Baaghi TV

Tag: یورپی یونین

  • حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پرایران کا سخت ردعمل

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کے حقِ دفاع سے متعلق یورپی یونین کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے ’منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ‘ قرار دیا ہے۔

    اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے،ایسے ممالک کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں جو غیرقانونی حملوں کے جواب میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہیں،یورپی یونین کو ان ممالک پر تنقید بند کرنی چاہیے جو اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے اقدامات کرتے ہیں۔

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے فوجی اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا، جو کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہوں، حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین، فضائی حدود یا وسائل کو کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔

    ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اعتماد کے فقدان اور لبنان کے حوالے سے امریکا اور اسرائیل کی مسلسل بد لتی ہوئی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے موجودہ حالات میں لبنان میں جنگ بندی انتہائی اہم ہے لبنان میں جنگ بندی، امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے کا لازمی اور بنیادی حصہ ہونی چاہیے۔

  • یورپی یونین میں اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

    یورپی یونین میں اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

    رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یورپی یونین نے اسرائیلی آبادکاروں اور حماس کی اعلیٰ قیادت پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے-

    مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کا فیصلہ طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا، جسے ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت مسلسل روکے ہوئے تھی،تاہم ہفتے کے روز نئے وزیراعظم پیتر میگیائر کی تقرری کے بعد ہنگری نے ویٹو ختم کردیا۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کیلس نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ تعطل ختم کرکے عملی اقدام اٹھانے کا وقت آگیا تھا، انتہا پسندی اور تشدد کے نتائج ہوتے ہیں،پابندیوں کے اس پیکج میں 3 اسرائیلی آبادکاروں اور 4 آبادکار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بیروٹ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مغربی کنارے میں ’انتہا پسند اور پرتشدد آبادکاری‘ کی حمایت کرنے والی اہم اسرائیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کررہی ہے،یہ ’سنگین اور ناقابل برداشت اقدامات‘ فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

    اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اسرائیلی وزیر خارجہ گڈن سار نے کہا کہ یورپی یونین نے ’سیاسی بنیادوں پر اور بغیر کسی قانونی جواز کے‘ اسرائیلی شہریوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اسرائیل یہودیوں کے اپنے وطن کے قلب میں آباد ہونے کے حق کا دفاع کرتا رہے گا۔

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گوئیر نے یورپی یونین کو ’یہود دشمن‘ قرار دیا انہوں نے کہا کہ آبادکاری کا عمل نہیں رکے گا اور اسرائیل پورے علاقے میں تعمیرات اور آبادکاری جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب یورپی وزرائے خارجہ نے فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پا بندیاں حماس کے ان رہنماؤں کے خلاف ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے،اس حملے میں جنوبی اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 240 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے یورپی یونین کے فیصلے کو سیاسی منافقت اور نسل پرستی قرار دیا،ان کا مؤقف تھا کہ یورپی یونین نسل کشی اور نسلی تطہیر کے مرتکب ریاست اور اپنا دفاع کرنے والے متاثرین کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں 2025 میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کم از کم 2017 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جب اقوام متحدہ نے اس حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تھے۔

    غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے باعث تقریباً روزانہ تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    برسلز میں ہونے والے اجلاس میں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر پابندی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تیجانی نے کہا کہ یورپی کمیشن اس حوالے سے تجاویز پیش کرے گا، جس کے بعد رکن ممالک کی حمایت کا جائزہ لیا جائے گا۔

  • اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر  کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نائب صدر کے درمیان رابطہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی نائب صدر اور اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔

    گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال، اس کے معاشی اثرات اور وسیع تر علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،یورپی یونین کی نائب صدر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور سہولت کار کردار کو سراہا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں مذاکرات، روابط اور پرامن حل کے فروغ کے لیے پرعزم ہےانہوں نے اسلام آباد میں پاک یورپی یونین بزنس فورم کے کامیاب انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام دو طرفہ شراکت داری کو مضبوط بنانے اور کاروباری مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور  سیلاب متاثرین کیلئے  16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے 16 کروڑ یوروقرض دے گی

    یورپی یونین کراچی میں پانی کی فراہمی اور سیلاب متاثرین کیلئے مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض دے گی-

    تفصیلات کے مطابق یورپی یونین سیلاب متاثرین اور کراچی میں پانی کی فراہمی کے لیے پاکستان کو مجموعی طور پر 16 کروڑ یورو قرض فراہم کرے گی جس کے لیے باقاعدہ قرض معاہدوں پر دستخط 28 اپریل کو ہوں گے یہ معاہدے یورپی انویسٹمنٹ بینک اور حکومت پاکستان کے درمیان طے پائیں گے۔

    یورپی یونین کے اس مالی پیکیج میں سے 10 کروڑ یورو سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے فراہم کیے جائیں گے، اس رقم سے تقریباً 21 لاکھ گھروں کی تعمیر ممکن بنائی جائے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ آباد کیا جا سکے 6 کروڑ یورو کراچی میں پانی کی فراہمی اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جس سے شہریوں کو صاف پانی کی بہتر سہولت میسر آئے گی۔

  • اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    اسحاق ڈار کی یورپی یونین کی خارجہ امور کی نمائندے سے ٹیلیفونک گفتگو

    نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اور سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس سے ٹیلیفون پر بات کی۔

    وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر کے مطابق بات چیت کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مسلسل اور قریبی رابطے کو سراہا اور حالیہ اسلام آباد مذاکرات کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کالاس نے امریکا-ایران براہ راست مذاکرات کی سہولت کاری میں پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا، دونوں رہنماؤں نے تنازع کے حل کے لیے مسلسل مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا،دونوں فریقین نے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کا مثبت جائزہ لیا اور تمام باہمی امور پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا

    ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا ہے۔

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ یورپی یونین کی جانب سے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) کو ‘دہشت گرد تنظیم’ قرار دینے کے ‘غیر قانونی اور بلاجواز’ اقدام کے ردعمل میں کیا گیا ہے،ایران نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی بحری اور فضائی افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق یورپی حکومتوں نے آئی آر جی سی کو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فہرست میں شامل کیا، حالانکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا باقاعدہ اور سرکاری حصہ ہے،اسلامی جمہوریہ ایران ‘اصولِ باہمیّت’ کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔

    دوسری جانب کونسل آف دی یورپین یونین نے جمعرات کو جاری بیان میں اعلان کیا تھا کہ آئی آر جی سی کو باضابطہ طور پر یورپی یونین کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے اس فیصلے پر رکن ممالک کے درمیان چند ہفتے قبل سیاسی اتفاقِ رائے ہو چکا تھا۔

    یورپی کونسل کے مطابق فہرست میں شمولیت کے بعد آئی آر جی سی پر یورپی یونین کے انسدادِ دہشت گردی پابندیوں کے نظام کے تحت سخت اقدامات لاگو ہوں گے، جن میں رکن ممالک میں اس کے فنڈز اور دیگر مالی اثاثوں کو منجمد کرنا اور یورپی اداروں کے لیے اس تنظیم کو مالی وسائل فراہم کرنے پر پابندی شامل ہے، اس وقت مجموعی طور پر 13 افراد اور 23 گروہ و ادارے یورپی یونین کی دہشت گرد فہرست کے تحت پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے بعد بعض یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے یورپی رہنماؤں نے مظاہرین کے خلاف کاررو ا ئیوں کی مذمت کی تھی، جسے انہوں نے کریک ڈاؤن قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی پارلیمان نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملک کی اعلیٰ سکیورٹی باڈی کی منظوری کے بعد یورپی یونین کی افواج کو دہشت گرد تنظیمیں تصور کیا جائے گا بعد ازاں یورپی یونین کے رکن ممالک کے سفیروں کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

    وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر یورپی اقدام کو ‘غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

  • بنگلہ دیش: امیرِ جماعتِ اسلامی سے یورپی و امریکی سفیروں کی ملاقاتیں

    بنگلہ دیش: امیرِ جماعتِ اسلامی سے یورپی و امریکی سفیروں کی ملاقاتیں

    ڈھاکہ: یورپی یونین اور امریکا کے سفیروں نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

    بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق ملاقاتوں میں جمہوری عمل، سیاسی و معاشی صورتحال، انتخابات، ریاستی اصلاحات اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا جمعرات، 29 جنوری کو یورپی یونین کے بنگلہ دیش میں تعینات سفیر مائیکل ملر نے جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا میں واقع دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی،یورپی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل فرسٹ سیکریٹری سباسٹین ریگر براؤن بھی موجود تھے۔

    us

    ملاقات کے دوران بنگلہ دیش اور یورپی یونین کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اس موقع پر آئندہ قومی پارلیمانی انتخابات اور جمہوریت کو بامقصد بنانے کے موضوعات کو خصوصی اہمیت دی گئی،دونوں فریقین نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں باہمی تعلقات، ترقی اور پیش رفت کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔

    اس موقع پر جماعتِ اسلامی کی جانب سے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور مرکزی شعبہ تشہیر و میڈیا کے سربراہ ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر اور امیرِ جماعت کے مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن چوہدری بھی موجود تھے۔

    اسی روز امریکا کے سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے بھی جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن سے ان کے بشن دھارا دفتر میں خیرسگالی ملاقات کی،امریکی سفیر کے ہمراہ پولیٹیکل و اکنامک کونسلر ایرک گل مین، پبلک آفیسر مونیکا ایل تسائی، پولیٹیکل آفیسر جیمز اسٹیورٹ اور پولیٹیکل اسپیشلسٹ فیروز احمد بھی شریک تھے-

    eu

    ملاقات کے دوران بنگلہ دیش کی سیاسی و معاشی صورتحال، صنعت و تجارت، آئندہ عام انتخابات، ریاستی اصلاحات اور روہنگیا بحران سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی سفیر برینٹ کرسٹینسن نے بنگلہ دیش کی معاشی ترقی اور جمہوری پیش رفت میں جماعتِ اسلامی کے مثبت کردار کو سراہا،دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں بنگلہ دیش اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

    جماعتِ اسلامی کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن الحق محبوب زبیر، مرکزی ایگزیکٹو کونسل کے رکن مبارک حسین اور مشیرِ خارجہ امور پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن بھی ملاقات میں موجود تھے۔

  • بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی تجارتی معاہدہ طے پاگیا

    نئی دہلی: بھارت اور یورپی یونین نے طویل عرصے سے زیرِ التوا ایک بڑے اور تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’’مدر آف آل ڈیلز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت اور یورپ کے کروڑوں عوام کے لیے بڑے معاشی مواقع پیدا کرے گا تقریباً دو دہائیوں سے جاری وقفے وقفے کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت بھارت اپنی وسیع مگر محفوظ مارکیٹ کو 27 ممالک پر مشتمل یورپی یونین کے لیے فری ٹریڈ کےتحت کھولے گایورپی یونین اس وقت بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

    بھارتی وزیر اعظم اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لیئن نئی دہلی میں ہونے والے بھارت۔یورپی یونین سمٹ میں معاہدے کی تفصیلات کا مشترکہ اعلان کریں گے مالی سال 2025 کے اختتام تک بھارت اور یورپی یونین کے درمیان تجارت کا حجم 136.5 ارب ڈالر رہا۔

    بھارتی حکام کے مطابق معاہدے پر باضابطہ دستخط قانونی جانچ پڑتال کے بعد کیے جائیں گے، جس میں پانچ سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ اس پر عمل درآمد ایک سال کے اندر متوقع ہے۔

    یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین اور بھارت دونوں امریکا کے ساتھ غیر یقینی تجارتی حالات کے پیش نظر متبادل شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں،ماہرین کے مطابق اس ڈیل سے بھارت کو محنت طلب شعبوں میں برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ یورپی مصنوعات کو بھا ر تی مارکیٹ میں قیمت کا فوری فائدہ حاصل ہوگا۔

  • وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل

    وینزویلا کی صورتحال تشویشناک، یورپی یونین کی فریقین سے تحمل کی اپیل

    نائب صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ وینزویلا میں حالات کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں-

    نائب صدر یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین وینزویلا میں پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری اور مسلسل نظر رکھے ہوئے ہےوینزویلا میں حالات کافی خراب ہو چکے ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں، یورپی یونین تمام فریقین سے ضبط، تحمل اور احتیاط برتنے کی اپیل کرتی ہے تاکہ صورتحال مزید بگڑنے سے روکی جا سکے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وینزویلا میں مقیم یورپی شہریوں کی حفاظت یورپی یونین کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں،بحران کے حل کیلئے بین الاقوامی قانون اوراقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کا مکمل احترام ناگزیر ہے،طاقت کے استعمال یا اشتعال انگیزاقدامات سے گریزکرتے ہوئے مکالمے اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے، یورپی یونین صورتحال کو پرامن انداز میں حل کرنے کیلئے عالمی برادری اور متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے پر زور دے رہی ہے۔

    تہران دشمن کے سامنے ہرگز نہیں جھکے گا،ایرانی سپریم لیڈر

    خیبر پختونخوا میں نئی موٹر ویز کی تعمیر کے حوالے سے اہم فیصلے

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز