Baaghi TV

Tag: یورپ

  • یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ جای

    یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او کا انتباہ جای

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے-

    جنیوا میں ڈبلیو ایچ او یورپ کے زیر اہتمام منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا کہ یورپ کو ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ خطے کے نصف سے زائد ممالک اس خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں یورپی ممالک شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے جامع قومی حکمتِ عملی اختیار کریں اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

    اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او یورپ کےعلاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کےباعث یورپ میں گرمی کی لہریں پہلے سے زیادہ شدید، طویل اور بار بار آنے لگی ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ خطے کے نصف سے زیادہ ممالک اب بھی اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جو انتہائی تشویش ناک صورتحال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومتیں گرمی کی شدت سے ہونے والی اموات اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی مہمات چلائیں، ہیٹ ایکشن پلانز کو مؤثر بنائیں اور صحت، سماجی بہبود، شہری منصوبہ بندی اور ہنگامی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ اور ہم آہنگی کو یقینی بنائیں، مو سمیا تی تبدیلی کے باعث مستقبل میں شدید گرمی کی لہروں میں مزید اضافہ متوقع ہے، اس لیے صرف ہنگامی ردعمل کافی نہیں بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔

    موسمیاتی ماہرین کے مطابق رواں ہفتے پرتگال اور اسپین میں بحرِ اوقیانوس سے اٹھنے والی گرم ہواؤں کے باعث درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے اسی خدشے کے پیش نظر فرانس، بیلجیئم، نیدرلینڈز اور لکسمبرگ سمیت متعدد یورپی ممالک نے ہیٹ الرٹس جاری کرتے ہوئے طبی سہولیات، کولنگ سینٹرز اور دیگر حفاظتی انتظامات کو فعال کر دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق یورپ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شامل ہے، جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں ادارے نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی سے متعلق قبل از وقت انتباہی نظام، صحت عامہ کے منصوبوں اور شہری انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔

  • شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    شدید گرمی سےیورپ کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھی، ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    جنوبی یورپ میں جنگلاتی آگ کی نئی لہر نے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر ممالک میں آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    مختلف ممالک میں بھڑکنے والی اس جنگلاتی آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا، جبکہ فرانس میں ایک بڑے شعلے کے خطرے کے پیش نظر پیر کو ہونے والی معروف سائیکل ریس ٹور ڈی فرانس کے ایک مرحلے کے دوران شائقین کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

    پرتگال، اسپین، فرانس، یونان اور دیگر یورپی ممالک میں سینکڑوں فائر فائٹرز آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، اب تک 20 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے، جو نیویارک کے علاقے مین ہیٹن کے تقریباً 3 گنا رقبے کے برابر بنتا ہے،فرانس کے جنوب مغربی شہر پرپینیان کے قریب پیرینیز کے پہاڑی علاقے میں بھڑکنے والی آگ نے 4 ہزار 600 ہیکٹر سے زائد رقبہ اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے بعد حکام نے تقریباً 10 ہزار 500 افراد کو اپنے گھروں سے فوری انخلا کی ہدایت جاری کی۔

    متاثرہ علاقے کے ایک رہائشی نے بتایا کہ آگ گھروں سے صرف 300 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی ہمیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ شعلے اتنی تیزی سے پھیل سکتے ہیں صورتحال انتہائی خوفناک تھی اور لوگ شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئے تھے۔

    ایک بار پھر درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور اسپین میں پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہےماہرین کے مطابق مئی اور جون کی شدید گرمی کی لہروں کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے، جنہیں ہزاروں اموات کا سبب قرار دیا گیا تھا، اور اب انہی موسمی حالات نے جنگلاتی آگ کے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں سائنس دانوں کا اتفاق ہے کہ فوسل فیول کے استعمال سے پیدا ہونے والی انسانی سرگر میوں کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلی شد ت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث ہیٹ ویوز اور دیگر شدید موسمی مظاہر کے امکانات اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

  • یورپ میں شدید گرمی سے 4 ہزار سے زائد افراد جاں بحق

    یورپ میں شدید گرمی سے 4 ہزار سے زائد افراد جاں بحق

    یورپ کے مختلف ممالک میں شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) بدستور جاری ہے، جس کے باعث اموات کی تعداد میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے-

    بین الاقوامی خبر ایجنسیوں کے مطابق مجموعی طور پر 4 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں فرانس میں گزشتہ ہفتے شدید گرمی کے دوران تقریباً 80 سال بعد بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا فرانسیسی وزیر صحت کے مطابق صرف ملک میں گرمی سے 2 ہزار 25 افراد کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

    اسپین میں بھی صورتحال سنگین رہی، جہاں کارلوس ہیلتھ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق جون کے مہینے میں گرمی کی شدت کے باعث 1 ہزار 28 اموات ریکارڈ کی گئیں،نیدرلینڈز میں 22 سے 28 جون کے دوران درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر 480 افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ بیلجیئم میں 18 سے 29 جون کے درمیان 1,200 سے زائد اموات رجسٹر کی گئیں۔

    برطانیہ میں بھی شدید گرمی برقرار ہے اور بعض علاقوں میں تیسری ہیٹ ویو کے خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے، جس پر محکمہ موسمیات نے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے،ماہرین کے مطابق غیر معمولی موسمی شدت اور طویل ہیٹ ویوز یورپ بھر میں صحت عامہ کے لیے بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • یورپ کے بعد امریکا  میں بھی خطرناک ہیٹ ویو وارننگ جاری

    یورپ کے بعد امریکا میں بھی خطرناک ہیٹ ویو وارننگ جاری

    واشنگٹن: یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد امریکا میں بھی شدید ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر سخت وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔

    امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں رواں ہفتے درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں گرمی کی شدت معمول سے کہیں زیادہ رہنے کا امکان ہے،گرمی کی موجودہ لہر کئی روز تک برقرار رہے گی اور آئندہ جمعہ کو، جب امریکا میں یومِ آزادی کی طویل تعطیلات شروع ہوں گی، اس وقت ہیٹ ویو اپنے عروج پر ہوگی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ منگل سے ہفتہ تک درجنوں شہروں میں روزانہ کے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہونے یا پرانے ریکارڈ برابر ہونے کا امکان ہے جبکہ مغربی امریکا کے وسیع علاقوں میں شدید گرمی کے باعث جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق شدید گرمی امریکا میں سب سے جان لیوا موسمی خطرات میں شمار ہوتی ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہر سال گرمی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد بگولوں، سمندری طوفانوں اور آسمانی بجلی سے ہونے والی مجموعی اموات سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔

    دوسری جانب یورپ بھی بدستور شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں مختلف ممالک میں ہیٹ ویو مزید ایک ہفتہ جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے حالیہ رپورٹوں کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران یورپ میں 1300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جن میں فرانس میں تقریباً ایک ہزار جبکہ اسپین میں 300 سے زائد اموات شامل ہیں، اٹلی میں بھی کئی شہروں کے لیے شدید گرمی کا ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے، جبکہ فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت متعدد ممالک میں ریلوے اور دیگر ٹرانسپورٹ سروسز متاثر ہوئی ہیں۔

    عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یورپ میں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے بڑھ رہا ہے اور اس وقت تقریباً 15 کروڑ افراد شدید گرمی سے متاثر ہیں موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث شدید گرمی کی لہریں اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، جبکہ یورپ کا بنیادی ڈھانچہ اس درجے کی گرمی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں۔

  • یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    یورپ میں شدید گرمی نے شہریوں کو جھلسا دیا،1300 سے زائد اموات

    عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ 21 جون سے یورپ میں جاری ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق شدید گرمی ایک خاموش قاتل ہے، جبکہ یورپ کے گھروں، دفاتر اور اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ اس قدر بلند درجہ حرارت کے لیے تیار نہیں،فرانس میں صرف گزشتہ بدھ سے اب تک متوقع تعداد کے مقابلے میں قریباً 1,000 اضافی اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جبکہ جرمنی، چیک ریپبلک، ہنگری اور پولینڈ سمیت کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں،اتوار کے روز یورپ کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت 40 ° C (104 ° F) تک پہنچ گیا، جب کہ طوفان دیگر علاقوں میں بہہ گئے، زیادہ تر اموات بوڑھے لوگوں کی تھیں-

    پبلک ہیلتھ فرانس نے بتایا کہ بدھ سے اب تک فرانس میں متوقع تعداد کے مقابلے میں تقریباً ایک ہزار زائد اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ادارے کے مطابق 24 جون سے اموات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    فرانسیسی اخبار کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے دوران 18 جون سے اب تک فرانس میں دریاؤں، نہروں اور سوئمنگ پولز میں نہانے کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب جرمنی کے مشرقی شہر لیپزگ میں شدید گرمی کے باعث ٹرام سروس متاثر ہوگئی ہے اور پیر کی صبح تک بند رہے گی شدید گرمی سے سڑکوں کا اسفالٹ پگھل گیا جبکہ ٹرام کی پٹریاں اور جوائنٹس بھی کئی مقامات پر متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث ٹرینوں کی آمد و رفت غیر محفوظ قرار دی گئی ہے۔

    ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی منصوبے نافذ کریں،یورپ شدید گرمی میں پگھل رہا ہے ریکارڈ توڑ درجہ حرارت اور لاکھوں افراد اس سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،یہ صرف ایک اور موسم گرما نہیں ہے، یہ ایک انتباہ ہے آب و ہوا پہلے سے زیادہ تیزی سے بدل رہی ہے۔

  • یورپ میں  گرمی کی شدید لہر، فرانس میں 2 بچوں سمیت 18 افراد جان

    یورپ میں گرمی کی شدید لہر، فرانس میں 2 بچوں سمیت 18 افراد جان

    شدید گرمی کی لہر نے یورپ کے مختلف ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے باعث فرانس میں کم از کم 18 افراد جان کی بازی ہار گئے جن میں ایک گرم گاڑی میں چھوڑے جانے والے 2 کم سن بچے بھی شامل ہیں، جبکہ اسپین، اٹلی اور برطانیہ میں بھی غیر معمولی گرمی کے باعث حکام نے الرٹ جاری کر دیے ہیں۔

    منگل کے روز یورپ کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت نے گزشتہ ریکارڈ توڑ دیے جبکہ کئی ممالک میں معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے فرانس میں شدید گرمی کے باعث متعدد اسکول بند کر دیے گئے یا ان کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کر دی گئی، جبکہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ رواں ہفتے جون کے مہینے کا تاریخی درجہ حرارت ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے۔

    فرانس کے علاقے بورڈو میں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اگست میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے زیادہ ہے 80 سے 95 سال عمر کے 3 بزرگ افراد بھی ہفتے کے اختتام پر جان کی بازی ہار گئے، وسطی فرانس کے شہر پوئتیے میں درجہ حرارت 41.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو 1947 کے بعد سب سے زیادہ ہے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں بھی جون کے مہینے کا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ ہونے کی توقع ہے، جہاں پارہ 38.4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے-

    عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کی اپریل میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق یورپ دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے جنوب مشرقی فرانس کے شہر کارپانٹرا کے پراسیکیوٹر کے مطابق 2 اور 4 سال عمر کے 2 بچے اپنے گھر کے باہر کھڑی خاندانی گاڑی میں بے ہوش حالت میں پائے گئے، امدادی اہلکار انہیں بچانے میں ناکام رہے اور دونوں بچوں کی موت واقع ہو گئی۔

    فرانسیسی سول سیکیورٹی سروس کے ترجمان جیروم بولانژر نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ صرف نگرانی والے مقامات پر ہی تیراکی کریں ان کے مطابق اتوار اور پیر کے دوران 13 افراد ڈوب کر ہلاک ہوئے گزشتہ سال بھی گرمی کی شدید لہر کے دوران فرانس میں ڈوبنے سے ہونے والی اموات میں 172 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں جاری 4 روزہ ہیٹ ویو بعض علاقوں میں درجہ حرارت کو 39 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر لے جا سکتی ہے، جس سے جون کے مہینے کا 35.6 ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے، یہ ریکارڈ 1957 اور 1976 میں قائم ہوا تھا۔

    ادھر اسپین کے شمالی اور نسبتاً ٹھنڈے شہر سان سیباسٹین میں درجہ حرار ت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی، جو اس تاریخ کے تاریخی اوسط درجہ حرارت سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے اسپین کے محکمہ موسمیات کے ترجمان روبین ڈیل کامپو کے مطابق ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 5 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے، جبکہ بعض شمالی علاقوں میں یہ فرق 10 ڈگری سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔

    اٹلی نے پیر کے روز ملک کے 12 شہروں میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کر دیا اطالوی توانائی کمپنی ’ایرن‘ کے مطابق شہر ٹورین میں بجلی کے نظام پر دباؤ بڑھنے کے باعث وقفے وقفے سے بجلی کی بندش کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اضافی عملہ اور جنریٹرز تعینات کیے جا رہے ہیں-

  • یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز  میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کیلئےتہران سے رابطے شروع کر دیئے، ایرانی سرکاری ٹی وی

    ایران نے کہا ہے کہ یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کیلئے تہران سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں یورپی ممالک آبنائے ہرمز سے اپنے بحری جہاز گزارنے کے معاملے پر تہران سے رابطے میں ہیں مشرقی ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، جاپان اور پاکستان کے بحری جہازوں کی آمد کے بعد اطلاعا ت ملی ہیں کہ یورپی ممالک نے بھی پاسد ارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیے ہیں تاکہ انہیں گزرنے کی اجازت حاصل ہوسکے-

    تاہم ایرانی میڈیا نے ان ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے،ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ سے بحری آمد و رفت کو بڑی حد تک محدود کردیا تھا، اگرچہ 8 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم تہران اب بھی آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول قائم رکھے ہوئے ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق اس گزرگاہ پر کنٹرول نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور ایران کو اہم سفارتی اور معاشی اثر و رسوخ حاصل ہوا ہے، جبکہ دوسری جا نب امریکا ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے،امن کے دنوں میں آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدر تی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کا مرکزی راستہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دیگر اہم تجارتی سامان بھی منتقل کیا جاتا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں درجنوں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی، جن میں چینی جہاز بھی شامل تھےیہ اجازت ”آبنائے ہرمز کے انتظامی پروٹوکول“ پر معاہدے کے بعد دی گئی، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک ”جنگ سے پہلے والی صورتحال“ میں واپس نہیں جائے گی، گزشتہ ماہ تہران نے اس راستے سے حاصل ہونے وا لی فیس کی پہلی آمدن موصول ہونے کا بھی اعلان کیا تھا۔

    ادھر ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کیلئے ایک ”پیشہ ورانہ نظام“ تیار کرلیا ہے، جسے جلد متعارف کرایا جائے گا، اس نئے نظام کے تحت صرف تجارتی بحری جہاز اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک یا فریقین ہی سہولت حاصل کرسکیں گے، جبکہ خصوصی خدمات کیلئے باقاعدہ فیس بھی وصول کی جائے گی، نام نہاد ”فریڈم پروجیکٹ“ کے آپریٹرز کیلئے یہ راستہ بند رہے گا، ایران اس اصطلاح کو امریکی فوجی آپریشن کیلئے استعمال کرتا ہے، جس کا مقصد پھنسے ہوئے تجارتی جہازوں کو عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے گزارنا تھا۔

  • 35 سال بعد پہلی یورپی پرواز عراق میں لینڈ

    35 سال بعد پہلی یورپی پرواز عراق میں لینڈ

    بغداد: عراق کی وزارت ٹرانسپورٹ نے اعلان کیا ہے کہ یورپی ملک یونان سے پہلی پرواز بغداد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق میں 35 سال وقفے کے بعد کسی یورپی ملک کی پرواز نے لینڈ کیا ہےوزارت نے کہا کہ یونان کی اس پرواز کی آمد عراق کے سول ایوی ایشن کے شعبے کی بحالی کے مرحلے کی علامت ہے، ابتدائی طور پر بغداد اور ایتھنز کے درمیان یہ فضائی سلسلہ ہفتے میں دو پروازوں پر مشتمل ہو گا، جس میں مسافروں کی تعداد کے مطابق اضافہ یا کمی کی جا سکے گی۔

    واضح رہے کہ 1990 میں عراق کے کویت پر حملے کے بعد یورپی فضائی کمپنیوں نے عراق کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں،عراقی حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہی ہے تاکہ معیشت میں بہتری لائی جا سکے اس سے قبل اسی سال یونان نے شمالی کردستان کے خودمختار علاقے میں اپنی پروازیں شروع کی تھیں، اور اب بغداد میں بھی اسی سلسلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    صدر مملکت نے وفاقی ٹیکس محتسب ظفر حجازی سے عہدے کا حلف لے لیا

    وقت آ گیا ہے کہ ہر ادارہ اپنے کردار اور ذمہ داری کا سنجیدگی سے جائزہ لے،عظمٰی بخاری

    زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں سالانہ بنیادوں پر 3.203ارب ڈالر اضافہ ریکارڈ کیاگیا،اسٹیٹ بینک

  • محسن نقوی کی یورپی کمشنر سے ملاقات

    محسن نقوی کی یورپی کمشنر سے ملاقات

    برسلز:ٌ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی برسلز میں یورپی یونین کمشنر برائے داخلی امور اور مائیگریشن میگنس برنر سے اہم ملاقات ہوئی-

    ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام، انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات اور باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا یورپی کمشنر میگنس برنر نے گزشتہ ایک سال میں پاکستان سے یورپ کے لیے غیر قانونی راستوں (ڈنکی) کے ذریعے جانے کی کوششوں میں 47 فیصد کمی پر حکومت پاکستان کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور پاکستان کے اقدامات کو مثالی قرار دیا۔

    محسن نقوی نے بتایا کہ رواں سال کے دوران پاکستان میں 1,770 انسانی اسمگلرز اور ان کے ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا اور ملاقات میں اتفاق ہوا کہ غیرقانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا،اسمگلرز، ڈرگ مافیا اور دہشت گردوں کا گٹھ جوڑ ہر ملک کے لیے سنگین چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

    ہم روس کا اگلا ہدف ہو سکتے ہیں،نیٹو سربراہ کا اتحادیوں کو انتباہ

    پاکستانی فلم ویلکم ٹو پنجاب نے عالمی ایوارڈ جیت لیا

    محمد اورنگزیب کی سعودی نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

  • یورپی ملک میں  خواتین نے ’کرائے پر شوہر‘ حاصل کرلیے

    یورپی ملک میں خواتین نے ’کرائے پر شوہر‘ حاصل کرلیے

    یورپ کے خوبصورت ملک لٹویا میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے جب کہ مردوں کی تعداد میں نمایاں کمی نے سوسائٹی کا توازن بگاڑ دیا ہے۔

    یورپی میڈیا کے مطابق لٹویا میں خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں ساڑھے 15 فیصد زیادہ ہے یعنی گلی کوچوں اور ملازمتوں کی جگہوں پر بھی صرف خواتین ہی نظر آتی ہیں،لٹویا میں مردوں کی آبادی کم ہونے کی بنیادی وجہ ان کا طرز زندگی ہے، وہاں عورتوں کے مقابلے میں مرد زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اور موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں۔

    جس کے باعث وہ متعدد موذی امراض میں مبتلا ہوکر جلدی مر جاتے ہیں یعنی مردوں کی شرح اموات زیادہ ہےخواتین کی آبادی میں اضافے سے انھیں نہ صرف شادی کے لیے مردوں کے قحط کا سامنا ہے بلکہ گھر کے عمومی کاموں کے لیے بھی مردوں کی قلت کا سامنا ہےخواتین نے اس مسئلے کا حل یوں نکالا کہ سوشل میڈیا پر کرائے کے شوہر کی فراہمی کی سروس شروع کردی۔

    کرائے کے شوہر گھر کے کام کاج جیسے کسی چیز کی تھوڑ پھوڑ کو درست کرنا، پردوں کو راڈ کے ذریعے لگانا، برتن دھونا اور سامان کی منتقلی شامل ہیں،ان اشتہارات کا عنوان Men With Golden Hands آپ کے گھر حاضر ہے جب کہ فلرٹ، ڈیٹنگ اور چھیڑ چھاڑ ممنوع ہوں گے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ میں بھی ایک خاتون نے اپنے شوہر کو کرائے پر دینے کا اشتہار دیا تھا جو فوری طور پر ایک ماہ کے لیے بک بھی ہوگئے تھے،ان کے شوہر کو فی گھنٹہ 44 ڈالر کے حساب سے گھر کی مرمت، فرش بچھانا، ٹائلیں لگانا اور ان جیسے گھریلو کاموں کے لیے کرائے پر لیا گیا تھا۔