Baaghi TV

Tag: baaghitv

  • حسن علی بھارتی لڑکی سےکب شادی کریں گے ؟

    حسن علی بھارتی لڑکی سےکب شادی کریں گے ؟

    چند روز سے میڈیا پر خبریں چل رہیں تھیں کہ حسن علی بھارتی لڑکی شامعہ آرزو کیساتھ دبئی میں شادی کریں گے اور اگست میں شادی قرار پائے جانے کا امکان ہے، آج حسن علی نے گوجرانوالہ میں پریس کانفرنس کی اور اپنی شادی کی خبر کی تصدیق کر دی
    حسن علی نے میڈیا کو بتایا کہ بھارتی لڑکی سے شادی کر رہا ہوں تقریب نکاح 20 اگست کو دبئی میں ہو گا تقریب میں دوست اور اہل خانہ شرکت کریں گے، حسن علی نے میڈیا پر چلنے والی خبروں میں اپنی دلہن کا نام درست کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا نام شامعہ نہیں سامعہ ہے، حسن علی نے مزید بتایا کہ سامعہ سے میری پہلی ملاقات دبئی میں ہوئی اور میں نے سامعہ کو پسند کیا، اور پھر عطا بھائی، والدہ اور والد سے بات ہوئی اور انہوں نے بھی ہاں کہہ دی

  • ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کر دیا

    ٹرک ڈرائیور کی بیٹی نے پنجاب یونیورسٹی میں ٹاپ کر دیا

    چکوال کی تحصیل تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والی نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں بی ایس سی کے امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور ثابت کردیا کہ دنیا میں محنت،شوق اور مستقل مزاجی کا کوئی نمل بدل نہیں اور اگر کوئی شخص ان خصوصیات کو اپنی شخصیت میں ڈھال لے تو کامیابی اس کے قدم ضرور چومتی ہے، نوشابہ نے پنجاب یونیورسٹی سے الحاق شدہ وی آئی پی گرلز ڈگری کالج سے بی ایس سی کی تعلیم حاصل کی اور اول پوزیشن حاصل کی،
    تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی نے بروز منگل بی اے اور بی ایس سی کے نتائج کا اعلان کیا اور ٹاپ کرنے والی لڑکی نوشابہ نے 800 میں سے 714 نمبر حاصل کیے جو کہ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کے بی ایس سی میں حاسل کیے جانے والے سب سے زیادہ نمبر ہیں

  • 42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    42 ارب ڈالر کا مالک آج در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے…

    دنیا تغیرات کی آماجگاہ ہے ، یہاں پر ہر روز ایسی ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے،ایک انسان اگرآج عروج کی بلندیوں کو چھو رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ کل وہ گلی گلی کی خاک چھان رہا ہو،عروج سے زوال تک کے سفر پر کئی انسانوں کی زندگیاں محیط ہیں کہ جنہوں نے پیسہ،نام اور شہرت بے پناہ کمایا اور پھر زوال کی طرف چلے گئے

    Dhirubhai Ambani , Father of Anil and Mukesh Ambani

    ایک ایسی ہی کہانی انڈیا کے ایک ارب پتی انیل امبانی کی ہے،انیل کا باپ دھیروبھائی امبانی ایک بڑا کاروباری شخص تھا جس نے ریلائنس ٹیلی کام اور ریلائنس گروپ کی بنیاد رکھی اور ریلائنس کو ایک بڑا کاروباری گروپ بنا دیا، دھیروبھائی امبانی کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مکیش امبانی اور دوسرا انیل امبانی تھا، دھیرو بھائی امبانی 2002 میں دنیا سے چل بسا، اور اپنی جائداد دونوں بیٹوں میں تقسیم کرگیا، ریلائنس ٹیلی کام کمپنی، ٹی وی چینل اور پروڈکشن انیل امبانی کو دے دیا گیا، جبکہ آئل اینڈ گیس کمپنی، کنسٹرکشن کمپنی ، اور ایلائنس پیٹرو کیمیکلز کا نیا مالک مکیش امبانی کو بنا دیا گیا، 2004 میں انیل امبانی نے ریلائنس کیپیٹل،ریلائنس انرجی اور ریلائنس نیچرل ریسورسز کو بھی اپنے گروپ میں شامل کرلیا،

    انیل نے اپنے کاروبار کو مزید ترقی دینے کیلئے 2005 میں ادلب موویز پروڈکشن گروپ کو بھی خرید لیا، 2008 میں انیل نے امریکن پروڈیوسر سٹیون سپائل برگ کے پرودکشن ہاؤس ڈریم ورکس کےساتھ 1.2 ارب ڈالر کا معاہدہ کرلیا، انیل کی کوشش تھی کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی مکیش امبانی سے ہمیشہ ہر لحاظ سے اوپر رہے اور وہ اس کوشش میں کامیاب بھی ہوا جب 2008 کی فوربز رپورٹ کے مطابق انیل امبانی کے کل اثاثے 42 ارب ڈالر سے اوپر ہو چکے تھےاور اس وقت انیل مبانی اپنے کاروبار کے عروج پر تھا اور ہندوستان کا سب سے امیر ترین شخص بن چکا تھا

    Mukesh Ambani

    لیکن پھر سال 2014 آیا اور انیل امبانی کے کاروبار کا زوال شروع ہوا، انیل کی پاور اینڈ انرجی بنانے والی کمپنیوں نے بجلی کی کھپت کو پورا کرنے کیلئے بینکوں سے بڑا قرض لیا ، لیکن ان کمپنیوں کے بنائے ہوئے منصوبے کیمطابق پاور پلانٹ بجلی پیدا نہ کرسکے اور انیل کی پاور اینڈ انرجی سیکٹر کی کمپنیاں گھاٹےمیں چلی گئیں، اس کے بعد بینک سے لیے ہوئے قرض کو واپس کرنے کا وقت آیا تو کاروبار اس قابل نہ تھا کہ قرض دے پاتا، اس صورت میں انیل نے ریلائنس انرجی اور ریلائنس پاور کو بیچ دیا،

    لیکن انیل امبانی کے کاروبار کو بڑا دھچکہ اس کے اپنے گھر سے ہی ملا جب مکیش امبانی نے2016 میں ٹیلی کام کمپنی جیو کو لانچ کردیا اور اس سے انیل امبانی کے رہی سہی منافع بخش کمپنیوں ائرٹیل،آئیڈیا اور ووڈا فون کا کاروبار بھی ٹھپ کردیا، فروری 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے انیل کو حکم جاری کیا کہ اگر آپ نے سویڈش کمپنی ایریکسن کے 550 کروڑ بھارتی روپے واپس نہ لٹائے تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جائے گا ، خوش قسمتی سے اس معاملے میں مکیش نے انیل کی مدد کی اور اس کا قرض خود ادا کیا، لیکن انیل امبانی کی مشکلات ابھی بھی حتم نہیں ہوئیں ، انیل مبانی نے ابھی مزید 1.7 لاکھ کروڑ بھارتی روپے کے قرض ادا کرنے ہیں
    انیل امبانی کی اس وقت کل ملکیت صرف 50 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے جو کہ 2008 میں 42 ارب ڈالر تھی، اور اس وقت انیل کا چھوٹا بھائی مکیش امبانی انڈیا کا سب سے امیرترین شخص ہے جس کے کل اثاثے 52 ارب ڈالر ہیں اور مکیش امبانی صرف ممبئی والا گھر انیل امبانی کی کل ملکیت سے زیادہ مہنگا ہے

  • بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    بھارتی آبی دہشتگردی سے بھاری زمین کٹاؤ ، ذمہ دار ورلڈبینک ۔۔۔ انشال راؤ

    مردم شماری 2017 کے مطابق پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی دیہی ہے جن کا زریعہ معاش براہ راست یا بالراست زراعت سے وابستہ ہے اس کے علاوہ شہری آبادی کا بھی زراعت سے گہرا تعلق ہے پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، زراعت شماری 2010 کے مطابق پاکستان کی تقریباً سات کروڑ ایکڑ سے زائد اراضی قابل کاشت ہے جس میں سے تقریباً چار کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ آباد اور تقریباً تین کروڑ ایکڑ رقبہ پانی کی قلّت و دیگر وجوہ کی بنا پر غیرآباد ہے، پاکستان کی زراعت کا انحصار تین مغربی دریا سندھ، چناب، جہلم پر ہے جن کے منبع مقبوضہ کشمیر میں ہیں، جنت ارضی جموں و کشمیر تاریخی و جغرافیائی، مذہبی و ثقافتی جملہ اعتبار سے پاکستان کا جزولاینفک ہے اور آبی اعتبار کے نقطہ نظر سے پاکستان کی شہ رگ ہے جو تقسیم ہند کے بنیادی اصول یعنی مسلم اکثریت والے علاقے پاکستان میں شامل ہونگے کے مطابق قطعی طور پر پاکستان کا حصہ بنتے تھے مگر قادیانیت کی سازش سے بھارت نے غاصبانہ قبضہ کرلیا جس کے خلاف کشمیر کے مسلمانوں نے علم جہاد بلند کیا جن پاکستانی مسلمانوں نے دل و جان سے مدد کی، مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت میں کئی بار خونریز جنگیں ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک میں شروع سے ہی پانی پر تنازعہ کھڑا ہوا جوکہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ایک معاہدے کے تحت حل ہوا جس کے تحت تین مغربی دریا راوی، ستلج، بیاس پر بھارت اور سندھ، چناب، جہلم پر پاکستان کا حق طے پایا مگر بعد میں اس معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوے بھارت نے پاکستانی دریاوں پر کنٹرول کرنا شروع کردیا اور کھلم کھلا آبی دہشتگردی کررہا ہے اس ضمن میں بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوے پاکستانی دریاوں پر بڑے پیمانے پر ڈیم بنارہا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی 1970 کی خلاف ورزی کرتے ہوے ستلج، بیاس، راوی کا پانی روک رہا ہے اس عالمی معاہدے کے مطابق کسی بھی دریا کے زیریں حصے کا سو فیصد پانی نہیں روکا جاسکتا، بھارت سازش کے تحت بارشوں کے موسم میں ایک ساتھ پانی چھوڑ کر سیلابی صورتحال پیدا کردیتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو لاکھوں ایکڑ زراعت و دیگر مالی جانک نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور لاکھوں افراد متاثر ہوتے ہیں، عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کا زمہ دار عالمی بینک بھی ہے جو بھارت کو پاکستانی دریاوں پر ڈیم بنانے کی اجازت دے رہا ہے جسکے پاکستان پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں ہیں، جن میں صحت کے مسائل، سمندری حیات کو نقصان، جنگلات کی کمی، صحرازدگی، بڑے پیمانے پہ زمینی کٹاو، معاشی و جانی نقصان اور دیگر ماحولیاتی مسائل سرفہرست ہیں، بھارت صنعتوں کا زہریلا پانی اور زہریلے کیمیکل پاکستان میں ایک سازش کے تحت پانی میں چھوڑ کر بڑے پیمانے پر انسانی نسل کشی کا مرتکب ہے اور بھارتی ڈیمز کی تعمیر کے باعث چناب، جہلم اور سندھ جوکہ Meandering دریا ہیں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں جس سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کی تباہی ہوچکی ہے لاکھوں ایکڑ جنگلات ختم ہوچکے ہیں، کئی لاکھ خاندان متاثر ہوکر زریعہ معاش سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، دریائے زرد چین پر Sanmenxia Dam کی تعمیر کے باعث 1961 سے 1964 کے درمیان بڑے پیمانے پر Bank Erosion ہوا اور دوسری بار Xiaolangdi Dam کی تکمیل کے باعث 1998 سے 2004 کے درمیان بھاری زمینی کٹاو کا سامنا کرنا پڑا، دریائے ڈینیوب یورپ کا تاریخی و مشہور دریا ہے جسے ہنگری نے navigational اور سیلابی کنٹرول کے مقاصد کے حصول کے تحت modify کیا جس کے نتیجے میں بلغاریہ، سربیا وغیرہ کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، دریائے نیل نے انسانی سرگرمیوں کے زیر اثر مصر میں خوب تباہی مچائی، ان نقصانات کے پیش نظر یورپی ممالک سمیت عالمی سطح پر اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ دریاوں کے قدرتی بہاو کو زیادہ نہ چھیڑا جائے اور دوبارہ بحال کیا جائے جبکہ بھارت وہ ملک ہے جس کے دریا پہ کنٹرول کے خواب کے باعث پاکستان میں بڑے پیمانے پر لوگ اپنی زرعی اراضی سے محروم ہورہے ہیں دریائے سندھ نے گھوٹکی، راجن پور، مظفر گڑھ کلور کوٹ جھنگ اور دیگر بہت سے اضلاع میں بڑے پیمانے پر زمینی کٹاو کیا ہے، دریائے جہلم اور چناب آج کل وسیع پیمانے پر زمینی کٹاو کررہے ہیں، ملتان ڈویژن کے علاقوں میں لوگ اپنی بےبسی پر رورہے ہیں کیونکہ چناب نے ہزاروں ایکڑ رقبہ کا کٹاو کردیا ہے جوکہ بھارتی آبی دہشتگردی کے باعث ہورہا ہے، نتیجتاً لاکھوں افراد کا زریعہ معاش ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بھاری غذائی و زرعی نقصان بھی ہوا ہے، اب سے پہلے پاکستان کے پالیسی سازوں اور حکومتوں نے سنگین غفلت اور غیرزمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے پاکستان کو نہ صرف پانی کی کمی کا سامنا ہے بلکہ ہر سال بھاری نقصان بھی برداشت کرنا پڑ رہا ہے، موجودہ حکومت کو پہلی فرصت میں سنجیدگی کے ساتھ بھارتی دہشتگردی اور ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی دنیا کے سامنے رکھنی چاہئے، تمام متعلقہ تنظیموں کو رپورٹس دینی چاہئے اور ان کے اشتراک سے یا عالمی ماہرین کو طلب کرکے بھارتی دہشتگردی کو دنیا کے سامنے رکھنا چاہئے، ورلڈ بینک کی طرف سے بھارت کو ڈیمز کی تعمیر کی اجازت جوکہ میرٹ اور معاہدے کی خلاف ورزی ہے صرف لابنگ کی بنیاد پہ دی گئی، اس سازشی اجازت کو عالمی عدالت میں فوری طور پہ چیلنج کرکے ورلڈبینک کو بھی گھسیٹے اور ہرجانے کا دعویٰ دائر کرے، عالمی سطح پر مہم چلا کر بھارتی دہشتگردی کو بےنقاب کرے جو آگے چل کر خونریز جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔

  • امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں بڑا اضافہ…

    امریکی پابندیوں کے باوجود ہواوے کی آمدن میں بڑا اضافہ…

    شنگھائی: چینی کمپنی ہواوے نے کہا ہے کہ امریکہ کی پابندیوں کے بوجود ہواوے ٹیکنالوجی کمپنی کی آمدن میں 23.2 فیصد اضافہ ہوا ہے اور پچھلے سال کی نسبت اس سال کے پہلی سہ ماہی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، اور یہ اضافہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ امریکہ نے ہواوے پر شدید قسم کی پابندیاں عائد کی اور پوری دنیا میں اس مہم کو پھیلایا گیا کہ ہواوے کا گوگل اور گوگل پراڈکٹس کیساتھ معاہدہ حتم ہوگیا ہے اور ہواوے کے صارف اب ان کے استعمال اور فوائد حاصل نہیں کرسکیں گے، اگلی اثناء میں امریکہ اور چائنہ کے درمیان پھر نیا تجارتی معاہدہ طے پاگیا ، اورسارا معاملہ رفع دفع ہوگیا
    لیکن ایسا تصور کیا جا رہا تھا کہ ہواوے ٹیکنالوجی کی جگہ عالمی مکارکیٹ میں حتم ہو جائے گی لیکن ہواوے نے یہ ثابت کیا ہے وہ ایک گلوبل ٹیک جائنٹ بن چکا ہے اور اس کی مارکیٹ حتم کرنا تقریبا ناممکن ہے

  • ٹک ٹاک کمپنی کے مالک کا بڑا فیصلہ …

    ٹک ٹاک کمپنی کے مالک کا بڑا فیصلہ …

    سوشل میڈیا پر تھوڑے عرصے میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کرنے والی ایپ ٹک ٹاک بنانے والی کمپنی بائٹ ڈانس کے مالک زینگ ایمنگ نے اعلان کیا ہے کہ بائٹ ڈانس اب ٹک ٹاک کے نام سے سمارٹ فون بنانے جا رہی ہے جو کہ پہلے سے موجود تمام سمارٹ فون کمپنیوں کے ریکارڈ توڑ دے گا اور مارکیٹ میں اپنا نام پیدا کرے گا،
    ٹک ٹاک کے موجودہ مستقل صارف 500 ملین سے زیادہ ہیں اور یہ سماجی رابطوں کی سائٹ ایپ سٹور سے ایک بلین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ ہو چکی ہے، ٹک ٹاک کی موجد کمپنی بائٹ ڈانس ٹک ٹاک علاوہ بھی کئی ایپلیکیشن بنا چکی ہے جن میں فلپ چیٹ، ٹوٹیو، نیوز ایگریگییٹر شامل ہیں، لیکن ٹک ٹاک اس کی سب سے مشہور پروڈکٹ ہے،
    اس سوشل ایپ نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کرنے کے ساتھ ساتھ پیسہ کمانے میں بھی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں ٹک ٹاک کی ابھی تک کی کمائی 75 ارب ڈالر ہے جو کہ مشہور ٹرانسپورٹ اوبر کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک اب اپنا سمارٹ فون متارف کروانےجا رہی ہے،

  • محمد عامر کی باؤلنگ میں پہلے جیسی سوئنگ نہیں رہی: محمد آصف

    محمد عامر کی باؤلنگ میں پہلے جیسی سوئنگ نہیں رہی: محمد آصف

    لاہور: پاکستان کرکٹ کے فاسٹ بولر محمد آصف نے کہا ہے عامر نےٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ دے کر جلدبازی کی ہے، کھلاڑیوں کا زیادہ تر رجحان ٹی ٹوینٹی کی جانب ہو رہا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وائٹ بال کرکٹ کے اس فارمیٹ میں ٹائم کم لگتا ہے اور پیسہ زیادہ ملتا ہے ، ٹی ٹوئنٹی میں آپ صرف 4 اوورز اچھے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس کے برعکس ٹیسٹ کرکٹ آپ کا زور پانچ دن تک مانگتی ہے،
    محمد آصف کا مزید کہنا تھا کہ عامر نے ورلڈ کپ میں اچھی باولنگ کی لیکن وہ اس سے بھی اچھی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اب محمد عامر نے ریٹائرمنٹ لے لی ہے تو نئے لڑکوں کو ضرور موقع ملنا چاہیے، ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ اس وقت مشکلات کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے باولنگ کرنے والا کوئی ایک بھی باولر نہیں،
    کپتانی کے سوال پر محمد آصف کا کہنا تھا کہ بورڈ کو تینوں فارمیٹوں کا سکواڈ اور کپتان الگ الگ رکھنا چاہیے تاکہ لڑکوں پر بوجھ نہ پڑے،

  • 1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    1999 کا چنئی ٹیسٹ میرے کیرئیر کا یادگار ٹیسٹ میچ تھا: وسیم اکرم

    لاہور: پی سی بی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک پول کے نتائج کے تحت 1999 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والا ٹیسٹ پاکستان کی ٹیسٹ کی تاریخ کا یادگار ترین ٹیسٹ قرار دے دیا گیا، اس پول کو پی سی بی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا جس میں 15847 ٹوئٹر صارفین نے حصہ ڈالا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کی چار مشہور ٹیسٹ کامیابیوں میں سے پسندیدہ پر ووٹ ڈالا

    11 فیصد شائقین کرکٹ نے 1954 میں اوول،انگلینڈ کی کامیابی کو بہترین قرار دیا، 15 فیصد شائقین کرکٹ نے 1987 میں بنگلور،انڈیا میں حاصل ہونے والی کامیابی کو ووٹ دیا، 10 فیصد شائقین کرکٹ نے 1994 میں کراچی میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ کو یادگار لمحہ قرار دیا، اور سب سے زیادہ یعنی 65 فیصد شائقین کرکٹ نے چنئی میں انڈیا کیخلاف حاصل کی جانے والی کامیابی کو یادگار قرار دیا
    اس پول کے انعقاد پر پاکستان کے سابق سٹار فاسٹ بولر وسیم اکرم نے کہا ہے کہ پریشر کے ہونے اور اس میں بہترین کھیل پیش کرنے کی سب سے اعلیٰ مثال چنئی ٹیسٹ ہے ، وسیم اکرم نے مزید کہا کہ میرا ووٹ بھی چنئی ٹیسٹ کیلئے ہی تھا
    پاکستان کرکٹ کے سٹار آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے کہا ہے مجھے اس بات پر فحر ہے کہ میں ایسی ٹیم کا حصہ رہا ہوں جو اپنے بل بوتے پر کسی بھی ٹیم کو کسی بھی لمحے میچ ہرانے کی قابلیت رکھتی تھی ،شاہد آفریدی نے مزید کہا ہے کہ اس میچ میں پرفارم
    کرنے کے بعد بڑی خوشی ہوئی تھی

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان کا کہنا ہے کہ 20 سال بعد بھی شائقین کرکٹ کا چنئی ٹیسٹ کو یادگار ترین ٹیسٹ قرار دینا اس بات کا ثبوت ہے یہ پاکستانی کھلاڑیوں کی انتھک محنت کے نتیجے سے حاصل ہونے والی کامیابی تھی ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کا قابل فخر ملک ہے اور ہم ٹیسٹ چیمپین شپ کی بہتری اور ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے