Baaghi TV

Tag: یوم یکجہتی کشمیر

  • یوم یکجہتی کشمیر پر مشعال ملک سب کی شکر گزار

    یوم یکجہتی کشمیر پر مشعال ملک سب کی شکر گزار

    یوم یکجہتی کشمیر پر مشعال ملک سب کی شکر گزار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں سے یکجہتی کی جا رہی ہے، پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں اور کشمیری قوم کے ساتھ یکجہتی کی جا رہی ہے، اس موقع پر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے یکجہتی کشمیر کے لئے گھروں سے نکلنے پر سب کا شکریہ ادا کیا ہے، مشعال حسین ملک نے کہا ہے میں ساری پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں تمام ان لوگون کی شکر گزار ہوں جنہوں نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کی اور وقت نکالا

    قبل ازیں مشعال ملک کا کہنا تھا کہ حریت رہنماؤں کو جیلوں میں ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ بھارتی قابض افواج یاسین ملک پر بے پناہ ظلم ڈھارہی ہیں جبکہ مجھے یسین ملک سے بات کی اجازت نہیں، میں پاکستانی شہری ہوں اور پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ہوں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جرم ہے، مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ جیتنے کے لیے ہمیں قانونی جنگ لڑنا ہوگی ہمیں پریکٹیکل راستے کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے ، جسطرح دہشترگرد کلبھوشن کا مقدمہ انڈیا انٹرنیشنل کورٹ میں لے گیا ، حریت رہنما کا مقدمہ بھی پاکستان کو لڑنا چاہیے اور اگر مودی کشمیر میں قدم جمانے میں کامیاب ہوگیا تو کشمیریوں کی قربانیاں ضائع جائیں گی

    شوپیاں انکاؤنٹر،شہید نوجوانوں کے والدین کا بھارتی فوجی اہلکاروں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    کشمیریوں سے یکجہتی، وزیراعظم کی کال پر قوم لبیک کہنے کو تیار

    بہت ہو گیا ،اب گن اٹھائیں گے، کشمیری نوجوانوں کا ون سلوشن ،گن سلوشن کا نعرہ

    یکجہتی کشمیر، قومی اسمبلی میں کشمیر کا پرچم لہرا دیا گیا،علی امین گنڈا پور نے کیا اہم اعلان

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    آسیہ اندرابی کو علاج کی سہولیات نہ ملنے پر مشعال ملک کا بڑا مطالبہ

    لاہور پریس کلب میں یکجہتی کشمیر سیمینار،گورنر پنجاب، مشعال ملک کا خطاب

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ دنیا میں کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن جیسی صورت حال ہے، بھارت نے فائدہ اٹھا کر مظالم اور کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھا، بھارت نے حال ہی میں نیو ڈومیسائل جیسا کالا قانون پاس کرایا۔مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ شہ رگ آرٹیکل 370 کے کے خاتمے کے ذریعے کاٹ دی گئی بھارت کشمیر سمیت پاکستان کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتا ہے۔دنیا میں پیلٹ کا استعمال جانوروں پر بھی نہیں کیا جاتا ،بھارتی فوج کشمیریوں سے جانوروں سے بدتر سلوک کر رہی ہے۔

  • شہدا کو سلام،آزادی زیادہ دور نہیں،آصف زرداری، بلاول ،شہباز شریف

    شہدا کو سلام،آزادی زیادہ دور نہیں،آصف زرداری، بلاول ،شہباز شریف

    شہدا کو سلام،آزادی زیادہ دور نہیں،آصف زرداری، بلاول ،شہباز شریف

    سابق صدر پیپلز پارٹی کے رہنما آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی زیادہ دور نہیں ہے خطہ میں امن کیلئے کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی تو مودی مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کی ہمت نہ کرتے کشمیر کی آزادی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا خواب تھا

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن و ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا 5اگست 2019 کے غیر قانونی بھارتی اقدامات یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے،آج کشمیری شہدا کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،فلسطین اورکشمیر تنازعات اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے چیلنج ہیں تنازعات کے حل تک اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل یقینی بنانا ہوگا،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا،حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل رہے گیمسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور عالمی ضمیر پر بوجھ ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام ہوا ہے، عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی،اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی، تو مودی کے دانت کھٹے کر دیئے ہوتے،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ حقِ خودارادیت اہلِ کشمیر کا بنیادی حق ہے،پاکستان پورے عزم و استقلال سے کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا ہے، مودی کی ہندوتوا سرکار جذبہ حریت دبانے کیلئے جبر و بربریت میں شدت لائی، کشمیر پر دائمی قبضے کی مودی کی کوشش نے کشمیریوں کی مزاحمت میں نئی روح پھونکی ، اقوام عالم مقبوضہ وادی میں بھارتی وحشت و بربریت کے تدارک کیلئے اقدام کریں،

    سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے،پاکستان ہر پلیٹ فارم پر اپنے کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھے گا، بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے سے کشمیر کی آزادی کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا ہے،مسئلہ کشمیر پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے،پاکستان کا بچہ بچہ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے،

    ایڈ منسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کشمیر یوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے ،عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی ہم کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں،ہم اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں،

    وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ بھارت جتنی بھی کوشش کر لے کشمیری عوام کو دبا نہیں سکتا،

    ن لیگی رہنما رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ کشمیرکی آزادی، خوشحالی اور پائیدار امن تک چین سے نہیں بیٹھے گا،کشمیر پاکستان کی لائف لائین ہے،

    وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ ہم کشمیری بہن بھائیوں کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں،کشمیریوں کو جس قسم کی بھی سپورٹ چاہیے،دے رہے ہیں اور دیں گے، وزیر اعظم نے ہر فورم پر کشمیریوں کے حق آواز اٹھائی ہےکشمیر میں جنگی جرائم کا اقوام متحدہ نوٹس لے کر بھارت کے خلاف ایکشن لے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کر رہا ہے اور ڈیمو گرافی کو تبدیل کر رہا ہے

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    https://login.baaghitv.com/yomue-yakheht0kashmir-mioulana-cpeck-ka-iftitah-karnay-nikla-paraya/

  • وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر  ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر

    تقسیم پاکستان سے قبل ہی اس وقت کے ظالم راجے نے کشمیر کو بیچ کر کشمیری قوم کی آزادی پر شب خون مارا تھا اس کے بعد تقسیم ہند کے وقت یہ طے پایہ تھا کہ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کو دیئے جائیں گے اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت کو مگر ہندو اور انگریز کی مشترکہ منافقت سے کشمیر مقبوضہ ہو گیا مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی خاطر پاکستان نے 1947 میں جنگ لڑی اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کروایا جسے ہم آج ازاد ریاست کشمیر کے نام سے جانتے ہیں
    یکم جنوری 1948 میں انڈیا سلامتی کونسل پہنچا اور سلامتی کونسل کے یقین استصواب رائے پر جنگ بندی ہوئی تاہم آج دن تک وہ استصواب رائے کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو سکا-

    26 جنوری 1950 کو کشمیری قوم کی خصوصی حیثیت کیلئے آرٹیکل 370 اے نافذ کرکے کشمیر کو خودمختاری کی حیثیت دی گئی بظاہر نا چاہتے ہوئے بھی سلامتی کونسل نے ابتک 13 قراردادیں کشمیریوں کے حق میں دی ہیں مگر سب بے سودکسی پر کوئی عمل درآمد نہیں ہو سکا23 مارچ 1987 کو کشمیری جماعت مسلم یونائیٹڈ فرنٹ نے انتخابات میں واضع برتری حاصل کی تاہم فاروق عبداللہ کی گورنمنٹ نے دھاندلی کا الزام لگایا اور مظاہرے شروع ہو گئے جو کہ رفتہ رفتہ 1989 میں مسلح تحریک میں بدل گئے 1947 سے 1989 تک کشمیریوں نے ہر حد تک کوشش کی کہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاہم بھارت و سلامتی کونسل کی طرف سے مکمل انکار و منافقت دیکھ کر کشمیری قوم نے بندوق اٹھائی اور ہندو کے خلاف ڈٹ گئے اب تک کشمیریوں نے ایک ہی نعرہ لگایا ہے کشمیر بنے گا پاکستان تیرا میرا رشتہ کیا ؟لا الہ الا اللہ

    یہی نعرے سلامتی کونسل اور انڈیا کو پریشان کئے ہوئے ہیں کہ اگر رائے شماری کروائی گئی اور کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا گیا تو پوری کشمیری قوم الحاق پاکستان کے حق میں ووٹ دے گی اور کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا تاریخ کشمیر اور ہندو کی خصلت کو دیکھا جائے تو کشمیر کا مسئلہ قرار دادوں سے ہونا ناممکن ہے اس کا واحد حل جنگ ہے جیسا کہ 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں آزاد کشمیرکا علاقہ حاصل کیا گیا پھر پاک بھارت 1949 کے فائر بندی معاہدے کو ختم کرتے ہوئے بھارت نے پہل کی 1965 کی جنگ شروع کی کشمیر کا وکیل ہونے کی حیثیت سے بھارت نے 1971 کی جنگ کی شروعات کی اور بنگلہ دیش میں خانہ جنگی کروا کر 16 دسمبر 1971 کو بنگلہ دیش کو الگ کروایا کیونکہ بنگلہ دیش کے ہوتے ہوئے بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش کے بیچ سینڈوچ بنا ہوا تھا-

