Baaghi TV

Tag: news

  • بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری  کی جاتی ہے، رپورٹ

    بھارت میں ہر 16منٹ میں ایک خاتون کی عصمت دری کی جاتی ہے، رپورٹ

    نئی دہلی: بھارت میں ہر 16 منٹ میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے جب کہ ہر 30 گھنٹے میں اجتماعی زیادتی کا ایک واقعہ رونما ہوتا ہے، ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔

    باغی ٹی وی : بھارت ہر سال 13 فروری کو خواتین کا قومی دن مناتا ہے لیکن خواتین کو ہر روز ہراساں کیا جاتا ہے، چھیڑاجاتا ہےگرفتارکیا جاتا ہے اور خوف زدہ کیا جاتا ہے اور عصمت دری جیسے سنگین واقعات سمیت زیادہ تر کیسزرپورٹ ہی نہیں ہوتے خواتین کے لیے بھارت دنیا میں بدترین جگہ ہے اور جہاں تک خواتین کے خلاف جرائم کا تعلق ہےتو ہندوتوا آر ایس ایس اوربی جے پی کی زیرقیادت یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہے-

    کشمیر میڈیا سروس میں خواتین کے دن پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت دنیا میں خواتین کے لیے بدترین جگہ ہے جہاں ایک گائے کا تو تحفظ ہے لیکن خواتین کی عزتیں محفوظ نہیں بھارت میں خواتین کو عام طور پر دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے جبکہ اقلیتوں بشمول مسلمان، دلت اور عیسائی خواتین ذہنی طور پر انتہائی ذہنی دباؤ اور ذلت کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی سب سے زیادہ غیر محفوظ شہروں میں سے ایک ہے۔ یوپی سے لے کر راجستھان اور کیرالہ سے لے کر مدھیہ پردیش تک میں ملک بھر کے مجموعی کیسز میں سے دو تہائی سے زیادہ رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ کولکتہ میں جنسی زیادتی کے سب سے کم واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو نے 2020 میں بھارت میں روزانہ 77 جنسی زیادتی کے واقعات کی تصدیق کی ہے جب کہ 2020 میں جنسی زیادتی کے مجموعی 28 ہزار 046 واقعات رونما ہوئے۔ 2019 میں یہ تعداد 32 ہزار، 2018 میں 33 اور 2017 میں 32،559 تھی۔

    بھارت میں مودی سرکار میں جنسی زیادتی کے اتنے کیسز سامنے آئے ہیں کہ عالمی سطح پر بھی ہندوستان کو ریپستان کہا جانے لگا ہے۔

  • ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    کراچی: ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: معروف ہدایت کار و ٹی وی میزبان ضیا محی الدین آج صبح 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے جس کے بعد ا ن کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں قائم امام بارگاہ یثرب میں ادا کی گئی اور ان کی تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کردی گئی۔

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے-

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا…

    ضیا محی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہے۔

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

  • امریکا نےکینیڈا کی فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور پُراسرار شے کو مار گرایا

    امریکا نےکینیڈا کی فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور پُراسرار شے کو مار گرایا

    امریکی فوج کے لڑاکا طیاروں نے کینیڈا کی سرحد کے قریب واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی ایک اور ناقابل شناخت شے کو مار گرایا۔

    باغی ٹی وی: خبررساں ادارے "روئٹرز” کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتےایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو امریکی میزائل کے ذریعے نشانے بنانے کے بعد یہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے، پینٹاگون نے کہا اس تازہ ترین واقعہ نے شمالی امریکا کی سکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر کردیا ہے۔

    برطانیہ میں دوسری جنگ عظیم کا 250 کلو وزنی بم پھٹ گیا

    امریکی فضائیہ کے جنرل گلین وان ہرک (جنہیں امریکی فضائی حدود کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے) نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج تاحال اس بات کی شناخت نہیں کر سکی ہے کہ فضا میں پرواز کرنے والی یہ تینوں چیزیں کیا تھیں، کیسے ہوا میں معلق تھیں اور کہاں سے آ رہی ہیں۔

    نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (نوراد) اور ناردرن کمانڈ کے سربراہ گلین وان ہرک نے کہا کہ ہم کسی وجہ سے انہیں غبارے نہیں بلکہ (آبجیکٹ) چیز کہہ رہے ہیں ہم کسی خلائی مخلوق کے امکان کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے، ہم چاہیں گے کہ انٹیلی جنس کمیونٹی اور انسداد انٹیلی جنس کمیونٹی اس بات کا پتا لگائے‘۔

    تاہم ایک اور دفاعی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج کو اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ اشیا ماورائے زمین تھیں۔

    ترجمان پینٹاگون بریگیڈیئر جنرل پیٹرک رائڈر نے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ’صدر جو بائیڈن کے حکم پر ایک امریکی ایف-16 لڑاکا طیارے نے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 42 منٹ پر امریکا-کینیڈا کی سرحد پر واقع جھیل ہورون کے اوپر پرواز کرنے والی اس چیز کو مار گرایا۔

    برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی،نیٹو

    رائڈر نے کہا کہ اگرچہ اس سے کوئی فوجی خطرہ نہیں تھا، لیکن یہ شے ممکنہ طور پر کمرشل ائیر ٹریفک میں مداخلت کر سکتی تھی کیونکہ یہ 20,000 فٹ (6,100 میٹر) کی بلندی پر سفر کر رہی تھی، اور ہو سکتا ہے اس میں نگرانی کی صلاحیتیں موجود ہوں۔

    ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز ساخت میں آکٹونل (8 کونوں والی) دکھائی دیتی تھی جس میں تاریں لٹکی ہوئی تھیں مگر ان سے بظاہر کچھ لٹکا ہوا دکھائی نہیں دیا۔

    پینٹاگون نے کہا کہ بظاہر یہ وہی چیز تھی جو حال ہی میں مونٹانا میں حساس فوجی مقامات کے قریب پائی گئی تھی جس کے بعد امریکی فضائی حدود کو بند کر دیا گیا تھا۔ گلین وان ہرک نے صحافیوں کو بتایا کہ فوج اس کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہورون جھیل پر گرائی گئی اس نامعلوم چیز کے ملبے کو تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔

    امریکا کی فضائی حدود میں ناقابل شناخت شے کی موجودگی کےانکشاف پرپریشانی میں اضافہ

    اس تازہ واقعے نے حالیہ ہفتوں کے دوران شمالی امریکا کے آسمانوں پر نمودار ہونے والی غیر معمولی چیزوں کے بارے میں نئے سوالات اٹھادیئے ہیں جن کے سبب امریکا اور چین کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ 4 فروری کو امریکی فوج کے ایک لڑاکا طیارے نے جنوبی کیرولینا کے ساحل پر ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرایا تھا۔

    بعدازاں امریکی صدر جو بائیڈن کے احکامات پر امریکی لڑاکا طیارے نے الاسکا کے شمالی ساحل پر پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم اور پراسرار شے کو مار گرایا تھا جبکہ گزشتہ روز امریکی لڑاکا طیارے نے کینیڈا کے اوپر فضا میں پرواز کرنے والی ایک اور نامعلوم شےکو مار گرایا تھا۔

    جہاز میں کھڑکی والی سیٹ نہ ملنے پرخواتین نے ایک دوسرے کی پٹائی کر دی،ویڈیو

  • ترکیہ زلزلہ: کورولش عثمان کے اداکار اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے

    ترکیہ زلزلہ: کورولش عثمان کے اداکار اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے

    گزشتہ پیر ترکیہ میں آنے والے ہولناک زلزلے میں معروف ترک سیریز کورولش عثمان میں اہم کردار نبھانے والے اداکار اپنی اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : جاگدس جانکایا اور ان کی اہلیہ زلان ٹگرس بھی ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو زلزلے کے ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے پروڈکشن کمپنی بوزداغ فلم کی جانب سے انسٹاگرام پر جاگدس اور ان کی موسیقار اہلیہ زلان کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    پروڈکشن کمپنی کی جانب سے دونوں کی تصویر شیئر کی گئی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اداکار جاگدس جانکایا اہلیہ سمیت ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے جب کہ ساتھ ہی ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    جاگدس جانکایا نے اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک ڈرامہ سیریز عثمان غازی المعروف ‘کورولش عثمان’ میں قونیہ محل کے ایک اہم سپاہی کا کردار نبھایا تھا۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے اموات کی تعداد 34 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ترکیہ میں 29 ہزار 605 اور شام میں 4 ہزار 500 اموات ہوئی ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو اعلان کیا کہ گزشتہ ہفتے ملک کے جنوب میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 29 ہزار 605 ہوگئی ہے۔ ترکی کے سرکاری "ٹی آر ٹی” چینل نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ ایک لاکھ 47 ہزار 934 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 5,273 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد 7,000 تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    گزشتہ روز شام کے شمال مغربی علاقوں میں ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش اور امدادی کارروائیاں رک گئیں اور وہ کئی دن تک مسلسل تباہ کن زلزلے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے بعد لاشوں کو نکالنے کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال…

  • ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز اداکار ، صداکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کے انتقال پر تعزیت کا اظہارکیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے، ضیا محی الدین کے مخصوص انداز نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں دھوم مچائی، افسوس ہے کہ کئی خوبصورت خوبیوں کا مالک شخص معاشرے سے کوچ کرگیا۔

