Baaghi TV

Tag: یورپ

  • پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی

    پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی

    کراچی:پی آئی اے کے لیے یورپ کے دروازے کھلنے کی امید پیدا ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی جہازوں پر عائد پابندی کے خاتمے کی امید جاگ اٹھی۔

    تفصیلات کے مطابق عالمی ہوابازی کی تنظیم (اکاؤ) کی جانب سے سول ایوی ایشن اتھارٹی(سی اے اے) کے آڈٹ سے متعلق مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے بعد پاکستانی جہازوں پر عائد پابندی کے خاتمے کے امکانات ہیں۔

    ذرایع کا کہنا ہے کہ سی اے اے کے اہم شعبہ جات کے آڈٹ سے متعلق عبوری رپورٹ جاری ہوئی ہے، اکاؤ نے سول ایوی ایشن کی 72.77فیصد رینکنگ جاری کردی۔

    اس حوالے سے ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اکاؤ کی آڈٹ ٹیم 15دن میں حتمی رپورٹ ایس ایس سی کو فراہم کرے گی، اکاؤ کی رپورٹ کی سفارشات کی مد میں پاکستان پر پابندی ختم ہونے کے امکانات ہیں۔

    ‘اکاؤ کی جانب سے سگنی فیکنٹ سیفٹی کنسرن ختم کردی جائے گی’۔

    خیال رہے کہ عالمی ہوابازی کی تنظیم نے سی اے اے کی جانب سے تیاریوں کو سراہا تھا۔ اکاؤ کی جانب سے رسمی رپورٹ چند ہفتوں میں منظر عام پر لائی جائے گی۔

    اطلاعات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    تفصیلات کے مطابق قطر ایئر ویز نے پاکستان سے پروازوں کی تعداد میں اضافے کا اعلان کردیا، قطر ایئر ویز پاکستان سے ہفتہ وار 56 پروازیں آپریٹ کرے گی۔

    قطر ایئر ویز کراچی اور لاہور سمیت 5 شہروں سے دوحہ کے لیے پروازیں آپریٹ کرے گی۔قطر ایئر ویز کی لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے روزانہ 2، 2 پروازیں جبکہ پشاور اور سیالکوٹ سے روزانہ 1، 1 پرواز آپریٹ کی جائے گی۔

    لاہور سے دوحہ ہفتہ وار 14 پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، ایئر لائن لاہور سے بذریعہ دوحہ 140 ممالک میں مسافروں کو رسائی دے گی۔قطر ایئر ویز نے پاکستان کے لیے 31 مئی 2022 تک کا شیڈول بھی جاری کردیا ہے۔

    جنرل راوت کی موت پر تبصرے اورفوج کے اندربغاوت پرسوالات کیوں؟نوجوانوں پرمقدمات درج

  • "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عمران خان کی تقریر کو لے کر دنیا بھر میں بحث جاری ہے. کوئی اس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردیوں اور کشمیر چیرہ دستیوں کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کردینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے.بلاشبہ پاکستان جیسے ملک کے وزیراعظم کی حیثیت سے یہ ایک بہت بڑی اور تاریخی گفتگو تھی جو عمران خان نے اقوام متحدہ کے فورم سے دنیا سے مخاطب ہوکر کی گئی.

    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    عمران خان کی تقریر میں سے کچھ بہت اہم نکات اسلام کا بیانیہ، اسلامو فوبیا، توہین رسالت، اسلام پر لگنے والا دہشت گردی کا الزام بھی تھے. ان پر بات کرنے سے قبل میں قارئین کو یاد دلاتا چلوں کہ نائن الیون کے ایشو پر جب فوری اسلام کو مورد الزام ٹھہرایا گیا اور امریکی صدر بش نے اسلام کے خلاف باقاعدہ صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا اور اس کے نتیجے میں افغانستان اور بعد ازاں عراق میں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرکے ان ملکوں کو کھنڈرات میں بدل دیا گیا. جیسے ہی نائن الیون کا حادثہ پیش آیا اور اسلام و مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تو مغرب میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے اسلام اور قران کا مطالعہ شروع کیا کہ یہ کونسا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کیا ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا، ان دنوں میں سب سے زیادہ رکھا جانے والا نام "محمد” تھا، سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تخائف کی صورت میں دی جانے والی کتاب قران مجید تھی. مغرب میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کرنا شروع کردیا کہ وہاں کے تھنک ٹینکس اور پالیسی ساز اداروں نے اپنی حکومتوں کو خبردار کرنا شروع کردیا کہ اگر صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اگلے کچھ سالوں میں اسلام مغرب کا سب سے بڑا مذہب ہوگا. اس ساری صورتحال میں باقاعدہ پراپیگنڈے کی فیکٹریز قائم ہوئیں اور اسلامو فوبیا کا اک منظم سلسلہ شروع ہوا جس کے تحت مسلمانوں پر حملے اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے توہین رسالت کا مکروہ فعل مغربی حکومتوں کی سرپرستی میں بار بار سرانجام دیا گیا جو تاحال جاری ہے.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    اقوام متحدہ جیسے بڑے فورم پر گزشتہ شب کی جانے والی تقریر میں جہاں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے جہاں مسئلہ کشمیر، بھارتی دہشت گردی، موسمی تغیرات وغیرہ پر بات کی وہیں عمران خان کی تقریر کا بہت بڑا حصہ اسلام کے پر امن بیانیے کے فروغ، توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کو کاؤنٹر کرنے پر مشتمل تھا. عمران خان نے بلاشبہ اسلام کے پرامن بیانیے کو بہترین انداز میں اقوام متحدہ جیسے فورم پر پیش کیا اور دنیا کو دعوت دی کہ وہ اسلام کو اسٹڈی کریں. اسی توہین رسالت اور اس پر مسلمانوں کے غم و غصے اور جذبات کو بھی بالدلیل مغرب سے سامنے رکھا. اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے والوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور واضح کیا کہ اسلام پر امن دین ہے جو دہشت گردی کے مخالف تعلیمات دیتا ہے. آزادی اظہار رائے کو بنیاد بنا کر شعائر اسلامی کو ہدف بنانے پر بھی زبردست انداز میں دفاع کیا. اقوام متحدہ کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر لاالہ الا اللہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا.

    عمران کی سفارتی کامیابیاں — محمد عبداللہ
    عمران خان کے اس تاریخی خطاب کے بعد پوری دنیا میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ملین سے زائد ٹویٹس کے ساتھ عمران خان ورلڈ وائڈ پینل پر سرفہرست رہے. امریکہ و یورپ سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے اسلام، پاکستان اور عمران خان کو گوگل پر سرچ کرنا اور سماجی ویب سائٹس پر ان کے متعلق تبصرے کرنا شروع کیے.یہ بڑی خوش آئند صورتحال ہے اور یہ قوی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح نائن الیون میں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بعد مغرب میں لوگ اسلام کی طرف راغب ہوئے تھے اور بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا تھا ان شاءاللہ بعینہ عمران خان کے خطاب میں اسلام اور اسلامو فوبیا پر مفصل بیان کے بعد مغرب میں لوگ پہلے سے زیادہ اسلام کو اسٹڈی کریں گے اور اسلام کی طرف راغب ہوں گے ان شاءاللہ.

    مصنف کا تعارف اور دیگر مضامین پڑھیں

     

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah