Baaghi TV

Tag: kashmir

  • "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    "علماء کی گرفتاریاں، مسئلہ جماعة الدعوة نہیں اسلام اور کشمیر ہیں” تحریر: محمد عبداللہ

    حالیہ دنوں میں جماعةالدعوة سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو زیر حراست لیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ یہ افراد دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے رہے. اسی الزام میں جماعة الدعوة کے امیر اور یونیورسٹی آف انجییئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے سابق پروفیسر حافظ محمدسعید اور انکے برادر نسبتی اور جماعة الدعوة کے نائب امیر عبدالرحمن مکی کو بھی پچھلے کچھ عرصہ سے زیر حراست رکھا ہوا ہے. ان گرفتاریوں پر پاکستان کے محب وطن اور کشمیر سے جذباتی تعلق رکھنے والے حلقوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اور بالخصوص حالیہ گرفتاریوں میں ایک بزرگ عالم دین حافظ عبدالسلام بن محمد بھٹوی کی گرفتاری پر پاکستان کے مذہبی اور علمی حلقے بھی شدید مضطرب اور سراپا احتجاج ہیں کہ 74سالہ ایک ایسے عالم دین جو مفسر قران ہیں، جو بے پایاں علمی خدمات سرانجام دے چکے، جو پچھلے تقریباً 55 سال سے تدریس کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان میں ہزاروں علماء ان کے شاگرد ہیں ان کو اس پیرانہ سالی میں دہشت گردی کی مالی معاونت میں گرفتار کرنا کیا معنی رکھتا ہے.

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
    پاکستان کی عوام اس وقت شش و پنج کا شکار ہے کہ سابقہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے کہ یہ بھی اسی روش پر چل نکلے ہیں جس پر ماضی میں پاکستان کے حکمران چلتے رہے کہ غیروں کے کہنے پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کو اور بالخصوص ان لوگوں کو پس دیوار زندان دھکیل دینا جو خالصتاً پاکستان کے نام پر جی اٹھتے ہیں اور پاکستان ہی پر مر مٹتے ہیں جن کی صبح و شام پاکستان کی مالا جپتے ہوئے ہوتی ہے جو ہر مشکل و آفت میں پاکستان کا سہارا بنے، جو ہر مصیبت اور تنگی میں دست و بازو بنے اور جو پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کے سامنے آہنی دیوار بنے انہی لوگوں پر عرصہ حیات تنگ کرکے حکومت پاکستان کن کو خوش کرنا چاہتی ہے اور کونسے مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے. ایسی مذہبی اور جہادی جماعتیں جن پر پاکستان کے اندر کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں ہے اور جو کبھی پاکستان کے لیے اندرونی طور پر مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بنیں بلکہ ہمیشہ مسائل کو حل کرنے میں ممدو معاون ثابت ہوئی ہیں ان پر پابندیاں اور گرفتاریاں نہایت پریشان کن ہیں.

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
    ماضی میں بھی پاکستان کے حکمرانوں کا یہی طرز عمل رہا اور ان کی طرف سے دیئے گئے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور خارجہ سطح پر برتی گئی مجرمانہ پہلو تہی نے پاکستان کو مسائل کے کنوؤں میں گرایا اور آج پاکستان بین الاقوامی سطح پر جن شدید مسائل سے دوچار ہے وہ انہی کے اعمال کا شاخسانہ ہے جس کی سزاء اس محب وطن اور علماء کے طبقے کو سب سے زیادہ بھگتنی پڑ رہی ہے لیکن تحریک انصاف کی حکومت بنی تو امید کی اک کرن نظر آئی کہ اب پاکستان کشکول نہیں پکڑے گا جس کی وجہ سے ہم بین الاقوامی سطح پر عزت اور جرات کے ساتھ کوئی قدم اٹھاسکیں گے اور کشمیر کی مسئلہ جو پچھلے ستر سال سے الجھا ہوا ہے اس پر عمران خان کی توجہ اور سنجیدگی دیکھ کر بھی امید بندھی تھی کہ یہ نیا بھی اب پار لگے گی لیکن ماضی کے حکمرانوں کی غلطیوں اور بھارت کے مضبوط پراپیگنڈے نے پاکستان کے ہاتھ کچھ اس طرح سے جکڑے ہیں کہ یہ چاہ کر بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے سے قاصر ہیں اور انکی مجبوری ہے کہ یہ عالمی سامراج کے سامنے سر تسلیم خم کرکے ان کے کیے گئے فیصلوں آمین کہیتے رہیں.

    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    یہ سارے معاملات اور مسائل اس وجہ سے ہیں کہ بھارت یہ سمجھتا ہے کہ اگر ان لوگوں کی آوازیں بند نہ کی گئیں اور ان کے قدم نہ روکے گئے تو بات کشمیر کی آزادی تک نہیں رکے گی مسئلہ بہت آگے تک جائے گا اور بھارت کے کئی ٹکڑوں پر منتج ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس کے مسلسل کیے گئے پراپیگنڈے آج رنگ لا رہے ہیں ایک طرف تو اس نے ساری کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کیا ہوا ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی کشمیر کے نام لیواؤں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں، اور عالمی سامراج بھارت کی ہاں میں ہاں ملاکر پاکستان کے ہاتھ مزید باندھتا چلا جا رہا ہے. عالمی سامراج اور بڑی طاقتیں بھی اسلام سے خوفزدہ ہیں اور وہ بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ اگر اس خطے میں ان کا ضدی بچہ بھارت کمزور پڑگیا اور پاکستان کے قدم مضبوط ہوگئے تو پورا خطہ اسلامائز ہوکر ان کے لیے شدید خطرات کا باعث بنے گا یہی وجہ ہے کہ وہ بھی بھارت کے ہمرکاب ہوکر ایف اے ٹی ایف اور دیگر پابندیوں کی صورت پاکستان پر مسلط ہیں اور ہمارے لیے مسلسل مسائل پیدا کررہے ہیں اور پاکستان اپنے شدید ابتر معاشی، سیاسی، بین الاقوامی حالات کے پیش نظر مضبوط فیصلے لینے سے قاصر ہے.

    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ لیکر جانا تاریخی غلطی تھی، بھاتی وزیر کا اعتراف

    مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ لیکر جانا تاریخی غلطی تھی، بھاتی وزیر کا اعتراف

    نئی دہلی: بھارتی وزیر امیت شاہ نے مسئلہ کشمیر پر سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کا مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر جانا تاریخی غلطی تھی.

    تفصیلات کے مطابق نئی دہلی میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر جانے کا ذمہ دار سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کو ٹھہرا دیا. "مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں جواہر لعل نہرو لیکر گئے، جو ان کی سب سے بڑی غلطی تھی.” امیت شاہ نے آرٹیکل 370 کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 370 اور کشمیر سے متعلق بہت سی غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں، جن کو دور کرنے کی ضرورت ہے.

    کرفیو کے باوجود کشمیری پاکستان اور عمران خاں کے حق میں نعرے لگاتے رہے

    دوسری جانب امیت شاہ نے کانگریس پارٹی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا. انہوں نے کہا کہ "کانگریس کی حکومت لوگوں کو کشمیر سے متعلق غلط تاریخ پڑھاتی رہی ہے.

    نکیال سیکٹر میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 شہری شہید، 3 زخمی

    واضح رہے کہ دو روز قبل پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کشمیر کا مسئلہ دنیا کے سامنے رکھا تھا اور نریندر مودی کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے رکھا تھا.

    مقبوضہ کشمیر میں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کر لی

  • جموں و کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا، احمد بن قاسم کا دعویٰ

    جموں و کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا، احمد بن قاسم کا دعویٰ

    چیئرمین دختران ملت آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا.

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر احمد بن قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر سے کوئی کرفیو نہیں اٹھایا گیا. انہوں نے اپیل کی کہ ایسی جھوٹی خبروں پر یقین نہ کیا جائے. احمد بن قاسم نے کہا کہ "بار بار کوشش کرنے پر میرا اپنے چچا سے کشمیر میں رابطہ ہوا، انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا بلکہ وہاں مزید پابندیاں لگادی گئی ہیں.” انہوں نے مزید کہا کہ اس خبر کو عمران خان کی تقریر سے بھی جوڑا جارہا ہے، ہمیں عمران خان کی شاندار تقریر پر ضرور تعریف کرنی چاہیئے لیکن صرف الفاظ بھارت کو شکست نہیں دے سکیں گے.

    https://twitter.com/Abq____/status/1177964969515720710

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیر سے کرفیو اٹھا دیا گیا ہے اور وہاں اب کسی قسم کی بھی پابندی نہیں ہے. تاہم اب احمد بن قاسم نے دعویٰ کیا ہے کہ جموں و کشمیر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا ہے.

  • مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    مسئلہ کشمیر: امریکہ کو ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ثالثی کا کردار کیوں ادا کرنا چاہیئے؟

    آپ کو یہ جاننے کیلئے یہودی ہونا ضروری نہیں کہ زمینی تنازعات کے باعث ملکوں کے درمیان خطرناک تشدد پیدا ہوسکتا ہے. حال ہی میں ایسا ہی مسئلہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دیکھنے کو آیا ہے، جس سے دنیائی آبادی کا پانچواں حصہ خطرے میں ہے، اور اس مسئلہ کا حل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے.

    اسرائیل بننے سے ایک سال قبل کشمیر نام کی ریاست وجود میں آئی. 1947 (کشمیر بننے کے پہلے دن) سے ہی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ دیکھنے کو مل رہا ہے. کچھ عرصہ پہلے 5 اگست کو بھارت نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرکے اس کی خصوصی حیثیت چھین لی.

     ٹرمپ نے مودی سے کیا کہا، خبر آ گئی

    کشمیر ایسا نازک مسئلہ ہے جس کے حل کیلئے امریکہ، اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت نے ہمیشہ سے ہی بہت کوشش کی ہے. اگر اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ ہمیں کچھ سکھاتا ہے تو وہ یہ ہے کہ دو ملک کبھی بھی طاقت کے ذریعے کسی بھی مسئلے کا حل نہیں نکال سکتے.

    دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر پر بڑھتی ہوئی کشیدگی باعث خوف ہے. گزشتہ ماہ بھی جب ڈونلڈ ٹرمپ عمران خان سے ملے تھے تو انہوں نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی.

    اس مسئلہ پر امریکہ ایک انتہائی پچیدہ پوزیشن پر کھڑا ہے. ہم (امریکیوں) نے شروع سے ہی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ تجارتی اور سلامتی اتحاد قائم کیے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کروائے.

    امریکہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہیئے کہ وہ بھارت کو اس بات پر راضی کرے کہ کشمیر سے فوری طور پر کرفیو ہٹائے، کیونکہ ایسا کرنے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوسکتی ہے. دیرینہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہوگا اور مذاکرات کی گنجائش پیدا ہوگی۔

    ٹرمپ مودی کی تعریف نہیں ، تضحیک کر رہا ہے، آخر بھارتی میڈیا کو بھی پتہ چل ہی گیا

    مزاکرات کا سب سے زیادہ فائدہ ان 12 ملین کشمیریوں کو ہوگا جو اس وقت کشمیر میں‌ بھارتی دہشتگردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں. ان کشمیریوں کی حالت زار پر توجہ دی جانی چاہئے اور اقوام متحدہ جیسے متعدد بین الاقوامی ادارے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کرنی چاہیئے.

    اسرائیل فلسطین کے مسئلہ کو بھولنا نہیں چاہیئے. کشمیر کا مسئلہ بھی اتنا ہی سنگین ہے، زمین کا یہ ٹکڑا بین الاقوامی تنظیموں، خاص طور پر اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہا ہے. پچھلے کچھ عرصہ میں امریکہ اسرائیل کی بہت زیادہ مدد کر رہا ہے، اور کوشش کر رہا ہے کہ خطہ میں امن قائم ہو. اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو جنگ بھی ہوسکتی ہے.

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    کشمیر کی طرح اسرائیل اور فلسطین کی صورتحال بھی "حل” ہونے سے بہت دور ہے اور دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی کسی نقطہ نظر پر نہیں مل رہا. اس کے باوجود خطے میں امن مزاکرات سے ہی ممکن ہوگا. دونوں فریقوں کے درمیان یہ مسئلہ غیر ملکی مداخلت کی وجہ سے ہی حل ہوگا. اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو بات جنگ کی طرف بھی جاسکتی ہے.

    دونوں ملکوں کو مسئلہ کے حل کیلئے صدرٹرمپ کی پیشکش کو فوری طور پر قبول کرنا چاہئے. سب سے پہلے موجودہ بحران کو ختم کیا جائے، پھر اس کے بعد باقاعدہ طور پر مزاکرات کیے جائیں. امریکہ جس نے شروع سے ہی دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کے حل کیلئے کوشش کی ہے، اب بھی تاریخی کردار ادا کرنا چاہیئے. ایٹمی جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں ہوسکتی.

    نوٹ: یہ کالم جیک روسن نے امریکی ادارے "دی واشنگٹن ٹائمز” میں‌ لکھا ہے.

  • گزشتہ روز مجھے میری ماں کا فون آیا، احمد بن قاسم نے دردناک بات بتادی

    گزشتہ روز مجھے میری ماں کا فون آیا، احمد بن قاسم نے دردناک بات بتادی

    چیئرمین دختران ملت آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے کہا ہے کہ گزشتہ روز میری ماں کا جیل سے مجھے فون آرہا تھا، لیکن بدقسمتی سے میں ان کا فون سن نہیں سکا کیونکہ میں کتاب پڑھ رہا تھا اور میرا موبائل سائلنٹ پر تھا.

    تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں احمد بن قاسم نے بتایا ہے کہ بعض اوقات ان کی ماں انہیں جیل سے فون کرلیتی ہیں، گزشتہ روز بھی بھی ان کی والدہ کا انہیں فون آیا لیکن موبائل سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے وہ فون سن نہیں سکے. انہوں نے کہا کہ "بدقسمتی سے میں اپنی ماں کا فون سن نہیں سکا کیونکہ میں کتاب پڑھ رہا تھا اور میرا موبائل سائلنٹ پر تھا، انہوں نے فون کافی مہینوں بعد کیا ہے.”

    https://twitter.com/Abq____/status/1176886724393394177

    انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اپنی ماں کو دوبارہ فون بھی کیا لیکن فون جا ہی نہیں رہا تھا، میں نے بار بار کوشش بھی کی لیکن کال نہیں جا رہی تھی، مجھ سے کشمیر کی آزادی دیکھنے کا مزید انتظار نہیں ہوتا.”

    https://twitter.com/Abq____/status/1176886726440210433

  • خوفناک زلزلہ: احمد بن قاسم نے کشمیریوں کی بے بسی بتادی

    خوفناک زلزلہ: احمد بن قاسم نے کشمیریوں کی بے بسی بتادی

    چیئرمین دختران ملت آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے کہا ہے کہ کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو یہ بھی نہیں پتا کہ کشمیر میں خوفناک زلزلہ آنے کے بعد ان کے خاندان والے کیسے ہیں، کیونکہ وہاں ابھی بھی موبائل فون سروس معطل ہے.

    تفصیلات کے مطابق احمد بن قاسم نے خوفناک زلزلہ آنے کے بعد کشمیریوں کی بے بسی کو بتادیا. انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ "ہر وہ کشمیری جو کشمیر سے باہر رہ رہا ہے، اس خوفناک زلزلے کے بعد بے بس ہے کیونکہ جب وہ گھر خیر خیریت پوچھنے کیلئے فون کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیر میں تو ابھی بھی فون سروس معطل ہے” انہوں نے اللہ پاک سے دعا کرتے ہوئے کہا کہ "اللہ پاک ہماری مدد فرمائیں”.

    https://twitter.com/Abq____/status/1176468220443811844

    واضح رہے کہ پاکستان بھر میں 5.8 شدت کا زلزلہ آیا جس نے 19 لوگوں کی جان لے لی اور 100 سے زائد افراد زخمی ہیں.

  • درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    درد کشمیر اور ہمارا ضمیر ، تحریر مغیرہ حیدر

    وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے بھارتی فوج کے ظلم و بربریت اور قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کر رہے ہیں، سکول و کالج، مارکیٹیں، دوکانیں، اخبارات، موبائل-فون، انٹرنیٹ، مساجد اور سبھی راستے بند کر دیئے گئے..!
    کیا ہمارے دل میں احساس کی کوئی کرن باقی نہیں جو کشمیر کی آزادی کے لیے عملی طور پہ کوئی کردار ادا کر سکے، کیا ہم روزانہ اپنے گھربار اور معمولاتِ زندگی میں یونہی مشغول و مگن رہیں گے.؟ کیوں ان کشمیریوں کی محبت ہمارے دلوں کو نہیں گرماتی.؟ آخر ہم کیوں بےحسی کی چادر اوڑھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں.؟ کیا ہماری صلاحیتیں کشمیر کے لیے کام نہیں آ سکتی.؟ ہم تہہِ دل سے کشمیریوں کے لیے دعا کیوں نہیں کرتے.؟ ہم ان کے درد کو اپنا درد سمجھنے سے کیوں قاصر ہیں.؟

    وہ کشمیری جو ہر قدم پہ پاکستان کے لیے اپنی جان ہتھیلی پہ لیے نکلتے ہیں، وہ کشمیری جو پاکستانیوں کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں کیا ہم ان کی امیدوں پہ پورا اترنے کی کوشش کر رہے ہیں.؟ آپ خود سے سوال کیجیے اپنے گریبان میں جھانکیے کہ ہم نے کشمیری مظلوم مسلمانوں کے لیے کس حد تک کوشش کی، کیا ہمارے دل کو دنیا کا آسائش و آرام تو نہیں بھا گیا، جی ہاں! ہمیں امت مسلمہ اور اسلام سے محبت برائے نام ہے، ہم اس احساس سے محروم ہو چکے ہیں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ہمارے اسلاف نے محسوس کیا، اگر آپ کشمیر کی حالتِ زار کو خود اپنی ذات پہ محسوس کریں تو شاید آپ کا ضمیر آپ کو جھنجوڑے اور چیخ کر کہے کہ اب بھی دعا ہی کرو گے.؟ کیا اپنے دفاع کے لیے اپنا ہاتھ، قدم، قلم، آواز، کیمرہ، ہنر، فن استعمال نہیں کرو گے.؟

    ضرور استعمال کرو گے بلکہ آخری سانس تک جدوجہد اور لڑائی کرو گے، اپنی چادر اور چار دیواری کے تحفظ کے لیے ہر شے کو بروئے کار لاؤ گے،
    لیکن کشمیر تو اپنا نہیں، ہے ناں.؟
    خدا کے لیے اپنے آپ کو جگائیے، کشمیری اور کتنے جنازے اٹھتے دیکھیں گے، کتنے بچے یتیم ہوں گے، کب تک وہ مائیں بیٹوں کا سوگ مناتی رہیں گی.؟

    اگر احساس ہو تو اٹھائیے کشمیر کے لیے اپنی آواز، قلم اور قدم تا کہ کل کشمیری اللہ کے دربار میں حاضر ہو کے تمہارا گریبان نہ پکڑ سکیں..!

  • بھارت کی چاکری بھی کام نہ آئی، میری ماں کو گرفتار کروانے والے آج خود جیل میں‌ ہیں

    بھارت کی چاکری بھی کام نہ آئی، میری ماں کو گرفتار کروانے والے آج خود جیل میں‌ ہیں

    چیئرمین دختران ملت آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے کہا ہےکہ سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ و کشمیر محبوبہ مفتی نے ان کی ماں کو بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے دوران جیل بھیجا تھا اور اب بی جے پی نے محبوبہ مفتی کو ہی جیل بھیج دیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق آسیہ اندرابی کے بیٹے احمد بن قاسم نے محبوبہ مفتی کی بیٹی کو کہا ہے کہ تماری ماں نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے دوران میری ماں کو جیل بھیجا تھا اور اب بی جے پی نے تمہاری ہی ماں کو جیل بھیج دیا ہے. یہ بات انہوں نے محبوبہ مفتی کی بیٹی کے ٹویٹ کے جواب میں کی، جس میں محبوبہ مفتی کی بیٹی نے اپنی والدہ کے اکاؤنٹ سےٹویٹ کرکے بتایا کہ "یہ اکاؤنٹ تب سے معطل ہے جب سے میری ماں محبوبہ مفتی کو حراست میں لیا گیا ہے، اور اب یہ اکاؤنٹ میں چلارہی ہوں”. اس کا جواب دیتے ہوئے احمد بن قاسم نے کہا کہ تمہاری ماں کے پاس ٹویٹر اکاؤنٹ تک رسائی نہیں ہے، اور میری ماں کی مجھ تک رسائی نہیں ہے. میں جیل میں ہر کھانے کی میز پر اپنی ماں کی تصویر رکھ کر کھانا کھاتا ہوں.

    https://twitter.com/Abq____/status/1175338168633221120

    واضح رہے کہ چیئرمین دختران ملت آسیہ اندرابی کو سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ و کشمیر محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کے دوران جیل بھیجا تھا، تاہم اب بی جے پی نے محبوبہ مفتی کو ہی جیل بھیج دیا ہے.

  • نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    نام نہاد جمہوریت کا ایک اور سیاہ اقدام ، تحریر نعمان علی ہاشم

    قائد حریت سید علی گیلانی صاحب کی کال پر آنے والے صحافیوں کو پریس کانفرنس کی کوریج سے روک دیا گیا.
    .
    آج صبح دس بجے سے ہی سید علی گیلانی صاحب کے گھر کے باہر تقریباً 35 صحافی جمع تھے. آزادی اظہار رائے کے حق کو دباتے ہوئے مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس نے صحافیوں کو نہ صرف گھر میں داخل ہونے سے روک دیا بلکہ ان کے گھر کے قریب کھڑے ہونے سے بھی منع کر دیا. ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال یہ ہے کہ پوری دنیا کے میڈیا کی آزادی کو صلب کر لیا ہے. پانچ اگست کے بعد کسی بھی صھافی کو کسی ایک حریت پسند لیڈر کی کوریج کی اجازت نہیں. مقبوضہ جموں کشمیر کی پولیس کے آفیسر کا کہنا ہے کہ سیکشن 144 کے تحت کسی لیڈر کی میڈیا کوریج کو بند کیا گیا. ایک طرف تو غیر قانونی، غیر انسانی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز دبائی جا رہی ہے. دوسری طرف بھارت کی آئین میں ایسی غیر انسانی اور غیر جمہوری شقیں موجود ہیں جو ظلم کا ساتھ دیتی ہیں. بھارت جہاں کشمیریوں کی نسل کشی میں ملوث ہے وہیں کشمیریوں کی آواز دبانے میں بھی پیش پیش ہے.
    اب سوال یہ ہے کہ عالمی ادارے کیا اس غیر جمہوری اقدام پر بھارت سے سوال کریں گے؟ کیا آزادی اظہار رائے کے علمبردار بھارت کی اس ریاستی ہٹ دھرمی پر بات کریں گے؟

    نعمان علی ہاشم

  • بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے مودی حکومت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم جلد آزاد کشمیرپربھی قبضہ حاصل کر کے بھارت کی تکمیل کریں گے‘‘۔
    دو روز پہلے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کہا تھا ’’پاکستان آزاد کشمیر کھونے کے لیے تیار رہے‘‘
    اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے کہا تھا ’’آزاد کشمیر پر قبضے کے لیے صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے، آرمی کی تیاری مکمل ہے۔
    حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آزاد کشمیر پر قبضے کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ماحول بنانے کے بعد ایڈونچر سے دریغ نہیں کرتا۔ کئی ایک واضع مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
    1965 میں ہم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کا لال بہادر شاستری کے بیان اور اس طرح کے دیگر بیانات کو نظر انداز کیا۔ پھر ہمیں لاہور اور سیالکورٹ کے محاذ پر اچانک حملہ برداشت کرنا پڑا۔
    1971 میں ایک بار پھر ہم بھارتی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھارتی بیانات کا جواب صرف بیانات سے دینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن جب بھارتی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمیں وقت سے پہلے بھرپور تیاری نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

    ممکنا فوجی تصادم پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت ستمبر یا اکتوبر کے دوران لائن آف کنٹرول پر کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال فروری میں الیکشن کا ماحول بنانے کے لیے پلوامہ دھماکہ اور اُس کے بعد پاکستانی سرحد عبور کر کے بمباری کا ڈرامہ کیا گیا تھا، ایک بار پھر قوی امکانات ہیں کہ ویسا ہی ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی نظر ہٹانے کے لیے کیا جائے۔

    غور کیا جائے تو اس طرح کی کسی جنگ کے لیے بھارت طویل عرصے سے تیاریاں کر رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں جنگ کی تربیت (Mountain Warfare Training) کے لیے بھارت کی دہیرادون ملٹری اکیڈمی میں ایک الگ ادارہ بدراج کیمپ (Bhadraj Camp) کے نام سے1999 میں قائم کیا گیا تھا۔ کشمیر کے محاذ پر جنگ کی خصوصی تربیت کے لیے بلندی پر جنگ کا تربیتی ادارہ High Altitude Warfare School (HAWS) گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہے۔ بھارتی فوج پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے اب تک 10مختص پہاڑی ڈویژن (Mountain Division) قائم کرچکی ہے۔ ان میں آٹھ عمومی ڈویژن اور 2 خصوصی حملہ آور ڈیژن ہیں۔ ان 10 ڈویژنز میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی میں جنہیں پہاڑی علاقے میں جنگ کی خصوصی تربیت اور مخصوص اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج حالیہ عرصے میں دو مزید پہاڑی ڈویژن کے قیام کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ان دونوں پہاڑی ڈویژنز کو گن شپ، یوٹیلیٹی اور اٹیک ہیلی کپٹروں کے تعاون سے جنگ کی تربیت دی جارہی ہے، یا تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے امریکہ سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ’اپاچی اے ایچ 64 ای کا سودا کیا ہے۔ مودی کی حکومت نے امریکہ سے 110 کروڑ ڈالر (جو تقریباً 8,000 کروڑ بھارتی روپے بنتے ہیں) کے عوض 22 جنگی اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جن میں سے آٹھ جنگی ہیلی کپٹر انڈیا کو مل چکے ہیں۔ جنہیں ورکنگ باونڈری پر جموں کے قریب پھٹانکورٹ کے ہوائی اڈے پر تعینات کیا گیا ہے۔

    (یہاں یہ امر بھی دلچسب ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے نو عدد اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی کپٹر پاکستان کو 2018 میں مل جانا تھے۔ لیکن تاحال امریکہ نے انہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا ہے۔)

    جنگوں پر نظر رکھنے والی کئی تنظیمیں آگاہ کر چکی ہیں۔ کہ بھارتی فوج وادی نیلم سے ملحقہ کنٹرول لائین کے دوسری طرف واقع مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں بھاری توپ خانہ اور اسلحہ جمع کر رہا ہے۔
    ہندوستان کے انتہائی اہم اور ذمہ دار افراد کے تمام بیانات اور فوجی تیاریوں کو صرف کیدڑ بھبکیاں اور بھڑکیں قرار دے کر نظر انداز کرنا بالکل بھی حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جوابا ہمیں جس طرح کی تیاریاں کرنا چاہیں تھیں وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔
    عسکری تیاریاں کیا ہیں ہم اُنہیں پاک افواج پر چھوڑتے ہیں۔
    البتہ کسی بھی ممکنا بڑے یا محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں عوام کو جس طرح سول ڈیفنس، فرسٹ ایڈ وغیرہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اُس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو متحرک ہونا چاہیے
    تحریر مہتاب عزیز