Baaghi TV

Tag: news

  • ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے.

    حکومت کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسی کا مسودہ موصول ہونے کے بعد اگلے ہفتے واشنگٹن سے آن لائن مذاکرات جاری رہنے جیسے عوامل کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر بیک فٹ پر رہا جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 270 روپے سے بھی نیچے آگئے جبکہ اوپن ریٹ 273 روپے کی سطح پر آگئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 55 پیسے بڑھ گئی تھی لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کا پہلا اقدام مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور قرضے کی قسط کا اجراء یقینی ہونے سے ڈالر دوبارہ بیک فٹ پر آگیا۔

    ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2 روپے کی کمی سے 268.50 روپے پر بھی آگئے تھے لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1.22 روپے کی کمی سے 269.28 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 273 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر بتدریج عمل درآمد کا خواہشم ند ہے لیکن آئی ایم ایف حکام تمام شرائط پر فوری عمل درآمد چاہتا ہے۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر بھی 3 ارب ڈالر سے گھٹ کر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈالر کی بہ نسبت روپیہ تگڑا ثابت ہورہا ہے اور اس تگڑے پن کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ طور پر جلد ہی اسٹاف سطح کا معاہدہ ہونے کے نتیجے میں قسط کے اجراء کی توقعات ہیں۔

    آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات پر مختلف برآمدی شعبے بھی مارکیٹ میں اپنے ڈالر کیش کرارہے ہیں جس سے رسد قدرے بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پر کیپ ختم ہونے اور اس کی قدر کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے سے ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق بھی بتدریج گھٹتا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرض پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے جب ملک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مطلوبہ سطح تک لانے میں کامیاب ہوجائے گا، اس وقت ہم آزادانہ معاشی فیصلے کرسکیں گے۔ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بورڈ سے منظوری کے نتیجے میں عالمی برادری اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اعلان کردہ 10 ارب ڈالر کے فلڈ ریلیف فنڈز کا بھی اجراء ممکن ہوسکے گا جس سے معیشت میں ڈالر کی رسد بڑھنے سے زرمبادلہ کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔

  • شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام میں پیر کے روز آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ملبے تلے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی بچی کو ملبے سے نکالنے والے شامی شخص نے گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق معجزاتی طور پر شامی نومولود بچی کو اس کے رشتہ دار نے ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا تھا۔ بچی کے والدین اور چار بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں-

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ہزاروں افراد نے اس بچی کو گود لینے کی پیشکش کی ہے جو پیر کے زلزلے کے بعد شمال مغربی شام میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے پیدا ہوئی تھی اس کی ماں، باپ اور اس کے چاروں بہن بھائیوں کی موت زلزلے کے بعد جنڈیریس قصبے میں ہوئی تھی۔

    بچی کو ملبے سے نکالنے والے صلاح البدران نامی شخص نے گود لیا ہے جو بچی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے ساتھ لے جاسکیں گے۔

    اس کی دیکھ بھال کرنے والی ماہر اطفال ہانی معروف نے کہا، "وہ پیر کو اتنی بری حالت میں پہنچی، اس کے گلے پر زخم تھے، وہ ٹھنڈی تھی اور بمشکل سانس لے رہی تھی وہ اب مستحکم حالت میں ہے۔

    آیا کے بچاؤ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ فوٹیج میں ایک شخص کو عمارت کے منہدم ہونے والے ملبے سے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں ایک بچے کو مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    اس بچی کو زندہ نکالنے والے شامی نے بتایا کہ انہوں نے بچی کا نام ‘آیاہ’ رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘اللہ کی جانب سے بھیجی گئی نشانی’-

    بچی کو نکالنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اسے گود لے گا اور اپنے بچوں کے ساتھ اس کی پرورش کرے گا یہ بچی ابھی ہسپتال میں داخل ہے اور صحت یاب ہو رہی ہے میں نے اسے اپنی والدہ عفرا کا نام دیا ہے تاکہ یہ مرحوم کے خاندان کے لیے یادگار رہے۔

    مذکورہ شخص نے مزید بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں ان کا گھر بار سب تباہ ہوگیا، وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں فی الحال رہ رہے ہیں۔

    قبل ازیں خاندان کے ایک رشتہ دار خلیل السواد نےکہا تھا کہ وہ ابو ردینہ اور اس کے اہلخانہ کو تلاش کر رہے تھے، انہوں نے پہلے ابو ردینہ کی بہن کو تلاش کیا، پھر ام ردینہ کو تلاش کیا اور اس کے قریب ہی اس کی نومولود بچی مل گئی ۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

    حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

    اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.17 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں اضافہ 34.83 فیصد تک پہنچ گیا۔

