Baaghi TV

Tag: یوٹیوب

  • پنجاب کے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

    پنجاب کے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد

    نگران پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

    اس ضمن میں حکمنامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی سرکاری ملازم سوشل میڈیا کا استعمال کرکے اپنے خیالات،معلومات یا ڈاکیومنٹس شیئر نہیں کرسکتا،بعض سرکاری ملازمین فیس بک،انسٹا ،ٹک ٹاک ،یوٹیوب کا غلط استعمال کر رہے ہیں،سرکاری ملازم اگر ہدایت کے برعکس سوشل میڈیا کا استعمال کرے گا تو عہدہ سے فوری طور پہ برطرف کر دیاجائے گا،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے متعلق بنائے گئے حکومتی رُولز پر سوالات اٹھا ئے تھے، عدالت نے پی ٹی اے وکیل کو آزادی اظہار دبانے والے بھارت کی مثال دینے سے روکتے ہوئے کہاتھا کہ یہاں انڈیا کا ذکر نہ کریں ہم بڑے کلیئر ہیں کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو، اگر بھارت غلط کر رہا ہے تو ہم بھی غلط کرنا شروع کردیں، ایسے رُولز بنانے کی تجویز کس نے دی اور کس اتھارٹی نے انہیں منظور کیا؟ اگر سوشل میڈیا رُولز سے تنقید کی حوصلہ شکنی ہوگی تو یہ احتساب کی حوصلہ شکنی ہوگی، تنقید کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی، کوئی بھی قانون اور تنقید سے بالاتر نہیں، پی ٹی اے تنقید کی حوصلہ افزائی کرے کیونکہ یہ اظہار رائے کا اہم ترین جز ہے۔ کیوں کوئی تنقید سے خوفزدہ ہو بلکہ ہر ایک کو تنقید کا سامنا کرنا چاہیے، یہاں تک کہ عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی ہے صرف شفاف ٹرائل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے عہد اقتدار میں سرکاری سوشل میڈیا ٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پراپیگنڈہ کا انکشاف سامنے آیا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کا جعلی امیج گھڑنے کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا، سرکاری وسائل کے بل بوتے پر پی ٹی آئی قیادت کی جعلی تشہیر اور ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا بھی بے نقاب ہو گیا، مخالفین کی کردار کشی اور ہرزہ سرائی کیلئے سوشل میڈیا ٹیموں کا بے دریغ استعمال کیا گیا، سرکاری منصوبوں کی تشہیر کے بجائے زہریلا پراپیگنڈا کیا جاتا رہا. سرکاری وسائل غیر قانونی سیاسی تشیہری مہم کیلئے استعمال، پی ٹی آئی دور کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آ گیا،

    شہداء لسبیلہ کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم میں کون تھا ملوث؟ سب سامنے آ گیا

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    سوشل میڈیا پر عمران خان کی کامیابی کا راز فاش

    سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی دیرینہ دوست فرح گوگی کا ایک اور بڑا سکینڈل منظر عام پر آ

  • ویب سائٹس، ویب چینلز، یوٹیوب چینلز کی رجسٹریشن کا فیصلہ

    ویب سائٹس، ویب چینلز، یوٹیوب چینلز کی رجسٹریشن کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے ویب سائٹس، ویب چینلز، یوٹیوب چینلز کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے

    بڑھتی ھوئی آن لائن سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کیلئے اتھارٹی بنائی جائیگی ،وفاقی کابینہ ای تحفظ اتھارٹی بل کی منظوری دے گی ،وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بل اصولی منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا ،بل کے مطابق تمام ویب سائٹس کی مانیٹرنگ ای سیفٹی اتھارٹی کرے گی،ویب سائٹس کے اجازت نامے خلاف ورزی پر جرمانوں کا اختیار اسی اتھارٹی کے پاس ہوگا،اتھارٹی ٹی وی چینلز اور اخبارات کی ویب سائٹس کی بھی نگرانی کرے گی،اتھارٹی ویب چینلز کو لائسنس جاری کرنے کا اختیار رکھے گی،ویب مانیٹرنگ کا اختیار پی ٹی اے سے واپس لیا جائے گا،

