Baaghi TV

Tag: news

  • سیلابی صورتحال کے باعث جھانوی کپور پریشان

    سیلابی صورتحال کے باعث جھانوی کپور پریشان

    بالی وڈ اداکارہ جھانوی کپور ہو گئی ہیں پریشان اور ان کی پریشانی کی وجہ ہے ان کی فلم کی شوٹنگ کا ملتوی ہوجانا. کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے جھانوی کپور کی فلم الاج کی شوٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے. بھارت میں ہونے والی مون سون کی تباہ کن بارشوں نے جہاں شمالی ریاستوں میں تباہی مچاہی وہیں دارالحکومت نئی دہلی کو بھی شدید متاثر کیا ، موسلا دھار بارشوں کے باعث نئی دہلی کی جمنا ندی میں پانی کی سطح خطرناک حد سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ بارشوں سے شہر کے بیشتر علاقے سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔

    ”الاج کی شوٹنگ کے لئے نئ دہلی کے کچھ مقامات کا انتخاب کیا گیا تھا” ، لیکن دہلی میں جا بجا پانی ہے جس کی وجہ سے پرڈیوسر کو شوٹنگ ہی کینسل کرنی پڑ گئی ہے. جھانوی کپور کا کہنا ہے کہ الاج ایک الگ اور مختلف فلم ہے جس میں میرا کردار میری پہلی فلموں سے کافی الگ ہے. یاد رہے کہ جھانوی کپور بونی کپور اور سری دیوی کی صاحبزادی ہیں. انہوں نے نہایت کم عرصے میں انڈسٹری میں اپنا نام اور مقام بنایا ہے. جھانوی کپور کی بہن خوشی کپور جو کہ بالی وڈ میں جلد ہی ڈیبیو کرنے جا رہی ہیں.

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

  • 19 جولائی  ساغر صدیقی کا یوم وفات

    19 جولائی ساغر صدیقی کا یوم وفات

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ساغر صدیقی

    19 جولائی 1974: یوم وفات

    محمد اختر المعروف ساغر صدیقی جدید اردو ادب کے شاعر تھے،نئے زمانے کی شاعری کرتے تھے ،جس زمانے میں ساغر صدیقی نے شاعری شروع کی ،اس وقت جدید اور ترقی پسند ادب و شاعری کی جڑیں بہت گہری ہو چکی تھیں ،اس لئے ساغر کی شاعری میں جدیدت اور ترقی پسندیت نظر آتی ہے۔ساغر 1928 میں مشرقی پنجاب کے علاقے انبالہ میں پیدا ہوئے ،،ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ،ماں کا تعلق دلی اور باپ کا پٹیالہ سے تھا۔غریب گھرانے سے تعلق تھا ،اس لئے بچپن میں چند درجے ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔

    اس زمانے میں ان کے پڑوس میں ایک انسان رہا کرتے تھے جن کا نام حبیب حسن تھا ،عالم و فاضل انسان تھے ،اس لئے ساغر ان سے تعلیم و تربیت لیتے،کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر سات سے دس برس کے درمیان تھی ،اس وقت سے ہی انہوں نے مشاعروں میں شاعری پڑھنا شروع کردی ۔انبالہ میں غربت سے تنگ آگئے تو پندرہ برس کی عمر میں محنت و مزدوری کے لئے امرتسر چلے گئے ۔اب محنت مزدوری کرتے ،جہاں کام ملتا ،وہ سوجاتے ،لیکن شعر بدستور کہتے رہے ،اب چند غریب دوست تھے ،انہیں شعر سناتے ،اپنا تخلص ناصر حجازی رکھ لیا ،بعد میں تخلص بدلا اور ساغر صدیقی ہو گئے ۔

