Baaghi TV

Tag: یورپی یونین

  • اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر  کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان رابطہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی نائب صدر اور اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، اس کے معاشی اثرات اور وسیع تر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،یورپی یونین کی نائب صدر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، روابط اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پرعزم ہےانہوں نے اسلام آباد میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور  سیلاب متاثرین کیلئے  16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے 16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض دے گی-

    تفصیلات کے مطابق یورپی یونین سیلاب متاثرین اور کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے پاکستان کو مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض فراہم کرے گی جس کے لیے باقاعدہ قرض معاہدوں پر دستخط 28 اپریل کو ہوں گے یہ معاہدے یورپی انویسٹمنٹ بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پائیں گے۔

    یورپی یونین کے اس مالی پیکیج میں سے 10 کروڑ یورو سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے فراہم کیے جائیں گے، اس رقم سے تقریباً 21 لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن بنائی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ آباد کیا جا سکے 6 کروڑ یورو کراچی میں پانی کی فراہمی اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جس سے شہریوں کو صاف پانی کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔

  • اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر بات کی۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق بات چیت کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطے کو سراہا اور حالیہ اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے امریکا-ایران براہ راست مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے تنازع کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا،دونوں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مثبت جائزہ لیا اور تمام باہمی امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے،ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے،اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

    یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے، اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کاررو ا ئیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

  • بنگلہ دیش: امیرِ جماعتِ اسلامی سے یورپی و امریکی سفیروں کی ملاقاتیں

    بنگلہ دیش: امیرِ جماعتِ اسلامی سے یورپی و امریکی سفیروں کی ملاقاتیں

    ڈھاکہ: یورپی یونین اور امریکا کے سفیروں نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ملاقاتوں میں جمہوری عمل، سیاسی و معاشی صورتحال، انتخابات، ریاستی اصلاحات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا جمعرات، 29 جنوری کو یورپی یونین کے بنگلہ دیش میں تعینات سفیر مائیکل ملر نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا میں واقع دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی،یورپی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل فرسٹ سیکریٹری سباسٹین ریگر براؤن بھی موجود تھے۔

    us

    ملاقات کے دوران بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات اور جمہوریت کو بامقصد بنانے کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی،دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں باہمی تعلقات، ترقی اور پیش رفت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔

    اس موقع پر جماعتِ اسلامی کی جانب سے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور مرکزی شعبہ تشہیر و میڈیا کے سربراہ ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر اور امیرِ جماعت کے مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن چوہدری بھی موجود تھے۔

    اسی روز امریکا کے سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے بھی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی،امریکی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل و اکنامک کونسلر ایرک گل مین، پبلک آفیسر مونیکا ایل تسائی، پولیٹیکل آفیسر جیمز اسٹیورٹ اور پولیٹیکل اسپیشلسٹ فیروز احمد بھی شریک تھے-

    eu

    ملاقات کے دوران بنگلہ دیش کی سیاسی و معاشی صورتحال، صنعت و تجارت، آئندہ عام انتخابات، ریاستی اصلاحات اور روہنگیا بحران سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی سفیر برینٹ کرسٹینسن نے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور جمہوری پیش رفت میں جماعتِ اسلامی کے مثبت کردار کو سراہا،دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں بنگلہ دیش اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

    جماعتِ اسلامی کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر، مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے رکن مبارک حسین اور مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کےتحت کھولے گایورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔

    بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھا ر تی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔

  • وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل

    وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل

    نائب صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وینزویلا میں حالات کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں-

    نائب صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہےوینزویلا میں حالات کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں، یورپی یونین تمام فریقین سے ضبط، تحمل اور احتیاط برتنے کی اپیل کرتی ہے تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا میں مقیم یورپی شہریوں کی حفاظت یورپی یونین کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں،بحران کے حل کیلئے بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا مکمل احترام ناگزیر ہے،طاقت کے استعمال یا اشتعال انگیزاقدامات سے گریزکرتے ہوئے مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے، یورپی یونین صورتحال کو پرامن انداز میں حل کرنے کیلئے عالمی برادری اور متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔

    تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

    خیبر پختونخوا میں نئی موٹر ویز کی تعمیر کے حوالے سے اہم فیصلے

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

  • ایکس پر 12 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد

    ایکس پر 12 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد

    یورپی یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کے بلیو ٹِک بیجز پر 12 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    یورپی یونین کمیشن کے مطابق ایکس نے اپنے بلیو بیجز کے ’گمراہ کن‘ ڈیزائن سے گمراہ کیا ہے، ان بیجز کو 2022 ایلون مسک کی جانب سے کمپنی کو خریدے جانے کے بعد صارفین کی ویریفیکیشن سے پیڈ فیچر میں بدل دیا گیا تھا،دھوکا دہی، جعلی اشتہارات اور سیاسی انتخابات کے دوران مہموں کے خلاف تحفظ کے لیے کمیشن نے ایکس سے مشتہرین کی واضح فہرست مانگی تھی جو کمپنی فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی،جبکہ،کمپنی محققین کے سامنے دستیاب پبلک ڈیٹا پیش کرنے میں بھی ناکام رہی۔

    یہ جرمانہ یورپی یونین کی ڈیجیٹل سروس ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت ہونے والی دو سالہ تحقیق کے ایک حصے کو مکمل کرتا ہے،تاہم، غیر قانونی کانٹنٹ اور گمراہ کن معلومات کو پھیلانے سے روکنے کے لیے تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

  • یورپی رہنماؤں کی  یوکرین کے بغیر امن معاہدے کی تجویز مسترد

    یورپی رہنماؤں کی یوکرین کے بغیر امن معاہدے کی تجویز مسترد

    یورپی یونین کے رہنماؤں نے واضح کر دیا ہے کہ یوکرین اور یورپی ممالک کی شمولیت کے بغیر یوکرین میں کسی بھی امن معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس کے ایلیزے پیلس میں یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان کسی بھی ممکنہ امن منصوبے کو صرف اسی صورت حتمی شکل دی جا سکتی ہے جب یوکرین اور یورپ دونوں مذاکرات کا حصہ ہوں۔چائنا ڈیلی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فرانسیسی صدر میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور دیگر یورپی رہنماؤں نے بھی دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کسی ایسے امن معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس میں یوکرینی اور یورپی فریق شامل نہ ہوں۔

    فرانسیسی صدر نے کہا کہ منجمد روسی اثاثے، سلامتی کی ضمانتیں اور یوکرین کی ممکنہ یورپی یونین میں شمولیت جیسے اہم معاملات صرف یورپی ممالک کے ساتھ ہی طے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال کوئی حتمی امن منصوبہ موجود نہیں ہے۔اس موقع پر یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کے باوقار اختتام کا خواہاں ہے، تاہم علاقائی معاملہ مستقبل کے مذاکرات میں سب سے مشکل مرحلہ ہوگا۔ دونوں رہنما اس سے قبل دیگر یورپی رہنماؤں، امریکی حکام اور یوکرینی مذاکرات کاروں سے بھی رابطے میں رہے

    لندن میں ایمبولینس کالز میں ریکارڈ اضافہ، فلو سیزن بدترین قرار

    الیکشن کمیشن، طلال چوہدری کے خلاف کیس کا حکم نامہ جاری

    نبیل احمد کی گمشدگی، بی وائی سی اور بی ایل ایف کے بیانات میں تضاد

    یورپ نے جنگ چھیڑی تو کوئی نہیں بچے گا: پیوٹن