    پیکا ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کو حاصل اختیارات ناکافی قرار دیئے گئے ہیں پیکا ایکٹ کے تحت سوشل میڈیا رولز بنے وہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوئے پی ٹی اے کو سوشل میڈیا پر مواد کو بلاک کرنے کی رسائی نہیں ،پیکا ایکٹ کے مطابق سائبر کرائمز کے تدارک کیلئے الگ اتھارٹی نہیں بنائی گئی ٹاسک ایف آئی اے کو دیا گیا جس پر پہلے ہی دیگر معاملات کے باعث بوجھ ہے نیوز چینلز اور اخبارات کی ویب سائٹس کی مانیٹرنگ بھی یہی اتھارٹی کرے گی ،اتھارٹی غلط خبر چلانے پر ویب سائٹ بند اور جرمانے کرسکے گی

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • امریکی یوٹیوبر کو ویوز بٹورنے کیلئے جہاز گرانے پر بیس سال قید ہوسکتی

    امریکی یوٹیوبر کو ویوز بٹورنے کیلئے جہاز گرانے پر بیس سال قید ہوسکتی

    امریکی یوٹیوبر ٹریور جیکب کو یوٹیوب ویڈیو پر ویوز بٹورنے کے چکر میں جہاز گرانا مہنگا پڑ گیا، اب انہیں اس جرم پر 20 سال کیلئے جیل بھگتنی پڑ سکتی ہے۔ 2021 میں فیڈرل ایوی ایشن بورڈ کی جانب سے جہاز کریش کے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی اور ٹریور جیکب کو ہدایت کی گئی کہ وہ جہاز کے ملبے کو محفوظ رکھیں۔

    ٹریور جیکب نے حکام کو بتایا تھا کہ اسے نہیں معلوم کہ جہاز کہاں کریش ہوا اور اس کا ملبہ کہا ہے تاہم بعد میں وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جہاز کے ملبے تک پہنچا اور اس نے ملبے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرکے ضایع کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں جیکب نے تفتیشی حکام کے سامنے اعتراف کیا کہ انہوں نے ایوی ایشن حکام سے جھوٹ بولا اور جہاز میں کوئی خرابی نہیں ہوئی تھی، دراصل اس نے ایک والٹ کمپنی کی اسپانسرشپ اور پیسے کمانے کیلئے جان بوجھ کر جہاز کریش کیا تھا۔

    جیکب نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے جہاز کی ویڈیو کے بعد ایوی ایشن کے پاس کریش سے متعلق جھوٹی رپورٹ درج کروائی تھی کہ ٹیک آف کے 35 منٹ بعد جہاز کی پاور سپلائی بند ہوگئی اور انجن بے آواز ہو گیا جس کے بعد کوئی سیف لینڈنگ اسپیس نظر نہ آنے پراس نے جہاز سے کودنے کا فیصلہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیکب نے جس جرم کا اعتراف کیا ہے اس کیلئے انہیں کم از کم 20 سال کی سزا ہو سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    ٹریور جیکب کے یوٹیوب چینل پر جنوبی کیلیفورنیا کی فضاؤں میں پرواز کے دوران انجن کی خرابی کے باعث جہاز کریش کی’I crashed my airplane‘ کے نام سے جاری ہونے والی ویڈیو کو 30 لاکھ سے زائد افراد نے دیکھا تھا۔ ڈرامائی ویڈیو میں فضا میں پرواز کے دوران انجن کی اچانک خرابی کے باعث ٹریور اپنی سیلفی اسٹک ہاتھ میں تھامے پیراشوٹ کے ذریعے کیلیفورنیا کے جنگلات کے اوپر جہاز سو کودتے دکھایا گیا تھا۔

  • یوٹیوب پر 75 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعوی کرنیوالے شہری کو خود جرمانہ دینا پڑ گیا

    یوٹیوب پر 75 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعوی کرنیوالے شہری کو خود جرمانہ دینا پڑ گیا

    بھارتی سپریم کورٹ نے یوٹیوب پر 75 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعوی کرنے والے پر 1 لاکھ کا جرمانہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی عدالت میں ریاست مدھیہ پردیش نوجوان نے درخواست دی تھی کہ یوٹیوب پر آنے والے اشتہارات سے ان کا دھیان بٹ جاتا تھا اور اسی وجہ سے وہ مقابلےکے امتحان پاس نہیں کرسکے تاہم اس درخواست کو عدالت نے کو ’بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا-

    بنگلا دیش: اپوزیشن نے حکومت سے مستعفی ہوکر نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کردیا

    جسٹس ایس کے کول اور اے ایس اوکا کی بنچ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ آپ ہرجانہ چاہتے ہیں کیونکہ آپ نے انٹرنیٹ پر اشتہارات دیکھے تھے، اور آپ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے آپ کی توجہ ہٹ گئی تھی، اور آپ امتحان پاس نہیں کر سکے؟۔

    بنچ نے مشاہدہ کیا کہ “یہ آرٹیکل 32 (آئین) کے تحت دائر کی گئی سب سے ظالمانہ درخواستوں میں سے ایک ہے۔” “اس قسم کی درخواستیں عدالتی وقت کا سراسر ضیاع ہیں”۔

    درخواست گزار نے اپنے درخواست میں سوشل میڈیا پر عریانیت پر پابندی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ جس پر عدالتی بنچ نے کہا کہ اگر آپ کو اشتہارات پسند نہیں ہیں تو انہیں نہ دیکھیں۔

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں شاپنگ سینٹر میں خوفناک آتشزدگی

    بنچ نے کہا کہ درخواست گزار نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امتحان کی تیاری کر رہا تھا اور یوٹیوب کو سبسکرائب کیا، جہاں اس نے مبینہ جنسی مواد پر مشتمل اشتہارات دیکھے۔

    بنچ نے کہا کہ اگر آپ کو کوئی اشتہار پسند نہیں ہے، تو اسے نہ دیکھیں،” بنچ نے مزید کہا، “اس نے اشتہارات دیکھنے کا انتخاب کیوں کیا اس کا اختیار ہے-

    عدالت کا وقت ضائع کرنے پر شہری پر ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا لیکن درخواست گزار کی جانب سے جرمانہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو عدالت نے اسے 25 ہزار روپے ادا کرنے کا کہا۔

    درخواست گزار نے یہ بھی کہا کہ وہ بے روزگار ہے۔

    برطانیہ نے دنیا بھر کے درجن سے زائد کرپٹ سیاست دانوں پر پابندی لگادی

  • فیروز خان اپنے یوٹیوب چینل پر متحرک ہو گئے

    فیروز خان اپنے یوٹیوب چینل پر متحرک ہو گئے

    اپنی سابقہ اہلیہ پر تشدد کے الزامات میں گھرے اور شدید تنقید کی زد میں آئے اداکار فیروز خان نے اپنا یوٹیوب چینل بنا لیا ہے اور یہ چینل انہوں نے جب بنایا اس کا اعلان بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ اب وہ اس چینل پر مسلسل نظر اتے رہیں گے. اب فیروز خان اپنے یوٹوب چینل پر متحرک ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنے پہلا میوزک ٹریک اس پر شئیر کیا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنا وی لاگ بہت جلد شئیر کریں گے،. فیروز خان کے مداح اس اعلان سے کافی خوش ہیں دوسرے طرف فیروز خان پر شدید تنقید بھی ہورہی ہے کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اب آپ کو کام تو ملنا نہیں ہے یہی کچھ کریں گے اور جو بھی کرتے رہیں ، ہم آپ کو دیکھنے میں دلچپسی نہیں رکھتے. اطلاعات کے مطابق فیروز خان یوٹیوب چینل

    پر اس لئے بھی زیادہ متحرک ہو رہے ہیں تاکہ وہ شوبز کی دنیا میں زندہ رہیں اور لوگوں کو نظر آتے رہیں کیونکہ جب سے ان پر گھریلو تشدد کے الزامات لگے ہیں ان کے ہاتھ سے بہت سارے پراجیکٹس چلے گئے ہیں. نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بہت ساری ہیروئنز نے فیروز خان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا ہے.

  • بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    لاہور:بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے،اطلاعات کے مطابق بھارت نے ‘انڈیا مخالف مواد’ نشر کرنے پر ملک میں ایک پاکستانی یوٹیوب چینل سمیت 8 چینلز تک رسائی بلاک کروا دی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال دسمبر سے اب تک بھارتی حکومت 102 یوٹیوب چینلز کی رسائی بھارت میں بلاک کرواچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلاک ہونے والے یوٹیوب چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 86 لاکھ سے زائد تھی اور ان پر موجود مواد پر 114 کروڑ ویوز بھی موجود تھے۔بھارت کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ یوٹیوب چینلز ملک میں ‘جھوٹے دعوؤں کے ذریعے مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت پھیلارہے تھے’۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ چینلز ‘فیک نیوز’ پھیلارہے تھے کہ بھارتی حکومت ملک میں مذہبی مقامات گرارہی ہے اور مذہبی تہوارات پر پابندیاں لگارہی ہے۔بھارت میں بلاک ہونیوالے پاکستانی یوٹیوب چینل کا نام ‘نیوز کی دنیا’ ہے جس کے سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔

    خیال رہے بھارتی حکومت نے رواں سال اپریل میں بھی 22 یوٹیوب چینلز بلاک کروائے تھے، جن میں سے 4 پاکستانی چینلز شامل تھے۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی بھارت میں مذہبی آزادی کیخلاف اقدامات کی بھرپور کوریج کرتا ہے، ہندو انتہاء پسندی سے سب سے زیادہ مسلمان اور عیسائی متاثر ہورہے ہیں۔

  • یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    یوٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح:امریکی نوجوانوں کی ترجیحات بدل گئیں

    وا شنگٹن:امریکی نوجوانوں نے فیس بک کو چھوڑ دیا، یو ٹیوب اور ٹک ٹاک پہلی ترجیح۔ فیس بک اب صرف بوڑھوں میں مقبول ہے، پیو ریسرچ کا تازہ ترین سروے سامنے آگیا۔

    امریکا کے معروف تحقیقاتی ادارے پیوریسرچ سنٹرکے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق امریکی نوعمرشہریوں نے گذشتہ سات سال کے دوران میں فیس بُک کا استعمال ترک کردیاہے اوروہ اب ویڈیو شیئرنگ ایپس یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو ترجیح دے رہے ہیں۔

    پیو کا یہ ڈیٹا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیس بک کی مالک کمپنی میٹا ٹک ٹاک کے مقابلے میں اربوں ڈالرکے اشتہاری کاروبار کھو چکی ہے ،سروے میں شامل قریباً95 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ یوٹیوب استعمال کرتے ہیں جبکہ 67 فی صد کا کہنا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے صارفین ہیں۔

    فیس بک کی جانب سے جعلی تبصروں کے خلاف کریک داؤن،

    سروے میں شامل صرف 32 فی صد نوعمروں نے کہا کہ وہ فیس بک پرلاگ اِن کرتے ہیں ۔محققین نے بتایا کہ قریباً 62 فی صد نوعمرافراد نے کہا کہ وہ انسٹاگرام استعمال کرتے ہیں جو فیس بک کی مادرکمپنی میٹا ہی کی ملکیت ہے جبکہ 59 فی صد نے کہا کہ وہ سنیپ چیٹ استعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    میٹا کے لیے تھوڑی سی اچھی خبر یہ ہے کہ اس کی تصاویراورویڈیو شیئرنگ کی سروس انسٹاگرام امریکی نوعمروں میں 2014-2015 کے سروے کے مقابلے میں زیادہ مقبول پائی گئی ۔سروے میں شامل ایک چوتھائی سے بھی کم نوعمرافراد نے کہا کہ وہ ٹویٹرکبھی کبھاراستعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک پڑھ کر لڑنا شروع کردیں تو یہاں نظام ہی نہیں چل سکتا،عدالت

    اس مطالعہ میں اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ غیرمعمولی مبصرین کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ95 فی صد امریکی نوعمر افراد کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسمارٹ فون ہیں۔نیزان میں سے زیادہ ترکے پاس ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ کمپیوٹرہیں۔محققین نے یہ بات بھی نوٹ کی کہ سات سال قبل کے سروے کے نتائج کے مقابلے میں مستقل طور پر آن لائن رہنے والے نوعمربچّوں کی تعداد قریباً دُگنا ہوکر 46 فی صد ہوگئی ہے۔پیو کے مطابق یہ رپورٹ 1316 امریکی نوعمرلڑکے لڑکیوں کے سروے پرمبنی تھی۔ان کی عمریں 13 سال سے 17 سال تک تھیں۔

  • سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب کا یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ

    سعودی عرب نے یوٹیوب سے غیراخلاقی اشتہارات ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :”العربیہ” کے مطابق ویڈیو شیئرنگ سائٹ ’یوٹیوب‘ پرغیراخلاقی نوعیت کے اشتہارات کے بارے میں بہت سی شکایات سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں آڈیو ویژول میڈیا اتھارٹی اور کمیونیکیشن کمیشن نے یوٹیوب پلیٹ فارم سے ان اشتہارات کو ہٹانے اور ضوابط کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود

    ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ دیکھا گیا ہے کہ یوٹیوب پلیٹ فارم نے ملک کے اندر اپنے صارفین کو ہدایت کردہ اشتہارات دکھائے، جن کی نشریات میں اسلامی اور معاشرتی اقدار اور اصولوں سے متصادم اور میڈیا مواد کی خلاف ورزی پر مبنی مواد شامل تھا۔

    آڈیو ویژول میڈیا کمیشن اور کمیونیکیشنز اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیشن نے پلیٹ فارم سے درخواست کی کہ وہ ان متنازعہ اشتہارات ہٹائے اور ضوابط کی پابندی کرے۔

    تیس سال کویت کی سفارتی خدمات انجام دینے والے سفیر کیلئے برطانیہ کا بڑا اعزاز

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے ادارے یوٹیوب پر چلائے جانے والے اشتہارات کو مانیٹر کریں گے توقع ہے کہ یوٹیوب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے غیراخلاقی اور ذوق عام کے خلاف اشتہارات کے مواد کو ہٹانے میں تاخیر نہیں کرے گا۔

    بھارتی، بھارت سے اکتانے لگے،4 لاکھ باشندوں نے شہریت چھوڑ دی

  • مختصر فلم  "XXL” یو ٹیوب چینل پر ریلیز

    مختصر فلم "XXL” یو ٹیوب چینل پر ریلیز

    ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فار م سی پرائم کی مختصر فلم "XXL” یو ٹیوب چینل پر ریلیز کر دی گئی ہے. قدسیہ علی اور سلمیٰ حسن نے اس میں اہم کردار ادا کیے ہیں جبکہ ہدایتکاری دانش بہلم کی ہیں۔مختصر اس فلم کی کہانی کار فاطمہ فیضان ہیں۔ کہانی ایک نوعمر لڑکی کے گرد گھومتی ہیں جس کا وزن اس عمر کی اوسط لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے جس کے سبب اس کی ذہنی صحت متاثر ہورہی ہے۔ اس کی ماں ا س کو وزن کم کرنے پر زور دیتی ہے۔

    سی پرائم کی ایگزیکٹیوپروڈیوسرسیمیں نوید اس فلم کے بارے میں کہتی ہیں کہ "طویل عرصے سے ہمارے معاشرے میں انسانوں کے طور طریقوں اور رویّوں کو دیکھ کر شرم محسوس ہوتی ہے کہ ان میں عدم برداشت اور ایک دوسرے کا خیال نہ کرنا اور خواتین اور مردوں میں خاص ردعمل اور اظہار سے متعلق خاموش توقعات رکھنا عام ہے۔تاہم یہ آئیڈیلزانسان کی ذہنی صحت پر انتہائی حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس پروڈکشن کا مقصد اس بدسلوکی کے رویّوں کواجاگر کرنا ہے جوانسانوں کے اندازکیلئے قابل شرم ہیں جس پروہ خود کوبزور معاشرے کے آئیڈیلز میں شمارکرتے ہیں اور اس کے ممکنہ نتائج کو سامنے لانا ہے۔سی پرائم کی تمام مختصر پروڈکشنزکی طرح ہم ایسا مواد پیش کرنے کیلئے پر امید ہیں جو ہمارے معاشرے میں ایک تحریک اور ایک مثبت تبدیلی کا باعث ہو۔”

  • یوٹیوب نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرمختصرفلم پرپابندی لگادی

    یوٹیوب نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرمختصرفلم پرپابندی لگادی

    لاہور:یوٹیوب نے بھارت میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والی مختصر فلم پر پابندی لگا دی ہے۔

    آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے اپنے عمل کو جاری رکھتے ہوئے بھارتی حکومت نے یوٹیوب کو بھارت میں 9 منٹ سے زائد کی مختصر فلم کشمیر کے لیے ترانہ پر پابندی لگانے پر آمادہ کیا ہے جس میں بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کو اجاگر کیا گیا تھا۔

    یہ فلم ایوارڈ یافتہ دستاویزی فلم ساز آنند پٹوردھن، سندیپ رویندر ناتھ اور کرناٹک گلوکار ٹی ایم کرشنا کی جانب سے بنائی گئی ہے، مختصر فلم 12 مئی کو ریلیز ہوئی تھی، یہ یکم مئی کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کے ایک ہزار دن کے موقع پر تھی، جب مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

    بھارتی حکومت کی قانونی شکایت کے بعد ویڈیو سٹریمنگ پلیٹ فارم نے ہندوستان میں ناظرین کے لیے مختصر فلم کو بلاک کردیا ہے۔

    یوٹیوب لیگل سپورٹ ٹیم کی جانب سے سندیپ رویندر ناتھ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے ویڈیو کو بلاک کرنے کا نوٹس موصول ہوا ہے، یوٹیوب کے خط میں بھارتی حکومت کی طرف سے بات چیت کا اشتراک کرنے میں اپنی نااہلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نوٹس خود ہی خفیہ ہے۔

     

    بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندیپ نے کہا کہ انہیں یہ بات ظلم کے مترادف لگی کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست چند منٹوں کی ویڈیو کلپس اور قلم کی طاقت سے ڈرتی ہے، میڈیا پرسنز، دانشوروں کے خلاف حالیہ حکومتی کریک ڈاؤن کا ایک نمونہ ہے، بنیادی مقصد ان آوازوں کو خاموش کرنا ہے جو سیاست، پالیسی سازی، گورننس اور بنیادی طور پر ریاست کے ڈھانچے اور اخلاقیات سے متعلق اہم مسائل پر یکطرفہ گفتگو پر سوال اٹھاتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کشمیر میں پابندیوں نے انہیں وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تاریخ رقم کرنے کی ترغیب دی۔

    سندیپ رویندر ناتھ نے کہا کہ مقصد اور محرک یہ تھا کہ آج کے کشمیر کی سچائی کو بھی پیش کرنے کی کوشش کی جائے۔

    فیڈریشن آف فلم سوسائٹیز آف انڈیا (FFSI) کیرالہ ریجن نے مختصر فلم پر پابندی کی مذمت کی ہے۔

    ایف ایف ایس آئی کے صدر چیلاور وینو نے ایک بھارتی اخبار کے حوالے سے بتایا کہ فلم کشمیر کی حقیقی حیثیت کے بارے میں ایک راستہ دکھاتی ہے، یہ فلم کشمیر کے سرحدی دیہاتوں کی خاموش چیخوں کی تصویر کشی کرتی ہے جہاں آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ نافذ ہے۔

    مختصر فلم میں جبری گمشدگیوں اور فوجی جبر سے متعلق حوالہ جات ہیں اور اس کے ساتھ ایک تامل احتجاجی راک ٹریک بھی ہے، فلم کے ذریعے فلمساز نے کشمیر فائلز جیسی فلموں کی مقبولیت سے متصادم ہونے کی کوشش کی، جسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کو ولن بنانے کی کوشش کے لیے بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