    سولہ سال کی عمر میں انیس سو چوالیس میں امرتسر میں اس بچے نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل پڑھی اور پھر کیا تھا ہر طرف سے بھرپور داد ملی ۔سمجھ لیں ساغر نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔یہی سے دنیائے ادب میں ان کی پہچان بننا شروع ہوئی ۔اب فنی سفر کا آغاز ہو چکا تھا ،مزدوری چھوڑ دی ،باقاعدہ شعر و شاعری شروع کردی ۔لطیف انور گرداسپوری سے شاعری کے حوالے سے تربیت حاصل کی ۔1947 میں ہندوستان تقسیم ہو گیا ،پاکستان کی تخلیق ہوگئی ،ساغر اب امرتسر سے لاہور آگئے ۔اب ان کی عمر 19 سال تھی ۔داتا کی نگری میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ان کا کلام اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونے لگا۔وہ مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گئے تھے ۔اب ساغر بیس سال کا تھا ،خوبصورت نوجوان ،جس کے لمبے سنہرے گھنگریالے بال تھے ،لمبا قد ،حسین آنکھیں ،کھلتا رنگ ،خوبصورت باتیں ،حسن و جوانی ،ناز و انداز ،یہ تھے ساغر صدیقی جنہیں جنہیں اردو شاعری کا شہزادہ کہا جاتا تھا ،وہ دنیائے ادب کے شہزادے بن گئے تھے ۔اب وہ بھارت اور پاکستان کے فلم سازوں کی فلموں کے لئے گانے لکھ رہے تھے ،وہ نغمے مشہور بھی ہورہے تھے ۔پچاس کی دہائی کے اوائل میں محمد رفیع نے ایک گانا گایا تھا جو بہت مقبول ہوا،گانا تھا ،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی ،مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ۔یہ ساغر کی عزت اور شہرت کا زمانہ تھا ۔1947 سے 1952 تک کا زمانہ ساغر صدیقی کا سنہری دور تھا ۔یہ زمانے انہیں کامیابی ،شہرت ،اور دولت کی بلندیوں پر لے جانے والا تھا ۔کاش ایسا ہوتا ،لاابالی طبعیت تھی ،لاہور میں رہنے کے لئے ایک گھر تک نہ بنایا انہوں نے شادی بھی نہیں کی ،انہیں کہا گیا کہ متروکہ جائیداد کا دعوی کرکے مفت گھر حاصل کر لیں ،کہا کہ وہ جائیدار ترک کرکے نہیں آئے تھے ،اس لئے گھر نہیں لیں گے ۔سسٹی ہوٹلوں میں رہتے تھے ،کرائے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ،کھانا بازار سے کہیں بھی مل جاتا ،کھا لیتے ،اپنا خیال کبھی نہ رکھا ۔پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،لیکن پھر حالات بدلنے لگے ،کہا جاتا ہے 1952 میں ایک ادبی مہانامے کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ شدید سردرد ہوا،درد سے نجات کے لئے معرفین کا کسی نے انجیکشن لگادیا ۔

    سردرد تو ختم ہو گیا ،لیکن نشے سے آشنا ہو گئے ۔اوپر سے بدقسمتی دیکھیں کہ جس دوست فوٹو گرافر کے ساتھ کرائے کے کمرے میں رہتے تھے ،وہ ہر قسم کا نشہ کرتا تھا ۔شراب ،افیون ،چرس ،بھنگ وہ سب نشے کرتا تھا ،ساغر بھی اسی راستے پر چل نکلے ۔ا سلئے ساغر شکستہ کھنڈر بنتے چلے گئے ۔اب ہوش و حواس میں شاعری کررہے تھے ،لیکن زمانے کی ستم ظریفیاں ان کا مقدر بن گئیں تھی۔دوستوں نے آنکھیں پھیر لی ،دوستوں کے ظلم وستم سہہ رہے تھے ۔انہیں محسوس کررہے تھے ،لیکن خاموش تھے ۔کبھی شکوہ نہیں کیا ۔اب ان کی شاعری دکھ کی آواز بن گئی تھی ۔ان کے کلام میں بہت نغمگی تھی ،اس لئے ان کے کلام کو جس نے بھی گایا وہ مشہور ہو گیا اور خوب دولت سمیٹی ،لیکن ساغر کی حالت بدترین تھی ۔عزیر میاں قوال کی گائی گئی مشہور قوالی،کون بشر ہے اللہ جانے ،ان کی تحریر کردہ ہے ۔اسی طرح نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ غزل تو سب نے سن رکھی ہوگی ،میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا ،یہ بھی ساغر صدیقی کی غزل ہے ۔استاد غلام علی نے تو ساغر صدیقی کے غزلوں کی مکمل کیسٹ ریلیز کی ۔

    ان تمام گلوکاروں کو معاوضے ملتے ،لیکن ساغر کو کوئی پیسہ نہ ملا ۔ریڈیو پر ساغر کے لکھے گانے چل رہے ہوتے اور ساغر لاہور کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہوتا ،یہ تھا وہ کرب جس کا وہ شکار تھے ۔اب وہ داستان عبرت بن گئے تھے ۔اب ساغر صدیقی نشے کی علت پوری کرنے کے لئے بلیک میل ہورہا تھا ،لوگ ان سے غزل اور نظم لکھواتے ،اور نشہ لیکر دیتے ،فلمساز ان کے گانوں سے پیسہ کمارہے تھے ،لیکن ساغر لاہور کی سڑکوں پر بدحال تھا ۔لوگ ان کے کلام کو جمع کرکے چھپوا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے ۔ساغر نظم اور غزل کا عظیم شاعر ہے ،جس نے کبھی بھی اپنی شاعری میں کسی فلسفے کی تبلیغ نہیں ،غم پسندی ،حسن و عشق ،ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ساغر نے وطن سے محبت کی خاطر غیر سرکاری قومی ترانہ بھی لکھا تھا ،وہ قومی ترانہ ایک زمانے میں سینما گھروں میں دیکھایا اور سنایا جاتا تھا ،بیس سال تک لوگ ساغر کو ایک ملنگ ،درویش ،مجذوب اور پاگل کہتے رہے ،لیکن ان کا کلام کہیں سے بھی کسی دیوانے کا کلام نہیں لگتا ۔بھاٹی،لوہاری،داتا دربار،میکلوڈ روڈ گوال منڈی میں وہ خون تھوک رہا تھا ،وہ جس نے عظیم گیت لکھے ،وہ اب مررہا تھا ،جانے کیسا سفر ہے میرا ،جہاں ہے منزل وہی لٹیرا ۔اب پڑھے لکھے لوگ ساغر کو نشے کی پوریا ،بھنگ ،چرس اور شراب اس شرط پر دیتے کہ وہ انہیں نظم یا غزل لکھ کردیں گے ،ساغر انہیں لکھ کر دیتا اور وہ اپنے نام پر چھپواتے ۔

    سب نے آنکھیں پھیر لی تھی ۔ساغر اب مکمل طور پر نشے کی پناہ میں تھا ۔وہ نوجوان جو حسین و جمیل تھا ،اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔جسم پر میلے کچیلے بدبودار کپڑے تھے ۔میلی سی چادر میں لپٹا یہ شاعر ننگے پاوں لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھوم رہا تھا ۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے ۔اور زمانے پر وہ مسکرارہا تھا ۔کہتے ہیں اسی زمانے میں ایک کتا بھی ان کا رفیق بن گیا تھا ،اب وہ جہاں جاتے ،وہ کتا بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔ایک حسین اور حساس شاعر اس دنیا میں ایک کتے کے ساتھ رہ رہا تھا ۔عمر اب 46 برس تھی ،دن تھا 19 جولائی سال تھا 1974 جب صبح لوگوں نے دیکھا کہ لاہور کی ایک سڑک کے کنارے پر ساغر کی لاش پڑی ہے ۔زمانے کے ظلم نے عظیم شاعر کو برباد کردیا ،وہ جو اپنی شاعری ترنم سے پڑھتا تھا ،وہ جو ہر دور کا شاعر ہے ،وہ جو خوش پوش نوجوان تھا ،وہ جو بوسکی کے ملبوسات پہنتا تھا ،وہ جو دلچسپ باتیں کرتا تھا ،اس کی لاش سڑک کنارے ملی ،یہ ہے ہمارا سماج جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اشر ف المخلوقات سمجھتے ہیں ۔وہ جس کا سینا امنگوں اور حوصلوں سے بھرا تھا ،اس سماج نے اسے سڑک کے کنارے جانور سے بھی بدترین موت دیدی ۔اس سماج نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا تھا ۔وہ اپنی زات میں سمٹتا چلا گیا اور دور ہو تا چلا گیا ،یہاں تک کے ایک آوارہ کتے نے اسے اپنا دوست بنا لیا تھا ۔کتے کو بھی انسانیت کی شناخت تھی ،لیکن انسانوں نے اسے کتے کی موت دی ۔سوال یہ ہے کہ وہ تو اپنی زات کو تسخیر کر گیا ،لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو ،

    بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ،
    ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے ،

    مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ،
    ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے ،

    اب کہاں ایسی طبعیت والے ،
    چوٹ کہا کر جو دعا کرتے تھے ،

    بکھری بکھری زلفوں والے
    قافلے روک لیا کرتے تھے ،

    آج گلشن میں شگوفے ساغر ،
    شکوے باد صبا کرتے تھے ۔

    میلی چادر ،نحیف جسم ،چپل سے محروم ،روٹی سے محروم ،دن رات سڑکوں کی خاک،نشے کی لعنت میں غرق،ہم نے ایسے کیسے ہونے دیا ؟کیا کبھی سوچا کہ ہم کتنے ظالم ہیں ؟جس کے شعر سینوں میں سنسنہاہٹ اور دلوں کو گداز بخشتے تھے ،وہ کتے سے بھی بدترین موت کا شکار ہو گیا ؟ساغر کا ایک شعر ہے کہ ۔۔

    چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں ،
    دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ،
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تحریر ‘ نامعلوم
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • وہاج اور سجل علی ایک ساتھ کاشف نثار کے پراجیکٹ میں

    وہاج اور سجل علی ایک ساتھ کاشف نثار کے پراجیکٹ میں

    اداکار وہاج علی جو آج کل شائقین کے فیورٹ بنے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے مداحوں کو ایک خوشخبری سنائی ہے، اور وہ خوشخبری یہ ہے کہ وہ اور سجل علی بہت جلد ایک ڈرامے میں دکھائی دیں گے. وہاج علی نے سوشل میڈیا پر ایک مداح کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں اور سجل علی بہت جلد ایک ڈرامے میں آرہے ہیں ، مختصر سی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے اور سجل علی کے ڈرامے کی ہدایات کاشف نثار کی ہوں گی جبکہ تحریر بی گل کی ہو گی. وہاج علی نے کہا کہ سجل علی اور کاشف نثار کے ساتھ کام کرنے کے لئے پر جوش ہوں.

    وہاج علی نے اپنے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا، اور کہا کہ میرے ڈرامہ تیرے بن اور مجھے پیار ہوا تھا کو جس طرح آپ سب نے پذیرائی دی ہے اس کے لئے میں کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں نہیں جانتا. واضح رہے کہ وہاج علی نے بڑی سکرین پر بھی تیری میری کہانیاں کے زریعے اینٹری کر دی ہے. شائقین نے ان کو چھوٹی سکرین کے بعد بڑی سکرین پر بھی بہت پسند کیا ہے. تیری میری کہانیاں میں وہاج مہوش حیات کے ساتھ نظر آئے ہیں.

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

  • سینئرز کی بجائے نئی لڑکیوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس دیا جاتا ہے ذو القرنین حیدر

    سینئرز کی بجائے نئی لڑکیوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس دیا جاتا ہے ذو القرنین حیدر

    سینئر اداکار ذوالقرنین حیدر جو کہ آج کل ڈراموں میں کم ہی نظر آتے ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہےکہ میں نے ساری زندگی فنکاروں کے حقوق کی بات کی ہے اور مرتے دم تک ایسا کرتا رہوں گا. انہوں نے کہا کہ بہت سارے فنکار کسمپرسی کی ھالت میں اس دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان ھال نہیں ہوتا. گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ایسے فنکاروں کا خیال کرے، جو بیمار ہیں یا جن کے حالات بہت خراب ہیں لیکن ایسا ہوتا ہی نہیں ، فنکار غربت اور علاج نہ کروا پانے کے باعث بری حالت میں اس دنیا سے چلے جاتے ہیں.

    انہوں نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بہت سارے سینئرز بیٹھے ہیں جن کے کریڈٹ پر بہت زیادہ کام ہے لیکن ان کو کبھی بھی پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے کنسیڈر ہی نہیں کیا گیا” ، لیکن ان لڑکیوں کو پرائیڈ پرفارمنس دے دیا جاتا ہے جن کا کیرئیر محض چند برس کا ہوتا ہے، ان کے کریڈٹ پر کوئی خاص کام بھی نہیں ہوتا. انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال بہت عجیب ہے ، سینئرز نے جو کام کیا ہے اسکو حکومتی سطح پر مانا جانا چاہیے، نئے لڑکے لڑکیوں کو پرائیڈ آف پرفارمنس جیسا ایوارڈ ملنا میری سمجھ سے بالکل باہر ہے.

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

  • گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے کرنا ضروری ہیں اور کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا کیونکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ وزارت خارجہ میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے ضروری ہیں، دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ڈپلومیٹک سروس کے اصول و ضوابط پر پوری طرح عملدرآمد ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا اور ملکی خارجہ پالیسی میں وزارت خارجہ کا اہم کردار ہوتا ہے جبکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی مشنز ملک کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی میں نرمی کررہے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت واضح ہے، ہم ہر ملک سے برابری کی سطح پر برادرانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں‘ کوپ 27 کانفرنس میں لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام کے لیے وزارت خارجہ کا کردار قابل قدر رہا، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم اہم کردارادا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تقریب میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہتری اورسیکیورٹی کے لیے بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وزارت خارجہ کے افسران پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، ٹیم ورک سے کسی بھی چیلنج سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک سروس میں شامل ہونے والے نئے افسروں کو زبان و بیان کی تربیت حاصل کرنا چاہیئے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے ترقی کرتی دنیا کے ساتھ ہمیں شامل ہونا ہے۔

  • وجاہت رئوف  اور شازیہ اپنے بیٹے کو کام کروانے کا معاوضہ دیتے ہیں؟

    وجاہت رئوف اور شازیہ اپنے بیٹے کو کام کروانے کا معاوضہ دیتے ہیں؟

    عاشر وجاہت جن کی ابھی فلم jhon ریلیز ہوئی ہے اس میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا ہے ، ہمایوں سعید ، عمران اشرف اور یاسر حسین نے عاشر وجاہت کو سٹار قرار دیدیا ہے. عاشر وجاہت مشہور ڈائریکٹر وجاہت رئوف اور شازیہ وجاہت کے بیٹے ہیں، حال میں وجاہت رئوف اور شازیہ وجاہت نے ایک انٹرویو دیا اس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے جب بھی اپنے بیٹے سے اپنی پروڈکشن میں کام کروایا ہے تو اسکو چیک کی صورت میں معاوضہ ضرور دیا ہے. وجاہت رئوف نے کہا کہ جب سیٹ پر 16 سے 18 گھنٹے کام کیا جائے اور اس کے بعد چیک ملے تو اس کام کی قدر ہوتی ہے.

    ہم نے اپنے بیٹے سے فلم کراچی سے لاہور میں کام کروایا تھا اس کا ہم نے اسکو معاوضہ دیا تھا. انہوں نے کہا کہ” عاشر محض 9 برس کا تھا جب اسکو اس کے کام کے چیک ملنا شروع ہوئے تھے.” انہوں نے کہا کہ جب وہ کسی اور کی پروڈکشن میں کام کرتا ہے تو ہم اسکی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن سیٹ کے بر بار چکر نہیں لگاتے. یاد رہے کہ عاشر وجاہت اور معروف ٹک ٹاکر رومیصہ کی جوڑی کو بہت سراہا جا رہا ہے. فلم jhon کو شائقین کافی پسند کررہے ہیں.

    عالیہ بھٹ جاسوس بن گئیں

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

  • سعودی عالم نے یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی کو حرام قرار دے دیا

    سعودی عالم نے یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی کو حرام قرار دے دیا

    سعودیہ کے معروف عالم دین اور جدہ کی ایک مسجد کے امام عاصم الحکیم نےیوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی کو حرام قرار دے دیا ہے جبکہ ٹوئیٹر پر عبد المقتدر نامی صارف نے سعودی عالم عاصم الحکیم سے ایک ٹوئیٹ میں سوال کیا کہ یوٹیوب کی کمائی حرام ہے یا پھر حلال تو اس پر جواب دیتے ہوئے معروف عالم نے موقف اپنایا کہ یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی حرام ہے.


    جبکہ خیال رہے کہ مولانا عاصم الحکیم نے اس بارے میں مزید کوئی بات نہ کی کہ کیسے یہ کمائی حرام ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جس یوٹیوب کی کمائی کو مولانا صاحب نے حرام قرار دیا اسی یوٹیوب پر خود کا چینل بھی موجود ہے اور چار قبل دیا گیا یوٹیوب بارے ایک بیان بھی موجود ہے.

    واضح رہے یوٹیوب بارے اپنے بیان میں سعودی عالم نے کہا تھا کہ آج کے معاشرے میں یوٹیوبر ہونا نوجوانوں کا بڑا مشغلہ بنتا جارہاہے لیکن اسلامی نقطہ نظر سے یوٹیوب سے کمائی کرنا بالکل حرام نہیں ہے کیونکہ اس کا انحصار یوٹیوبر کے مواد پر ہے جو وہ یوٹیوب پر اپلوڈ کرتا ہے، اگر کوئی یوٹیوبر یوٹیوب پر حرام کانٹینٹ جیسے میوزک ، خاتون ، نازیبا گفتگو، فحاشی اور بے حرمتی پر مشتمل مواد ہو اپلوڈ کرے تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام تصور ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم

    یاد رہے کہ مولاناعاصم الحکیم سعودیہکی جدہ کی موجود مسجد امام ہیں اور جمعہ کا خطبہ بھی دیتے ہیں جبکہ وہ کئی ٹی وی پروگرامز میں بطور میزبان اورمہمان بھی شرکت بھی کرتے رہتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ اسکالر عاصم الحکیم ایشیا یورپ کی کئی یونیورسٹیز میں لیکچر بھی دے چکے ہیں۔

  • میرا اور ہمایوں سعید جلد ہی ایک ساتھ

    میرا اور ہمایوں سعید جلد ہی ایک ساتھ

    اداکارہ میرا جو کہ ہمایوں سعید کو کافی پسند کرتی ہیں اور ماضی میں اس حوالے سےمختلف بیانات بھی دے چکی ہیں، اب میرا ہمایوں سعید کے ساتھ دکھائی دیں گی. ڈرامے کی کاسٹ میں کون ہو گا ، ڈائریکٹر اور پرڈیوسر کون ہو گیا اسکی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں لیکن یہ ضرور سامنے آچکا ہے کہ ان دونوں کے ڈرامے کو معروف لکھاری خلیل الرحمان قمر لکھ رہے ہیں. ہمایوں سعید جوکہ آخری بار ٹی وی پر میرے پاس تم ہو میں نظر آئے تھے ، ان کے بارے میں‌کہا جا رہا ہے کہ وہ یمنہ زیدی کے ساتھ بھی ڈرامہ جنٹلمین کررہے ہیں. یہ ڈرامہ گرین اینٹرٹینمنٹ پر دکھایا جا ئیگا.

    تاہم میرا اور ہمایوں سعید کے مداح یہ جان کر کافی خوش ہیں کہ دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے کا موقع میسر آئے گا. میرا سے حال ہی میں لاہور میں کسی صحافی نے سوال کیا کہ ہمایوں سعید کے ساتھ آپ ایک پراجیکٹ میں‌کام کررہی ہیں اسکی تفصیلات تو شئیر کیجیے تو انہوں نے کہا کہ میں بالکل ہمایوں سعید کے ساتھ کام کررہی ہوں لیکن تفصیلات کے لئے مجھے کسی ٹی وی شو میں‌بلوایا جائے پھر میں بتائوں گی . واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ٕٕ”دونوں ایک ساتھ کام کررہے ہیں اس سے پہلے یہ دونوں فلم انتہا اور ڈرامہ سیریل اقرا میں دکھائی دے چکے ہیں.”

    عالیہ بھٹ جاسوس بن گئیں

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

     

  • الحمراء میں صوفی شاعر میاں محمد بخش کے کلام پر مبنی پروگرام کا انعقاد

    الحمراء میں صوفی شاعر میاں محمد بخش کے کلام پر مبنی پروگرام کا انعقاد

    لاہور آرٹس کونسل الحمراء میں صوفی شاعر میاں محمد بخش کے کلام پر مبنی پروگرام کا انعقادکیا گیا۔پروگرام کا مقصد آفاقی شاعر میاں محمد بخش کو خراج عقیدت پیش کرنا تھا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء محمد سلیم ساگر نے اس موقع پر کہا کہ میاں محمد بخش بلند درجہ عارف، ولی اللہ ہونے کے ساتھ آفاقی شاعر تھے،آپ کی شاعری خدا کی ذات اور صفات کو پہچاننے کا درس دیتی ہے۔حسن و عشق،پیار و محبت،کارخانہ قدرت میں تدبر و فکر کرنا،خالق کی معرفت میں لگے رہنا آپ کی شاعری کے موضوعات ہیں۔میاں محمد بخش نے 17پنجابی جبکہ ایک کتاب فارسی میں لکھی،سیف الملوک انکی مشہور و معروف تصنیف ہے۔

    شام بیادِ میاں محمد بخش میں نامور گلوکار عمران شوکت،شبانہ عباس نے پروگرام کیا۔”عوام کی بڑی تعداد نے پروگرام میں شرکت،” گلوکار وں کو بھرپور داد دی۔پروگرام کی نظامت کے فرائض نوین روما نے نبھائے۔یاد رہے ہ الحمراء آرٹس کونسل میں فنکاروں کی حوصلہ افزائی کےلئے ایسے پروگرامز کا انعقاد تسلسل سے کیا جاتا ہے. حالیہ پروگرام میں شرکت کرنے والے شائقین کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرامز کا انعقاد فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ شائقین کو محظوظ ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں.

     

    عالیہ بھٹ جاسوس بن گئیں

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

     

    ہمایوں سعید اور یمنہ زیدی جنٹلمین میں پہلی بار ایک ساتھ

  • آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

    آغا نے کس بیماری میں مبتلا ہیں اداکار نے بتا دیا

    اداکار آغا علی نے حال ہی میں نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں شرکت کی ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں جلد ایک بیماری میں مبتلا ہوں، اس بیماری کا نام چنبل ہے ، اس بیماری کا مستقل کوئی علاج نہیں ہے بس قدرتی جڑی بوٹیوں سے ہی وقتی طور پر اس کا علاج ہوتا ہے جو کہ کرتا رہتا ہوں ، لیکن میں نے اس کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری۔آغا علی نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ چنبل سے ہاتھ، پیروں اور منہ پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں، یہ دھبے کبھی بہت زیادہ ہوجاتے ہیں اور کبھی کم ہوجاتے ہیں، یہ ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ہم پیش گوئی نہیں کرسکتے۔

    انہوں نے کہا کہ ”مجھے انڈیا سے ایک ڈرامے کی آفر ہوئی تھی” وہ ڈرامہ دبئی میں شوٹ ہونا تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میں اس وقت پاکستان میں ایک ڈرامہ شوٹ کررہا تھا جس کی وجہ ہے یہ آفر قبول نہ کر سکا.انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2008 سے لیکر اب پاکستان فلم انڈسٹری اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکی ، جو کام کسی اور نے کرنا ہے یا کسی اور کا کرنے والا ہے اسکو کرتا کوئی اور ہے.

    عالیہ بھٹ جاسوس بن گئیں

    ثناء لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئیں

     

    ہمایوں سعید اور یمنہ زیدی جنٹلمین میں پہلی بار ایک ساتھ