    21 جنوری 1999 کو پاکستان و بھارت کے اس وقت کے وزرائے اعظموں نے دو طرفہ معاملہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کروائی مگر مئی 1999 میں بھارت نے خود ہی پنگے بازی کرتے ہوئے کارگل جنگ کا آغاز کیا جو کہ جولائی میں سلامتی کونسل کی مداخلت پر ختم ہوااس سارے دورانیہ میں کشمیری قوم نے نا تو اپنا نعرہ بدلا اور نا ہی اپنے عزائم کشمیری قوم کے اس جذبہ حریت کو دیکھتے ہوئے بھارت سرکار نے 1949 میں کشمیر کی خودمختاری کی حیثیت کو ختم کرنے کی خاطر 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اے و 35 اے کا خاتمہ کر دیا جس سے کشمیری قوم کا غم و غصہ آسمان کو چھونے لگا اور کشمیری قوم نے مجاھدین کشمیر کا ماضی کی طرح کھل کر ساتھ دیا جو کہ تاحال جاری و ساری ہے-

    بات اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی کی جائے تو سوائے جنگ کے اس کا حل ناممکن ہے کشمیری مجاھدین کی گوریلا جنگ نے بھارتی فوج و عوام کا مورال بہت ڈاؤن کر دیا ہے جس کے باعث آئے روز بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے جیسے جیسے بھارت مقبوضہ کشمیر میں فوجی اضافہ کرتا جا رہا ہے ویسے ویسے ہی بھارتی فوج میں خودکشیوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اوسطاً ہر تیسرے دن ایک بھارتی فوجی مقبوضہ وادی کشمیر میں خودکشی کرتا ہے تاہم دوسری جانب مجاھد تنظیموں میں کشمیری نوجوانوں کا رجحان بہت حد تک بڑھ گیا ہے حتیٰ کہ بہت زیادہ پڑھے لکھے نوجوان بھی مسلح تحریک آزادی کشمیر کا حصہ بن کا اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کشمیر بزور شمشیر اس کے علاوہ آزادی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے-

    پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس تو بہت نکالے جاتے ہیں جو کہ اظہار کی ایک اچھی مثال بھی ہیں مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جنگ کے بغیر حل نہیں ہو گا کیونکہ ہندو کو پتہ ہے اگر کشمیر اس کے ہاتھ سے چلا گیا تو پھر اس کے بعد 36 سے زائد شورش زدہ بھارتی علاقے بھی نا ٹک سکیں گے اور ہندوستان ٹوٹ جائے گا سو انڈیا اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے اپنا بہت سارا پیسہ کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے لگا رہا ہے اور پوری دنیا کا کافر اس کی مدد کو ہے جبکہ اس کے برعکس اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ عملی طور پر ایک آدھ ملک ہی ساتھ ہے باقی محض بیانات ہی دیتے ہیں اور سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہیں جس کے باعث آج دن تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکا ورنہ بفضل تعالی 1947 سے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے قبائل مجاھدین و پاک فوج موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کروانے کیساتھ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی مگر پنڈٹ جواہر لال نہرو اور سلامتی کونسل کی منافقت سے جنگ بندی ہوئی اور جھوٹے وعدے کروائے گئے جو کہ آج دن تک ایفاء نا ہو سکے ہیں-

  • یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کی جانب سے کشمیریوں کو خراج تحسیش پیش کیا گیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ کشمیریوں کو جدو جہد آزادی پر سلام پیش کرتے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں اور لاک ڈاؤن نے کشمیریوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ کشمیریوں پر مظالم بند کیے جائیں اور مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی امنگوں اور اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے، ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالہ سے سیمینارز و تقریبات ہو رہی ہیں

    بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کا آرٹیکل 370 ختم کر کے وادی میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکمران جماعت بی جے پی کے اس اقدام کے بعد سے ہی مقبوضہ وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور وادی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے کشمیری حریت رہنماؤں کو جیلوں میں ڈالا ہوا ہے، دختران ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی، ڈاکٹر یاسین ملک سمیت تمام حریت رہنما جیلوں میں ہیں، کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج دن دہاڑے گولیوں سے نشانہ بناتی ہے، خواتین کی عصمتیں پامال کی جاتی ہیں ،عالمی دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے،

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

  • یوم یکجہتی کشمیر: بھارتی مظالم کے خلاف بیلجئیم میں کارریلی

    یوم یکجہتی کشمیر: بھارتی مظالم کے خلاف بیلجئیم میں کارریلی

    بھارتی بربریت اور ظلم وستم کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے وہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کیلئے بیلجئیم میں ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ اور پشتون آرگنائزیشن یورپ نے مل کر برسلز کے مشہور سیاحتی مقام آٹومیم سے کار ریلی نکالی جس کا اختتام سٹی برسلز گراں پلاس پر کیا گیا مظاہرین نے اپنی گاڑیوں پر کشمیر اور پاکستان کے جھنڈے لگا رکھے تھے-


    ریلی کی قیادت پشتون آرگنائزیشن کے چیئرمین نوید خان اور صدر عرب گل ملاگوری نے کی جبکہ ای یو پاک فرینڈ شپ فیڈریشن یورپ کے چیئرمین چوہدری پرویز اقبال لوہسر نےخصوصی شرکت کی۔

    آٹومیم کے مقام پر فیڈریشن کے چیئرمین چوہدری پرویز اقبال لوہسر نے اپنے مختصر خطاب میں عالمی برادری کو پیغام دیا کہ بھارت کشمیر کے اندر سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہوکر وادی کشمیر کو نو گو ایریا بنا رکھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام کو انکے حقوق دلوانے کےلیے بھارت پر دباؤ بڑھایا جائے اور انہیں کشمیر کے اندر دہشت انگیز کاروائیوں سے روکا جاۓ انھوں نے بھارتی درندگی کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے۔

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    انہوں نے کہا کہ وہ یورپ بھر کے تمام ممالک میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعے بھارت کے دوغلے چہرے کو دنیا میں ننگا کرکے رہیں گے جبکہ پشتون آرگنائزیشن یورپ کے چیئرمین نوید خان نے کہا کہ ہم مودی سرکار کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ہم حق کی خاطر کشمیری عوام کی آزادی تک ہرسطع پر بھارت کے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں۔

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    پشتون آرگنائزیشن یورپ کے صدر عرب گل ملاگوری نے کہا کہ ہندوستان نے مقبوضہ وادی کشمیر کو پانچ اگست 2019 میں یک طرفہ قدم اٹھا کر بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو زبردستی آتشی اسلحہ کے زور پر ختم کرکے کشمیری خواتین بچوں اور بڑوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا مرتکب ہورہا ہے پروگرام میں اوورسیز پاکستانی کمیشن بلجیئم کے کوآرڈینٹر سید شاہد حسین شاہ نے بھی خطاب کیا۔

    بھارت کاجارحانہ رویہ علاقائی امن کےلیےخطرہ ہے: وزیراعظم کی چین میں پالیسی سازوں سےگفتگو

  • بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید

    بھارتی رہنماؤں کی جانب سے کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت پر تنقید کی گئی ہے

    بی جے پی حکومت نے پالیسیوں پر تنقید کرنے والے افراد کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری کر رکھا ہے غیر قانونی اقدام پر بھارتی رہنماؤں کی جانب سے بی جے پی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سپریا سَلی ممبر لوک سبھا کے مطابق حکومتی بلوں میں کشمیر کو شامل نہ کرنا متعصبانہ رویہ ہے کانگریس ممبر ششی تھرور کا کہنا ہے کہ بھارتی کالے قانون نے بھارتی جمہوریت کو بے نقاب کر دیا ہے، نیشنل کانگریس کے لیڈر مصطفیٰ کمال نے بھارت کے اس اقدام کو آئین کی نفی قرار دیا کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے کشمیر کی حقیقی صورتحال پر سوال اُٹھائے ہیں پریانکا گاندھی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کو آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا

    نوبل انعام یافتہ امریتہ سین نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تنقید کی اور کہا کہ تمام انسانوں کے حقوق کو برقرار رکھا جائے مجھے نہیں لگتا کہ جمہوریت کے بغیر بھی کشمیر کی کوئی قرار داد ہو گی ، بھارتی سکالر ننوت چڈھا بہیرا کا کہنا تھا کہ بھارت میں جمہوری اُصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے،زیادہ پریشان کُن بات ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے ؟،فیڈرلزم کے حق میں بہت کم لوگ ہیں، جو بھارت کی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے،

    قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور قوم حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5 فروری یوم یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے متعلق حتمی فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہوگا، کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق تنازع کا حل پاکستان کا حتمی مقصد ہے۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جموں و کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر سب سے پرانے مسائل میں سے ایک ہے، بھارتی ہٹ دھرمی، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے تنازع حل نہ ہو سکا کشمیری عوام گزشتہ 7 دہائی سے مشکل حالات، دہشت اور ظلم کے خلاف برسرِپیکار ہیں جبکہ بھارت کشمیرمیں غیر انسانی حربے، سفاکانہ قوانین اور ریاستی دہشت گردی کا استعمال کر رہا ہے۔

    صدرمملکت نے کشمیریوں کو خودارادیت کے جائز حق کے لیے بے مثال عزم پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام جبر، ناجائز قبضے کے خلاف جرات مندانہ جدوجہد میں ضرور سرخرو ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت حراستی تشدد، پیلٹ گنوں کے استعمال اور گھروں کو مسمار کرنے میں ملوث ہے، 9 لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج نے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں بدل دیا ہے اور آر ایس ایس اور بی جے پی کی کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔


    دوسری جانب یکجہتیِ کشمیر کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ متحد ہے اور حق خود ارادیت کے لیے ان کی جائز جدوجہد کے لیے پرعزم ہے۔ مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں کشمیر میں کشمیریوں کی مزاحمت کے جذبے کو کچلنے میں ناکام رہی ہیں-

    انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے جس میں انسانیت کے خلاف جرائم، جنگی جرائم اور نسل کشی کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ جبری آبادیاتی تبدیلی کا خطرہ بھی شامل ہے۔ یہ سب جنیوا کنونشنز کی سراسر خلاف ورزی ہیں۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ رائے شماری کو یقینی بنانا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔ دنیا کو جموں و کشمیر کے لوگوں کی حالت زار اور بھارتی ریاست کے ظالمانہ فوجی قبضے سے خود کو آزاد کرانے کی ان کی ناقابل تردید خواہش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیامیں امن و ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا 5اگست 2019 کے غیرقانونی بھارتی اقدامات یواین قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا کرے،آج کشمیری شہداکو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں،فلسطین اورکشمیر تنازعات اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری کے لیے چیلنج ہیں تنازعات کے حل تک اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد پورے نہیں ہوں گے اقوام متحدہ کو اپنی ساکھ کی بحالی کے لیے کشمیر اور فلسطین تنازعات کا منصفانہ حل یقینی بنانا ہوگا،

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا،حقِ خود ارادیت کے لیے جاری جدوجہد کو پیپلزپارٹی کی حمایت حاصل رہے گیمسئلہ کشمیر تقسیمِ برصغیر کا نامکمل ایجنڈا اور عالمی ضمیر پر بوجھ ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے میں ناکام ہوا ہے، عالمی برادری کو اپنی ذمیداریاں نبھانا ہوں گی،اگر پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی، تو مودی کے دانت کھٹے کر دیئے ہوتے،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ حقِ خودارادیت اہلِ کشمیر کا بنیادی حق ہے،پاکستان پورے عزم و استقلال سے کشمیر کاز کے ساتھ کھڑا ہے، مودی کی ہندوتوا سرکار جذبہ حریت دبانے کیلئے جبر و بربریت میں شدت لائی، کشمیر پر دائمی قبضے کی مودی کی کوشش نے کشمیریوں کی مزاحمت میں نئی روح پھونکی ، اقوام عالم مقبوضہ وادی میں بھارتی وحشت و بربریت کے تدارک کیلئے اقدام کریں،

    ‏اسلام آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ریلی نکالی گئی.ریلی کی قیادت صدر مملکت عارف علوی نے کی،ریلی میں وفاقی وزرااوردیگر حکا م بھی شریک‏ تھے ریلی میں اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ شریک‏ تھے ریلی میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ ریلی میں شرکت کی، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک پوری قوم کشمیروں کے ساتھ کھڑی ہے۔ 5اگست 2019کا بھارتی غیر قانونی اقدام جمہوریت کے منہ پر کالا نشان بن گیا ہے۔ نریندرمودی کو 5اگست 2019کے مقبوضہ کشمیر کے لئے غیر قانونی اقدام کو واپس لینا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو گا۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا مسئلہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام عالم کو اقدامات اٹھانے ہونگے۔بھارت نے 5اگست 2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالیوں کی مثا لیں قائم کی۔ کشمیری نوجوانوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو قید و بند کیا گیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے کیلئے نریندر مودی نے ہر اوچھے ہتھکنڈا استعمال کیا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔ کشمیر پاکستان کا حصہ اور شہ رگ ہے۔ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا استعمال بند کرے۔ کشمیر ی عوام کی جرات مندانہ جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا۔

  • :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    آج ایک مرتبہ پھر ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے۔ آج پھر سیمینارز، کانفرنسیں، ریلیاں اوراحتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ کئی کلو میٹر کی ہاتھوں کی زنجیریں بنیں گی۔ چوکوں اور چوراہوں پر بھارتی مظالم کے خلاف جلسے اور جلوس ہوں گے ۔

    تفصیلات کے مطابق آج 5 فروری پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا
    اس دن کو منانے کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ کشمیر پاکستانی کی شہ رگ ہے۔

    ہر سال 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاہم رواں سال اس کی اہمیت بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور لاک ڈاؤن کے نفاذ کی وجہ سے بڑھ گئی ہے، واضح رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا تھا

    مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرتے ہوئے اسے 2 وفاقی اکائیوں میں تبدیل کردیا تھا جس کا اطلاق گزشتہ سال 31 اکتوبر سے ہوگیا تھا، ساتھ ہی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کرتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن کردیا تھا جو 5 اگست سے اب تک جاری ہے جبکہ وہاں کے عوام کو مواصلاتی نظام کی بندش کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے معاشی بحران پیدا ہوگیا ہے اور شہری اپنے اہلخانہ سے رابطہ قائم کرنے سے محروم ہوگئے ہیں، تاہم گزشتہ ماہ خطے میں محدود موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروس کو عارضی طور پر بحال کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود عوام کو مشکلات ہیں۔

    آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے

    یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک کئمے مختلف شہروں میں ریلیوں، جلسوں، سیمینارز اور دیگر تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جبکہ بھارتی مظالم کے خلاف

    اج پانچ فروری2022 کو 32 واں یوم یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے اور اکتیس برس گزرنے کے بعد آج تحریک آزادی کشمیر ایک فیصلہ کن اور انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج پورے ملک میں سرکاری طور پر تعطیل منائی جا رہی ہے۔ایک طرف ہم کشمیر کو اپنی شہہ رگ قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف کشمیر میں جاری بدترین کرفیو اور لاک ڈائون ہے اور ہماری شہہ رگ ہمارے روایتی اور ازلی دشمن کے پنجوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہم صرف احتجاجی مظاہرے اور سیمیناز منعقد کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا قومی فریضہ انجام دے دیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ ایک طرف صرف قرار دادیں منظور کی جائیں اور دوسری طرف روزانہ سرکٹوائے جائیں؟ ایک طرف مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات پر زور دیا جاتا ہے، تو دوسری طرف کشمیری کئی برسوں سے بھارتی محاصرے اور خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔یقیناً پاکستان کی 22 کروڑ عوام کی موجودگی میں کشمیر کا کوئی سودا نہیں ہو سکتا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن کویکجہتی کشمیر سے منسوب کر کے ہم نے اپنا فرض ادا کر دیتے ہیں؟کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں ہے؟ اس پر سوچنا ہو گا، کیونکہ آج پھر پانچ فروری ہے۔ آج کا دن بھی گزر جائے گا، لیکن انتظار اس دن کا ہے ،جب کشمیریوں کو آزادی ملے گی اور کشمیرمیں جاری ظلم کا خاتمہ ہو گا۔

  • جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب
    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاک کشمیر لائرز فورم نے یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے مظلوم کشمیری قوم سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء تنظیمیں غاصب بھار ت کے ظلم و دہشت گردی کا شکار اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی پانچ فروری کا دن بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔

    لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد مقصود بٹر، نائب صدر مدثر عباس مگھیانہ، پاک کشمیر لائرز فورم کے صدر رانا عبدالحفیظ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خواجہ محسن عباس،پاک کشمیر لائرز فورم پنجاب کے صدر محمد احسن ورک، خالد مسعود سندھوصدر پاک کشمیر لائرز فورم ہائی کورٹ بار، جنرل سیکرٹری پاک کشمیر لائرز فورم ہائی کورٹ بار مہر عبدالشکور ایڈووکیٹ، اورلاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے فنانس سیکرٹری فیصل توقیرایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بھارت کے ظلم و بربریت پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں اور ان کی رپورٹوں نے بھارت کے نام نہاد جمہوری ملک ہونے کے دعوی کوبری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔

    وکلاءتنظیمیں بھارت کے کشمیر پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی قبضہ کی مذمت کرتی ہیں اور اقوام متحدہ و دیگر اداروں سے اپیل کرتی ہیں کہ فوری طور پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ختم کروایا اور انڈیا کے ظلم و ستم کو روکا جائے۔ وکلاءرہنماﺅںنے کہا کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک بھر میں تقاریب کا ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کی عوام اور کشمیریوں کے درمیان الفت و محبت میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ پاکستان ہمیشہ سے کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ان شاءاللہ رہے گا۔مشکل وقت میں پاکستانی قوم کشمیریوں کو کسی طور تنہا نہیں چھوڑے گی۔

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیر مکمل جوش و خروش سے منایا گیا۔اس سلسلے میں ایک واک کا اہتمام کیا گیا جس میں وایس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق، ڈایریکٹر سٹوڈنٹس افیر، ڈایریکٹر ایکڈیمکس سمیت تمام فکیلٹی ممبران، کوآرڈینیٹرز، ڈینز، ایچ او ڈیز، اور مختلف شعبہ جات کی طالبات نے بھرپور شرکت کرتے ہوے کشمیر میں ہونے والے مظالم پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مختلف بینرز، پلے کارڈرز اور پوسٹرز پر کشمیر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی تصویر کشی کی گی تھی۔

    وی سی جی سی ڈبلیو یو ایف پرو فیسر ڈاکٹر روبینہ فاروق نے اپنا میسج ریکارڈ کرواتے ہوے کہا کہ مسلہ کشمیر کے حل میں آج تک کسی بھی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا، جبکہ خواتین بہترطور پر مسایل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اس مسلے کے حل کے لیے نا صرف عملی میدان میں اپنی خدمات پیش کریں بلکہ اپنے خاوند، بھایی اور بیٹوں کے لیے ایک مشیر کی حثیت سے بھی اس مسلے کے حل پر تجاویز دیں اور انکی صحیح راہنمائی کریں۔ تا کہ پر امن طریقے سے کشمیری عوام کے مسایل کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    محکمہ انسانی حقوق اور فیسز آف پاکستان کے اشتراک سے بین المذاہب امن اور ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد گورنر ہاؤس لاہور میں کیا گیا صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی مختلف ممبران پنجاب اسمبلی، بشپس اور پادریز وغیرہ نے بھی شرکت کی ،سربراہ فیسز آف پاکستان جاوید ولیم اور انٹر فیتھ کونسل کے نوجوان بھی شریک تھے تمام مقررین نے معاشرے میں عدم برداشت کے خاتمے پر زور دیا سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمان نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئیے ندیم الرحمان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو بین المذاہب ہم آہنگی کی اہمیت سے روشناس کرانا ہوگا۔
    صوبائی وزیر اقلیتی اموراعجاز عالم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تکمیل میں مذہبی اقلیتوں کا کلیدی کردار رہاہے۔ پنجاب حکومت یکم فروری سے ہفتہ انٹرفیتھ بھرپور طریقے سے منارہی ہے۔ تشدد کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔سانحہ سیالکوٹ جیسے واقعات کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔ پنجاب میں پہلی بار بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسی بنائی گئی۔
    پنجاب کے اس اقدام کو سپریم کورٹ نے بھی سراہا۔ دیگر صوبوں میں بھی اسی طرح کی پالیسیاں متعارف کرائی جارہی ہیں۔
    صوبائی وزیر نے معصوم کشمیریوں کی آواز بھی بلند کی اور کہا کہ بہت جلد کشمیر کی عوام بھارت کے جبر کے باوجود آزادی حاصل کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

    کانفرنس میں انٹرفیتھ کے فروغ بارے ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام بھی کیا گیا ، نوجوانوں نے بین المذاہب کو فروغ دینے کے لیے بہت سے آئیڈیاز پیش کیے ، تمام مقررین نےجاوید ولیم بالخصوص فیسز آف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ، کانفرنس کے اختتام پر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندگان میں خصوصی شیلڈز تقسیم کی گئیں ،وطن عزیز پاکستان کی ترقی اور کشمیر کی آزادی کے لیے دعا بھی کرائی گئی۔

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    یوم یکجہتی کشمیر،بھارتی ناجائز تسلط کے خلاف ہو گا دنیا بھر میں احتجاج، سفیرکشمیر جائیں گے مظفر آباد

    یوم یکجہتی کشمیر،وزیرخارجہ نے کیا عالمی دنیا سے بڑا مطالبہ

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    یکجہتی کشمیر،جماعت اسلامی کی ہوں گی ملک بھر میں ریلیاں، شیڈول جاری

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، وزیراعظم عمران خان نے جاری کیا کشمیریوں کیلئے خصوصی پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر، سینیٹ کا ایک اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ

  • مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    قصور
    تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل ضلع بھر میں مشترکہ پروگرام کرینگے، بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن ہو گئے

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری بھرپور طریقے سے منایا جائے گا
    ضلع بھر کی تمام سیاسی و مذہبی تنظیمیں ایک ہو کر پورے ضلع میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے بھارت کے خلاف پروگرام کرینگی
    قصور،نور پور،الہ آباد کھڈیاں،پتوکی،چونیاں،کوٹ رادہاکشن،پھولنگر،کنگن پور و دیگر ضلع بھر کے تمام گاؤں دیہات،قصبوں و شہروں میں تمام جماعتیں یک جان ہو کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرینگی
    پورے ضلع بھر میں کشمیریوں کی حمایت پر مبنی بینرز لگ گئے ہیں جس میں بھارت کی فوجوں کی واپسی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے
    واضع رہے کہ بھارت کی طرف سے ریاست مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو 5 اگست 2019 کو منسوخ کیا گیا تھا

  • یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستانی قوم بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے،مولانا عبد الغفور

    یوم یکجہتی کشمیر پر پاکستانی قوم بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے،مولانا عبد الغفور

    کوئٹہ: جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے 5 فروری کو یوم يكجہتی كشمير كے موقع پر پاكستانی قوم اپنے كشميری بھائيوں سے اظہارِ يكجہتی کیلیے احتجاجی مظاہرے كرنے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سینیٹر مولانا عبد الغفور حیدری نے عوام الناس بالخصوص كاركنان سے اپيل کی کہ يوم يكجہتی كشمير كے موقع پر اضلاع، تحصيل اور يونين كونسل كی سطح پر پريس كلب كے سامنے احتجاجی مظاہرے كريں۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے ظلم كو واشگاف كريں اور ان مظالم كی مذمت كريں تاكہ مسئلے كشمير اقوام سامنے اجاگر كيا جاسكے اوربھارت كے مظالم پوری دنيا كے سامنے عياں ہوں۔

    واضح رہے کہ سندھ حکومت نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کردیا جس کا نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا ہے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یوم یکجہتی کمشیر کی مناسبت سے سندھ میں عام تعطیل ہوگی اور تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بازار بند رہیں گے کہ وفاقی حکومت اس سے پہلے ہی پانچ فروری کو عام تعطیل کا اعلان کرچکی ہے، 5 فروری ہر سال وفاقی حکومت کے گزیٹڈ ہالیڈے کی فہرست میں شامل ہوتا ہے-

    وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی

    خیال رہے کہ یہ دن منانے کا سلسلہ گذشتہ 30 سال سے بلا تعطل جاری ہے جس میں پاکستان اور دنیا کے کئی ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں احتجاجی جلسے منعقد کرتی ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت 1975 میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 28 فروری کوکشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کیا، تاہم کئی سالوں بعد یہ بدل کر 5 فروری ہو گیا –

    نہرو و سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں سے رائے شماری کا وعدہ کیا تھا کہ ریفرنڈم کروایا جائے گا جس میں مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو حق دیا جائے گا کہ وہ انتخاب کر سکیں کہ انہوں نے الحاق ہندوستان کرنا ہے یا پاکستان یا کہ آزاد خود مختار کشمیراب تک مقبوضہ کشمیر کو عالمی متنازع علاقہ تسلیم کرتے ہوئے متعدد قرار دادیں منظور کی جا چکی ہیں جن میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے اپنی فوجیں نکالنے اور سلامتی کونسل و بھارت کے وعدے کیمطابق ریفرنڈم کروانے کا کہا جا چکا ہے تاکہ کشمیری رائے شماری کے ذریعے اپنی آزادی کا انتخاب کر سکیں مگر ہر بار بھارت انکاری رہا مگر افسوس کہ سلامتی کونسل و عالمی برادری اب تک کچھ بھی نہیں کر پائیں-

     میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر برآمد

    سلامتی کونسل و بھارت کو اس کا کیا گیا وعدہ یاد کرواتے ہوئے 5 فروری کو پوری دنیا میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیریوں کو ان کا حق رائے شماری دے مگر بھارت و تمام عالم کفر جانتا ہے کہ 1947 سے اب تک سخت بھارتی پہرے و ظلم و جبر میں رہتے ہوئے کشمیری ایک ہی نعرہ لگا رہے ہیں کشمیر بنے گا پاکستان ،تیرا میرا رشتہ کیا لا الہ الا اللہ اور اسی نعرے پر عمل پیرا ہو کر کشمیری اب تک لاکھوں شہادتیں ہزاروں ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہونے کے باوجود اسی نعرے پر قائم ہیں-

    پی ایس ایل 7: ملتان سلطانزنے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کوشکست دے دی

    ویسے تو ہر وقت پاکستانی پرچم مقبوضہ وادی کشمیر کے گلی محلوں و گھروں میں لہراتا ہے مگر 5 فروری کو بطور خاص ہر گھر میں پاکستانی پرچم لہرایا جاتا ہے اور انڈین فوج کی ایک سپیشل ونگ ان پرچموں کو اتارتی ہے مگر کشمیری پھر اس سبز ہلالی پرچم کو لہراتے ہیں جہاں 5 فروری کو کشمیری غیور مسلمان بھارت و سلامتی کونسل کی وعدہ خلافی کے خلاف پوری دنیا میں احتجاج کرتے ہیں وہاں پاکستانی قوم بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ سلامتی کونسل و بھارت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کو اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کی صدا سنواتے ہیں اور دنیا کو باور کرواتے ہیں کہ کشمیریوں کا نعرہ تیرا میرا رشتہ کیا ؟ لا الہ الا اللہ کے تحت ہم یک دل یک جان ہیں اور جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرنے گا وہاں پاکستانیوں کا خون گرے گا-

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط