Baaghi TV

Tag: Facebook

  • صائمہ اکرم چوہدری نے رمضان پلیز لکھنے سے توبہ کر لی

    صائمہ اکرم چوہدری نے رمضان پلیز لکھنے سے توبہ کر لی

    معروف رائٹر صائمہ اکرم چوہدری جنہوں نے سنو چندا سے شہرت ھاصل کی ، اس کے بعد انہوں نے متعدد رمضان پلیز لکھے اور انہیں سراہا گیا. ان کے لکھے ہوئے پیٹرن پر ہر دوسرے رائٹر نے لکھنا شروع کر دیا جس کی وجہ رمضان پلیز یکسانیت کا شکار ہونے لگے. خصوصی طور پر اس بار کے رمضان پلیز نے تو شائقین کو بالکل بھی متاثر نہیں‌کیا اور اس بات کا اعتراف خود صائمہ اکرم چوہدری نے کر لیا ہے. انہوں نے کہا کہ میں اب رمضان پلیز نہیں‌لکھوں گی اور چند سال کا وقفہ لوں گی . ایک ہی طرح کی کہانیاں لکھی اور لکھوائی جا رہی ہیں جس کی وجہ

    سے شائقین نے اپنی دلچپسی رمضان پلیز میں کم کر لی ہے. صائمہ اکرم چوہدری نے کہا ہے کہ اس بار میں نے جو رمضان پلے لکھا ہے اس سمیت دیگر تمام رمضان پلیز نے شائقین کو شدید مایوس کیا ہے. لہذا میں نے چینل سے بھی معذرت کر لی ہے اور کہا ہے کہ مجھے اب رمضان پلے لکھنے کےلئے مت کہیے، صائمہ اکرم چوہدری نے مزید کہا کہ مجھے گھسا پٹا کام کرنے کی عادت نہیں ہے لہذا میں رمضان پلے لکھنے سے معذرت کررہی ہوں اور اب میں اپنی مرضی کے مطابق لکھوں گی لیکن ابھی فی الحال کچھ سال نہیں‌لکھوں گی.

  • درفشاں کسی کی تھیں دیوانی ؟‌

    درفشاں کسی کی تھیں دیوانی ؟‌

    اداکارہ ”درفشاں سلیم” جنہوں نے نہایت ہی کم وقت میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے ، انہوں نے ندا یاسر کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ کس کی تھیں دیوانی؟‌ درفشاں سلیم نے کہا ہے کہ میں عاطف اسلم کی بہت بڑی دیوانی تھی، ان کو بہت زیادہ پسند کرتی تھی، عاطف کو سننا میرا سب سے بڑا مشغلہ تھا. میری زندگی میں میں نے عاطف سے زیادہ کسی کو نہیں چاہا تھا. میں اے لیولز میں تھی جب مجھے عاطف اسلم سے ملنے کا موقع میسر آیا ، جب میں عاطف سے ملی تھی تو اس کے دو دن پہلے ان کی شادی ہوئی تھی ، اور میرے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا ، میں نے

    سوچا کہ کیوں عاطف کی شادی ہو گئی ہے اس کو تو میں پسند کرتی ہوں، میری بہن نے مجھ سے کہا کہ تمہیں اگر عاطف اسلم پسند تھا تو تم نے کبھی مجھ سے بھی یہ بات نہیں کی ، تمہیں کرنی چاہیے تھی لیکن اب تو عاطف کی شادی ہو چکی ہے اب کیا ہو سکتا ہے. یاد رہے کہ درفشاں اپنے منفرد کرداروں کی وجہ سے جانی جاتی ہیں. شائقین ان کی معصومیت اور اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں.

  • شاہ رخ خان کو اپنا نام ابھینیو کیوں رکھنا پڑا ؟‌

    شاہ رخ خان کو اپنا نام ابھینیو کیوں رکھنا پڑا ؟‌

    بالی وڈ کے کنگ کہلائے جانے والے شاہ رخ خان جب فلم انڈسٹری میں آئے تھے اس وقت وہ شادی کر چکے تھے. انہوں نے شادی اپنی پسند گوری سے کی تھی، گوری ہندو بیک گرائونڈ سے تھی جبکہ شاہ رخ خان مسلمان فیملی سے تھے. گوری خان نے اپنے ایک پرانے انٹرویو میں بتایا کہ جب میرے والدین کو پتہ چلا کہ شاہ رخ خان مسلم فیملی سے ہے اور فلم انڈسٹری جوائن کر چکا ہے تو ان کو اچھا نہیں لگا، گوری کہتی ہیں کہ چونکہ میں فیصلہ کر چکی تھی کہ شاہ رخ خان کے ساتھ ہی شادی کرنی ہے تو والدین نے بھی ہاں کر دی اور شاہ رخ خان نے میرے والدین کی

