Baaghi TV

Tag: Pakistan news

  • فتنہ پھیلانے والوں سے بات چیت نہیں ہوتی. مریم نواز شریف

    فتنہ پھیلانے والوں سے بات چیت نہیں ہوتی. مریم نواز شریف

    فتنہ پھیلانے والوں سے بات چیت نہیں ہوتی. مریم نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور مرکزی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ مذاکرات دہشت گردوں اور فتنہ پھیلانے والوں سے نہیں ہوتے۔ یاد رہے کہ مریم نواز حالیہ عرصے کے دوران عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں پر ان کے والد میاں محمد نواز شریف اور خاندان کے دیگر افراد بھی موجود ہیں۔
    https://twitter.com/FazilaAyubMalik/status/1649059176570847233
    دوسری طرف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں مرکزی چیف آرگنائزر ن لیگ نے کہا کہ یہ بات یاد رکھیں کہ مذاکرات یا بات چیت سیاسی جماعتوں سے ہوتی ہے، دہشت گردوں اور فتنہ پھیلانے والوں سے نہیں۔

    اس ٹوئیٹ کے جواب میں خاتون صحافی فضیلہ ایوب ملک نے لکھا کہ "آخر مذاکرات میں حرج ہے ؟ اس سیاسی کشیدگی اور نفرت انگیزی کا واحد حل مذاکرات ہیں اور اس لیئے کہ آج نہیں تو کل ایک نہ ایک دن آپ کو بھی مجبورا مذاکرات کرنے پڑیں گے ورنہ یہ سیاسی تماشا لگا رہے گا۔”

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • یہ جوڈیشل مارشل لاء نہیں جوڈیشل مارشل لاء پلس ہے. راجہ پرویز اشرف

    یہ جوڈیشل مارشل لاء نہیں جوڈیشل مارشل لاء پلس ہے. راجہ پرویز اشرف

    یہ جوڈیشل مارشل لاء نہیں جوڈیشل مارشل لاء پلس ہے. راجہ پرویز اشرف

    قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ 50 سال گزرنے کے باوجود بھی پارلیمان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے، پارلیمان اپنےمقام کیلئے لڑ رہی ہے۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میثاق جمہوریت کے جتنے معاملات تھے میں ان میں شامل تھا، اُس وقت میں پارلیمنٹیرینز کا سیکرٹری جنرل تھا۔ اُس وقت ایک احساس نے جنم لیا کہ اگر ہم نے معاملات چلانے ہیں تو ہمیں اپنے آئین، اپنی جمہوریت اور اپنی پارلیمان کی حفاظت کرنی ہوگی۔

    آج ٹی وی کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا، یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کوئی جماعت اگر اپوزیشن میں ہے تو تعمیری اپوزیشن کرنے کے بجائے اس میں پڑ جائے اور کہے کہ میں آپ کو نہیں رہنے دوں گا اور ہر روز ایسے ایشو کھڑے کرے کہ حکومت وقت اپنی پوری توجہ اپنے کام سے ہٹا لے۔ کیا اسٹبلشمبنٹ کے علاوہ آئین کو خطرات موجود ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آپ نے سنا ہوگا پارلیمان تمام اداروں کی ماں ہے، یہیں سے تمام ادارے اپنی قوت حاصل کرتے ہیں، یہی وہ ماں ہے جو سب کو ان کے حصے کی چیز بانٹ کر دیتی ہے، ان کو اختیارات تفویض کرتی ہے۔ اگر آپ اس ماں کو ہی بے عزت کرنا شروع کردیں، اس کے اختیارات کو چیلنج کرنا شروع کردیں، پھر تو سارا معاملہ ہی دھڑام سے گر جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پارلیمان 23 کروڑ عوام کے جذبات اور احساسات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک قانون ابھی پاس بھی نہیں ہوا، اس نے سارے مراحل طے ہی نہیں کئے اس پر عدالت کہہ دے کہ اس پر اسٹے کرتے ہیں، اسٹرائک ڈاؤن کرتے ہیں، اور ایسے سخت الفاظ ہوں کہ اس کو صدر قبول کریں یا نہ کریں یہ قانون نہیں بنے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پارلیمان کو اگر کوئی قانون سازی کرنی ہے تو کیا پہلے وہ اجازت کیلئے عدالت کے پاس جائے گی؟

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسی بات ہے تو پارلیمان کی خودمختاری کدھر گئی؟ پھر اس کا مقتدر ہونا کہاں گیا؟ پھر اس کی اداروں کی ماں ہونے کی حیثیت کہاں گئی؟ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس لئے یہ بات بالکل سچ ثابت ہو رہی ہے کہ آج بھی ہم اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اگر پارلیمان کی عزت نہیں ہوگی تو کسی ادارے کی عزت قائم نہیں رہ سکے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹبلشمنٹ سمجھ گئی ہے کہ اگر دخل دیتے ہیں تو اس میں اسٹبلشمنٹ کا بھی نقصان ہوتا ہے اور سیاست کا بھی نقصان ہوتا ہے۔ ’اسی طرح اب اگر عدالت جو ہے وہ پارلیمان کی راہ میں کوئی روڑے اٹکائے گی اور اس کے راستے میں آئے گی، یا کوئی ایسا سسٹم جو نہیں کرنا چاہئیے اس سے سرزد ہوگا نوئنگلی یا ان نوئنگلی، دانستہ یا نادانستہ تو نقصان تو پورے ملک کا ہوگا‘۔

    انہوں نے کہا کہ جس ملک کی پارلیمنٹ کمزور ہو وہ ملک طاقت ور ہوہی نہیں سکتا۔ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا کیا مستقبل ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا ایک طریقہ ہے، قومی اسمبلی بل کو سینیٹ کے پاس بھیجتی ہے، وہاں سے پاس ہونے کے بعد وہ صدر مملکت کے پاس جاتا ہے، صدر اسے مخصوص مدت تک روک سکتے ہیں یا واپس کردیتے ہیں، واپسی کی صورت میں جوائنٹ سیشن ہوتے ہیں جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی مل کر غور کرتے ہیں، وہ دوبارہ پاس کرتے ہیں تو دوبارہ صدر مملکت کے باس چلا جاتا ہے، اگر صدر مملکت دوبارہ اس کو روکتے ہیں تو ایک مخصوص مدت کے بعد وہ قانون بن جاتا ہے۔ یہ ہے صحیح طریقہ، اس کے علاوہ جو بھی طریقہ ہوگا وہ زیادتی کے ضمرے میں آئے گا۔

    جس پر پروگرام کی میزبان عاصمہ شیرازی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کل یہ قانون بن جائے گا کیونکہ یہ دن پورے ہوجائیں گے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن سپریم کورٹ اب کسی بھی وجہ سے سوموٹو لے کہ یہ جو قانون بنا ہے یا پاس ہوا ہے اسے روک دیا جائے تو پھر آپ پارلیمان سے اس کا جو قانون سازی کا حق، اختیار اور جو اس کا فرض ہے وہ چھیننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عاصمہ شیرازی نے پوچھا کہ تو کیا یہ جوڈیشل مارشل لاء ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ’اس کو آپ جوڈیشل مارشل لاء نہیں جوڈیشل مارشل لاء پلس کہیں‘۔ یہ تو اس سے زیادہ خوفناک چیز ہے۔ اگر کوئی قانون آئین یا اسلامی قوانین سے متصادم ہو تو آپ اسے اسٹرائیک ڈاؤن کر سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے تو یہ قانون بن گیا ہے، اب اگر سپریم کورٹ کہتا ہے کہ یہ قانون نہیں بنا تو ’وہ میں نافذ العمل نہیں ہونے دوں گا‘۔ راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ ہم نے یہ نہیں کہا تمام سولہ سترہ ججز بیٹھیں، ہم نے کہاں کہ تین ججز بیٹھ جائیں اور وہ اس سوموٹو کا فیصلہ کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نو ججز سے شروع کرتے ہیں، اس میں سے دو چلے جاتے ہیں سات بچتے ہیں، آپ سماعت جاری رکھتے ہیں، ان سات سے پھر دو چلے جاتے ہیں پانچ رہ جاتے ہیں آپ جاری رکھتے ہیں، پانچ میں سے پھر تین چلے جاتے ہیں آپ دو کے ساتھ سماعت جاری رکھتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ فرض کریں وزیراعظم کابینہ کو بلاتا ہے کسی فیصلے کیلئے، اور کابینہ کے سارے ممبرز اٹھ کر چلے جائیں اور صرف ایک یا دو رہ جائیں اور وہ ان کے ساتھ فیصلہ کرلیں تو کیا اس کو آپ کابینہ کا فیصلہ مان لیں گے؟

    ان کا کہنا تھا کہ میں تعریف کرتا ہوں کہ چیف جسٹس نے کہا آپ لوگ آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کرلیں، تکنیکی طور پر وہ یہ بات نہیں کرسکتے، یہ ان کا کام نہیں ہے، یہ کام سیاستدانوں کا ہے، یہ کام پارلیمان کا ہے، ہمیں کرنا چاہئیے تھا، ہم نے کیوں نہیں کیا، ہمیں بیٹھنا چاہئیے۔ ہم اپنا کیس لے کر عدالت چلے گئے، ہم نے خود اپنی داڑھی دوسرے کے حوالے کردی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ 14 مئی تک کیا بیلٹ پیپر کی چھپائی اور ترسیل ہوجائے گی؟ آپ خود ایسا ٹارگٹ دے رہے ہیں کہ فیصلے پر عمل ہی نہ ہوسکے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں الیکشن میں جانا خون خرابے کا باعث بن سکتا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر سے آگے انتخابات لے جانا بہت بری بات ہوگی بلکہ نقصاندہ ہوگا، لیکن قسطوں میں انتخابات کروانا بہت خطرناک بات ہوگی۔ کشمیر اور گلگت بلتستان والوں کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہمارے الیکشن بھی پاکستان کے ساتھ کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کو آخر تسلیم کرنا پڑے گا کہ بغیر پارلیمان کی سربلندی اور توقیر اور اسے بغیر عزت دئے کوئی بھی عزت والا نہیں رہ سکتا، کسی کی پھر عزت نہیں ہوگی۔ سب کی عزت ہو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنی پارلیمان کی عزت کریں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بھی ہمارا ہی ہے، کیا سپریم کورٹ کی پارلیمنٹ نہیں ہے؟ اگر پالیمنٹ نہ ہو تو آپ کے پاس قانون کہاں سے آئے گا؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ’میں اب چاہتا ہوں کہ پارلیمان جو ہے، یہ پارلیمان یا آنے والی پارلیمان وہ کنٹیمپٹ آف پارلیمان (توہینِ پارلیمان) کا قانون بھی پاس کرے۔ اگر کنٹیمپٹ آف کورٹ ہے تو کنٹیمپٹ آف پارلیمان کیوں نہیں ہے جو مدر آف انسٹیٹیوشنز ہے، اس کا کنٹیمپٹ بھی ہے، اس کی عزت بھی ہے اس کی بھی توقیر ہے، تو جب تک ہم یہ نہیں کریں گے تو بالکل میں کھلے الفاظ میں کہتا ہوں کہ ہم پاکستان میں استحکام نہیں لاسکیں گے۔‘

  • اٹارنی جنرل نے ملاقات کے دوران ججز سے مزید وقت مانگ لیا

    اٹارنی جنرل نے ملاقات کے دوران ججز سے مزید وقت مانگ لیا

    ملک بھر میں ایک ہی روز انتخابات کرانے کے حوالے سے کیس کی سماعت 27 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے، عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پنجاب میں عام انتخابات اور ملک بھر میں ایک ہی روز الیکشن کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔

    ذرائع کے مطابق سماعت کے وقفے کے بعد اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، فاروق نائیک نے کیس کی سماعت کے وقفے کے بعد چیف جسٹس عمر عطاء بندیال سے چیمبر میں اہم ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل اور فاروق ایچ نائیک نے ملاقات کے دوران ججز سے مزید وقت مانگ لیا۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ سیاسی قائدین کوباہمی مشاورت کیلئے کچھ وقت درکارہے۔

    فاروق نائیک نے کہا کہ فضل الرحمان نے پارٹی سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ مولانا سینئر سیاسی شخصیت اور پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل اور فاروق نائیک نے استدعا کی کہ عدالت ہمیں عید کے بعد تک کا وقت دے۔ فاروق نائیک نے کہا کہ انتخابات کےمعاملےپرتفصیلی مشاورت درکار ہے، پارٹی سربراہان اپوزیشن سے بات چیت کا لائحہ عمل طےکرینگے۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کی جانب سے وقت دینے کی استدعا منظور کر لی۔ کھلی عدالت میں سماعت ہونےیانہ ہونےکےحوالےسےفیصلہ ہوگا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بینچ کے رکن جسٹس منیب اختر کراچی روانہ ہو گئے ہیں۔ جسٹس منیب اخترکی4بجےفلائٹ شیڈول تھی۔

    گزشتہ روز وزارت دفاع کی جانب سے ملک کی تمام اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی درخواست پر سماعت کرنے کے بعد عدالت نےدرخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے آج پیشی پر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو طلب کیا تھا۔ اس سے قبل سماعت کے آغاز کے موقع پر چیف جسٹس نے دعا کی کہ مولا کریم لمبی حکمت دے تا کہ صحیح فیصلے کر سکیں، ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر اور ہمارے جانے کے بعد اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے۔ سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، آپ نے نیک کام شروع کیا اللہ اس میں برکت ڈالے، عدالت نیک کام میں اپنا حصہ ڈالے گی۔

    عدالت میں فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ حکومتی سیاسی اتحاد کا مشترکہ مؤقف ہے کہ 90 دن میں انتخابات کا وقت گزر چکا ہے، عدالت دو مرتبہ 90دن سے تاریخ آگے بڑھا چکی ہے، سیاسی جماعتیں پہلے ہی ایک ساتھ انتخابات کا کام شروع کر چکی ہیں۔ بلاول نے اسی سلسلے میں فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، آصف زرداری بھی اتحادیوں سے مشاورت کر رہے ہیں، عید کے فوری بعد حکومتی اتحاد کے اندر سیاسی ڈائیلاگ کریں گے پھر پی ٹی آٸی سے پھر مذاکرات کریں گے تاکہ ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ان مذاکرات سے سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو، الیکشن جتنی جلدی مکمن ہو ایک ہی دن ہونے چاہیے۔ انتخابات ایک دن میں ہوں تو بہت بہتر ہوگا، حکومتی جماعتوں کا پہلے بھی یہی موقف تھا ایک ساتھ انتخابات ہونے چاہئیں، کیوں کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 روز کا وقت میں گزر چکا ہے۔

    ن لیگ کی نمائندگی کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم قیادت کے مشورے کے بعد آپ کے سامنے آئے ہیں، انتشار اور اضطراب نہیں ہونا چاہتے، یقین رکھتے ہیں کہ ایک ہی دن الیکشن ہونے چاہیئیں۔ ہم مقابلے پر نہیں مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، ہم سیاسی لوگوں کو مذاکرات کے ذریعے حل نکالنا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عید کے بعد اتحادیوں کا اجلاسں بلایا ہے، اپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں، ہم جو میڈیا پر بات کرتے ہیں وہ اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں کچھ کردار سوشل میڈیا کا بھی ہے۔

    دورانِ سماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما ایاز صادق نے بلوچستان عوامی پارٹی (بی این پی) مینگل کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سیاست اپنی جگہ مگر سب اچھے اکٹھے لگتے ہیں، بی این پی مینگل کے لوگ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بی این پی کی قیادت اس وقت دبئی میں موجود ہے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ مذاکرات ہوں۔

    عدالت نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کو روسٹرم پر بلایا تو انہوں نے بتایا کہ میں رات کو پاک افغان بارڈر سے آکر یہاں عدالت پیش ہوا ہوں، ہماری دعا ہے کہ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے۔ قرآن کریم کی تلاوت سے عدالتی کارروائی کا آغاز کرنے پر مشکور ہوں، اللہ کا حکم ہے اجتماعی معاملات میں مذاکرات کرو، اللہ کا حکم ہے یکسوئی ہوجائے تو اللہ پر اعتماد کرو، سراج الحق نے کہا کہ آئین اتفاق رائے کی بنیاد پر وجود میں آیا ہے، آج بھی آئین ملک کو بچا سکتا ہے، آئین کی حفاظت کرنا ملک کی حفاظت کرنا ہے، دنیا کا منظر نامہ تبدیل ہو چکا ہے

    چیف جسٹس نے کہا کہ تمام سیاسی قائدین نے آج آئین کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے، آئین پر نہیں چلیں گے تو کئی موڑ آجائیں گے، آئین کے آرٹیکل 254 کی تشریح کبھی نہیں کی گئی، آرٹیکل 254 کے تحت تاریخ نہ بڑھائی جائے اس لیے اس کی تشریح نہیں کی گئی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے غلط فیصلہ کیا جس پر عدالت نے حکم جاری کیا، پنجاب میں الیکشن کی تاریخ 14 مئی ہے، عدالت آئین اور قانون کی پابند ہے۔

    پی ٹی آئی کی نمائندگی کرتے ہوئے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پارٹی کا نقطہ نظر ہیش کرچکا ہوں، ایک سیاسی پہلو ہے دوسرا قانونی، آئین 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے حوالے سے واضح ہے، کسی کی خواہش کا نہیں آئین کا تابع ہوں۔ سپریم کورٹ نے انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا لیکن عدالتی فیصلے پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، عدالت نے بردباری اور تحمل کا مظاہرہ اور آئین کا تحفظ کیا۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تلخی کی بجائے اگے بڑھنے کے لیے آئے ہیں، سیاسی قوتوں نے مل کر ملک کو دلدل سے نکالنا ہے جس کا آئینی اور جمہوری راستہ انتخابات ہی ہیں۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو انتخابات ہونے چاہئیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کہا کہ الیکشن چاہتے ہیں تو اسمبلیاں تحلیل کر دیں، قومی اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔

    عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ نے 17 اپریل تک وسائل فراہم کرنے کا حکم دیا لیکن کیا اس پر عمل ہوا، آئین کے مطابق یہ اپنا ایک پروپوزل دیں ہم اس کو دیکھیں گے۔ کیا ملک کو پارلیمانی قررادادوں سے چلانا چاہتے ہیں، ہم نہ انتشار چاہتے ہیں نہ آئین سے انحراف، مذاکرات کے حامی ہیں جو آئین کے اندر رہتے ہوئے ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ سراج الحق، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے کوشش کی ہے، بعد میں پی ٹی آئی نے بھی ایک ساتھ انتخابات کی بات کی ہے، ان کیمرہ بریفنگ دی گئی لیکن عدالت فیصلہ دے چکی تھی، حکومت کی شاید سیاسی ترجیح کچھ اور تھی۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ عدالتی فیصلہ موجود ہے، یقین ہے کہ کوئی رکن اسمبلی عدالتی فیصلے کے خلاف نہیں جانا چاہتا، آج کسی سیاسی لیڈر نے فیصلے کو غلط نہیں کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ہٹ دھرمی نہیں ہو سکتی، دو طرفہ لین دین سے مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، گزارش ہو گی کہ پارٹی سربراہان عید کے بعد نہیں آج بیٹھیں، ایک ہی نکتہ ہے اس پر مل کر بات کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تمام لیڈرز نے آئین کی پاسداری کی بات کی ہے، ملک کا نظام آئین کے تحت چلتا ہے اس پر عمل نہیں کریں گے تو اگر مگر میں پھنس جائیں گے۔

    پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کا فیصلہ واپس نہیں لیں گے، عدالت انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے 14 مئی کے فیصلے میں ایک وجہ نظر آئی تھی کہ کمیشن تاریخ بدل نہیں سکتا، کچھ غلط فہمیاں ہوئی ہیں، سب کا مؤقف ہے ایک دن میں الیکشن ہوں۔ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ یہ عدالت ان پریکٹیکل چیزوں پر غور نہیں کرسکتی، ہم آئین اور قانون کے پابند ہیں، ہو سکتا ہے پس پردہ جماعت اسلامی نے کچھ کیا ہو، اخبارات میں پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح طور پر سامنے نظر آیا ہے۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ عید کے دوران بھی مولانا فضل الرحمٰن سے بات کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اچھی کوشش کی ہے، توقع ہے مولانا فضل الرحمٰن بھی لچک دکھائیں گے۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وزارت دفاع نے 14 مئی کا فیصلہ واپس لینے کی استدعا کی، ایسے فیصلے واپس نہیں ہوتے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت اپنا 14 مئی کا فیصلہ واپس نہیں لے گی، کسی نے عدالتی فیصلہ چیلنج نہیں کیا، اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عدالتی فیصلہ واپس لینا مذاق نہیں ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ 14 مئی ہے۔

  • سعودی عرب میں شوال کے چاند کا اعلان کردیا گیا، عید جمعہ کو ہوگی

    سعودی عرب میں شوال کے چاند کا اعلان کردیا گیا، عید جمعہ کو ہوگی

    سعودی عرب میں شوال کے چاند کا اعلان کردیا گیا، عید جمعہ کو ہوگی
    سعودی عرب کے سرکاری محمکہ نے تصدیق جاری کرتے ہوئے عید الفطر کا پہلا دن 21 اپریل بروز جمعہ کو قرار دے دیا جبکہ العربیہ کے مطابق رمضان المبارک کا مقدس مہینہ تقریبا اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ ماہ صیام کی 29 ویں شب ممکنہ طور پر اس بابرکت مہینے کی آخری رات تھی۔

    گلف نیوز کے مطابق مملکت سعودیہ میں‌ میں چاند دیکھنے والی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ 20 اپریل کو رمضان المبارک کا آخری دن ہوگا اور عید الفطر جمعہ سے منائی جائے گی۔

    جبکہ پاکستان بھر میں کہیں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عید الفطر بروز ہفتہ 22 اپریل کو ہو گی۔ ذرائع مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کہنا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی حتمی نتیجے پر پہنچ گئی ہے اور چاند نظر نہ آنے کا باضابطہ اعلان کچھ دیر بعد کیا جائے گا۔ شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا ، کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔

    چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کےارکان، محکمہ موسمیات کےنمائندے اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ زونل رویت ہلال کمیٹی لاہور نے اعلان کیا کہ پنجاب میں کہیں سے شوال کا چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی، لاہور میں چاند 7 بجکر 10 منٹ تک دیکھا جاسکتا تھا۔

    کراچی میں زونل رویت ہلال کمیٹی نے بھی کہا کہ اسے چاند نظر آنے کی کوئی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج 7 بج کر 17 منٹ تک چاند دیکھنے کا وقت تھا۔ اسلام آباد اور کوئٹہ میں بھی چاند نظر آنے کی شہادت موصول نہیں ہوئی۔ زونل رویت ہلال کمیٹی پشاور کے رکن حافظ عبدالغفور نے کہا کہ پشاور میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا۔

    چاند کی رویت کے حوالے سے حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی رات 9 بجے کے قریب کرے گی۔ محکمہ موسمیات اور فلکیاتی ماہرین یہ امکان ظاہر کر چکے ہیں کہ آج چاند نظر آنا مشکل ہے اور عید الفطر ہفتے کو ہو سکتی ہے۔

    دنیا کے بیشتر ممالک میں عیدالفطر ہفتے کے روز منائی جائے گی جبکہ ملائیشیا میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا ہے اور ملائیشین حکومت کے مطابق ملائیشیا میں عیدالفطر 22 اپریل بروز ہفتہ ہوگی۔ اس کے علاوہ سنگاپور میں بھی شوال کا چاند نظر نہیں آیا، مجلس علماء اسلام سنگاپور کے مطابق سنگاپور میں عید الفطر 22 اپریل بروز ہفتہ ہوگی۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

    دوسری جانب پشاور کی مسجد قاسم علی خان کی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ شوال کے چاند کی کوئی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی۔ اپنی ٹوئٹ میں کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے بتایا ہے کہ مسجد قاسم علی خان میں جاری اجلاس اختتام پذیر ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ شوال المکرم کی کوئی بھی مصدقہ شہادت موصول نہیں ہوئی ۔ لہذا یہ کمیٹی اعلان کرتی ہے کہ کل 30 واں رمضان المبارک ہوگا۔ اور عید الفطر 22 اپریل بروز ہفتہ 2023 کو ہوگا ۔

  • ڈائیلاگ سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔ بلاول بھٹو زرداری

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کوئی بھی بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کروا سکتا، ڈائیلاگ سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔ جبکہ ملک بھر میں انتخابات ایک ہی روز کرانے کی تاریخ سے متعلق درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ سیاستدان عید کے بعد نہیں آج ہی مذاکرات کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اپنایا کہ کوئی بھی بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں کروا سکتا، ڈائیلاگ سیاسی جماعتوں کا کام ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک صوبے میں انتخابات پہلے ہو جاتے ہیں تو اثر باقی تین صوبوں میں پڑے گا، ون یونٹ پالیسی لاگو کرنے کی سازش کی جارہی ہے، مسائل کا حل نہیں نکلتا تو وفاق اور جمہوریت کو خطرہ ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا ہمارا مؤقف ہے کہ الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں، 90 دن کی آڑ میں پنجاب کا الیکشن کرانے کی سازش ہے، ہم کل بھی ون یونٹ کے خلاف تھے اور آج بھی خلاف ہیں، پنجاب میں پہلے الیکشن ہوتے ہیں تو خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان پر اثر کرےگا، ون یونٹ لاگو کرنے کے لیے بیک ڈور سے ایک سازش کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ آج معاشی حالات نے عام آدمی کا جینا حرام کر دیا ہے، ملک میں سیاسی استحکام ہو گا تو معاشی استحکام ہو گا، عام آدمی کو 4-3 کے بینچ سے کوئی دلچسپی نہیں، عام آدمی کو سیاسی جماعت کے بیان سے دلچسپی نہیں، عام آدمی کو بھوک، بچوں کو اسکول اور والدین کی دوا کی فکر ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عام آدمی کو مسائل سے نکالیں۔ ان کا کہنا تھا سپریم کورٹ کا عوام کے سامنے ٹرائل چل رہا ہے، عدالت میں جو ہو رہا ہے وہ افسوسناک ہے، ہماری تاریخ میں عدلیہ میں اتنی تقسیم نہیں تھی، امید ہے چیف جسٹس اپنے ادارے میں اتحاد قائم کرکے عہدہ چھوڑیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا مسائل کا حل نہیں نکالتے تو وفاق اور جمہوریت کو خطرہ ہے، ہماری جمہوریت کافی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، خطرے موجود ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ جمہوریت کو بچائیں، پہلے بھی مذاکرات کے لیے کوشش تھی کہ اتحادیوں کو ایک پیج پر لائیں، میں پر امید تھا کہ عید کے بعد سربراہ اجلاس کا مثبت نتیجہ نکلے گا، ہماری کوشش ہو گی کہ فضل الرحمان کو قائل کریں، ان کے تحفظات دور کریں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک قانونی فورم ہے، پارلیمنٹ سیاسی فورم ہے، ہم چاہتے ہیں ہر ادارے کی عزت کی جائے، سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے، پارلیمان ایک ادارہ ہے، پارلیمان کی عزت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا پاکستان کی نمائندگی کرنے بھارت جاؤں گا، بھارت میں ایس سی او کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کروں گا۔

  • مفتی اعظم  ناصر الاسلام کا وائرل ویڈیو پر ردعمل، ملوث شخص کیخلاف مقدمہ درج

    مفتی اعظم ناصر الاسلام کا وائرل ویڈیو پر ردعمل، ملوث شخص کیخلاف مقدمہ درج

    جموں و کشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام کی ایک ویڈیو کلپ بدھ کے روز وائرل ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کلپ میں مبینہ طور پر انہیں شوال کا چاند نظر آنے کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے دکھایا جارہا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مفتی اعظم پر کئی سوالات کھڑے کیے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کلپ کو مبینہ طور پر کچھ شرپسندوں نے لیک کیا ہے۔


    مذکورہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سے مفتی اعظم مفتی ناصر السلام کا تردیدی بیان سامنے آیا ہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ دوردرشن سرینگر کے اہلکاروں نے شوال کے چاند کی اطلاع سے متعلق بیان کو پیشگی ریکارڈ کرنے کے لیے مجھ سے رابطہ کیا کیونکہ دوردرشن کے لوگ اپنے مصروف شیڈول کی وجہ سے اصل اعلان کے وقت مجھ سے رابطہ نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے کہا کہ اس روز رش سے بچنے کے لیے یہ مشق ہر سال کیا جاتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ شوال کے چاند کی بیشگی کی ریکارڈنگ یہاں دس سے زیادہ لوگوں کی موجودگی میں ہو رہی تھی تو اس دوران کسی شرپسند نے میرے بیان کا ایک حصہ ریکارڈ کر کے اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کر دیا ہے،تاکہ لوگوں میں کنفیوژن پیدا کی جائے ۔ ناصر اسلام نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ وائرل ویڈیو پر غور نہ کریں جب تک کہ کسی معتبر میڈیا ادارے کی طرف سے شوال کا چاند نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق کوئی اعلان نہ کیا جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    اپنے بیان میں مفتی اعظم نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کے تعلق سے سائبر پولیس کو مطلع کیا گیا یے اور مقامی پولیس اسٹیشن میں بھی مزکورہ شخص کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ وہیں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ‘شرپسند’ کے خلاف کارروائی کے لیے معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بھیج دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سی سی ٹی وی کے مدد سے جانچ کی جارہی ہے کہ یہ شرارتی شخص کون ہے۔ناصر السلام نے پولیس سربراہ سے گزازش کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لےکر امن وامان اور آپسی تفریق پیدا کرنے والے شخص کو کڑی سے کڑی سزا دے۔

  • عید تعطیلات کی وجہ سے فیلڈ آپریشن 21 سے 25 اپریل تک روک دیا گیا. ادارہ شماریات

    عید تعطیلات کی وجہ سے فیلڈ آپریشن 21 سے 25 اپریل تک روک دیا گیا. ادارہ شماریات

    ملک بھر میں جاری ڈیجیٹل مردم شماری کی تاریخ میں پانچویں بار30 اپریل تک توسیع کر دی گئی، اب تک 23 کروڑ 53 لاکھ 88 ہزار افراد کا شمار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ترجمان ادارہ شماریات کے مطابق عید تعطیلات کی وجہ سے فیلڈ آپریشن میں وقفہ کیا گیا، مردم شماری کا فیلڈ آپریشن 21 سے 25 اپریل تک روک دیا گیا، راولپنڈی اسلام آباد سمیت 19 اضلاع میں مردم شماری کا کام مکمل ہونا باقی ہے۔

    ترجمان ادارہ شماریات سرور گوندل کے مطابق کراچی، حیدر آباد اور کوئٹہ میں بھی تاحال مردم شماری مکمل نہ ہو سکی، 26 اپریل کو مردم شماری کا کام دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ملک بھر میں اب تک 23 کروڑ 53 لاکھ 88 ہزار افراد کا شمار کیا جا چکا ہے۔ پنجاب میں مجموعی طور پر 11 کروڑ 60 لاکھ 34 ہزار 900 افراد کا شمار کیا گیا۔ صوبہ سندھ میں5کروڑ 28 لاکھ 57 ہزار 853افراد کا شمار کیا گیا۔ کے پی میں 3 کروڑ 92 لاکھ 43 ہزار سے زیادہ جبکہ بلوچستان میں ایک کروڑ 92لاکھ 55 ہزار 648 افراد کی گنتی کی گئی۔بڑے شہروں میں سے کراچی میں اب تک ایک کروڑ 65 لاکھ سے زائد جبکہ لاہور میں ایک کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ افراد کا شمار کیا جاچکا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    ترجمان وفاقی ادارہ شماریات سرور گوندل نے سماء کو بتایا کہ 21 سے 25 اپریل تک عیدالفطر کی پانچ تعطیلات کے بعد 26 اپریل سے مردم شماری کا فیلڈ ورک دوبارہ شروع کرکے اسی ماہ باآسانی مکمل کرلیا جائے گا، فیلڈ ورک مکمل کرنے کی اصل ڈیڈ لائن یکم اپریل تھی جس میں اب تک پانچ بار توسیع کی جا چکی ہے۔

  • علی زیدی کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

    علی زیدی کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

    علی زیدی کوجوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم

    کراچی کی مقامی عدالت نے فراڈ کیس میں سابق وفاقی وزیراورصدر پی ٹی آئی کراچی علی زیدی کی درخواست منظورکرلی جبکہ پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کی ضمانت کی درخواست پرسماعت ہوئی ۔عدالت نے علی زیدی کی ضمانت کی درخواست منظورکرلی۔پی ٹی آئی رہنما کی دس ہزار روپے کے عوض ضمانت منظور کی گئی۔

    گرفتار پی ٹی آئی رہنما علی زیدی کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔عدالت نے ملزم علی زیدی کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ رہنما تحریکِ انصاف علی زیدی کو فراڈ اور دھمکانے کے کیس میں کراچی کی ملیر کورٹ میں پیش کیا گیا۔

    دورانِ سماعت عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ملزم کی 3 دن کی کسٹڈی تھی، آپ نے ان سے کیا تفتیش کی؟ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ میں نے ملزم کے ساتھیوں کی تلاش کی کوشش کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ پیشرفت رپورٹ کہاں ہے؟تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ وہ دستاویز فائل میں لگانا بھول گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    عدالت نے علی زیدی سے سوال کیا کہ کیا آپ پر پولیس نے تشدد کیا ہے؟علی زیدی نے جواب دیا کہ میرے ساتھ پولیس نے کوئی ناروا سلوک نہیں کیا۔ علی زیدی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو صورتِ حال تفتیشی افسر بتا رہے ہیں اس سے لگ رہا ہے کہ ملزم کی کسٹڈی ہی غیر قانونی ہے۔ عدالت نے علی زیدی کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق تفتیشی افسر کی استدعا مسترد کر دی۔ملیرکی عدالت نے علی زیدی کو 30 اپریل تک عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا۔

  • ڈاکٹر سوما گھوش؛ پدم شری، ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ

    ڈاکٹر سوما گھوش؛ پدم شری، ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ

    ڈاکٹر سوما گھوش؛ پدم شری، ہندوستانی کلاسیکی گلوکارہ

    بنارس گھرانے کے عظیم شہنائی نواز استاد بسم اللہ خان کی گود لی ہوئی بیٹی۔ ڈاکٹر سوما گھوش آزادی کے جنگجو، شری منموہن چکرورتی کی بیٹی ہیں۔ وہ بنارس میں پیدا ہوئی اور پرورش پائی اور بھارت رتن استاد بسم اللہ خان کی گود لی ہوئی بیٹی، جن کے ساتھ انہیں پانچ بار جگل بندی جوڑی گانے کا موقع ملا.

    جن میں سے ایک۔ وہ راشٹرپتی بھون میں تھیں اور ایک بار ہندوستان کی پارلیمنٹ میں جہاں انہیں ہندوستان کے صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، سونیا گاندھی اور جسونت سنگھ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور پھر 2010 میں ہندوستان کی صدر پرتیبھا پاٹل نے۔ وہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں پرفارم کرنے والی پہلی خاتون بھی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    بنارس ہندو یونیورسٹی سے ادب سے فارغ التحصیل، سوما گھوش نے موسیقی میں مہارت حاصل کی اور چھوٹے خیال میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ انہوں نے اپنی ڈاکٹریٹ شری متی باگیشوری دیوی کے زیر سایہ حاصل کی، وہ موسیقی کی تمام اصنعاف میں گاتی ہیں خصوصاجیسے ٹھمری، ٹپا، ہوری، چیتی، کجاری، دادرا اور غزل۔ وہ غیر سرکاری تنظیم، مدھو مرچھنا کی بانی ہیں، جو 1999 میں قائم ہوئی تھی۔

  • مفتی عبدالشکور حادثہ کیس؛ عدالت نے  ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    مفتی عبدالشکور حادثہ کیس؛ عدالت نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    مفتی عبدالشکور حادثہ کیس؛ عدالت نے ملزمان کو رہا کرنے کا حکم دے دیا

    مفتی عبدالشکور کی گاڑی کو ٹکر مارنے کا کیس، عدالت کا ملزمان کو رہا کرنیکا حکم دے دیا ہے جبکہ تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنےکی استدعا کی گئی تاہم عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    واضح رہے کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سابق وفاقی وزیر مفتی عبدالشکور کی گاڑی کو ٹکر مارنے والی گاڑی میں سوار ملزمان کو رہا کرنےکا حکم دے دیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر مفتی عبدالشکور کی گاڑی کو ٹکر مارنے سے متعلق کیس میں ملزم راؤ گل خان، ارشد خان اور غلام شبیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت پیش کیا گیا تھا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے ملزمان راؤ گل، ارشد خان اور غلام شبیر کو ایک ایک لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے تینوں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے. تاہم یاد رہے کہ سابق وفاقی وزیر مفتی عبدالشکورکی کارکو ٹکر مارنے والی گاڑی پرتیز رفتاری کے 13 چالان بقایا پائے گئے ۔

    جبکہ گزشتہ روز ضمانتی مچلکے جمع نہ کرانے پر عدالت نے تینوں ملزمان کو جیل بھیجنےکا حکم دیا تھا اور تفتیشی افسر نے تینوں ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنےکی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں
    عدالت نے کہا تھا کہ تفتیشی افسر نے ملزمان پر ڈرائیونگ کے دوران قتل کرنے کی کوشش کی دفعہ شامل کیں، تفتیشی افسر نے قتل کی دفعہ کو مقدمے سے حذف کر دیا، تینوں ملزمان پر قابلِ ضمانت دفعات لگتی ہیں لہذا عدالت ملزمان کو رہا کرنے کا حکم جاری کرتی ہے۔