Baaghi TV

Tag: news

  • افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان کے وہ پہلے تین طالبان جنہوں نے تاریخ میں پہلی بار بطور پائلٹ اپنے سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیئے ہیں جبکہ ان تینوں کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اساد نامی صارف نے لکھا کہ "طالبان نے جہاز اڑانے کیلئے تین طالبان پائلٹس کیلئے پہلی بار سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا ہے.” جبکہ یہ تصویر اب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی ہے اور صارفین نے مختلف کمینٹ کیئے ہیں.


    ایک صارف نے طالبان کی بچوں کی گاڑیاں چلانے والی ویڈیو میں سے تصویر نکال کر تبصرہ کیا کہ کیا ایسے لوگوں کو سرٹیفیکیٹ دی گئی ناصرف اس نے بلکہ بہت سارے صارفین نے تنقید تاہم بہت سارے ایسے بھی ہیں جنہوں اس چیز کو سراہا ہے کہ یہ طالبان کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے اور اسے سراہا جانا چاہئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے


    ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ طالبان کو چونکہ اب یہ سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے تو کیا یہ جہاز اڑانے کے بعد اسے لینڈ بھی کر پائیں گے؟ لیکن امید ہے کہ یہ لوگ بھارے کے اوہر سے نہیں اڑان بھریں گے. ایک اور صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ اب امریکہ کی مدد کرے اور امید ہے کہ دنیا اب نائین الیون جیسے تجربے سے نہیں گزرے گی.

    صارف نوید نے کہا کہ طالبان کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان کچھ نہیں جانتے یہ ان نوجوان طالبان کا پائلٹس کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ان کے ناقدین کے منہ پر تمانچہ ہے.

  • ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ترکیہ اور شام کے آٹھ لاکھ 74 ہزار زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سات کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی رقم فراہم کرنے کی اپیل کی ہے. خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایف پی کی جانب سے جمعے کی اپیل کے بعد اقوام متحدہ نے شام میں امدادی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ترکیہ میں گھروں سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ 90 ہزار جبکہ شام میں دو لاکھ 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اور اس میں چار ہزار 500 تارکین وطن بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے اس زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور یوں یہ اس خطے میں صدی کا بدترین زلزلہ ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ چار دونوں میں ترکیہ اور شام میں ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو خوراک فراہم کی گئی ہے۔
    ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت خوراک کی ہے۔ وہاں کھانا تیار کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بیان کے مطابق ’شام کے شورش زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کافی مشکلات کا شکار ہے۔ وہاں ڈبلیو ایچ او اب تک 43 ہزار افراد تک پہنچ سکا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اردو نیوز نے اے ایف پی کے مطابق لکھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے دفتر نے جمعے ہی کو کہا ہے کہ شام کے زلزلے سے متاثر علاقے میں موجود افراد کی مدد کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ اقوام متحدہ کے رائٹس آفس کی ٹوئٹ کے مطابق ’چیف وولکر ترک نے شام میں فوری جنگ بندی، انسانی حقوق کے احترام اور اس حوالے سے بین الاقوامی کی مکمل احترام کی اپیل کی ہے۔

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian

  • امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    لاہور:معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد جمعے کے روز 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب انتقال کرگئے تھے جس سے قبل انہوں نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی۔

    امجد اسلام امجد نے وفات سے پانچ دن پہلے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی اور مسجد نبوی میں اپنا کلام بھی پیش کیا تھا۔مرحوم کی یادگار ویڈیو مدینہ منورہ کے سابق او پی ڈی منیجر ڈاکٹر خالد عباس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے شیئر کی جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

    ڈاکٹر خالد نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ‘آخری سفر سے پہلے مدینہ منورہ میں آخری بھرپور اور پرنم حاضری امجد اسلام امجد کی’۔انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ریاض الجنہ میں ان کی حاضری میں حضوری کا گہرا رنگ تھا اور اپنی نظم لبیک مدینہ منورہ میں” میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں” سناتے سناتے اپنے رب کے حضور ہمیشہ رہنے کے لیے چلے گئے، اے میرے رب مدینہ منورہ میں میرے آخری مہمان کی مغفرت فر ما’۔

    امجد اسلام امجد 4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1967 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا، 1968 تا 1975 ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے اور اگست 1975 میں امجد اسلام امجد کو پنجاب آرٹ کونسل کا ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیاگیا۔

     

    امجد اسلام امجد کو ستارہ امتیاز، صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈ سے نوازاگیا ۔معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئےتھے

     

    امجد اسلام امجد کےاہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

    معروف شاعر ، دانشور اورڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔امجد اسلام امجد کی نماز جنازہ ڈیفنس فیز 1 کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب ، ادبی حلقوں کی شخصیات اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    نمازجنازہ کے بعد امجد اسلام امجد کا جسد خاکی تدفین کیلئے میانی صاحب لایا گیا، تدفین کے وقت بھی امجد اسلام امجد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے ۔واضح رہے کہ امجد اسلام امجد کو گزشتہ روز ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو جاں لیو ثابت ہوا، ان کی عمر 78 برس تھی۔

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں.

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔ غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔” ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے. انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر طیب اردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

  • خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    پشاور: رواں سال موسم سرما کی برفباری دیکھنے کیلیے 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔برف پوش پہاڑ دیکھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پہنچے، سب سے زیادہ 5 لاکھ سیاح مالم جبہ پہنچے، ملکی اور غیر ملکی سیاح خیبرپختونخوا کے برف پوش پہاڑوں کے اسیر بن گئے۔

    ایک ماہ کے دوران 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے بالائی سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پانچ لاکھ 52 ہزار 785 سیاحوں نے مالم جبہ کا رخ کیا جس میں 17 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جبکہ2لاکھ33ہزار666 سیاحوں نے گلیات کا رخ کیا۔رپورٹ کے مطابق کاغان ناران میں 79ہزار548 سیاح برفباری کے مزے لینے پہنچے، دور دراز مقام اپر و لوئر چترال میں 23ہزار711 ملکی اور 31غیر ملکی سیاحوں نے سیر کی، 1ہزار سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے اپر دیر کا رخ کیا۔

    خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت اتھارٹی کے ترجمان محمد سعد کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ٹورازم پولیس اور عملہ تمام سیاحتی مقامات پر تعینات ہے، جہاں مستعد اہلکار سیاحوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سیاحوں کو آرام دہ سفر کے لیے سڑکوں پر بروقت برف ہٹائی گئیں اور اب بھی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملکر سیاحوں کو بہتر سہولیات دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال سیلاب کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کی وادی سوات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، جس کے بعد حکومت، انتظامیہ اور پاک فوج نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے مواصلاتی اور رہائشی نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا۔

  • لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور: آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز جمعہ کی دوپہر الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں ہو گیا جو اتوار کی رات تک جاری رہے گا۔ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار شاہ نے فیسٹیول کا افتتاح کیاجبکہ انور مقصود، افتخار عارف، حامد میر، نیئرعلی دادا، کامران لاشاری، جسٹس (ر) ناصرہ اقبال، کشور ناہید، ظفر مسعود، میاں فقیر اعجاز الدین، فتح محمد ملک، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی رضی احمد و دیگر بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔

    الحمراء کے ہال نمبر 1 میں جگہ نہ ہونے کے باعث ہزاروں افراد نے باہر اسکرین پر افتتاحی تقریب میں شرکت کی جبکہ تقریب سے قبل لاہور شہر کی بڑی سڑکوں اور چوراہوں پر بینرز اور پوسٹر آویزاں کیے گئے، الحمراء آرٹس کونسل کو جھنڈیوں، پوسٹروں اور بینرز سے سجایا گیا اور کتابوں کے اسٹال بھی لگائے گے۔فیسٹیول کے لیے پہلے روز تقریباً دس ہزار افراد نے الحمراء کا دورہ کیا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جنہوں نے انور مقصود اور حامد میر اور احمد شاہ کا پرجوش استقبال کیا۔

    اجلاس سے قبل امجد اسلام امجد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جنہوں نے اس فیسٹیول میں شامل ہونا تھا لیکن آج صبح اچانک ان کا انتقال ہوگیا، امجد اسلام امجد کی خالی کرسی پر ان کی تصویر رکھی گئی۔ آرٹس کونسل کراچی کے ڈائریکٹر ایڈمن شکیل خان نے امجد اسلام امجد کے لیے دعائے مغفرت کی جبکہ افتخار عارف اور کشور ناہید نے امجد اسلام امجد کی خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔

    سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم بہت کچھ کھو چکے اب ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں رہا، سچل سرمست، لعل شہباز قلندر اور بھلے شاہ کی شاعری میں جو پیغام ہے اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب حکومت ایسے لوگوں کی سرپرستی کرے جو صوفیائے کرام کے امن کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالہ میں کہا کہ جس قوم کی ثقافت مر جاتی ہے وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی، ہمارے معاشرے میں بہت نفرتیں اور لڑائیاں ہیں، ہمیں ان نفرتوں کو ادب اور ثقافت کو ترقی دے کر ختم کرنا ہے اور ہم تمام اکائیوں میں بھائی چارہ، امن اور دوستی کا پیغام لے کر لاہور آئے ہیں تاکہ پاکستان کے نوجوانوں کو ادب اور ثقافت کے ساتھ جوڑیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور،ملتان اور سندھ ایک ہی انڈس تہذیب کا حصہ ہیں تاہم لاہور قدیم ثقافتی شہر ہے جس کی اپنی تاریخی و تہذیب ہے، لاہور کے دوستوں کا اصرار تھا کہ عالمی اردو کانفرنس کی طرز پر لاہور میں بھی ایک کانفرنس منعقد کی جائے، ہم نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول متعارف کرایا جس کو ہم پورے پاکستان کی اکائیوں میں لے کر جارہے ہیں۔اس موقع پر معروف دانشور انور مقصود، حامد میر، فقیر اعجاز الدین اور ذوالفقار زلفی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا ہے.

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا۔ سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 98 ہزارروپے ہوگئی. 10 گرام سونےکی قیمت میں 2 ہزار 829روپےکااضافہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 ڈالر کی کمی سے 1865 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعہ کو فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 3300 روپے اور 2829 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    نتیجے میں ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 198000 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 169753 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 30 روپے کے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 25.72 روپے کے اضافے سے 1851.85 روپے کی سطح پر آگئی۔رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔

    انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    دوسری طرف پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا، 100 انڈیکس 724 پوائنٹس کم ہوکر 41 ہزار 741 پر بند ہوا۔ کاروباری دن میں 100 انڈیکس 890 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں آج 28 کروڑ 18 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، شیئرز بازار کے کاروبار کی مالیت 14.70 ارب روپے ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    مارکیٹ کیپٹلائزیشن 93 ارب روپے کم ہوکر 6559 ارب روپے ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد فی اونس نرخ 1865 ڈالر پر آگئے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