گی تو یقیناً جنگ ذدہ ممالک کی عوام بھوک, افلاس اور تباہی کی شکار ہوگی جہاں این جی اوز کی بھرمار کرکے مائنڈ کنٹرول گیم کا مرحلہ وار آغاز کیا جائے گا۔

    —خطے کے غیور اور طاقتور ممالک کی غیرت اور طاقت بالائے طاق رکھ دی جائے گی یا گروی۔

    —جنگ پھیلنے کے بعد بہت ممکن ہےکہ ٹکرانے والے دونوں ممالک حریف سے حلیف بن جائیں اعلانیہ ان ممالک کے خلاف جہاں ان کی شروع کی جنگ پھیل کر پہنچے گی اور جن کی تباہی سے ان کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوگی۔

    —ہر دو صورتوں یعنی جنگ یا جنگی ڈرامے میں یمن, چین اور پاکستان بہرحال نشانے پر ہیں, تھے اور رہیں گے کہ اتنا تام جھام فقط آپس میں ایسی جنگ لڑنے کے لیئے نہیں کیا گیا جس میں کوئی فائدہ نہیں۔

    اب بھی کسی کو شک ہے کہ یہ عالمی مینوپولیوشن نہیں ہورہی آجکل ایران امریکہ تنازعے کی آڑ میں تو وہ پوگو دیکھے۔