    وزیراعظم شہباز شریفنے کہا کہ ضیا محی الدین کی آواز ہمارے ذہن میں گونجتی رہےگی، ضیا محی الدین کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین۔

    واضح رہے کہ ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئےضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

  • عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیاء محی الدین 20 جون 1933ء کو لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان روہتک (ہریانہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی قصور اور لاہور میں گزاری۔

    آپ وہ واحد ادبی شخصیت تھے جن کے پڑھنے اور بولنے کے انداز کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اردو طنزو مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی نے ضیاء محی الدین کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا کہ ضیاء اگر کسی مردہ سے مردہ ادیب کی تحریر پڑھ لے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے۔

    برطانیہ میں 1960ء میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ایڈورڈ مورگن فوسٹر کے مشہور ناول ”A Passage to India“ پر بنے اسٹیج ڈرامے میں ضیاء محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کر کے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسی شاندار اور باکمال پرفارمنس دی کہ شائقین حیرت زدہ رہ گئے۔
    اس کے علاوہ ان کے انگریزی ٹی وی ڈراموں میں ”ڈینجرمین، دی ایونجرز مین، ان اے سوٹ کیس، ڈیٹیکٹو، ڈیتھ آف اے پرنسس، دی جیول پرائڈ، ان دی کرائون اور فیملی“ سرفہرست ہیں۔

    ضیاء محی الدین نے اپنے فلمی سفر کا آغام 1962ء میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ کلاسیکی فلم ”لارنس آف عریبیہ“ سے کیا تھا۔
    اس فلم میں انہوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا جسے عمر شریف اس بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے کیوں کہ وہ غلط کنویں سے پانی پی لیتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اس فلم میں مختصر کردار ادا کیا لیکن یادگار پرفارمنس دی۔
    ان کی مشہور انگریزی فلموں میں ”خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئے ٹاکی اور پارٹیشن‘‘ بھی شامل ہیں۔

    1969ء اور 1973 ء میں انہوں نے پی ٹی وی سے ایک اسٹیج شو ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ کا آغاز کیا اور بطور میزبان ایسی پرفارمنس دی کہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی توجیح و تشریح اور پاکستانیوں میں اردو زبان سے محبت بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قوم کو احساس دلایا کہ اردو زبان دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے جس کے لہجے میں الہامی کیفیت ہے، اسی لیے ضیاء محی الدین کو اردو زبان کا سب سے حسین و دلکش لہجہ کہا جاتا تھا۔

    اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اختتام پر وہ ایک منفرد ڈانس کیا کرتے تھے، جو شائقین کے دلوں کو بہت بھاتا تھا اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیاء کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سب سے نمایاں ہیں۔

    انہوں نے اردو زبان کے نایاب شاعر و فلسفی مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے خطوط جس انداز میں پڑھے، اس سے بھی انہیں بہت شہرت ملی۔
    ضیاء محی الدین نے دو کتابیں ”دی گاڈ آف مائی ایڈولیٹری“ اور ”اے کیرٹ از اے کیرٹ: میموریز اینڈ ریفلیکشنز“ بھی تخلیق کی تھیں۔

    آپ کو 2003ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا انہیں پیپلز پارٹی دور میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور 2004ء میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

  • مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف  کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کیلئے آج سے آن لائن مذاکرات شروع ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان امریکا مذاکرات کا دوسرا دور آج سے واشنگٹن میں شروع ہوگاپاکستانی وفد کی قیادت چیف آف جنرل اسٹاف کریں گے، امریکی وفد کی نمائندگی انڈر سیکریٹری ڈیفنس کریں گے-

    پاکستان اورآئی ایم ایف میں آن لائن مذاکرات آج سےہوں گےمذاکرات کا دوسر ا دور16فروری تک جاری رہے گا،مذاکرات میں شعبہ دفاع و سلامتی میں تعاون سے متعلقہ امور پر بات چیف کی جائے گی-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں بیرونی قرضوں، زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق بات چیت ہوگی،ٹیکس نفاذ ،منی بجٹ پر امور طے کیے جانے کا معاملہ بھی مذاکرات کاحصہ ہوگا مذاکرات کا پہلا دور جنوری 2021میں پاکستان میں ہوا تھا-

    آن لائن مذاکرات کیلئے 170 ارب کے نئے ٹیکس لگاکر 200 ارب سے زیادہ اضافے کیلئے منی بجٹ کی تیاریاں شروع کرلی گئی ہیں، منی بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی بجائے آرڈیننس کی صورت میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے،کسان پیکج اور برآمدی شعبے کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی منظوری بھی ہو چکی ہے، اس حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائےگی۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ضیاء محی الدین کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا گورنر پنجاب نے کہا کہ ضیاء محی الدین لیجنڈ آرٹسٹ تھے-


    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے، 50 کی دہائی میں لندن کی رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے اس فلم میں ایک یادگار کردار ادا کیا ضیامحی الدین براڈوے کی زینت بننے والے جنوبی ایشیا کےپہلے اداکار تھے 70 کی دہائی میں پی ٹی وی سےضیامحی الدین شو کے نام سے منفردپروگرام شروع کیا اور 1973 میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کےڈائریکٹر مقرر کردیئےگئے۔

    جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد ضیا محی الدین واپس برطانیہ چلےگئے90 کی دہائی میں مستقل پاکستان واپس آنےکا فیصلہ کیا، ضیام حی الدین نے انگریزی اخبار دی نیوزمیں کالم بھی لکھے، ضیامحی الدین کی کتاب”A carrot is a carrot” ایک مکمل ادبی شہہ پارہ ہے۔

    ضیامحی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہےضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

  • پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں

    پیر نصیر الدین نصیر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
    دیگر نام:چراغ گولڑہ
    پیر صاحب گولڑہ شریف
    حضور نصیر ملت
    نصیرالدین اولیا
    پیدائش:14 نومبر 1949
    گولڑہ شریف،پاکستان
    وفات:13 فروری 2009ء
    گولڑہ شریف، اسلام آباد،پاکستان
    مذہب:سلام
    سلسلہ چشتیہ اور قادریہ قمیصیہ
    پیشرو:غلام معین الدین گیلانی
    جانشین:پیر سید نظام الدین جامی گیلانی
    پیر سید نجم الدین گیلانی
    پیر سید شمس الدین شمس گیلانی

    پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری قمیصی ایک شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا و پیر سلسلہ چشتيہ تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں ”شاعر ہفت زبان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑو شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑو شریف میں مرجع خلائق ہے۔
    تصانیف و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
    ۔ (2)پیمانِ شب (غزلیات اردو)
    ۔ (3)دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
    ۔ (4)امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
    ۔ (5)نام و نسب(در بار سیادت پیران پیر )
    ۔ (6)فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
    ۔ (7)رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
    ۔ (8)عرشِ ناز (کلام در زبان فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
    ۔ (9)دستِ نظر ( غزلیات اردو)
    ۔ (10)راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
    ۔ (11)تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
    ۔ (12)قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
    ۔ (13)لفظ اللہ کی تحقیق
    ۔ (14)اسلام میں شاعری کی حیثیت
    ۔ (15)مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
    ۔ (16)پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (17)فتوی نویسی کے آداب
    ۔ (18)موازنہ علم و کرامت
    ۔ (19)کیا ابلیس عالم تھا؟
    نمونہ اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نمونہ اشعار فارسی
    ۔۔۔۔۔۔
    اے صاحبِ اسمِ پاک!مَن یـَنصُرُنِی
    دل ریشم و سینہ چاک،مَن یـَنصُرُنِی
    دستم اگر از فضل نہ گیری ربی
    مَن یـَنصُرُنِی سَوَاک!مَن یـَنصُرُنِی

    نمونہ اشعار اردو
    ۔۔۔۔۔۔
    دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

    ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
    مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

    بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
    مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

    غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
    محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

    یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
    آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

    عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
    جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

    میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
    سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

    نمونہ اشعار پنجابی
    ۔۔۔۔۔۔
    بے قدراں کج قدر نہ جانی کیتی خوب تسلی ھو
    دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کُتیاں دے گل ٹلی ھو
    بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
    کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو

    نمونہ اشعار عربی
    ۔۔۔۔۔۔
    یا مدرک احوالي
    قد تعلم واللہ ،ما يخطر في بالي

    الفخر له جازا
    من جاء علٰي بابك، قد نال و قد فازا

    نمونہ اشعار پوربی
    ۔۔۔۔۔۔ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں
    جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

    دُور بھیے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں
    پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

    یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر
    ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

    درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا
    ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

    اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں
    اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

    چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے
    چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

    جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی
    تیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نِردھن ماں

    ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا
    چتون میں جادو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

  • بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    عطا شاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :محمد اسحاق
    قلمی نام:عطا شاد
    تاریخ پیدائش :01 نومبر 1939ء
    تاریخ وفات:13 فروری 1997ء
    کوئٹہ، بلوچستان

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 1 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
    عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
    ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
    13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو
    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا
    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا
    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا
    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا
    مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
    مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا
    کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
    ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
    تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا
    نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
    سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا
    عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
    چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا