Baaghi TV

Tag: Pakistan news

  • 130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون لاہور ہائیکورٹ بار کی سکریٹری منتخب

    130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون لاہور ہائیکورٹ بار کی سکریٹری منتخب

    لاہور : لاہورہائی کورٹ بار نے بھی اپنی تایخی روایات کو تبدیل کردیا ہے ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی 130 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون وکیل صباحت رضوی سکریٹری جنرل منتخب ہوگئی ہیں۔

    گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں ایڈوکیٹ صباحت رضوی نے چار ہزار 310 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مخالف امیدوار میاں عرفان نے 3ہزار745 اور قادر بخش چاہل نے 2ہزار 627 ووٹ حاصل کیے ، صباحت رضوی کو وکلا کے مختلف دھڑوں کی حمایت حاصل تھی۔

    صدر کی سیٹ پر حامد خان گروپ کے اشتیاق احمد خان 7ہزار 293 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ بار کی نائب صدر کی سیٹ کیلئے ایک اور خاتون وکیل ربیعہ باجوہ منتخب ہوئی ہیں جنہوں نے 3590 ووٹ حاصل کیے۔

    واضح رہے الیکشن میں چار عہدوں پر 14 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا ۔

    سینیئر وکلاء نے صباحت رضوی کو ان کی تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ہائی کورٹ بار میں خواتین کی شمولیت کے لیے کام کریں گی۔دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی صباحت رضوی سمیت لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی ہے۔

  • عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ

    عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف کتنے مقدمات زیر التوا ہیں؟ کس میں گرفتاری کا خدشہ ہے، اس حوالے سے بڑی دلچسپ اطلاعات ہیں‌،ان اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان پر اسلام آباد، لاہور کی مختلف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں 36 سے زائد کیسز زیر التوا ہیں، جس میں مقدمات میں نااہلی، ضمانت، فوجداری کارروائی اور ہتک عزت کے کیسز شامل ہیں جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ فوجداری کارروائی اور ٹیریان نااہلی کیس سب سے اہم ہیں۔

    تھانہ سنگجانی کے دہشت گردی کے مقدمہ میں عبوری ضمانت ابھی کرانا باقی ہے جبکہ دہشت گردی کے مقدمہ میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ سے 3 مارچ تک حفاظتی ضمانت پر ہیں۔ اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی کی دو مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری زیر التوا ہے۔

    عمران خان کی ان دو مقدمات میں ضمانت خارج ہوئی تو گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ 25 سے زائد فوجداری مقدمات میں سابق وزیراعظم ضمانت پر رہا ہیں۔ سب سے زیادہ 25 مقدمات اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں زیر التوا ہیں جہاں محض 2 مقدمات کے علاوہ عمران خان باقی تمام میں مستقل ضمانت پر ہیں۔توشہ خانہ فوجداری کاروائی کے کیس میں عمران خان کو سیشن کورٹ نے 28 فروری طلب کر رکھا ہے، جس میں فرد جرم عائد ہونے کا بھی امکان ہے۔

    اسلام آباد سیشن کورٹ کے باقی 23 مقدمات اسلام آباد کے مختلف تھانوں کے درج ہیں، یہ مقدمے گزشتہ سال 25 اور 26 مئی احتجاج ، اگست کی ریلیوں اور توشہ خانہ فیصلے کے احتجاج پر درج ہوئے تھے۔

    اسی طرح ایڈیشل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف دھمکی آمیز بیان کا کیس بھی زیر التوا ہے، 2014 کے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کے دو مقدمے بھی زیر التوا ہیں۔ بنکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کے تناظر میں فارن ایکسچینج ایکٹ کا مقدمہ درج ہے، اس کیس میں بنکنگ کورٹ نے 28 فروری کو عمران خان کو حتمی حاضری کی مہلت دے رکھی ہے۔عمران خان کی بنکنگ کورٹ عدم پیشی کی صورت میں ضمانت خارج ہونے کا بھی امکان ہے جبکہ شریک ملزمان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں عمران خان کا خواجہ آصف، نجم سیٹھی اور نجی ٹی وی چینل پر ہتک عزت دعویٰ زیر التوا ہے جبکہ لاہور میں عمران خان اور شہباز شریف کے درمیاں ہتک عزت کیس بھی زیر التوا ہیں۔

