Baaghi TV

Tag: یورپی یونین

  • میٹا کو 1.3 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا

    میٹا کو 1.3 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا

    یوروپی یونین نے پیر کو میٹا کو ڈیٹا کی منتقلی پر 1.3 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کے پرائیویسی ریگولیٹر نے صارفین کی معلومات اور راز داری کے تحفظ کی ناکامی پر آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمشنر کے ذریعے میٹا کمپنی پر ریکارڈ 1.2 ارب یورو یعنی 1.3 ارب جرمانہ عائد کرتے ہوئے 5 ماہ میں صارفین کے ڈیٹا کی امریکا منتقلی کو رو کنے کا حکم دیا ہے۔

    اب واٹس ایپ صارفین میسج ڈیلیٹ کرنے کی بجائے ایڈٹ کر سکیں گے

    میٹا، جس نے پہلے خبردار کیا تھا کہ یورپ میں اس کے صارفین کے لیے خدمات منقطع کی جا سکتی ہیں، اس نے اپیل کرنے اور عدالتوں سے فیصلے کو فوری طور پر روکنے کے لیے کہا۔

    کمپنی نے کہا کہ یورپ میں فیس بک پر فوری طور پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے اس فیصلے کا اطلاق صارف کے ڈیٹا جیسے نام، ای میل اور آئی پی ایڈریس ، پیغامات، دیکھنے کی سرگزشت، جغرافیائی محل وقوع کا ڈیٹا اور دیگر معلومات پر ہوتا ہے جسے میٹا اورگوگل جیسے دیگر ٹیک کمپنیاں ہدف بنائے گئے آن لائن اشتہارات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

    میٹا کمپنی پر الزام تھا کہ اُس نے 2020 کے یورپی یونین کی عدالت کے فیصلے کے باوجود یورپی صارفین کے ڈیٹا کی امریکا منتقلی جاری رکھی جو امریکا اور یورپی یونین ڈیٹا کی منتقلی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

    تحریک انصاف کے مزید 2 رہنماؤں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    میٹا کمپنی کے ترجمان نے ایک بیان میں جرمانے کو غیرمنصفانہ اور غیرضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرمانہ لاتعداد دیگر کمپنیوں کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گا ہم عدالتوں کے ذریعے معطلی کے احکامات پر پابندی لگانے کی بھی درخواست کریں گے۔

    فیس بک کمپنی میٹا نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ یورپی یونین کے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی امریکا کو محفوظ منتقلی میں سہولت فراہم کرنے والے ایک نئے معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے گا اس سے پہلے کہ اسے منتقلی کو معطل کرنا پڑے۔

    فیس بک اپنے صارفین کا ڈیٹا کہاں اسٹور کرتا ہے اس پر بات پہلی بار ایک دہائی قبل شروع ہوئی تھی جب آسٹریا کے پرائیویسی مہم چلانے والے میکس شریمز نے امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کی روشنی میں امریکی جاسوسی کے خطرے پر قانونی چیلنج پیش کیا تھا۔

    ایشیا کپ:بھارت کی ہائبرڈ ماڈل کو تسلیم کرنے کی مشروط رضامندی

  • یورپی یونین،پاکستان ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج

    یورپی یونین،پاکستان ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج

    یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے

    وفاقی وزیر نوید قمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی اور کہا کہ پاکستانی کاروباری اداروں اور افراد پر یورپ کے قانونی اور معاشی آپریٹر کی اضافی شرائط لاگو نہیں ہوں گی ،پیپلز پارٹی کی رہنما، وفاقی وزیر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ اس تجارتی اور سفارتی کامیابی کا سہرا وزیر برائے خارجہ امور بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے ،موجودہ افراتفری میں اچھی خبر یہ ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ہے اس اہم پیش رفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا بڑے گا

    اس اہم پیشرفت کے بعد برآمد کنندگان اور تاجروں کو رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا بڑے گا،2018 سے پاکستان یورپی یونین کی ہائی رسک ممالک کی فہرست میں شامل تھا، ہائی رسک ممالک کی فہرست میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت، برآمد کنندگان اور تاجروں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا،عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد موجودہ حکومت کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ یورپی یونین نے پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی فہرست سے نکال دیا ، عمران خان کی حکومت کے جانے کے بعد یہ مسئلہ بھی حل ہوگیا اس کے آنے پر پاکستان کو خطرناک ملک سمجھنے لگ پڑے تھے،

    واضح رہے کہ 15 نومبر 2022 کو برطانیہ نے بھی باضابطہ طور پر پاکستان کو انتہائی خطرات کے حامل ممالک کی فہرست سے نکال دیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا ہے، موجودہ حکومت کو سفارتی محاذ پر بڑی کامیابیاں مل رہی ہیں

    قائمقام صدرپیپلز پارٹی وسطی پنجاب رانا فاروق سعید کا کہنا ہے کہ ہائی رسک ممالک فہرست سے پاکستان کا اخراج نوجوان وزیر خارجہ کے وژن کا ثمر ہے۔فیٹف اور حالیہ پابندی سے نکلنے کے بعد پاکستانی معیشت اور پھلے پھولے گی۔پاکستانی برآمدات میں اضافہ اور بیرون ملک امیج مذید بہتر ہو گا۔ یورپی یونین اقدام پاکستانی تاجر برادری کیلیے تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اور نوید قمر کی شبانہ روز محنت رنگ لائی ہے ،خارجی اور تجارتی محاذ پر پیپلز پارٹی وزراء نے اپنی تقرری کو درست ثابت کر دکھایا ہے پیپلز پارٹی اور اسکی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کا نام سر بلند کیا ہے۔

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

     تمباکو نوشی کے خلاف کرومیٹک کے زیر اہتمام کانفرنس :کس کس نے اور کیا گفتگو کی تفصیلات آگئیں

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی کی بدترین سفارتکاری کے باعث یورپی یونین نے اکتوبر 2018 میں پاکستان کو ہائی رسک ممالک کی لسٹ میں شامل کرلیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی مسلسل کوششوں کے باعث پاکستان پہلے ایف اے ٹی ایف اور اب یورپی یونین کی ہائی رسک ممالک کی لسٹ سے نکال دیا

    جے یو پی کے رہنما شاہ اویس نورانی کا کہنا تھا کہ اچھی خبر کو پاکستانی میڈیا پر دکھانے پر شاید پابندی ہے لیکن اطلاع دیتا چلوں کہ یورپی یونین نے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی مالی معاونت کرنے والے ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔الحمدللہ یہ گوگی گینگ کی بڑی بارودی سرنگ کا خاتمہ ہے۔

  • یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے،روس

    یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے،روس

    روس نے دھمکی دی ہے کہ یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی ممالک کے اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ سمندری روسی خام تیل کے ایک بیرل کی زیادہ سے زیادہ قیمت $60 ہونی چاہیئے اور اس سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو اس خریداری سے روکنا ہوگا۔

    قیمت کی اس حد کو مقرر کرنے کا مقصد روس کو خام تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والے منافع کو کم سے کم رکھنا ہےمغربی اتحادی ممالک سمجھتے ہیں کہ زیادہ قیمتوں سے روس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور پیوٹن اس آمدنی کو یوکرین میں جارحیت پر استعمال کرتے ہیں –

    روسی سمندری خام تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کی تجویز رواں برس ستمبر میں صنعتی ممالک کے G7 گروپ کے اجلاس میں رکھی گئی تھی۔ اس گروپ میں بڑے صنعتی ممالک امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین شامل ہیں۔

    تاہم اب پیر کے روز سے اس قیمت کو نافذ العمل کردیا جائے گا جس کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذکرات کی میز پر آجائے۔

    امریکہ جو کہ آزادی اظہار رائے علمبرداربھی اور پامالی کا ذمہ دار بھی

    ادھر روس نے گی بیرل خام تیل کی خریداری کی زیادہ سے زیادہ قیمت کی حد مقرر کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس قیمت کو نافذ کرنے والے ممالک کو تیل فراہم نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب یوکرین کا کہنا کہ مغرب ممالک کی تجویز کردہ روسی تیل کی خریداری کی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ڈالر نہیں بلکہ اس کی نصف ہونی چاہیئے تھی جس سے روس کی معیشت کو دھچکہ پہنچایا جا سکتا تھا۔

    مغربی ممالک کے اتحادیوں کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ وہ ان ٹینکرز کی انشورنس سے انکار کر دیں گے جو اس مقرر کردہ حد سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو تیل کی سپلائی پر مامور ہوں گے۔

    اس پر سینئر روسی سیاست دان لیونیڈ سلٹسکی نے ٹاس نیوز سے گفتگو میں دھمکی دی ہے کہ یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

    خیال رہے کہ وہ ممالک جو G7 کی قیادت والی پالیسی پردستخط کرتے ہیں انہیں صرف سمندر کے راستے منتقل ہونے والے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت ہوگی تاہم قیمت کی حد زیادہ سے زیادہ 60 ڈالر فی بیرل سے کم یا اس سے کم ہونی چاہیئے۔

    زیادتی کا شکارخاتون نے انصاف نہ ملنے پرعدالت کے سامنے خود کو آگ لگا لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی اتحاد کے روس کے خلاف ان اقدامات سے جزوی فرق پڑے گا کیوں کہ بھارت اور چین جیسی بڑی منڈیاں روس سے تیل خرید رہی ہیں اور جی-7 کے دستخط کنندہ ہونے کی وجہ سے وہ اس پابندی کی زد میں بھی نہیں ہیں۔

  • یورپی یونین نے ایرانی وزیرداخلہ، سرکاری ٹی وی سمیت  29 شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    یورپی یونین نے ایرانی وزیرداخلہ، سرکاری ٹی وی سمیت 29 شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں

    یورپی یونین نے ایران کے وزیرداخلہ اور سرکاری ٹی وی سمیت 29 شخصیات اور اداروں پرنئی پابندیاں عائد کردیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں ایران میں مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ایرانی وزیرداخلہ احمد واحدی، ایرانی انقلابی گارڈ کے چیف، سائبرپولیس کے سربراہ شامل ہیں یورپی یونین کی ایران کی 29 کمپنیوں اور شخصیات پرعائد پابندیوں میں سفری پابندیاں، اثاثوں کا منجمد ہونا اوردیگر شامل ہیں۔

    چین اور ایران امریکہ میں مخالفین کی جاسوسی کرارہے ہیں، امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے سوموارکوایک بیان میں کہا ہے کہ تنظیم ایران میں مظاہرین کے خلاف ناقابلِ قبول پرتشدد کریک ڈاؤن کی شدیدمذمت کرتی ہے ہم ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اوران کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کرتے ہیں،ان کے مطالبات اور خیالات کو آزادانہ طور پر آوازدیتے ہیں ہم آج ایرانی مظاہرین کو دبانے کے ذمہ دارحکام اور اداروں پراضافی پابندیاں عائد کررہے ہیں-

    ان پابندیوں کی زد میں آنے والے ایرانی عہدے دار،افراد یورپی یونین کے رکن ممالک کا سفرنہیں کرسکیں گے۔یورپ میں ان کےاثاثے منجمد کرلیے جائیں گے اور یورپی یونین کے شہری اور کمپنیاں ممنوعہ فہرست میں شامل افراداور ایرانی اداروں کے ساتھ کوئی مالی لین دین نہیں کرسکیں گے۔

    امریکا: یونیورسٹی میں فائرنگ، فٹبال ٹیم کے3 کھلاڑی ہلاک،2 طلبہ زخمی

    ایران میں 16 ستمبرکو 22 سالہ خاتون مہسا امینی کی پولیس کی حراست میں موت کے بعد سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔مظاہرین ملک گیراحتجاج میں ایرانی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں اور رہبرِاعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے ہیں۔

    حکومت نے اس کے جواب میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کیاہے۔سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہزاروں کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

    ترکیہ میں زوردار دھماکا،5 جاں بحق اور 40 زخمی

  • روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے:یورپی یونین

    یورپی یونین کا ایک بار پھر روس پر غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف جوزف بورل نے اپنے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ روس غذائی اجناس کو بطور ہتھیار استعمال کرکے دنیا بھر میں بھوک کا بحران شدید کر رہا ہے۔

     

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی

    اگرچہ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں استنبول معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یوکرین ایک بار پھر غذائی اجناس بھیجنے کے قابل ہوگیا ہے تاہم روس پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرے۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کے بقول روس اپنے وعدے کی پاسداری کرے تاکہ یوکرین سے غلات کی برآمد کا سلسلہ ضرورت مند ملکوں کے لئے جاری رہے جن میں زیادہ ترافریقی ممالک شامل ہیں۔

    دوسری جانب روسی وزارت خارجہ نے عالمی غذائی سیکیورٹی کے معاملے میں مغربی ملکوں کی جانب سے شکوک و شبہات پھیلانے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں اس بات پرافسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ یوکرین سے غلات لے جانے والا ایک بھی جہاز افریقہ کا رخ نہیں کررہا بلکہ ساری اجناس اور پکانے کا تیل، مغربی ملکوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔

    چین کا اقدام،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو گئیں

    روس نے اس رویئے کو عالمی غذائی سیکیورٹی کے حوالے سے مغربی ملکوں کی جانب سے ظاہر کی جانے والی تشویش کے منافی قرار دیا ہے۔

  • ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی ہے،یورپی یونین عہدیدار

    ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی ہے،یورپی یونین عہدیدار

    ایران کے جوہری پروگرام پرویانا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے،یورپی یونین کےعہدیدار کاکہنا ہےکہ کچھ رکاوٹوں پر پیش رفت ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق "امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک سینیر یورپی یونین کے عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اب پاسداران انقلاب کو دہشت گرد ادارے کی امریکی فہرست سے نکالنے کے اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے پر راضی ہوگیا ہے لیکن وہ اب بھی اس بات کی مضبوط ضمانت چاہتا ہے کہ واشنگٹن دوبارہ جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹ کر معاہدے کو ختم نہیں کرے گا۔

    ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ویانا میں جوہری معاہدے کے مذاکرات کی بحالی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جوہری معاہدے کے مذاکرات میں اس ہفتے کے آخر تک ایک معاہدہ طے پا جانا چاہیے اگر مذاکرات کاروں میں اتفاق رائے ہو گیا تو وزرائے خارجہ کو ویانا مین مذاکرات کے لیے طلب کیا جائے گا۔

    یورپی یونین کے عہدید نے مزید کہا کہ جمعرات کو ویانا میں ہونے والی بات چیت جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے حتمی نکات پر اتفاق کرنے کاایک موقع ہے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے مذاکرات کے نئے دور کے ممکنہ نتائج کے لیے میری توقعات بہت کم ہیں، کیونکہ مجھے شک ہے کہ ایران مذاکرات کے نئے دور میں دستیاب موقع سے فائدہ اٹھانا چاہے گا-

    دوسری جانب ونگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکومت کے ایک سینیر اہلکار نے ویانا میں ہونے والے جوہری معاہدے کے مذاکرات کی آئندہ میٹنگ کے بارے میں بتایا کہ ہم اس وقت دوبارہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ہمیں جلد از جلد جان لینا چاہیے کہ آیا معاہدہ ممکن ہے یا نہیں۔

    ادھرایرانی میڈیا کے مطابق ویانا جوہری مذاکرات میں شرکت کرنے والے ایرانی وفد کے ایک ذرائع نے جمعرات کو کہا کہ تہران نے پاسدا ران انقلاب کو امریکی دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کی درخواست کو ترک نہیں کیا ہےمیڈیا میں جو کچھ نشر کیا گیا وہ بے بنیاد ہے گیند اب امریکیوں کے کورٹ میں ہے اور اگر وہ کسی اتفاق رائےتک پہنچنا چاہتے ہیں، تو انہیں معاہدے کےارکان کی طرف سے دیئے گئے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

    واضح رہے کہ عالمی طاقتوں اور ایران کےدرمیان یہ رواں برس مارچ کے بعد پہلی ملاقات ہے اس سے قبل 2021 میں امریکا کو معاہدے میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئےتھے-

    ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی رابرٹ میلے کا کہنا تھا کہ امریکا معاہدے تک پہنچنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کوشش کررہا ہےایران کی اس سلسلے میں دلچسپی بہت جلد واضح ہو جائے گی۔ رابرٹ میلے بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے ویانا میں ہیں-

    اُدھر روسی ایلچی میخائل اولیانوف نے مذاکرات کی بحالی سے متعلق کہا تھا کہ جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن کی بحالی جلد دوبارہ شروع ہوگی۔ فریقین پانچ ماہ کے بعد ویانا واپس آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے روس بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تعمیری بات چیت پر تیار ہے۔

    یورپی یونین کےنمائندہ اینرک مورا نے روانگی سے متعلق اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ہم ویانا مذاکرات کے لیے آسٹریا حکام کے شکرگزار ہیں انہوں نے کہا کہ ویانا جاتے ہوئے میں ایران کے ساتھ ماضی میں ہونے والے پلان آف ایکشن’ ہماری کوشش ہےکہ کوآرڈینیٹرز کی طرف سے20 جولائی کو پیش کیے گئے مسودے کی بنیاد پر پورا عمل درآمد کیا جائے۔

    برطانیہ میں نئے وزیراعظم کا انتخاب سیکیورٹی خدشات کے باعث تاخیر کا شکار

  • دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    دنیا کی ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ناکام ہو گئی: یورپی یونین

    جوزف بورل نے اعتراف کیا ہے کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی ناکام ہو گئی ہے ۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے فنانشل ٹائمز اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے لئے اقدامات کریں۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے اس مضمون میں کہا ہے کہ جوہری معاہدہ، آئی اے ای اے کیجانب سے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نگرانی کے سب سے بڑے نظام کی قسم ہے جس نے ایران کیخلاف امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی منسوخی کے لئے زمین ہموار کی ہے، لیکن امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ نے 2018 میں جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر ایران کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنائی جو ناکام ہوگئی اور اصل میں ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی شکست کھا چکی ہے۔

    جوزف بورل نے کہا کہ اگرچہ جوہری معاہدہ، ایک مکمل معاہدہ نہیں ہے لیکن اس میں تمام بنیادی عناصر پر توجہ دی گئی ہے جس سے اراکین نے سختی سے اتفاق کیا ہے لہذا اب جوہری معاہدے کی بحالی کے اس اچھے موقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا؛ میری رائے میں جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کی بحالی نہ صرف ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی میں موثر ہوگی بلکہ یہ خطے میں سلامتی کے ماحول کو مستحکم کر سکتی ہے اور ملکوں کے درمیان اعتماد کی بحالی کی طرف ایک مثبت قدم اٹھایا جا سکتا ہے۔

    جوزف بورل نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا تجویز کردہ متن، مذاکرات کی بحالی اور نتیجے کے حصول کیلئے اہم اور مفید ہو سکتا ہے۔

  • یورپی یونین کی ایران سے ایٹمی مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل

    یورپی یونین کی ایران سے ایٹمی مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل

    تہران :یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی علیحدگی اور یورپی ملکوں کی وعدہ خلافیوں کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر، ایٹمی معاہدے کی بحالی کے جاری مذاکرات کا عمل تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔

    یورپی یونین کے محکمہ خارجہ کے ترجمان پیٹر استانو نے پابندیوں کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات کی رفتار تیز کرنے کا مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہے جب معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے والے اصل ملک کی حثیت سے امریکہ ، اعتماد کی بحالی کے لیے لازمی اقدامات سے مسلسل گریزاں ہے۔

    ایران کے خلاف ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا آٹھواں دور گزشتہ سال ستائیس دسمبر کو شروع ہوا تھا اور رواں سال گیارہ مارچ کو یورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل کی تجویز پر، اس میں وقفہ دیا گیا تھا جس کا مقصد ضروری صلاح و مشورے کی غرض سے مذاکراتی وفود کا اپنے اپنے ملکوں کے دارالحکومتوں کو لوٹنا بتایا گیا تھا۔

    واشنگٹن کی غیر قانونی علیحدگی سے ایٹمی معاہدے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کی غرض سے امریکہ کی لیت ولعل کی وجہ سے مذاکرات اب تک معطل تھے تاہم یورپی یونین کے امور خارجہ کے انچارج جوزف بورل کے حالیہ دورہ تہران اور ایرانی حکام کے ساتھ بات چیت کے بعد پابندیوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا ایک دور اٹھائیس اور انیتس جون کو دوحہ میں ہوا ۔

    البتہ امریکہ نے مذاکرات پر توجہ دیئے بغیر، حال ہی میں ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ، جس پر ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

  • روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم:یورپی یونین

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزیپ بوریل نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے اناج کی یوکرین سے برآمدات کا راستہ روکنا ایک حقیقی جنگی جرم ہے۔

    جوزیپ بوریل کا یہ بیان یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے لکسمبرگ پہنچنے پر جاری کیا گیا۔ انہوں نے روس پر الزام عائد کیا کہ وہ لوگوں کی بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور روسی حکومت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے کہا ہے کہ جرمن حکومت ریل نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے پولینڈ اور رومانیہ کی مدد کرے گی تاکہ یوکرین سے کئی ملین ٹن اناج کی درآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔

    جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے اعلان کیا کہ یوکرین سے اشیائے خور و نوش کی برآمدات کو یقینی بنانے کے معاملے پر جرمنی آئندہ جمعہ کو ایک کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔

    روس نے بحیرۂ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے جبکہ ترکی نے یہ تجویز دی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، روس نے بدھ کے روز بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے یوکرین کے اناج کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے لیکن راہداریوں کے قیام کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔

    روس کے اقوام متحدہ کے لیے مقرر کردہ سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ ’ہم محفوظ راہداریوں کے قیام کے ذمہ دار نہیں ہیں تاہم، اگر راہداری قائم ہو جائے تو ہم یوکرین کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کر سکتے ہیں‘۔رپورٹ کے مطابق، روس کے علاوہ ترکی نے بھی یوکرین کے اناج کے جہازوں کی مدد کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے۔

    ترکی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ سمندر میں سی مائنز(Sea Mines) کے ارد گرد موجود یوکرینی جہازوں کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انقرہ ابھی تک اس منصوبے پر ماسکو کے ردعمل کا انتظار کررہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ معلوم ہے کہ سی مائنز(Sea Mines) کہاں موجود ہیں، اس لیے تین بندرگاہوں پر کچھ محفوظ راستے بنائے جائیں گے۔

    خیال رہے کہ روس کے حملے اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد سے یوکرینی اناج کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے اناج، کھانا پکانے کے تیل، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ ہوا ہے۔

    اقوام متحدہ یوکرین کی برآمدات اور روسی خوراک اور کھاد کی برآمدات کی بحالی کے لیے ایک معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع؛ یورپی یونین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع؛ یورپی یونین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی

    اسلام آباد:جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع، اس وقت پاکستان اور یورپ کے درمیان اس معاملے پر بڑی تیزی سے پیش رفت جاری ہے ، جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع کے لیے یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن پاکستان پہنچ گیا۔

    وزارت تجارتِ کے حکام کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا مانیٹرنگ مشن انسانی حقوق، چائلڈ لیبر کا خاتمہ، لیبر رائٹس سمیت دیگر امور کا جائزہ لے گا جبکہ 27 کنونشنز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع کا قوی امکان ہے، پاکستان نے جی ایس پی کنونشنز پر بھرپور عملدرآمد کیا۔
    حکام کا کہنا ہے کہ اسٹیٹس میں توسیع کے بعد پاکستان کو مزید 5 کنونشنز پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

    جی ایس پی پلس کیا ہے؟

    یورپی پارلیمنٹ نے یکم مئی کو قرارداد کی بھاری اکثریت منظوری کرتے ہوئے پاکستان کو دیے گئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظرثانی کرنے کا کہا گیا تھا، سال 1971 میں اقوام متحدہ کی کانفرنس اینڈ ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ نے قرار داد منظور کی تھی کہ یورپی ممالک ترقی پذیر ممالک کی برآمدات بڑھانے اور وہاں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ان ممالک کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رسائی دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سکیم کے تین مرحلے ہیں جس میں بنیادی جی ایس پی، جی ایس پی پلس، اور ایوری تھنگ بٹ آرمز یعنی اسلحے کے علاوہ تمام اشیاء تمام شامل ہیں۔

    پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس کا حامل ملک ہے، جس کے ایسی دو تہائی مصنوعات جس پر درآمدی ڈیوٹی لگتی ہے اسے کم کر کے صفر فیصد کردیا جاتا ہے۔