Baaghi TV

Tag: kashmir

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • بھارت نے کوئی حرکت کی تو انجام بہت برا ہو گی، پاکستان کی وارننگ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو للکارتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تواسے فوری طور پر مناسب جواب ملے گا۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.انہوں نے کہا کہ کورونا کےبعد پوری دنیا کو اس کی توقع تھی کہ بھارت کشمیر میں نرمی کرےگالیکن بد قسمتی سےایسا نہیں ہوابلکہ بھارت نے پاکستان کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. انہوں نے کہا کہ خطے میں بھارت ایڈ ونچر کرنا چاہتا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ امن کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے ہیں جب کہ بیرون ملک موجود ایک لاکھ 10 ہزار افراد واپس آنا چاہتے ہیں، باہر سے آنے والوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کی وطن واپسی سے قبل ہم قرنطینہ کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    عید کے بعد غزوہِ ہند سے متعلق خبر پر افغان طالبان کا آفیشل بیان آ گیا

    باغی ٹی وی کے مطابق افغان طالبان نے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھارت کے ساتھ جنگ والی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیک اکاؤنٹ‌سے خبر نشر کی گئ ہے . ہم اس بیان کی تردی کرتے ہوئے ہیں.واضح‌رہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی مبینہ ایک تویٹ کہاگیا تھا کہ مسلمان کی کافر سے دوستی ناممکن ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان طالبان سے منسوب عید کے بعد غزوہ ہند کے اعلان کا فیک پوسٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا . جسے ملک کے معروف صحافیوں ، عسکری تجزیہ نگاروں اور الیکٹرانک میڈیا سے شئر کی گیا. افغان طالبان کے ترجمان زبیج اللہ مجاہد نے اس پوسٹر کی تردید کرتے ہو کہا کہ ہے جس ٹویٹڑ اکاونٹ سے یہ پوسٹر شئر کیا گیا ہے وہ فیک اکاؤنٹ ہے تمام میڈیا کے ادارے نوٹ کر لیں

    کل طالبان سے منسوب ایک فیک پوسٹر میں یہ طالبان سے متعلق یہ بیان دیا گیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک امارات اسلامیہ کی ہندوستان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔ فتح کابل کے بعد ، امارات اسلامیہ نے کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے کو بھی فتح کرنا ہے ان شاء اللّٰہ۔ اس کے بعد ہندوستان کے دو انتخاب ہیں ، یا تو مکمل ہتھیار ڈالنا اور اسلام قبول کرنا یا غزوہِ ہند کا سامنا کریں۔

    افغان طالبان نے عیدالفطرکے بعد ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا اعلان کردیا

    جان اچکزئی کی ٹویٹ

    زید حامد کی ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261864387515744257?s=20

    زید حامد کی ایک اور ٹویٹ
    https://twitter.com/ZaidZamanHamid/status/1261854126432018433?s=20

  • انجینئر بننے کا خواب دیکھنے والا جوان جو مجاہدین کا کمانڈر بنا ، آج شہید ہو گیا، تحریر طہ منیب

    حزب المجاہدین کے آپریشنل چیف ریاض نیکو آج دوپہر کو بھارتی فوج سے مقابلے میں شہید ہو گئے۔ چار دن قبل ہوئے ایک معرکے میں مجاہدین کے ہاتھوں تین افسروں (کرنل ، میجر ، ایس او جی انچارج ) اور متعدد فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں صف ماتم بچھ گئی تھی ، جس کے بعد بھارت پر جوابی کارروائی کا دباؤ بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ گزشتہ رات ریاض نیکو کی اپنے آبائی گاؤں آمد کی انٹیلیجنس پر بھارتی فوج نے انکے گاؤں کا گھیراؤ کیا، صبح نو بجے گن فائٹ کا آغاز ہوا جو چار گھنٹے جاری رہا ، ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی فوج نے بارود لگا کر انکے گھر کو تباہ کر دیا جس میں ریاض نیکو کی شہادت ہو گئی ، شجاعت و ہمت کا ایک باب مکمل ہوا۔

    ریاض نیکو انجنیئر بننے کے خواہاں تھے، لیکن 2010 میں کچھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے ، بھارت کے خلاف تاریخی پتھراؤ تحریک چلی اس میں ریاض نیکو دوستوں کے ساتھ گرفتار ہو گئے اور ٹارچر سیلوں میں ہونے والی مار نے انجینئر بننے کا خواب چکنا چور کر دیا ، ریاض نیکو نے گن اٹھا کر پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا، بارہ لاکھ سر کی قیمت لیے گزشتہ آٹھ سالوں سے بھارت کا مطلوب ترین شخص ریاض نیکو ہی تھا۔ کیونکہ چار سال پہلے کشمیر کے پوسٹر بوائے برہان وانی کی شہادت کے بعد حزب کو آپریشنلی سںنبھالا اور بھارتی فوج کیلئے درد سر بنے رہے۔

    جس طرح برہان کے بعد سینکڑوں برہان کھڑے ہوئے ، ایک ریاض نیکو کے بعد ہزاروں جوان انکی جگہ لیں گے۔ کشمیری جان چکے کہ آزادی کی منزل کا راستہ کیا ہے، یہ قربانیوں اور غیرت کا راستہ طویل ضرور ہے لیکن نتیجہ خیز ہوگا ۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو

  • بھارت کا تحریک آزادی کشمیر کو "موبائل سموں” سے کچلنے کا فیصلہ

    سری نگر: بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگانے کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور کسی طرح تحریک آزادی کشمیر کو روکنا چاہتی ہے جس کے پیش نظر مودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پولیس کی تصدیق کے بغیر نیا موبائل کنکشن جاری نہیں ہوگا

    مقبوضہ جموں وکشمیر میں پولیس نے ٹیلی کام آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی تصدیق مکمل کیے بغیر صارفین کو کوئی نیا سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق پولیس نے تمام ٹیلی کام آپریٹرز کو ہدایات جاری کیں کہ ان کی سروسز کا غلط استعمال ہونے کی صورت میں ، کمپنی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے اب مناسب تصدیق کے بعد ہی پوسٹ پیڈ سم کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پولیس تصدیق کے ساتھ ساتھ کمپنی کا اپنا طریقہ کار(Know Your Customer) (کے وائی سی)بھی شامل ہے۔

    ایئر ٹیل کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائر سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کو پولیس اور انتظامیہ کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی صارف کو بغیر تصدیق کے سم کارڈ جاری نہ کریں۔ ٹیلی کام آپریٹرز نے پری پیڈ سم کارڈز کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
    حکام نے 70 دن کے وقفے کے بعد 14 اکتوبر کو 40 لاکھ سے زیادہ پوسٹ پیڈ فون بحال کئے تو اس کے بعد لوگو ں میں پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ میں کروانے کا رجحان بڑھ گیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں 40 لاکھ پوسٹ پیڈ صارفین اور 26 لاکھ سے زیادہ پری پیڈ صارفین ہیں۔

    براڈ بینڈ ، موبائل فون سروسزاور انٹرنیٹ سمیت تمام مواصلات کو 5 اگست کو معطل کردیا گیا ، جب بھارت نے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر خصوصی حیثیت ختم کردی اور ریاست کو دو مرکز علاقوں میں تقسیم کردیا۔
    ایک سینئر پولیس آفیسر نے ساؤتھ ایشین وائر کوبتایا کہ انہوں نے ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا ہے کہ کوئی نیا سم کارڈ جاری کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کے مناسب طریقہ کار پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا ، "اگر ٹیلی کام کمپنیوں نے پری پیڈ سموں کو پوسٹ پیڈ کنکشنز میں تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو ، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔”

    کشمیر بھر میں پوسٹ پیڈ کنکشن کی بحالی کے ایک ہفتہ بعد ، سینکڑوں افراد نئے پوسٹ پیڈ سم کارڈ حاصل کرنے یا پری پیڈ کارڈ کو پوسٹ پیڈ کنکشن میں تبدیل کرنے کے لئے جیو ، ایرٹیل ، بی ایس این ایل ، ووڈافون ، آئیڈیا اور دیگر آپریٹرز کے شورومزپر امڈآئے تاہم ، بہت سے صارفین مایوس لوٹے کیونکہ تمام ٹیلی کام کمپنیوں نے سموں کی پوسٹ پیڈ میں تبدیلی سے انکار کردیا تھا۔

  • آزاد کشمیر میں احتجاج کرنےوالے علیحدگی پسند کون لوگ ہیں ؟

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں نام نہاد قوم پرست جماعتوں کا احتجاج بدھ کے روز بھی جاری ہے اس احتجاج میں آزاد جموں و کشمیر کی چھوٹی بڑی 20 سے زائد جماعتوں کے اتحاد نے شرکت کر رکھی ہے، اس کا اتحاد کے احتجاج کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کشمیر کو کلی طور پر تمام اکائیوں کے سمیت مکمل آزاد کیا جائے اور اسے ایک خود محتار ریاست بننا چاہیے ،

    آزاد کشمیر کی بیشترعلیحدگی پسند تنظیمیں جو کہ حالیہ احتجاج کا حصہ ہیں کشمیر متعلق پوری پاکستانی قوم سے محتلف نظریات رکھتی ہیں، ان علیحدگی پسند تنظیموں کےمطابق 21 اکتوبر 1947 کو قبائلی مجاہدین کشمیری عوام کی مدد کیلئے کشمیر آئے تھے اور ان کے آنے کے بعد بھارت نے کشمیر میں اپنی افواج اتاری تھیں، اور انہی قبائلیوں کی وجہ سے کشمیر تقسیم ہوا اور انہی کی وجہ سے آج کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور یہ بڑے مجرم ہیں، اور یہ تمام علیحدگی پسند لوگ 21 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کیلئے راولا کوٹ سے مظفرآباد کیلئے نکلے ہوئے تھے

    مظفر آبد میں اپر اڈا کے مقام پر ان لوگوں نے جلسے کا اعلان کر رکھا تھا جہاں انہوں نے اپنی تقریب کرنی تھی وہاں پر جب یہ لوگ اکٹھا ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ہم نے مظفر آباد قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا ہے، ابھی انتظامیہ کیساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو انہوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا ، حالات کو قابو کرنے اور نارمل حالت میں لانے کیلئے پولیس نے ان مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کیا ، اس ہنگامی صورت حال کے نتیجے میں ایک بزرگ شہری جا بحق ہوئے جن کا ان مظاہرین کیساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، اس کے بعد مظفر آباد پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کیا گیا تھا جہاں پولیس کی بھاری نفری نے حالات کو قابو میں کیا گیا تھا

    اس سارے معاملے میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے ان لوگوں کے مطالبے پہ دفتر خارجہ کو خط لکھا تھا کہ یوا ین کی ہیومن رائٹس کونسل کا وفد مظفرآباد آئے اور ان لوگوں سے ملاقات کرے، اس بعد راجہ فاروق حیدر ان علیحدگی پسند جماعتوں کو لیکر مظفرآباد میں یو این کے دفتر گئے جہاں انہوں نے اپنی یادادشت جمع کروائی جسے یہ کہتے ہیں کہ ان کے یو این کیساتھ مذاکرات ہوئے ،

    اور ان علیحدگی پسند جماعتوں کے احتجاج کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 21 اکتوبر جس دن یہ احتجاج شروع ہوا اس دن ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے پاکستان میں موجود تمام ممالک کے سفیروں کو کنٹرول لائن کا دورہ کروایا ہے اور بھارت کا جھوٹ کا پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور کشمیر ایشو پر پاکستان فرنٹ فٹ پر کھیل رہا ہے ، ایسے میں بھارت سے یہ ٹویٹس آنا شروع ہو گئی ہیں کہ مظفر آباد میں پاکستانی فوج کیخلاف احتجاج کرنے پولیس نے کشمیریوں پر لاٹھی چارج کیا ہے،

    کچھ انڈین ٹی وی چینلز نے تو اس ہنگامی صورتحال کو براہ راست بھی بھارت میں دکھایا جو کہ پاکستان کے امیج اور سالمیت کیلئے بالکل اچھا نہیں ہے ، اور یہ احتجاج مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ سے بھی جا ملتا ہے جو کہ وقت اور جگہ کے لحاظ سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ،

    مولانا فضل الرحمن بیرونی ایجنڈے پرپاکستان کوبدنام کرنے پرتلے ہوئے ہیں،سنی اتحاد کونسل

  • آزادی مارچ، وزیر اعظم عمران خان ڈٹ گئے، استعفیٰ دینے سے انکار

    وزیراعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کے پیچھے اندرونی اور بیرونی طاقتوں کا ایجنڈا ہے ، مولانا کے مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان ہو رہا ہے،

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا چارٹر آف ڈیمانڈ واضح نہیں، حکومت کی مذاکراتی کمیٹی مولانا سے ملاقات کرے گی، اور شبہات کو گفت و شنید سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ ہے این آر او، گرفتار رہنماؤں کو آج باہر جانے کی اجازت دے دوں تو زندگی آسان ہو جائے گی،

    امریکی اراکین کانگریس نے کشمیر سے متعلق بھارت سے کیا بڑا مطالبہ، اہم خبر

    بھارت کی طرف سے متوقع جارحیت اور افواج پاکستان کی تیاریوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں بری طرح پھنس چکا ہے ،بھارت پلوامہ جیسا ڈرامہ دوبارہ رچا سکتا ہے اور خدشہ ہے کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملہ کرے ،آ رمی چیف کوکہاہےفوج کومکمل طورپرتیاررکھیں، اور اگر بھارت نے کوئی بھی جارحیت کی تو بھرپور جواب دیں گے، کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن سے متعلق وزیر اعظم نے کہا مسئلہ کشمیر پر دنیا کی طرف سے تاریخی ردعمل آ رہا ہے اور دفتر خارجہ کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں،

    سابق وزیراعظم نواز شریف اور شریف فیملی سے متعلق سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ نواز شریف کو بہترین علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں، اور شہباز شریف کہتےہیں نوازشریف کو کچھ ہوا تو ذمہ دار عمران خان ہوں گے، ‏میں کوئی عدالت یا ڈاکٹر نہیں، وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج کا فیصلہ عدالت نے کرناہے، اور اگر مریم نوازنے ملاقات کرنی ہےتو وہ فیصلہ بھی عدالت کرےگی،

    مولانافضل الرحمن پاکستان کوبدنام کروارہے ہیں ، اہم وفاقی وزیربول اٹھے

  • 26 سال سے جیل میں قید کشمیری باپ نے اپنے بیٹے کو خط میں کیا لکھا ؟

    پچھلی سات دہائیوں سے پاکستان کے پڑوسی بھارت نے وادی کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر کے جس طرح کشمیریوں پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور اس طلم و جبر کی تاریک رات میں بھی کئی ایسے حریت کے ستارے چمکے جن کی روشنی آج تک مانند نہ ہوئی ،

    ایسے ہی ایک ستارے ڈاکٹر محمد قاسم ہیں جو کہ نڈر و بےباک کشمیری خاتون آسیہ اندرابی کے شوہر ہیں ، ڈاکٹر محمد قاسم پچھلے 26 سال سے جیل میں قید ہیں، عرصہ دراز سے ان کے اہلحانہ کو ان کی کوئی خبر نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں ، کچھ دن پہلے ڈاکٹر محمد قاسم نے اپنے بیٹے احمد بن قاسم کو ایک خط لکھا اور اس خط میں ایک نظم لکھ کر بھیجی ہے جس میں وہ اپنے بیٹے احمد اور اس جیسے کئی دلیر بیٹوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں، ڈاکٹر محمد قاسم لکھتے ہیں

    میں روح ہوں
    یہ قید اور موت میرے لیے نہیں ہیں ، کیا مجھے ان سے ڈرنا چاہیے
    کون کسے قید کر رہا ہے ؟ نہ میں مارا گیا اور نہ مارا جاؤں گا
    یہ قید مجھے اپنے خطے اور لوگوں کے بارے سوچنے کا کہہ رہی ہے
    مییری روح تب تک میرا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی جب تک اپنا مشن پوارا نہ کر لوں

    ڈاکٹر محمد قاسم کے یہ الفاظ اپنے اندر اس قدر وزن رکھتے ہیں کہ پڑھنے والا کوئی بھی شخص جو کشمیری ہے یا کشمیریوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ پر عزم ہو جائے گا، اوراہل کشمیر کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار ہو جائے گا