Baaghi TV

Tag: یورپی یونین

  • دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    جوزف بورل نے اعتراف کیا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو گئی ہے ۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے فنانشل ٹائمز اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے اقدامات کریں۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اس مضمون میں کہا ہے کہ جوہری معاہدہ، آئی اے ای اے کیجانب سے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نگرانی کے سب سے بڑے نظام کی قسم ہے جس نے ایران کیخلاف امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی منسوخی کے لئے زمین ہموار کی ہے، لیکن امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائی جو ناکام ہوگئی اور اصل میں ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔

    جوزف بورل نے کہا کہ اگرچہ جوہری معاہدہ، ایک مکمل معاہدہ نہیں ہے لیکن اس میں تمام بنیادی عناصر پر توجہ دی گئی ہے جس سے اراکین نے سختی سے اتفاق کیا ہے لہذا اب جوہری معاہدے کی بحالی کے اس اچھے موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا؛ میری رائے میں جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی نہ صرف ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں موثر ہوگی بلکہ یہ خطے میں سلامتی کے ماحول کو مستحکم کر سکتی ہے اور ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

    جوزف بورل نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تجویز کردہ متن، مذاکرات کی بحالی اور نتیجے کے حصول کیلئے اہم اور مفید ہو سکتا ہے۔

  • یورپی یونین کی ایران سے ایٹمی مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل

    یورپی یونین کی ایران سے ایٹمی مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل

    تہران :یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی اور یورپی ملکوں کی وعدہ خلافیوں کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر، ایٹمی معاہدے کی بحالی کے جاری مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    یورپی یونین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان پیٹر استانو نے پابندیوں کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کا مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اصل ملک کی حثیت سے امریکہ ، اعتماد کی بحالی کے لیے لازمی اقدامات سے مسلسل گریزاں ہے۔

    ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آٹھواں دور گزشتہ سال ستائیس دسمبر کو شروع ہوا تھا اور رواں سال گیارہ مارچ کو یورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل کی تجویز پر، اس میں وقفہ دیا گیا تھا جس کا مقصد ضروری صلاح و مشورے کی غرض سے مذاکراتی وفود کا اپنے اپنے ملکوں کے دارالحکومتوں کو لوٹنا بتایا گیا تھا۔

    واشنگٹن کی غیر قانونی علیحدگی سے ایٹمی معاہدے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی غرض سے امریکہ کی لیت ولعل کی وجہ سے مذاکرات اب تک معطل تھے تاہم یورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل کے حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا ایک دور اٹھائیس اور انیتس جون کو دوحہ میں ہوا ۔

    البتہ امریکہ نے مذاکرات پر توجہ دیئے بغیر، حال ہی میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ، جس پر ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

  • روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے اعلان کیا کہ یوکرین سے اشیائے خور و نوش کی برآمدات کو یقینی بنانے کے معاملے پر جرمنی آئندہ جمعہ کو ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

    روس نے بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جبکہ ترکی نے یہ تجویز دی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روس نے بدھ کے روز بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن راہداریوں کے قیام کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

    روس کے اقوام متحدہ کے لیے مقرر کردہ سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ ’ہم محفوظ راہداریوں کے قیام کے ذمہ دار نہیں ہیں تاہم، اگر راہداری قائم ہو جائے تو ہم یوکرین کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر سکتے ہیں‘۔رپورٹ کے مطابق، روس کے علاوہ ترکی نے بھی یوکرین کے اناج کے جہازوں کی مدد کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے۔

    ترکی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود یوکرینی جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ ابھی تک اس منصوبے پر ماسکو کے ردعمل کا انتظار کررہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ معلوم ہے کہ سی مائنز(Sea Mines) کہاں موجود ہیں، اس لیے تین بندرگاہوں پر کچھ محفوظ راستے بنائے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ روس کے حملے اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد سے یوکرینی اناج کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے اناج، کھانا پکانے کے تیل، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ یوکرین کی برآمدات اور روسی خوراک اور کھاد کی برآمدات کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع؛ یورپی یونین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع؛ یورپی یونین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    اسلام آباد:جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع، اس وقت پاکستان اور یورپ کے درمیان اس معاملے پر بڑی تیزی سے پیش رفت جاری ہے ، جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع کے لیے یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن پاکستان پہنچ گیا۔

    وزارت تجارتِ کے حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن انسانی حقوق، چائلڈ لیبر کا خاتمہ، لیبر رائٹس سمیت دیگر امور کا جائزہ لے گا جبکہ 27 کنونشنز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع کا قوی امکان ہے، پاکستان نے جی ایس پی کنونشنز پر بھرپور عملدرآمد کیا۔
    حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹس میں توسیع کے بعد پاکستان کو مزید 5 کنونشنز پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

    جی ایس پی پلس کیا ہے؟

    یورپی پارلیمنٹ نے یکم مئی کو قرارداد کی بھاری اکثریت منظوری کرتے ہوئے پاکستان کو دیے گئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظرثانی کرنے کا کہا گیا تھا، سال 1971 میں اقوام متحدہ کی کانفرنس اینڈ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ نے قرار داد منظور کی تھی کہ یورپی ممالک ترقی پذیر ممالک کی برآمدات بڑھانے اور وہاں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ان ممالک کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رسائی دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سکیم کے تین مرحلے ہیں جس میں بنیادی جی ایس پی، جی ایس پی پلس، اور ایوری تھنگ بٹ آرمز یعنی اسلحے کے علاوہ تمام اشیاء تمام شامل ہیں۔

    پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس کا حامل ملک ہے، جس کے ایسی دو تہائی مصنوعات جس پر درآمدی ڈیوٹی لگتی ہے اسے کم کر کے صفر فیصد کردیا جاتا ہے۔

  • یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار

    ماسکو:یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلزپرپابندی:روس بھی جواب دینےکےلیےتیار،اطلاعات کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے بدھ کو کہا کہ ماسکو روسی ٹی وی چینلز پر پابندی کے فرانس کے فیصلے کا جواب دے گا۔

    یورپی یونین کی طرف سے تین روسی ٹی وی چینلز – رشیا پلینٹ، روس 24، اور انٹرنیشنل ٹی وی سینٹر – پرپابندی کے بعد روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے فرانس کو سخت پیغام بھیجا ہے وزارت کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا، "فرانسیسی حکام نے ایک بار پھر ‘آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے نظریات کو دبا کرخودغرضی کا مظاہرہ کیا ہے

    روس کون ہوتا ہےپوچھنے والا کہ نیٹوفن لینڈ اورسویڈن میں‌ جوہری ہتھیارنصب کرے گا

    روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ "یقیناً، ہم اس طرح کے غیر دوستانہ اقدامات کا جواب دینے کے لیے آپشنز تلاش کریں گے اور یقیناً جواب دیا جائے گا۔”وزارت نے یہ بھی ردعمل دیا کہ اگر مغرب نے روسی صحافیوں کو ستانا جاری رکھا تو روس اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہے

    روسی ٹی وی چینلز پر لٹویا کی پابندی کے بارے میں بات کرتے ہوئے زاخارووا نے اسے "میڈیا نسل کشی” قرار دیا۔ خاص طور پر، اس نے مقامی میڈیا واچ ڈاگ کے تمام روسی رجسٹرڈ ٹی وی چینلز کی نشریات پر پابندی کے فیصلے کا حوالہ دیا۔

    انہوں نے کہا، "ان میڈیا آپریٹرز کا قصور یہ ہے کہ ان کے پاس روسی دائرہ اختیار کے تحت میڈیا آؤٹ لیٹ کے طور پر لائسنس حاصل کررکھے تھے،” انہوں نے مزید کہا، "اس اقدام کے نفاذ سے ملک کی تقریباً 40 فیصد آبادی محروم ہو جاتی ہے۔ روسی زبان میں معلومات کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن ذرائع تک رسائی۔”ایک بڑا مسئلہ بن کررہ جائے گا

    روس یوکرین جنگ، یوکرینی فورسز کا اہم روسی جنرل کی ہلاکت کا دعویٰ

    زاخارووا نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اس کے برعکس دعویٰ کرنے کے باوجود روسی صحافیوں کو ویزا جاری نہیں کرتا اور نہ ہی اس میں توسیع کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ "ہم امریکی حکومتی اداروں اور عوام کی توجہ اس طرف مبذول کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ میں روسی میڈیا کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

    روس نے 61 امریکی شہریوں پرسفری پابندیوں کی تصدیق کردی

    ترجمان نے مزید کہا کہ ماسکو میں امریکی صحافیوں کے لیے ایک کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں روس میں تسلیم شدہ تمام امریکی میڈیا کے بیورو کے سربراہان کو مدعو کیا گیا تھا۔ انہیں امریکہ میں روسی صحافیوں کو درپیش تمام مشکلات کے بارے میں "نقطہ بہ نقطہ” بتایا گیا

  • کروشیا “یورو زون” کی رکنیت حاصل کرنے والا 20 واں  ملک بن گیا

    کروشیا “یورو زون” کی رکنیت حاصل کرنے والا 20 واں ملک بن گیا

    برسلز:یورپی یونین میں پھر سے جان آنے لگی اور تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کروشیا نے ایک میدان مارلیا ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ یورپی کمیشن کے مطابق کروشیا نے یوروکرنسی کے حوالے سے تمام ضوابط اختیار کر لیے ہیں اور یوں اگلے برس سے اس مشرقی یورپی ملک میں یورو کرنسی رائج ہو جائے گی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کی 27 رکن ریاستیں ہیں جب کہ یورو کرنسی استعمال کرنے والے ممالک اس وقت 19 ہیں اور اگلے برس کروشیا کے شامل ہونے کے بعد یہ تعداد 20 ہو جائے گی۔

    حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں یورپی کمیشن نے کہا تھا کہ کروشیا اب یورو کرنسی اختیار کرنے کے اعتبار سے تمام تر شرائط پر پورا اترتا ہے اور اگلے برس یکم جنوری سے وہ کونا کی جگہ یورو اختیار کر سکتا ہے۔

    یورپی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ بارہ ماہ میں کروشیا میں افراط زر چار اعشاریہ سات فیصد رہی، جو مقرر کردہ انتہائی حد سے معمولی سی کم ہے۔گزشتہ برس کروشیا کا بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیدوار کا دو اعشاریہ نو فیصد تھا، جو رواں برس متوقع طور پر کم ہو کر دو اعشاریہ تین فیصد ہو سکتا ہے۔

    یاد رہے، کروشیا جولائی 2013 میں یورپی یونین کا حصہ بنا تھا اور تب سے وہ اپنی کرنسی ‘کُونا‘ کی جگہ یورو اختیار کرنے کی کوششوں میں ہے۔ اس پورے عمل میں اسے تقریباﹰ دس برس کا عرصہ لگ گیا۔یورپی یونین کا حصہ بننے والی ریاستوں کو یورو کرنسی رائج کرنا ہوتی ہے تاہم یورپی یونین کی رکنیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رکن ریاست کو خود بہ خود یورو کرنسی اپنانے کا حق یا اجازت بھی مل جائے۔ یورو کرنسی کے نفاذ سے قبل یورپی یونین کی رکن ریاست کو یورو کرنسی سے جڑے تمام تر قانونی اور اقتصادی ضوابط کی تکمیل کرنا ہوتی ہے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    ماسکو روس نے یورپی یونین اور امریکا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے فیصلے امریکا کے اشاروں پر کیے جاتے ہیں۔

    آج بروزبدھ روس کے ریڈیو اسپٹنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے کہا کہ یورپ کے فیصلوں اور بیانات کا انتظامی مرکز درحقیقت یورپی اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین پر نہیں ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ ماریا زخاروف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ذمے داران کے بیانات امریکی ہدایات کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اس بات کا جاننا بہت دشوار ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کے کون سے فیصلے خود مختار اور آزاد حیثیت سے کیے جاتے ہیں۔

    یورپی ممالک کے فیصلوں کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی کیا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس چیز کے لیے کوشاں ہیں، ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے مغربی اتحادی ممالک جن میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سرفہرست ہیں، یوکرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس دوران روس پر کئی طرح کی کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

    واضح رہے کہ 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی ممالک کے اتحاد یورپی یونین میں شامل اکثر ممالک نے مشرقی یورپی ملک یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد میں شمولیت اختیار کر لے تاہم روس کے نزدیک یہ سرخ لکیر کے مترادف ہے۔

  • یورپی یونین کے وفد کے ناظم الامور مسٹر تھامس سیلر کی شہبازشریف سے ملاقات:بھرپورتعاون کی یقین دہانی

    یورپی یونین کے وفد کے ناظم الامور مسٹر تھامس سیلر کی شہبازشریف سے ملاقات:بھرپورتعاون کی یقین دہانی

    اسلام آباد:یورپی یونین کے وفد کے ناظم الامور مسٹر تھامس سیلر کی شہبازشریف سے ملاقات:بھرپورتعاون کی یقین دہانی،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور باہمی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے ناظم الامور مسٹر تھامس سیلر کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے یورپی یونین کے ساتھ مختلف شعبوں میں کثیر جہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

    وزیراعظم نے علاقائی اور بین الاقوامی تناظر میں امن و استحکام کے امور پر دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے دونوں اطراف کے درمیان اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

    دوسری جانب مسٹر تھامس سیلر نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے یورپی یونین کے عزم کی توثیق کی۔علاوہ ازیں یورپی یونین کے وفد کے ناظم الامور نے وزیر اعظم شہباز شریف کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور یورپین کونسل کے صدر اور یورپی یونین کمیشن کے صدر کی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے تہنیتی پیغامات پر چارج ڈی افیئرز کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط اقتصادی، تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو اجاگر کیا۔

    خیال رہے کہ پاکستان اور یورپی یونین اس سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔اس سنگِ میل کی مناسبت سے تقریبات اسلام آباد اور برسلز دونوں میں منعقد ہونے کا تصور کیا گیا ہے۔

  • وزیر اعظم کی یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین سے ٹیلی فون پر گفتگو

    وزیر اعظم کی یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین سے ٹیلی فون پر گفتگو

    اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی آج یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔اس گفتگو میں یورپ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے تجاویز بھی سامنے آئیں

    یورپی کمیشن کی صدر نے وزیر اعظم شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور کمیشن کی پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی خواہش پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے مبارکباد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے جو مشترکہ اقدار اور امن، خوشحالی اور ترقی کے مشترکہ مقاصد پر مبنی ہیں۔

    وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے مابین تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے جی ایس پی پلس انتظامات کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ایک باہمی فائدہ مند سکیم ہونے کے ناطے اس نے پاکستان اور یورپی یونین کی تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے ارسلا وان ڈیر لیین کی EU کمیشن کی خدمات کو سراہا اور باہمی روابط کو مزید گہرا کرنے کے عزم پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یورپی کمیشن کے صدر کو دورہ کی دعوت دی۔

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو وسعت دینے، سرمایہ کاری اور تجارتی تعاون کو تیز کرنے اور مختلف شعبوں میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانے کے لیے رابطے میں رہنے اور مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ڈیجیٹل میڈیا ونگ ختم،ملک میں جاری انتشار اب بند ہونا چاہیے،وفاقی وزیر اطلاعات

    پارلیمنٹ لاجز میں صفائی کرنے والے لڑکے کو مؤذن بنا دیا گیا تھا،شگفتہ جمانی

  • یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    یورپی یونین کا روس کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان

    یورپی یونین نے روسی کوئلے پر پابندی کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : یورپی یونین کے مطابق تمام ستائیس ممالک نے روس سے کوئلہ درآمد کرنے پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ روسی کوئلے پر پابندی کی تجویز کمیشن کی طرف سے دی گئی تھی۔

    امریکا اوریورپی یونین کا روس پرمزید پابندیاں لگانے کا اعلان

    یورپی یونین کا کہنا ہے کہ روس سے کوئلے کے ساتھ ساتھ لکڑی اوردوسری چند اشیا بھی درآمد نہیں کی جا ئیں گی۔

    دوسری جانب فرانس نے روسی بحری جہازوں کی آمد و رفت کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    روسی بینکوں اور افراد کے خلاف مزید پابندیوں کے ساتھ ساتھ کچھ سیمی کنڈکٹرز، کمپیوٹرز اور دیگر ہائی ٹیک مصنوعات کی برآمد پر پابندی کی بھی منظور دے دی گئی ہے۔

    یوکرین: ریلوے اسٹیشن پر روس کا مبینہ راکٹ حملہ، 5 بچوں سمیت 50 افراد ہلاک

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا اوریورپی یونین نے یوکرین میں جنگی جرائم کے الزام پرروس پرمزید پابندیاں لگانے کا اعلان کیا تھا غیر ملکی میڈیا کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ امریکا روسی صدرولادمیرپوٹن کی 2بیٹیوں اورروس کے سب سے بڑے بینک کے خلاف اقدامات کرنے پرغورکررہا ہے۔

    دو اپارٹمنٹس سے 26 لاشیں برآمد

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ روس کے مزید مالیاتی اداروں، نئی سرمایہ کاری اورروسی حکومت کے اہلکاروں اوران کے خاندان کے افراد پرنئی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    یورپی یونین حکام کا کہنا تھا کہ روسی بحری جہازوں کویورپی یونین کی بندرگاہیں استعمال کرنے سے روکنے سمیت دیگرنئی پابندیاں عائد کی جاسکتی ہی

    یوکرین میں روسی جنگ برسوں تک چل سکتی ہے،امریکی جنرل