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آلو، گڑ، لہسن، ویجیٹیبل گھی، دال ماش، دال چنا، دال مسور اور کھلا تازہ دودھ، دہی، سادہ روٹی، سرسوں کا تیل، آگ جلانے والی لکڑی، ماچس، نمک، ایل پی جی اور چاول سمیت مجموعی طور پر 29 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا –

    جبکہ پیاز، ٹماٹر، چینی، انڈے اور آٹے پر مشتمل 5 اشیاء سستی ہوئی ہیں جبکہ 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہفتہ وا ر بنیادوں پر گزشتہ ہفتے کے دوران چکن 6.94 فیصد، آلو 7.15 فیصد، ویجی ٹیبل گھی 2.71 فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 3.80فیصد، کوکنگ آئل 2.60 فیصد، دال ماش2.42، لہسن 2.20 فیصد، دال مونگ2.20 فیصد، ایل پی جی3.06 فیصد اور سگریٹ 2.25 فیصد مہنگی ہوئی ہے۔ اسی طرح پیاز 9.83 فیصد، ٹماٹر 5.40 فیصد، انڈے 3.40 فیصد، آٹا 2.71 فیصد اور چینی 0.31 فیصد سستی ہوئی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں ملک میں مہنگائی کی شرح 34.83 فیصد رہی ہے۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں ،منشیات برآمد ،ملزمان گرفتار

    گزشتہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 31.56 فیصد، 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 32.55 فیصد رہی-

    29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 34.86 فیصد، 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 36.36 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 35.83 فیصد رہی ہے-

    قوم مزید قربانیاں نہیں دے سکتی،اشرافیہ قربانی دے: سراج الحق

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کے تحت ایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی 6 پیٹرو کیمیکل کمپنیوں، ان کی ذیلی کمپنیوں،ملائیشیا اور سنگاپور میں تین کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے…

    ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم کے خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل کا کام کر رہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سنگاپور اور ملائیشیا کی کمپنیوں پر کروڑوں ڈالر مالیت کے ایرانی پیٹرو کیمیکل، پیٹرولیم پیداوار، فروخت اور ترسیل میں ملوث ہونے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں پابندیوں میں شامل کمپنیوں پر امریکی کمپنیوں سے کاروبار کرنے پر پابندی اور ان کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے بھی ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ جمعرات کو محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا مقصد پیٹرو کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے متعلق امریکی پابندیوں کو "تباہ” کرنے کی تہران کی کوششوں کو روکنا ہے واشنگٹن ایسے اقدامات کرتا رہے گا۔

    ایک غلطی نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    بلنکن کے بیانات امریکی ٹریژری کی جانب سے ان کمپنیوں پر پابندیوں کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جن پر ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکلز اور تیل کی خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل میں حساس کردار ادا کرنے کا الزام ہے امریکہ کا یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔

    ایرانی تیل کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا تازہ ترین امریکی اقدام 2015 کےایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس دوران ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

    امریکی انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی ایشیا میں اپنی پیٹرو کیمیکل اور تیل کی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے تیزی سے خریداروں کی طرف رجوع کر رہا ہے۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    نیلسن نے مزید کہا کہ امریکہ کی توجہ تہران کے غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے اور وہ ان لوگوں کے خلاف پابندیاں لگاتا رہے گا جو جان بوجھ کر اس تجارت کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔

  • حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنےکیلئےاقدامات کرے،سپریم کورٹ

    اسلام آباد:سپر ٹیکس کے نفاذ سے متعلق کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ مقدمات کو یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، اس دوران ایف بی آر کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سپر ٹیکس کیس میں لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ آ گیا ہےلاہور ہائیکورٹ نے حتمی فیصلے پر عملدرآمد 60 دن کے لیے معطل بھی کیا ہے۔ ٹیکس کیسز میں اکثر سپریم کورٹ 50 فیصد کمپنیوں کو جمع کرانے کا کہتی ہے۔

    کیا عوامی مفاد کا تعین عدالت میں بیٹھے 3 ججز نے کرنا ہے؟ سپریم کورٹ

    کمپنیوں کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل میں کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلےکے بعد ایف بی آر کی درخواستیں غیر موثر ہو چکیں، عدالت 50 فیصد سپر ٹیکس کی ادائیگی کاحکم نہیں دے سکتی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگلے ہفتے اس کیس کو مقرر کر دیتے ہیں۔ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے۔ معلوم ہے کہ شیل پاکستان پہلے ہی کروڑوں روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔

    ایف بی آر کے وکیل نے کہا کہ ابھی میں ایف بی آر کی وکالت کر رہا ہوں، ملک اگر دیوالیہ ہوا تو فیڈریشن کی نمائندگی بھی کروں گا-

    سپریم کورٹ شریف فیملی شوگر ملز کیخلاف کیس واپس لینے پر پنجاب حکومت پر برہم

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایف بی آر سپر ٹیکس کیس میں اچھی نیت سے آیا ہے پاکستان دیوالیہ نہیں ہو رہا، روزانہ پاکستان سے 4 کروڑ ڈالر غیر قانونی طور پر باہر جارہے ہیں ہر ایک کو ملک کے مفاد کے لیے اپنے آپ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، حکومت فارن کرنسی کی بیرون ملک اسمگلنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

    بعد ازاں عدالت نے سپر ٹیکس کے تمام مقدمات یکجا کر کے اگلے ہفتے مقرر کرنے کا حکم دیا اور سماعت 16 فروری تک ملتوی کردی۔

    واضح رہے کہ سپر ٹیکس کے خلاف شیل پاکستان سمیت کمپنیوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے نجی کمپنیوں کو سپر ٹیکس ادائیگی میں چھوٹ دی تھی جس پر ایف بی آر نے لاہور ہائیکورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے-

    چوہدری وجاہت حسین کے دو سیکرٹریز گرفتار

  • امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد امجد اسلام امجد آج لاہور میں انتقال کر گئے ہیں، ان کے انتقال پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا جا ر ہا ہے. معروف صحافی مبشر لقمان نے امجد اسلام امجد کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد میرے بہت اچھے دوست تھے وہ ایک زندہ دل آدمی تھے ، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے اور ملتے تو بہت ہی پرجوش انداز میں ملتے. انہوں نے کہا کہ ویسے تو ان کے ساتھ بہت زیادہ ملاقاتیں رہیں لیکن آخری بار وہ ہمارے گھر اس وقت آئے جب وہ بیرون ملک سے کسی دورے سے وطن واپس آئے تھے ، میں ان کی آمد پر کافی خوش تھا ان کی محفل میں کیسے وقت گزرتا تھا نہیں پتہ چلتا تھا. ان کے ساتھ آخری ملاقات میں ہمارے بہت سارے دوست تھے. مجھے ان کے

    انتقال کا دھچکا لگا ہے. مبشر لقمان نے کہا کہ ادب کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رہے گا. مبشر لقمان نے کہا کہ امجد اسلام نے اپنے قلم سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا. ان کا لکھا ہوا آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ رہے گا. واضح رہے کہ امجد اسلام امجد لاہور میں آج سے شروع ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز شرکت کرنے والے تھے. ان کے اس فیسٹیول میں مختلف سیشنز رکھے گئے تھے.

  • امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر ، ڈرامہ نگار، کالمسٹ امجد اسلام امجد انتقال کر گئے ہیں.امجد اسلام امجد کا شمار اردو کے بہترین اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ امجد اسلام امجد اور عطا الحق قاسمی دونوں ہی ایم اے او کالج میں اردو پڑھاتے رہے ہیں۔ان کی خدمات کے عوض انہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا. 80 کی دہائی میں انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔امجد اسلام امجد نے پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ ایم او کالج میں درس و تدریس کے شعبہ سے بھی منسلک رہے. 70 کی دہائی میں پنجاب آرٹ کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔نوے کی دہائی میں وہ دوبارہ ایم اے او کالج میں ہی شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ یہاں سے ان کی تعیناتی بطور ڈائریکٹر چلڈرن کمپلکس ہوئی اور وہیں سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لی۔ امجد اسلام امجد ڈرامہ نگاری کی طرف بھی آئے اور یہاں بھی اپنے قلم کا لوہا منوایا. 1975ء

    میں ٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ انہوں نے بہت سارے ڈرامے لکھے ان کے معروف ڈراموں میں وارث، دن، فشار قابل زکر ہیں ہیں۔ انکے شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں جبکہ افریقی شعرا کی نظموں کا ترجمہ کالے لوگوں کی روشن نظمیں کے نام سے لاہور سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تنقیدی مضامین کی ایک کتاب (تاثرات) بھی لکھی . ان کے شعری مجموعوں میں .بارش کی آواز.شام سرائےاتنے خواب کہاں رکھوں.نزدیک.یہیں کہیں.ساتواں در.فشار.سحر آثار.ساحلوں کی ہوا.محبت ایسا دریا ہے.برزخ قابل زکر ہیں .امجد اسلام امجد کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امجد اسلام امجد کا انتقال ادب کو ایک بہت بڑا دھچکا ہے.

  • ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ کے مصنف آرتھر ملر

    17 اکتوبر 1915ء کو پیدا ہونے والے آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے۔

    آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔

    آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا۔

    آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں 10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