    آسانی کے لئے اپنا نام ابیھنیو رکھ لیا تاکہ وہ محسوس نہ کریں کہ میں مسلمان ہوں. گوری خان نے کہا کہ میں اب جب اس حرکت کے بارے میں سوچتی ہوں تو بہت عجیب اور بچگانہ ھرکت لگتی ہے. یاد رہے کہ شاہ رخ خان جب سے بالی وڈ میں آئے ہیں ان کا نام کسی بھی ہیروئین کے ساتھ نہیں جڑا ، وہ گوری خان سے بےپناہ محبت کرتے ہیں. شاہ رخ خان اور گوری خآن کے تین بچے ہیں دو بیٹے اور ایک بیٹی .

  • عید پر زیادہ فلمیں ریلیز کرنا اچھی چوائس نہیں فواد خان

    عید پر زیادہ فلمیں ریلیز کرنا اچھی چوائس نہیں فواد خان

    پاکستان اور انڈیا سمیت پوری دنیا میں شہرت رکھنے والے اداکار فواد خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ عید پر ایک ساتھ بہت ساری فلمیں ریلیز کرنا کسی طور بھی حوصلہ افزاء بات نہیں ہے. ایسا نہیں‌ہونا چاہیے ، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے ہاں ایسا کیوں ہوتا ہے. تمام پرڈیوسرز کو ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کرکے باری باری فلم ریلیز کرنی چاہیے. انہوں نے کہا کہ منی بیک گارنٹی ایک بہترین فلم ہے اور فلم میں وہ سب ہے جو شائقین دیکھنا چاہتے ہیں. فواد خان کی بات کو بڑھاتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھے منی بیک گارنٹی کے پرڈیوسر شایان خان نے کہا

    کہ ہم نے ستمبر 2020 میں منی بیک کو ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ عمارا حکمت اور بلال لاشاری فلم دا لیجنڈ آف مولا جٹ ریلیز کرنے جا رہے ہیں لہذا ہم نے اپنی فلم ریلیز کرنے کا آئیڈیا موخر کر دیا. ایسے ہی باقی پرڈیوسرز کو دیکھنا چاہیے کہ کون کس موقع پر فلم ریلیز کررہا ہے. انہوں نے کہا کہ منی بیک گارنٹی کو ہم عید الفطر پر ریلیز کرنے کے لئے انائونس کر چکے تھے ہم پیچھے نہیں‌ہٹ سکتے تھے لیکن جنہوں نے عین ٹائم پر یہ فیصلہ کیا وہ اپنی فلم کی نمائش آگے لیجا سکتے تھے.

  • انیل کپور کے والد جب ممبئی شفٹ ہوئے تو کس اداکار کے گیراج میں رہتے تھے؟‌

    انیل کپور کے والد جب ممبئی شفٹ ہوئے تو کس اداکار کے گیراج میں رہتے تھے؟‌

    بالی وڈ کے اداکار انیل کپور معروف فلم میکر سریندر کپور کے بیٹے ہیں ، اور سریندر کپور راج کپور کے والد پرتھوی راج کپور کے کزن تھے، کہا جا تا ہے کہ جب سریندر کپور کام کاج کی غرض سے ممبئی شفٹ ہوئے تو ان کے حالات بہت خراب تھے ان کے پاس رہنے کا جگہ نہ تھی نہ ہی اتنے پیسے تھے کہ کرایہ ادا کر سکیں، لہذا سریندر کپور کو ان کے کزن پرتھوی راج کپور نے پناہ دی. پرتھوی راج کپور نے ان کو اپنے گھر کے گیراج میں

    رکھا اور وہ وہاں تب تک رہے جب تک کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں آ گئے کہ وہ کسی فلیٹ میں‌شفٹ نہ ہوجائیں پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے پاس تھوڑے پیسے آئے تو انہوں نے مڈل کلاس علاقے میں ایک فلیٹ لیا اور وہاں پر شفٹ ہوئے. یاد رہے کہ سریندر کپور اور پرتھوی راج کپور نے اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر بالی وڈ میں ایسا نام اور مقام بنایا کہ جسے آج تک یاد رکھا جاتا ہے اور انکی نسلیں آج بھی بالی وڈ پر راج کررہی ہیں.

  • زارا نور عباس کس اداکارہ کی دیوانی؟

    زارا نور عباس کس اداکارہ کی دیوانی؟

    ٹی وی کی معروف اداکارہ زارا نور عباس جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کی بنیاد پر شوبز میں جگہ بنائی حالانکہ ان کی خالہ بشری انصاری اور والدہ اسماء عباس سمیت خاندان کے دیگر لوگ شوبز میں نام اور مقام رکھتے ہیں لیکن زارا نور عباس نے اپنے خاندان کا نام استعمال کرکے شہرت اور کام حاصل کرنے کی بجائے اپنے ٹیلنٹ سے ہر کسی کو اپنا گرویدہ کیا. زارا نور عباس کی اداکاری کے سب ہیں دیوانے لیکن وہ کس اداکارہ کی اداکاری کی ہیں دیوانی انہوں نے بتا دیا ہے. زارا نے کہا ہے کہ رمضان پلے ہیر دا ہیرو میں امر خان کی پرفارمنس حیران کر دینے والی ہے ، اس نے ثابت کر دیا ہے

    کہ وہ انڈسٹری کی بہترین اداکارہ ہیں، امر خان نے اپنے کردار کو جس طور نبھایا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان سے بہتر یہ کردار کوئی نہیں کر سکتا تھا. زارا نور عباس نے کہا کہ مجھے امر خان پر بہت زیادہ فخر ہے ، امید ہے کہ اداکارہ آئندہ بھی اسی طرح سے شائقین سمیت ہم سب کو محظوظ کرتی رہیں گی. یاد رہے کہ امر خان نے چھوٹی سکرین کے لئے پہلا پلے لکھا ہے جو کہ آج کل آن ائیر ہے ، اس ڈرامے میں وہ اور عمران اشرف مرکزی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں .

  • میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا سلمان خان

    میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا سلمان خان

    بالی وڈ‌ کے دبنگ سلمان خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں اپنی کسی بھی فلم میں بولڈ سین کرنا پسند نہیں کرتا. میرے تیس سالہ کیرئیر میں آپ کو میری کوئی ایسی فلم نہیں ملے گی جس میں کوئی ایسا سین ہو جس کو اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ نہ سکیں. سلمان خان نے بولڈ سین نہ کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں عورت کو کسی بھی غلط طریقے سے پیش کرنے کے حق میں نہیں ہوں اور نہ ہی میں اپنے مداحوں کو بگاڑنا چاہتا ہوں. سلمان خان نے کہا کہ کہانی اچھی ہونی چاہیے ، بولڈ سینز فلم کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہو سکتے. دبنگ خان نے

    کہا کہ میری فلم کسی کا بھائی کسی کی جان ایک الگ فلم ہو گی اس میں میرا کردار کافی ہٹ کر ہے. یاد رہے کہ سلمان خان کی فلم کسی کا بھائی کسی کی جان میں سلمان خان اداکارہ شویتا تیواری کی بیٹی اور بگ باس 13 کی کنٹیسٹنٹ شہناز گل کو متعارف کروا رہے ہیں جبکہ خود اپنے سے کئی برس چھوٹی اداکارہ پوجا ہیگڑے کے ساتھ نظر آرہے ہیں. فلم رواں برس ریلیز کی جائیگی ، فلم کا ٹریلر اور دو گانے ریلیز کر دئیے گئے ہیں .

  • فصیح باری خان نے کسے طنز کے تیر فلک شبیر پر

    فصیح باری خان نے کسے طنز کے تیر فلک شبیر پر

    سارا خان کے شوہر معروف گلوکار فلک شبیر سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں ، حال ہی میں‌ان سے کسی نے پوچھا کہ رمضان کے دوران بھی شوز کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ توبہ میں تو سوچتا بھی نہیں رمضان میں‌میوزک یا کنسرٹس کے بارے میں. فلک شبیر کے اس جواب پر معروف رائٹر فصیح خان نے کسے ہیں تیر کے طنز ، انہوں نے کہا کہ یہ شوبز کی ہی کمائی ہے جس کی برکت سے تم سارا مہینہ گھر بیٹھ کر کھاتے ہو، جس وقت شوبز کی کمائی سے جیبیں بھر رہے ہوتے ہو اس وقت دین یاد نہیں آتاد. مذہبی منافقت کی کیا بات. فصیح باری نے مزید یہ بھی

    کہا کہ دنیا بھر کی آسائشیں لینے کے بعد اسلامک ٹچ کے کیا کہنے. فصیح باری خان نے دراصل یہ سب کچھ فلک شبیر کو ان کی پوسٹ پر کمنٹ کرکے کہا، فصیح کی اس بات سے بہت سارے لوگوں نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ، شوبز کی کمائی سے ہی آج عیاشی کررہے ہیں اور اسی کو ہی ایک پل میں برا کہہ دیا اور دین یاد آگیا، جب شوبز سھے ہی کماتےہیںاس وقت دین یاد نہیں آتا. یوں فلک شبیر کو سوشل میڈیا پر لیا گیا آڑھے ہاتھوں.

  • میرا نام ہے محبت کی شوٹنگ کے دوران بابرا اور غلام محی الدین ہر ایموشنل سین کے بعد کیا کرتے تھے ؟

    میرا نام ہے محبت کی شوٹنگ کے دوران بابرا اور غلام محی الدین ہر ایموشنل سین کے بعد کیا کرتے تھے ؟

    سینئر اداکار غلام محی الدین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ کہا ہے کہ بابرا شریف بے حد حسین تھیں ، لیکن ان کے موڈ کا کبھی پتہ نہیں چلتا تھا ، کبھی وہ ہنسی مذاق کرتی رہتی تھیں اور کبھی وہ بہت ہی سنجیدہ ہوجاتی تھیں ، اور جب ان سے سنجیدہ یا ٍغصے میں ہونے کی وجہ پوچھتا تو کہتی جا دفعہ ہوجا.بابرا کا موڈ جیسا بھی ہوتا لیکن جیسے ہی کیمرہ آن ہوتا تو وہ سین میں انوالو ہوجاتیں ان کا موڈ کبھی بھی ان کے کام پر اثر انداز نہیں ہوا تھا. غلام محی الدین نے کہا کہ فلم کے جتنے بھی رونے والے سین ہیں وہ شوٹ کروانے کے بعد میں اور بابرا ہنسنے لگ جاتے تھے ،

    ہمیں ڈائریکٹر سے ڈانٹ پڑتی تھی ، ہم سنجیدہ ہوجاتے تھے ، اس کے بعد پھر رونے والا سین کرتے تو کٹ ہوتے ساتھ ہی ہنسنا شروع کر دیتے تھے، ڈائریکٹر کہتے تھے کہ تم لوگ سنجیدہ ہو کر جب تک کام نہیں کرو گے پبلک روئے گی کیسے؟غلام محی الدین نے کہا کہ اس فلم کے بہت سارے سین مشکل تھے ، ایک بہت مشکل جو سین تھا وہ یہ تھا کہ جب مجھے میری اہلیہ کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ وہ کینسر کی مریضہ ہیں ، یہ پتہ چلنے پر مجھے ری ایکشن ایسا دینا تھا کہ آڈینز رو پڑے . یہ کافی مشکل سین تھا میرے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا.

  • پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    پاکستانی ڈرامے کے بارے میں ثانیہ سعید کا بڑا بیان

    سینئر اداکارہ ثانیہ سعید جو کہ حقیقت کے قریب اداکاری کرنے کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، انہوں نے آج تک جتنے بھی کردار کئے ہیں ان میں انہوں نے کمال اداکاری کرکے شائقین کا دل موہ لیا ہے. ثانیہ سعید اپنی ذات میں اکیڈمی کی حیثیت رکھتی ہیں. انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی ڈرامے کا دنیا بھر میں مقابلہ نہ کل کیا جا سکتا تھا نہ آج کیا جا سکتا ہے. یہاں تک کہ انڈیا بھی ہمارے ڈراموں کا مقابلہ نہیں کر سکتا.انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈراموں نے آج تک اپنے کلچر اور روایات کو نہیں چھوڑا ، ہماری سٹوری لائن اتنی اچھی ہوتی ہے کہ ہر گزرتی

    قسط کے ساتھ اسکی دلچپسی بڑھتی جا تی ہے. ثانیہ سعید نے یہ بھی کہا کہ نئے آرٹسٹ بہت ہی باصلاحیت ہیں ان کی اداکاری رونگھٹے کھڑے کر دیتی ہے. میں تو حیران ہوں کہ نئے آرٹسٹ کیسے بغیر ٹریننگ کے اتنی اچھی اداکاری کر لیتے ہیں. میں تو نئے فنکاروں کے کام سے بہت متاثر ہوں ، یہاں تک کہ آج کل کے رائٹرز بھی بہت اچھا لکھ رہے ہیں. آج بھی ہمارا ڈرامہ پوری دنیا میں شوق سے دیکھا جاتا ہےآخر کوئی وجہ ہے تو ایسا ہے.