Baaghi TV

Tag: news

  • عید الفطر پر ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہو گا

    عید الفطر پر ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہو گا

    عید الفطر پر دو بڑی فلموں ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہونے جا رہاہے. دونوں فلمیں بڑے بجٹ اور ہیوی سٹار کاسٹ کے ساتھ بنی ہیں لیکن دونوں‌کے موضوع الگ الگ ہیٰں. ہوئے تم اجنبی یہ ایک پیریڈ فلم ہے جو کہ سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں بنائی گئی ہے.جبکہ منی بیگ گارنٹی ایک کمرشل مصالحہ فلم ہے. جس میں وسیم اکرم ،شنیرا اکرم فواد خان و دیگر شامل ہیں. پرڈیوسر میکال ذوالفقار اور شایان خان ہیں جبکہ ڈائریکشن فیصل قریشی کی ہے. ہوئے تم اجنبی کے پرڈیوسر شاہد حمید ہیں اور ڈائریکٹر کامران شاہد ہیں ، کامران شاہد نے ہی اس کی کہانی لکھی ہے. دونوں فلمیں ہر لحاظ سے بڑی ہیں اب دیکھنا یہ ہےکہ مقابلے کی اس دوڑ میں کونسی فلم شائقین کے دل کو زیادہ بھاتی ہے

    یا دونوں ہی ٹکر کے مقابلے پر کامیابی سے چلتی ہیں. منی بیگ گارنٹی میں شائقین کے لئے دلچپسی کا باعث جو زیادہ ہیں وہ ہیں فواد خان وسیم اکرم اور شنیرا اکرم اور ہوئے تم اجنبی میں سہیل احمد ، محمود اسلم اور کہانی کو جس انداز میں شوٹ کیا گیا ہے وہ دیکھنے سےتعلق رکھتی ہے. یاد رہے کہ ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ ہو چکا ہے اور شائقین کی بڑی تعداد اسے پسند بھی کررہی ہے.

  • لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام الحمرا ءآرٹس کونسل لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کا رنگا رنگ اختتام ہوگیا، اسٹیج پر ملک کے مایہ ناز ادیب، شاعر، آرٹسٹ مجلس صدارت میں موجود تھے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے تین دانشوروں کشور ناہید، نیئرعلی دادا اور ناہید صدیقی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا جبکہ معروف گلوکارہ نتاشہ بیگ، ساحر علی بگا اور گلوکارہ عاصم اظہر کی شاندار پرفارمنس نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کو چار چاند لگادیے، طنز و مزاح کے بادشاہ انور مقصود نے کہاکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ اس فیسٹیول میں اتنے نوجوان آئیں گے، لوگ کہتے تھے کہ پاکستان کے نوجوان کا ادب سے تعلق نہیں رہا آج آ کر دیکھیں کتنے ہزار نوجوان پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا لاہور میں پھولوں کی آمد آمد ہے، لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ لاہور والے الیکشن کے انتظار میں ہیں لیکن الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا ان تین دنوں میں لاہور کے نوجوانوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور

    چمک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں جو بھی حکومت ہو ہمیں ان کی حفاظت کرنا چاہیے کیوں کہ وہ ہماری حفاظت نہیں کر سکتے ہیں۔ احمد شاہ نے سنجیدہ گفتگو کرنے نہیں بلایا لیکن حالات ایسے حالات میں ہنسانے کا دل نہیں کرتا۔ امیر پریشان ہیں ڈالر مہنگا ہو گیا غریب پریشان ہے روٹی مہنگی ہو گئی۔ پاکستان نمک پیدا کرنے میں نمبرٹو ہے لیکن نمک حرام پیدا کرنے پر نمبر ون ہے۔ انہوں نے کہا کہ والڈ بنک نے حکمرانوں سے کہا کہ اثاثے بتاﺅ، ایک زمانے میں حکومت نے یہی فیض احمد فیض سے پوچھا تھا۔انہوں نے کہا آخر میں زیرہ نگاہ اورفیض کی دو نظموں پر گفتگو ختم کی۔”سنا ہے جنگل کا بھی کوئی دستور ہوتا“۔

  • ایم سی سٹین کی جیت، بگ باس کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا گیا

    ایم سی سٹین کی جیت، بگ باس کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا گیا

    بگ باس 16 کا گزشتہ رات فائنل ہوا اور فائنل میں جیسا کہ ایم سی سٹین فاتح قرار پائے ہیں، بگ باس کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر پریانکا چوہدری کے مداحوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے ان کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تعصب پر مبنی ہے. بگ باس 16 کی ونر پریانکا چوہدری تھیں‌ لیکن فیصلے کو بدلہ گیا ہے. پریانکا چوہدری کے پرستاروں نے لگے ہاتھوں ساجد خان اور سلمان خان کی بھی کلاس کر ڈالی اور کہا کہ سلمان خان نے بگ باس میں ساجد خان کو سپورٹ کیا اور ساجد خان کی سپورٹ پریانکا چوہری کے ساتھ ہرگز نہیں تھی جس کی وجہ سے پریانکا کی جیت کو ہار

    میں تبدیل کیا گیاہے. اس بار کے بگ باس کے سیزن میں جو کچھ بھی ہوا اس کی وجہ سے بگ باس کو متعصب بھی کہا گیا.یوں بگ باس 16 کے فائنل کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو نہ صرف غلط کہا جا رہا ہے بلکہ تعصب سے بھرا فیصلہ کہا جا رہا ہے. سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فرح خان نے ایک ویک اینڈ کا وار ہوسٹ کیا اور اس میں صرف اپنے بھائی ساجد کی وجہ سے پریانکا چوہدری کو تنقید کا نشانہ بنایا.

  • اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے کہا ہے کہ جس طرح کی آج کہانیاں بن رہی ہیں وہ ہماری دلچسپی میں نہیں ہیں‌ نہ ہم اس طرح کی کہانیاں لکھ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ رائٹرز کے ہاتھ بندھے نہیں ہونے چاہیں نہ ہی ان کو انسٹرکٹ کیا جانا چاہیے کہ یہ لکھیں اور یہ نہ لکھیں . انہوں نے مزید کہا کہ آج کل چینلز کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ڈرامہ بنانے میں بہت زیادہ انوالو ہوتا ہے یہ وہ شعبہ ہے جس کا نام نہیں‌لیا جاتا. یہی طے کرتا ہے کہ کون سے ایکٹرز ہوں گے اور کہانی کیسی ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی کچھ دکھا رہے ہیں بھئی نور الہدی شاہ سے زیادہ سندھ کی خواتین کے مسائل کس کو پتہ ہیں ؟ کیوں ان سے نہیں لکھوایا جا رہا. ہم جو لکھتے ہیں اس کے

    بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ یہ پسند نہیں کیا جائےیہ چلے گا. مجھے کسی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بندے نے کہا کہ میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا لکھ دیں اس کے ہٹ ہونے کی گارنٹی میں دیتا ہوں تومیں نے کہا کہ جو چل رہا ہےاسکو چلانے میں آپ کا کیا کمال ، جو نہیں چل رہا اسکو اگر چلائو تو وہ ہو گا آپ کا کمال . اس بات کے بعد وہ بندہ بول نہ سکا.

  • وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    سینئر اداکار منور سعید جو کافی عرصےکے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ اچھے ہیں اور آج کے دور کے مطابق ہیں. پی ٹی وی کا دور گزر گیا ہے اور جو گزر چکا ہو اسکا حال سے مقابلہ نہیں‌ کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں آج کل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کررہا ہوں اب میں اپنے مداحوں کو نظر آیا کروں گا. انہوں نے کہا کہ آج بہت زیادہ چینلز ہیں اور سال میں بہت بڑی تعداد میں ڈرامہ بنتا ہے. لہذا کام زرا تیز ہو گیا ہے. پہلے تو ریہرسلز ہوتی تھیں اور کئی کئی دن تک چلتی

    تھیں پھر جا کر کہیں شوٹنگ ہوتی تھی. اب ریہرسلز کا تصور ختم ہو گیا ہے. پہلے ایک چینل ہوتا تھا رات کو آٹھ سے نو بجے تک ڈرامہ لگتا تھا لہذا بہت زیادہ ڈرامہ کوئی بنتا نہیں تھا. کسی آرٹسٹ کا کسی ڈرامے میں ایک بھی سین آجاتا تو اسکے لئے بہت غنیمت ہوتی تھی. منور سعید نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ڈرامہ بنانا جن کا کام ہے وہی بنائیں. اور کہانیوں میں یکسانیت نہیں‌ہونی چاہیے. مجھے اچھے کردار ملتے رہے تو میں ضرور کروں گا.

  • تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    ٹی وی اور فلم کی معروف اداکارہ صنم سعید نے لاہور میں‌ ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں تین سال سے ڈرامے نہیں کررہی، ڈرامے نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہےکہ جس طرح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان میں مجھے بالکل بھی دلچپسی نہیں ہے. صنم سعید نے کہا کہ مجھے جب تک کہانی اور کردار پسند نہ آئے میں سائن نہیں کرتی. میرے پاس پچھلے تین سال میں بہت ساری کہانیاں آئیں لیکن مجھے پسند نہیں آئیں. ساری کہانیاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریبا ایک جیسی تھی.صنم سعید نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر کے کوئی بھی ڈرامہ سائن کیا کہ اس کے زریعے ہم سوسائٹی کو کیا پیغام دے رہے ہیں. میں اس نسل کی نمائندہ فنکارہ ہوں لیکن جیسی کہانیاں بن رہی ہیں میں ان کے حق میں

    نہیں ہوں. صنم نے کہا کہ فلموں میں بھی کام کیا اچھا تجربہ رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ میرا جب دل کرتا ہے میں کام کرتی ہوں . انہوں نے کہا کہ چاہے تھوڑا کم کام کر لیں لیکن معیار کو ضرور مد نظر رکھیں. یاد رہے کہ صنم سعید فواد خان کے ساتھ ایک بار پھر نظر آرہی ہیں اور اس بار وہ ایک ویب سیریز میں نظر آئیں گی.

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • میٹا نے  مزید ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ تیار کرلیا

    میٹا نے مزید ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ تیار کرلیا

    میٹا نے مزید ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ تیار کرلیا
    معروف سوشل میڈیا کمپنی فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں مزید ملازمین کو نکالنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ فنانشنل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2023 میں میٹا کی جانب سے مزید ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میٹا کی جانب سے عملے کی کارکردگی کا تجزیہ مارچ میں مکمل ہو جائے گا جس کے بعد مزید ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان ہوسکتا ہے۔

    اس سے قبل نومبر 2022 میں میٹا کی جانب سے دنیا بھر سے کمپنی کے 11 ہزار ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مارک زکربرگ نے ملازمین کے نام ایک میمو میں کہا تھا کہ ‘آج میں میٹا کی تاریخ میں کی جانے والی سب سے مشکل تبدیلی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، میں نے اپنی ٹیم کا حجم 13 فیصد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے’۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    اس نئی رپورٹ پر میٹا کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ ٹوئٹر، ایمازون، گوگل، مائیکرو سافٹ اور دیگر متعدد ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے حالیہ مہینوں کے دوران معاشی حالات کو جواز بناتے ہوئے ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے۔ جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کئی ملازمین کو نکال دیا گیا تھا اور اب بھی اسی طرح ملازمین کو نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے.

  • پی ائی اے کا طیارہ مزید 5 ٹن ریلیف سامان لے کر ترکی پہنچ گیا

    پی ائی اے کا طیارہ مزید 5 ٹن ریلیف سامان لے کر ترکی پہنچ گیا

    پی ائی اے کا طیارہ مزید 5 ٹن ریلیف سامان لے کر ترکی پہنچ گیا

    ترکیہ اور شام میں خوفناک زلزلہ متاثرین کے لئے امدادی سامان کی ترسیل جاری ہے کہ ترجمان پی ائی اے کے مطابق پی آئی اے کا طیارہ مزید 5 ٹن ریلیف سامان لے کر ترکی پہنچ گیا ہے جبکہ زلزلے کے بعد سے پی آئی اے ابھی تک مجموعی طور پر 72 ٹن امدادی سامان اور 51 ریسکیو ٹیم کے افراد کو لے کر جاچکا ہے .

    پی آئی اے نے ترکی میں ادانا اور استنبول، اور شام کے شہر دمشق کے لیے 06 شیڈول اور 02 خصوصی چارٹرڈ پروازیں آپریٹ کیں ہیں اور امدادی پروازیں بوئنگ 777 طیاروں کے ذریعے لاہور اور اسلام آباد سے چلائی جا رہی ہیں۔ جبکہ پی آئی اے حکومت پاکستان کی جانب سے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل
    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ترجمان پی آئی اے کا مزید بتانا ہے کہ این ڈی ایم اے نے پی آئی اے کے ذریعے کثیر تعداد میں خیمے اور کمبل متاثرہ علاقوں تک پہنچائے ہیں اور پی آئی اے نے ٹرکش ائیرلائن اور دیگرحکام کو تمام ممکنہ مدد اور آپریشنل معاونت بھی فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے علاوہ ازیں ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا پی آئی اے ترکی میں پاکستانی سفارت خانے کو مکمل معاونت فراہم کررہاہے جس میں آفت زدہ علاقوں سے پاکستانیوں کو وطن واپس لانا بھی شامل ہے.

    خیال رہے کہ ترکیہ اور شام میں گزشتہ پیر کو آنے والے شدید زلزلے سے اموات کی تعداد ہزاروں میں ہوگئی تھی ۔ جبکہ حکام کا بتانا تھا کہ ترکیہ اور شام میں کئی ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے.

  • ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا

    ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا

    بھارت میں ایپ کے ذریعے منگوائی گئی بریڈ کے پیکٹ کے ساتھ زندہ چوہا نکل آیا

    آن لائن سامان کی خریداری کے دوران غلط چیز آجانے کا امکان تو رہتا ہے لیکن کیا آپ اس بات کی توقع کرتے ہیں کہ بریڈ کے پیکٹ کے اندر سے چوہا نکلے اور وہ بھی زندہ۔ لیکن ایسا بھارت میں ہوا ہے۔ دور جدید میں ہماری زندگی بہت تیز ہوگئی ہے، اب ہر چیز تک رسائی صرف موبائل میں موجود ایپ کی محتاج ہوگئی ہے۔ اسی وجہ سے گھر کا سامان اب ایپس کے ذریعے منگوانے کا رواج زور پکڑتا جارہا ہے لیکن اس طرح کی خریداری میں غلط فہمی کا امکان بھی رہتا ہے۔

    آن لائن شاپنگ کرنے والے تقریباً سب ہی لوگوں کو غلط چیز ملنے کا تجربہ ہوتا ہے لیکن اگر آپ کی منگوائی گئی روٹی کے پیکٹ میں سے زندہ چوہا نکل آئے تو آپ کیا کہیں گے۔ ایسا ہی واقعہ بھارت میں نتن اروڑا نامی ایک شخص کے ساتھ ہوا ، جس نے بلنک اٹ (Blinkit) نامی ایپ کے ذریعے بریٖ کا پیکٹ منگوایا تو اس میں تھیلی کے باہر سے ہی روٹی کے ساتھ ایک چوہا نظر آیا جو کہ زندہ تھا۔

    نتن اروڑا نے اس چوہے کے ساتھ روٹی کی تصویریں ٹوئٹ کیں اور ساتھ ہی لکھا کہ بلنک اٹ (Blinkit) کے ساتھ ان کا تجربہ انتہائی ناخوشگوار رہا ہے۔ یکم فروری 2023 کو روٹی منگوائی گئی تو اس کے ساتھ پیکٹ کے اندر زندہ چوہا بھی نکلا، یہ ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔


    نتن اروڑا نے مزید کہا کہ اگر 10 منٹ میں سامان ایسے ہی بھجوایا جانا ہے تو میں ٹھیک سامان ملنے کے لیے کچھ گھنٹے انتظار کرلوں گا۔ بھارتی صارف نے ایپ کو تصویر کے ساتھ شکایات بھی لکھی تو ان کی جانب سے معذرت کی گئی۔ جواب میں ایپ کی انتظامیہ نے لکھا کہ یہ وہ تجربہ نہیں ہے جو ہم آپ کو کرانا چاہتے تھے۔ براہ کرم اپنا رجسٹرڈ رابطہ نمبر یا آرڈر آئی ڈی شیئر کیجیے تاکہ ہم اسے دیکھ سکیں۔