    عمران خان پر مبینہ بیٹی ٹیریان کو 2018 کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نا کرنے پر نااہلی کیس ہے، توشہ خانہ ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کیس ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر توہین الیکشن کمیشن کا کیس بھی زیر التوا ہے۔الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ فیصلے کے تناظر میں پارٹی سربراہی سے ہٹانے جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں شوکاز نوٹس کیس بھی زیر التوا ہیں۔

  • پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کےپانچویں مرحلےکاآج گوجرانوالہ سےآغاز

    پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کےپانچویں مرحلےکاآج گوجرانوالہ سےآغاز

    گوجرانوالہ:پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھروتحریک کےپانچویں مرحلےکا آج آغاز ہوگا۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے سٹی صدر خالد عزیز لون کی رہائشگاہ کے باہر جیل بھرو کیمپ لگا دیا گیا، گوجرانوالہ ڈویژن کے تمام اضلاع سے پی ٹی آئی رہنما اپنے کارکنان کے ساتھ گوجرانوالہ پہنچیں گے۔

    سابق وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی خالد عزیز لون کی رہائشگاہ کے باہر پہنچیں گے، ہر ضلع سے پارٹی رہنما اپنے کارکنوں کے ساتھ گرفتاریاں دیں گے۔جیل بھرو کیمپ سے پولیس نے گرفتار نہ کیا تو پی ٹی آئی رہنما پیدل مارچ کرتے سینٹرل جیل جائیں گے، کارکن سنٹرل جیل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے گرفتاریاں دیں گے۔

    اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی جیل بھرو تحریک میں راولپنڈی میں گرفتاری دینے والے پی ٹی آئی کے 47 رہنماؤں اور کار کنوں کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔

    جیل بھرو تحریک کے منتظم اعجاز چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور میں بھی ہزاروں افراد گرفتاری دینے نکلے تھے مگر کسی نے انہیں گرفتار ہی نہیں کیا۔

    ادھر یہ بھی معلوم ہواہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی جیل بھرو تحریک میں پولیس کس قانون کے تحت کارکنان اور سپورٹرز کو گرفتار کرے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت، کارکنان اور سپورٹرز کی گرفتاری دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ہی مممکن بنائی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ کسی کے کہنے پر اسے گرفتار نہیں کرسکتے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سڑک بلاک کرنے کی صورت میں دفعہ 290اور 291 کے تحت مقدمات درج ہوں گے جبکہ امن و امان خراب کرنے اور نعرے بازی پر 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی گرفتاری کے بعد مثل اور ضمنیوں میں وجہ لکھنا لازم

    خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بدھ 22 فروری سے جیل بھرو تحریک لاہور سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

  • ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے: وزیراعظم

    ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ دہشتگرد سزا سے بچ نہیں سکتے، ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔وزیراعظم نے بارکھان کے علاقے رکھنی بازار میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر دکھ اور افسوس جبکہ اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سزا سے بچ نہیں سکیں گے، ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔انہوں نے وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس بلوچستان سے رپورٹ بھی طلب کر لی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے میں جاں بحق افراد کی مغفرت، اہل خانہ کے لئے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

    یاد رہے کہ بارکھان واقعہ نے ظلم وتشدد کرنے والے ایسے حقائق تک پہنچا دیا ہے کہ ہرکوئی ان ظالموں سے بدلہ لینے کے لیےپکاررہاہے

    یہ واقعہ بہت دردناک ہے ، جس کے بارے میں خان محمد مری کی اہلیہ بی بی گرانازاپنی بے بسی کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں "میرے دونوں بچوں کی لاشوں کو مجھے دے دو تاکہ میں ان کو دیکھ سکوں اور مجھے یقین ہو کہ وہ لاشیں میرے بچوں کی ہیں۔‘بی بی گراناز نے یہ الفاظ تقریبا چار سال بعد اپنے شوہر خان محمد مری سے ملاقات کے بعد ادا کیے۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو بلوچستان کے علاقے بارکھان کے ایک کنویں سے ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ گراناز بی بی اور ان کے دو بیٹوں کی لاشیں ہیں۔بی بی گراناز کے شوہر خان محمد مری نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور سات بچے بلوچستان کے وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کی نجی جیل میں قید ہیں۔تاہم لیویز فورس نے جمعرات کی صبح کوہلو کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے بی بی گراناز کو ان کی بیٹی اور چار بیٹوں سمیت بازیاب کروا لیا تھا۔

    ایک جانب جہاں کنویں سے ملنے والی خاتون کی لاش کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی، وہیں محمد خان مری نے ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں سے متعلق دعوی کیا تھا کہ یہ ان کے بیٹے ہیں۔بازیابی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بی بی گراناز،ان کی بیٹی اور چار بیٹوں کی ملاقات جمعہ کے روز پولیس لائن میں کرائی گئی جہاں گراناز کے شوہر خان محمد مری بھی موجود تھے۔

    اپنے بیوی اور بچوں سے خان محمد مری کی یہ اندازاً چار سال بعد پہلی ملاقات تھی۔تاہم اس موقعے پر گراناز کے منہ سے صرف چند ہی الفاظ نکل سکے۔صحافیوں سے ملاقات کے بعد گراناز کی ایک چھوٹی سی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انھوں نے مختصر بات کی۔بلوچی زبان میں انھوں نے کہا کہ ’میرے دونوں بچوں کی لاشوں کو مجھے دے دو تاکہ میں ان کو دیکھ سکوں اور مجھے یقین ہو کہ یہ ان کی لاشیں ہیں۔‘ان چند جملوں کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

    واضح رہے کہ خان محمد مری کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی اور سات بچے بلوچستان کے وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمان کی نجی جیل میں 2019 سے قید تھے جن میں سے دوبیٹوں کو ہلاک کیا گیا۔انھوں نے اپنے بیٹوں کی ہلاکت کا الزام بھی سردار عبدالرحمان کھیتران پر لگایا تھا تاہم سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    یاد رہے کہ عبدالرحمن کھیتران کو بدھ کے روز پولیس نے حراست میں لیا تھا اور جمعرات کی دوپہر انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے پولیس نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جس کے بعد ان کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر کوئٹہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • معروف ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرکےفریج میں رکھ دیے

    معروف ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرکےفریج میں رکھ دیے

    ہانگ کانگ:چینی ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرنےکےبعد جسم کےٹکڑے کرکےفریج میں رکھ دیے،اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ میں 28 سالہ معروف چینی ماڈل آبے چوئی کو مبینہ طور پر ان کے سابق شوہر نے بہیمانہ قتل کا نشانہ بنایا اور لاش کے ٹکڑے کر کے انہیں فریج میں رکھ دییے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق مقتولہ کے سابق شوہر سمیت تین افراد کو ہانگ کانگ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کے مطابق ماڈل کا سابق شوہر کے خاندان کے ساتھ مالی تنازع تھا۔پولیس نے انکشاف کیا کہ معروف ماڈل کی لاش کے ٹکڑے ایک گاؤں کے گھر میں ملے تھے جہاں انسانی گوشت کو کاٹنے والی مشین اور لکڑی کاٹنے کے اوزار بھی موجود تھے۔

    سپرنٹنڈنٹ ایلن چنگ نے بتایا کہ ’مقتولہ کا سر غائب ہے، جس کی تلاش جاری ہے‘۔پولیس نے انکشاف کیا کہ مقتولہ ماڈل کے جسم کے اعضاء فریج سے ملے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گاؤں کے گھر کو حال ہی میں کرائے پر دیا گیا تھا، ایسا لگتا ہے کہ یہ گھر ماڈل کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ قتل کے الزام میں ماڈل کے سابق شوہر کے والد، والدہ اور بڑے بھائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’ مقتولہ ماڈل اور ان کے سابق شوہر کے خاندان کے درمیان بھاری رقم کےمالی تنازعات تھے۔’

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ماڈل آبے چوئی 22فروری کو لاپتا ہوئی تھی، انہیں آخری بار اس کے سابق شوہر کے بھائی نے دیکھا تھا، جو ماڈل کا ڈرائیورر بھی تھا۔پولیس نے بتایا کہ ماڈل کے سابق شوہر کے اہل خانہ نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔ماڈل آبے چوئی نے حال ہی میں معروف میگزین لورائیل موناکو کے لیے ماڈل کے طور پر کام کیا اور رواں سال پیرس فیشن ویک میں بھی شرکت کی تھی.

  • اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کوسیاسی معاملات حل کرانا ہونگے : شاہد خاقان عباسی

    اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کوسیاسی معاملات حل کرانا ہونگے : شاہد خاقان عباسی

    لاہور:مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما و سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، اسٹیبلشمنٹ سمیت سبھی کو سیاسی معاملات حل کرانا ہوں گے، تاخیر ملکی مفادمیں نہیں۔

    الحمرا ہال لاہور میں جاری تین روزہ لاہورلٹریچر فیسٹیول کے دوسرے دن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین توموجود ہے لیکن اس کی بالادستی قائم کرنا بھی ضروری ہے، ملکی سیاسی تاریخ میں صرف 4 لیڈرز ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف، بے نظیر بھٹو اور عمران خان آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کیلئے کرپٹ لوگ زیادہ قابل قبول ہیں، بہ نسبت ان لوگوں کے جو کردار والے ہیں، پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ مسئلے کا حل نہیں بلکہ خود ایک مسئلہ ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں، بیوروکریسی میں بھی متعلقہ وزارتوں کے مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں، وفاقی ملازمین مراعات کیلئے صوبوں میں کام کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔انہوں نےمزید کہا کہ یہ عوام کی صوابدید ہے پارلیمنٹ میں کسے ہونا چاہیے مگر ایسا ہوتا نہیں ہے،ہمارے ہاں 50 فیصد سینیٹرز سیٹیں خرید کر سینیٹ میں پہنچتے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سب کو معلوم ہے کہ پاکستانی سیاست پر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اب سب کو مل کر آئین اورقانون کی بالادستی یقینی بناناہوگی۔ انہوں نے ملک میں 35 فیصد مہنگائی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی۔

  • بلوچستان نیشنل پارٹی نےپی ڈی ایم چھوڑنے کی دھمکی دے دی

    بلوچستان نیشنل پارٹی نےپی ڈی ایم چھوڑنے کی دھمکی دے دی

    کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) نے دھمکی دی ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاپتا افراد کے معاملے اور اس کے دیگر مطالبات کو فوری طور پر حل نہ کیا تو وہ حکمران پی ڈی ایم اتحاد سے علیحدگی پر غور کرے گی۔ بی این پی ایم کے سینئر نائب صدر عبدالولی کاکڑ اور سیکریٹری جنرل واجہ جہانزیب بلوچ نے یہ انتباہ کوئٹہ پریس کلب کے باہر پارٹی کی جانب سے جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف لگائے گئے ٹوکن بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔

     

    مسنگ پرسنز

    وزیر مملکت ہاشم نوتیزئی، رکن صوبائی اسمبلی نصیر احمد شاہوانی، اختر حسین لانگو، ثنا بلوچ، میر اکبر مینگل، احمد نواز اور شکیلہ دہوار نے ٹوکن بھوک ہڑتال کی۔بی این پی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پارٹی کے وفد نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران انہیں صوبے کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بی این پی-ایم کے سربراہ سردار اختر مینگل کو یقین دلایا تھا کہ وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک صوبائی وزیر پر دو افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے جبکہ فورسز مبینہ طور پر سیاسی کارکنوں کو غائب کر رہی ہیں اور یہاں تک کہ خواتین کو بھی ان کے گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے۔

    عبدالولی کاکڑ نے کہا کہ ’اگر یہ صورت حال جاری رہی تو پارٹی اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بعد اپنے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرے گی‘۔انہوں نے کہا کہ پارٹی حکومت کو ہٹانے کے لیے بلوچستان اسمبلی میں عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے میں تاخیر نہیں کرے گی۔انہوں نے ماحل بلوچ کے بارے میں حکومتی دعوؤں کو مسترد کر دیا جسے سی ٹی ڈی نے چند روز قبل گرفتار کیا تھا۔جہانزیب بلوچ نے کہا کہ بی این پی انتخابات میں تاخیر کے حق میں نہیں ہے۔

  • توانائی بحران:درآمدی تیل کی قیمت کا بوجھ لوگوں کو اٹھانا ہوگا:چیئرمین نیپرا

    لاہور: پاکستان میں توانائی بحران بڑھتا ہی جارہا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت نے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا ہے ، اس سلسلے میں نیپرا کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے کہا ہے کہ زیادہ تر بجلی درآمدی فیول سے پیدا کی جارہی ہے لہٰذا لوگوں کو اس کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین توصیف ایچ فاروقی نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب میں کہا ہے کہ ایم ڈی آئی فکسڈ چارجز ختم نہیں کرسکتے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ پر قابو پانے کے لیے ان کی وصولی ضروری ہے، زیادہ تر بجلی درآمدی فیول سے پیدا کی جارہی ہے، لوگوں کو اس کا بوجھ اٹھانا ہوگا، سیزنل بزنسز کنکشن منقطع اور دوبارہ لگواسکتے ہیں، کولڈ سٹوریج سیزنل بزنس نہیں ہے۔

    لاہور چیمبر کے صدر کاشف انوراور نائب صدر عدنان خالد بٹ نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ ڈیمانڈ انڈیکیٹر چارجز کے تحت ان سے ان کے منظور شدہ لوڈ کا 50 فیصد وصول کیا جاتا ہے۔
    انھوں نے کہا کہ بجلی کا بل یونٹ استعمال کیے بغیر ادا کرنا پڑتا ہے، اگر وہ اپنے الاٹ کردہ لوڈ کے 50فیصد سے زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں تو وہ ایم ڈی آئی چارجز کے بجائے استعمال شدہ یونٹس کے مطابق بل ادا کریں گے۔ اس فیصلے سے وہ تاجر بری طرح متاثر ہورہے ہیں ۔

  • بارکھان: رکھنی بازار میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بارکھان: رکھنی بازار میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بارکھان:بلوچستان کے ضلع بارکھان میں دھماکے سے 3 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکا بارکھان کے علاقے رکھنی کے بازار میں ہوا جس میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    دھماکے میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق دھماکا بارکھان کے رکنی بازار میں صبح کے اوقات میں ہوا، جب لوگ خریداری کیلئے جائے وقوع پر موجود تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 10 افراد زخمی ہیں، نعشوں کو ضروری کارروائی، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور شواہد جمع کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق دھماکے میں متعددگاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ جاری

    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ جاری

    راجن پور:راجن پور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 193 میں ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل جاری ہے۔
    حلقہ این اے 193 میں ضمنی انتخاب کیلئے صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا،3 لاکھ 79 ہزار 204 ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    ضمنی الیکشن میں 11 امیدوار میدان میں ہیں تاہم اصل مقابلہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان ہوگا، پی ٹی آئی کے محسن لغاری اور ن لیگ کے عمار لغاری میں زور کا جوڑ پڑے گا، پیپلزپارٹی کے اختر حسن گورچانی بھی امیدوار ہیں۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے حلقے میں ووٹنگ کیلئے 237 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 68 کو حساس قرار دیا گیاہے۔کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کیلئے 2 ہزار 650 پولیس اہلکار تعینات ہونگے، رینجرز اور آرمی کے جوان بھی گشت کریں گے۔

    راجن پور کے حلقہ این اے 193 کی نشست پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سردار جعفر لغاری کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔یاد رہے کہ اس سے قبل پنجاب حکومت نے این اے 193 کا ضمنی انتخاب ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