Baaghi TV

Tag: kashmir

  • آرٹیکل 370 کو فوری بحال کرو، بھارتی سپریم کورٹ سے شاندار خبر آگئی

    آرٹیکل 370 کو فوری بحال کرو، بھارتی سپریم کورٹ سے شاندار خبر آگئی

    نئی دہلی (اے پی پی) بھارت کے سابق بیوروکریٹس اور فوجی افسروں نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ آرٹیکل 370 کو دوبارہ بحال کیا جائے.

    تفصیلات کے مطابق بھارت کے سابق بیوروکریٹس اور فوجی افسروں کے ایک گروپ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370کی منسوخی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ سابق بیوروکریٹس اور فوجی افسروں کے ایک مشترکہ گروپ نے بھارتی سپریم کورٹ میں ایک مشترکہ درخواست دائر کی ہے جس میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور بھارتی صدر کی ترمیم کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 370کی منسوخی کے لئے جموں و کشمیر کی عوام کی رائے لینا ایک آئینی ضرورت ہے جبکہ اس آرٹیکل کو ہٹانے کے لئے کوئی رائے شماری نہیں کرائی گئی بلکہ ان تبدیلیوں سے ان اصولوں پر ضرب لگی ہے جن کے تحت ریاست جموں وکشمیر بھارت کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 370کو رد کرنے کے لئے صدر جمہوریہ کے نوٹیفیکیشن کے لئے جموں و کشمیر دستور ساز اسمبلی کی بھی منظوری ضروری ہے چونکہ ریاست میں دستور ساز اسمبلی کا کوئی وجود نہٰیں اس لئے منظوری نہیں لی گئی ہے۔ موقف میں کہا گیا ہے کہ وہاں کے لوگوں کی مرضی جانے بغیر آرٹیکل 370 کو ہٹانا جمہوریت کے بنیادی اصولوں، وفاقیت اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    اس درخواست کو بھارتی سپریم کورٹ میں 6 درخواست گزاروں رادھا کمار، ہندل حیدر طیب،کپل، اشوک کمار مہتہ، امیتابھ پانڈے اور گوپال پلائی نے دائر کیا ہے۔ ان میں سے کپل اور مہتہ ریٹائرڈ فوجی افسر ہیں جبکہ کپل کئی فوجی میڈلز کے حامل افسر ہیں جو ایئر وائس مارشل کے طور پر خدمات دے چکے ہیں، مہتہ راجوری اور اوڑی سیکٹر میں تعینات رہے اور1965ءاور 1971 ءکی پاک بھارت جنگوں میں بھی شامل تھے،ان کی تعیناتی کارگل اور لداخ سیکٹرز میں بھی رہی۔ طیب، پانڈے اور گوپال پلائی ہائی رینک والے سابق بیورو کریٹ ہیں.

  • کشمیر میں جنگ شروع، قوم کو تیار رہنے کی ہدایت، پوری دنیا میں طوفان برپا

    کشمیر میں جنگ شروع، قوم کو تیار رہنے کی ہدایت، پوری دنیا میں طوفان برپا

    کشمیر: مقبوضہ کشمیر کے علاقہ بارہ مولہ میں کشمیری مجاہدین اور بھارتی فوج میں شدید جنگ جاری ہے.

    تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارہ مولہ میں پچھلے 4 گھنٹوں سے کشمیری مجاہدین اور بھارتی فوج میں شدید جنگ جاری ہے. ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دونوں طرف سے شدید فائرنگ کی جارہی ہے. اس کے علاوہ یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دوسرے علاقوں میں بھی جنگ ہوسکتی ہے، اس لیے پوری قوم جنگ کیلئے تیار رہے.

    واضح رہے کہ بھارت نے کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کرکے کشمیر کی خود مختاری کردی تھی جس کے بعد سے ہی مقبوضہ کشمیر میں حالات کشیدہ ہیں، تاہم اب باقاعدہ طور پر کشمیر کے علاقہ بارہ مولہ میں کشمیری مجاہدین اور بھارتی فوج میں شدید جنگ جاری ہے.

  • اقوام متحدہ میں کشمیر پر اجلاس، کانگریس کا تازہ ترین بیان سامنے آگیا

    اقوام متحدہ میں کشمیر پر اجلاس، کانگریس کا تازہ ترین بیان سامنے آگیا

    نئی دہلی (اے پی پی) کانگریس نے بیان دیا ہے کہ اقوام متحدہ میں کشمیر پر بحث مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے.

    تفصیلات کے مطابق بھارت کی سب سے قدیم سیاسی جماعت کانگریس نے کشمیر کے حالات پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہونے والے بحث کو مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس اجلاس کو منسوخ کرانے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پارٹی اس معاملے کو بہت سنگین مانتی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر کے معاملے میں بحث ہونے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم خاموش ہیں۔ شروع سے ہی خارجہ پالیسی ایک لازمی ستون رہاہے، اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیر کے معاملے کو بین الاقوامی طور پر اٹھایا جارہا ہے جو مکمل طور پر خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

    ابھیشیک منو سنگھوی نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ اسی موضوع پر چین جاتے ہیں اور ناکام لوٹتے ہیں جبکہ چین پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت میں سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد کرا لیتا ہے جو بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے۔

  • وزیر خارجہ عید کی نماز کہاں ادا کریں گے؟

    وزیر خارجہ عید کی نماز کہاں ادا کریں گے؟

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مظفر آباد میں عید کی نماز ادا کرنے کے بعد کشمیر ریلی سے خطاب کریں گے.

    تفصیلات کے مطابق شاہ محمود قریشی عید کی نماز مظفر آباد میں ادا کریں گے جبکہ کشمیر ریلی سے خطاب بھی کریں گے. عید کے روز کشمیر ریلی عید گاہ سے آزادی چوک تک نکالی جائے گی. وزیر خارجہ کشمیری مہاجرین سے اہم ملاقات بھی کریں گے. دوسری جانب شاہ محمود قریشی کی حریت رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں بھی ہوں گی. دوسری جانب شاہ محمود قریشی کی وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات بھی ہوئی ہے جس میں وزیرخارجہ نے کپتان کو دورہ چین کے حوالے سے آگاہ کیا.

    واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل آٹھ روز سے کرفیو نافذ ہے کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ نے عید مظفر آباد میں منانے کا اعلان کیا ہے.

  • کشمیر کا سودا کس نے کیا؟ اچانک ایسا انکشاف کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

    کشمیر کا سودا کس نے کیا؟ اچانک ایسا انکشاف کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی

    اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے عمران خان پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے کشمیر کو بیچ ڈالا ہے.

    تفصیلات کے مطابق ریحام خان نے اپنے حالیہ ٹویٹر پیغام میں عمران خان پر کشمیر کو بیچنے کا الزام لگادیا ہے. ریحام خان نے ٹویٹ میں عمران خان کو سیلیکٹد کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ "ویسے یہ سلیکٹڈ جو ہے یہ وزیراعظم کم اور olx زیادہ بنا ہوا ہے۔ جو سامنے آتا ہے "بیچ دے”، اس نے پہلے نظریہ بیچا، پھر بھینسیں بیچ ڈالی، اس کے بعد گاڑیاں بیچ دی، پھر ضمیر بیچا، دل نہیں بھرا تو کشمیر ہی بیچ ڈالا”.

    واضح رہے کہ مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی خود مختاری ختم کی، جس پر سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے. تاہم اب ریحام خان نے اپنے سابق شوہر عمران خان پر کشمیر کو بیچنے کا الزام لگا دیا ہے.

  • جموں و کشمیر کی دل دہلا دینے والی تازہ ترین ویڈیو سامنے آگئی

    جموں و کشمیر کی دل دہلا دینے والی تازہ ترین ویڈیو سامنے آگئی

    میرپور: جموں و کشمیر کی تازہ ترین ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کشمیری سڑکوں پر مارچ کر رہے ہیں اور بھارتی فوج ان پر سر عام فائرنگ کر رہی ہے.

    تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کیخلاف جدوجہد کرنے والے کشمیریوں کی تازہ ترین ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کشمیری بھارتی فوج کیخلاف مارچ کر رہے ہیں ساتھ ہی مودی سرکار اور بھارتی فوج کیخلاف سخت نعرے بازی کی جارہی ہے. دوسری جانب بھارتی فوج سرعام کشمیریوں پر فائرنگ کرتی ہوئی نظر آرہی ہے. لیکن کشمیریوں کا حوصلہ دیکھنے والا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کیخلاف ڈٹ کر لڑ رہے ہیں.

    https://twitter.com/_Faysal/status/1160125283342663680

    واضح رہے کہ مسلسل آٹھ روز سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے لیکن اس کے باوجود کشمیری آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں.

  • کشمیری رہنماؤں کو کہاں منتقل کیا جارہا ہے؟ بھارتی ظلم کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا

    کشمیری رہنماؤں کو کہاں منتقل کیا جارہا ہے؟ بھارتی ظلم کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا

    میرپور: جموں و کشمیر کی حکومت نے کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والے 25 سے زائد لیڈروں کو بھارت میں نامعلوم جیلوں‌ میں منتقل کردیا ہے.

    تفصیلات کے مطابق جمعرات کو جموں و کشمیر کی حکومت نے میاں قیوم کو بھارت کی نامعلوم جیل میں منتقل کیا ہے. قیوم ایک مشہور وکیل ہے اور وہ بہت سے معاملات کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔ انہیں اسی بات کی سزا دی گئی ہے کہ وہ کشمیر میں کھڑے ہوکر بھارت کو للکارتے ہیں اور کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں. بھارت کا معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری ہے جبکہ دنیا اس وقت خاموش بیٹھی ہوئی ہے. قیوم پہلے شخص نہیں جنہیں بھارت مین نامعلوم جیل میں قیدی بنایا گیا ہو بلکہ پچھلے کچھ دنوں میں 25 سے زائد ایسے لیڈر ہیں جنہیں بھارت کی نامعلوم جیلوں میں منتقل کردیا گیا ہے.

    واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 35 اے اور 370 کی منسوخی کے بعد سے ہی کشمیر میں ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے.

  • اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی

    اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی

    لاہور: سینئر تجزیہ نگار ایاز امیر نے کہا ہے کہ اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی جنہیں ہم دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں.

    تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایاز امیر نے کہا کہ ہم لوگ بےبس ہوگئے ہیں، ہمیں بھارت کا جو جواب دینا چاہئیے تھا وہ ہم نے نہیں دیا اور ہم لوگوں کے پاس اختیار ختم ہوگئے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ جو تنظیمیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑتی رہی ہے اور جنہیں ہم لوگ دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں، وہ ہی لوگ ٹھیک تھے اور پوری 20 کروڑ میں وہ ہی لوگ تھے جن میں ہمت تھی باقی کسی میں ہمت نہیں ہوئی.

    واضح رہے کہ پچھلے 18 سال سے حافظ سعید اور ان کی جماعت "جماعت الدعوۃ” نے کشمیر کے مسلئے کو ریلی، جالوس اور لٹریچر کے ذریعے زندہ رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ہماری حکومتوں نے کشمیر کے مسلئے کو حل کرنے کیلئے کوئی کوشش نہیں کی. صرف و صرف حافظ سعید کی جماعت نے یہ کام سر انجام دیا اور بد قسمتی سے کچھ لوگوں نے انہیں دہشتگرد قرار دیدیا. لیکن درحقیقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں‌ مسلئہ کشمیر زندہ رکھنے والے حافظ سعید اور ان کی جماعت ہے. تاہم اب اس بات کو سینئر تجزیہ نگار ایاز امیر نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ اگر 20 کروڑ میں سے کسی میں ہمت تھی، تو ان میں تھی جنہیں ہم دہشتگرد قرار دیتے آئے ہیں.

  • وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    وہ وقت جب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا——–احمد طارق

    یہ بات 1965 کی ہے جب پاک بھارت جنگ ہوئی،6 ستمبر 1965 کی صبح 9 بجے لاہور مین افواہ پھیلی کہ بھارت نے پاکستان میں حملہ کردیا ہے لیکن بعد میں پتا چلا کہ یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر ہے۔

    1965 کی جنگ میں جہاں دراصل کشمیر میں جنگ ہورہی تھی اور ہم لوگ کشمیر میں لڑ رہے تھے، پاکستان اندازہ بھی نہیں لگاسکتا تھا کہ بھارت کشمیر کے علاوہ پنجاب اور بالخصوص لاہور سے حملہ کرسکتا ہے، اس تلخ حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بھارتی فوج واہگہ کے ذریعے لاہور کے شالامار باغ تک پہنچ گئی اور ہم لوگ اس سے لاعلم تھے کہ بھارتی فوج شالامار باغ تک پہنچ گئی، تاہم جب بھارتی فوج نے دیکھا کہ یہاں تو کوئی پاکستانی فوج نظر نہیں آرہی تو انہیں خیال آیا کہ ہوسکتا یہ کوئی پاکستانی چال ہو کہ ایک دفعہ جب ہم لوگ شہر کے اندر داخل ہوں تو ہمیں چاروں طرف سے گھیر کر ہمیں تباہ کردیا جائے لیکن وہ حقیقت سے ناواقف تھے۔ خیر بھارتی فوج یہ پاکستانی چال سمجھ کر واپس بھارت چلی گئی لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ بھارتی شالامار باغ تک ضرور آئے تھے۔

    اب کچھ بات کرلیتے ہیں کشمیر کی، جب ہمارے پاس کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع تھا اور ہم نے یہ موقع بآسانی گنوا دیا۔1965 کی جنگ میں جہاں ہم نے کئی بھارتی چوکیاں تباہ کیں اور کئی بھارتی فوجیوں کو مار ڈالا۔ یہ ہی نہیں ہم نے بھارتی فوجیوں کو قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو 1965 کی جنگ میں ہم نے ایک طرح سے بھارتی فوجیوں کو کافی مارا اور قیدی بھی بنا کر رکھا۔ اس طرح یہ وہ موقع تھا جب ہم بھارت سے کشمیر بآسانی حاصل کرسکتے تھے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو یہ کہ ہماری فوج نے بھارتی فوج کو میدان میں کافی مارا اور دوسری بڑی وجہ بھارتی فوج کی چین کے ہاتھوں 1963 کی جنگ میں شکست ہے۔ 1963 میں بھارتی فوج کو چین سے بہت مار پڑ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ ہمارے بڑے سمجھتے تھے کہ اب کشمیر حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے اس لیے کشمیر پر چڑھائی کردی جائے، ہم لوگ کشمیر میں لڑتے رہے اور وہ شالامار سے ہوکر واپس چلے گے لیکن ہماری فوج نے بھارتی فوج کو 1965 میں خوب مارا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وہ موقع تھا کہ بس ہم کشمیر چھین لیتے کیونکہ نہ صرف بھارتی فوج کو چین سے شکست ہوئی بلکہ ہماری فوج نے بھی بھارتی فوج کو خوب مزا چکھایا۔ اس طرح اس چھوٹے سے دورانیے میں 2 جنگوں میں شکست کھانے کے بعد بھارتی فوج، بھارتی حکومت اور ان کی عوام کا مورال بالکل ڈاون ہوگیا تھا۔ ہم لوگ چاہتے تو کشمیر بآسانی چھین سکتے تھے۔

    لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ ہمارے بزرگوں نے 10 جنوری 1966ء کو معاہدہ تاشقند پر دستخط کردیے۔ پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے ”معاہدہ تاشقند“ پر دستخط کئے۔ اس معاہدے کیلئے پاکستان کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان 3 جنوری 1966ءکو اپنے سولہ رکنی وفد کے کیساتھ روس کی جمہوریہ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچے‘ انکے وفد میں وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو‘ وزیر اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین وزیر قانون منظور قادر اور وزیر تجارت غلام فاروق کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام شامل تھے۔ اس معاہدے میں ہمارے عظیم بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ کشمیر کا حل مزاکرات سے نکالا جائے گا، اور اس پر ہمارے سابق صدر ایوب خان کے دستخط موجود ہیں۔ پاکستان نے کشمیر کا حل نکالنے کیلئے مذاکرات کا راستہ اس وقت نکالا جب بھارت کو 2 جنگوں میں مار پڑ چکی تھی اور پاکستان کے پاس بھارت کے کئی فوجی قیدی بھی تھے اس طرح پاکستان چاہتا تو بآسانی اپنی ہر کوئی بات منوا سکتا تھا لیکن پاکستان نے مذاکرات کرنے کو ترجیح دی جو آج تک ہورہے ہیں۔

    معاہدہ تاشقند ہی دراصل وہ معاہدہ ہے جس نے ایوب خان کی سیاست کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے بھٹو نے یہ کہہ کر ایوب خان حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ایوب خان نے معاہدہ تاشقند پر دستخط کرکے پاکستان کی سلامتی اور سالمیت کا سودا کیا ہے۔ اور دراصل یہ ہی وہ معاہدہ ہے جس کی وجہ سے ہم لوگ اب کشمیر کبھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ضرور ہے لیکن اسے تسلیم کرلینا چاہیئے، ایک طرف بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیر کی نہ صرف خود مختاری ختم کی ہے بلکہ اب کشمیر کا سارا کنٹرول براہ راست بھارتی وفاق کے پاس چلا گیا ہے۔ دوسری طرف ہماری معصوم قوم 21ویں صدی میں جنگ کی باتیں کرتے ہیں جو حقیقت سے ناواقف ہیں. معاہدہ تاشقند کسی مغربی ملک کی سازش نہیں بلکہ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر ہمارے صدر کے دستخط آج بھی موجود ہیں۔ اس معاہدے کو 53 سال ہوگئے ہیں اور آج 53 سال بعد بھی مذاکرات چل رہے ہیں جو شاید اب چلتے ہی رہیں گے۔