Baaghi TV

Tag: Pakistan news

  • گورنر بلوچستان کا بیرونی سرمایہ کاروں سے خطاب

    گورنر بلوچستان کا بیرونی سرمایہ کاروں سے خطاب

    گورنر بلوچستان کا بیرونی سرمایہ کاروں سے خطاب

    گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بیرونی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مختلف انٹرنیشنل امداد فراہم کرنے والے اداروں اور تنظیموں کی تقریب کے کامیاب انعقاد پر ہاشو فاونڈیشن کی کاوشیں خراج تحسین کے مستحق ہیں.

    انہوں نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور بلوچستان کی بڑھتی تجارتی اور جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اس تقریب کا اہتمام بروقت اور مناسب ہے. ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے مسائل اور وسائل سے دنیا کو آگاہ کیا جائے. ایک جانب ہمارا صوبہ پسماندگی اور قدرتی آفات کا شکار ہے تو دوسری طرف بےپناء معدنی قدرتی وسائل سے مالا مال ہے. ہمیں اپنے قدرتی آفات سے متاثرہ افراد اور غربت زدہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے آپ کا تعاون درکار ہے.

    ترجمان نے بتایا دوسری جانب اپنے وسائل کو ترقی دینے اور اسے صوبے کے عوام کیلئے بروئے کار لانے کی غرض سے بڑے پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے. گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ ہماری حکومت صوبے میں تعمیر و ترقی خاص طور سے ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کیلئے دستیاب وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے لیکن آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان کو حاصل محدود سرمایہ میں یہ سب کچھ ممکن ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ترجمان کے مطابق امداد فراہم کرنے والے اداروں اور تنظیموں کو آگے بڑھ کر اس شعبے میں ہماری مدد کرنی چاہیے خاص طور پر ہماری پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں سمارٹ کلاس رومز، سائنس لیبارٹریز اور اسٹوڈنٹس بسوں کی فراہمی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں. آخر میں گورنر بلوچستان نے ہاشو فاونڈیشن کی کنٹری ڈائریکٹر عائشہ خان سمیت تقریب کے شرکاء اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اُمید ظاہر کی کہ تعاون اور اشتراک کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری و ساری رہیگا.

  • سپریم کورٹ نے بغیرمرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے بغیرمرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے بغیرمرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا

    سپریم کورٹ نے بغیرمرضی ڈی این اے ٹیسٹ کرانا غیر قانونی قرار دے دیا ہے جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

    فیصلے کے متن کے مطابق دیوانی مقدمات میں بغیر مرضی ڈی این اے ٹیسٹ شخصی آزادی اور نجی زندگی کے خلاف ہے، آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 شخصی آزادی اور نجی زندگی کے تحفظ کے ضامن ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تاج دین اور زبیدہ بی بی کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا گیا وہ کیس میں فریق ہی نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نجی زندگی کا تعلق انسان کے حق زندگی کے ساتھ منسلک ہے، مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ نجی زندگی میں مداخلت ہے، فوجداری قوانین کی بعض شقوں میں مرضی کے بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کی اجازت ہے۔ علاوہ ازیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون شہادت کے مطابق شادی کے عرصے میں پیدا بچے کی ولدیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم خیال رہے کہ جائیداد کے تنازع میں لاہور ہائیکورٹ نے تاج دین، زبیدہ اور محمد نواز کے ڈی این اے ٹیسٹ کا حکم دیا تھا۔

  • سینئر سپیشل مجسٹریٹ  نے تہذیب بیکرز بلیو ایریا اسلام آباد کو سیل کردیا

    سینئر سپیشل مجسٹریٹ نے تہذیب بیکرز بلیو ایریا اسلام آباد کو سیل کردیا

    عدالت سینئر سپیشل مجسٹریٹ نے تہذیب بیکرز بلیو ایریااسلام آبادکو سیل کردیا

    سینئر سپیشل مجسٹریٹ سی ڈی اےایم سی آئی اسلام آباد نے ہیلتھ رولز کی خلاف ورزی پر منگل کے روز تہذیب بیکری بلیو ایریا اسلام آباد کو سیل کردیا۔تفصیلات کے مطابق تہذیب بیکرز بلیو ایریا اسلام آباد کے 6کس ملازمین فضل احمد، میاں رمضان،ایم فیاض،ذوالفقار، نجیب اللہ ،ساجد جلیل نے ڈائریکٹر آف ہیلتھ میں ٹیسٹ کروائے جس پران کا ہیپاٹائٹس ٹیسٹ پازیٹو آیا.


    پروفیسر طاہر نعیم ملک نے اس بارے میں لکھا کہ؛ تہذیب بیکری تہذیب کا مظاہرہ کرے اور ملازمین کی ھیلتھ انشورنس ای او بی آئی رجسٹریشن اور حکومت کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ پچیس ھزار ملازمین کو ادا کرے ۔”

    خیال رہے کہ جس کے بارے میں تہذیب بیکرز کو منجانب ڈی ایچ ایس آگاہ کیا گیا تھاکہ انہیں تہذیب بیکرز پر کام کرنے سے فی الفور روک دیا جائے لیکن باوجود منع کرنے کے کورٹ ہذا کے نوٹس میں لایا گیاکہ 6کس ملازمین فضل احمد، میاں رمضان،ایم فیاض،ذوالفقار، نجیب اللہ ،ساجد جلیل تہذیب بیکری پر بدستور کام جاری رکھے ہوئے ہیں.

    جو کہ ایک انتہائی سنگین قسم کا جرم ہے جو کہ عوام الناس میں بڑے پیمانے پر ہیپاٹائٹس پھیلنے کا موجب ہیں، اس وجہ سے تہذیب بیکری کوبڑے پیمانے پر بیماریاں پھیلانے کے جرم میں سیل کیا گیاہے تا کہ باقی بیکری پر خریداری کیلئے آنے والے عوام الناس اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔سینئر سپیشل مجسٹریٹ سی ڈی اےایم سی آئی اسلام آباد سردار محمد آصف نے کہا کہ تاجروں کو پیسے لے کر بیماریاں فروخت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔ عدالت بغیر کسی تخصیص کے ہر بڑے چھوٹے ملزم کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رکھے گی۔

  • پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پی آئی اے ملازمین تنخواہوں سے محروم

    فنڈز نہ ہونے کے سبب پی آئی اے کے افسران بشمول پائلٹس اورفضائی عملے کو مارچ کی تنخواہ نہ مل سکی۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے ملازمین اور فضائی عملہ تنخواہوں سے محروم ہے، فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کے پے گروپ 5سے10کے افسران سمیت پائلٹس اور فضائی عملے کو مارچ کی تنخواہ تاحال نہ مل سکی۔
    https://twitter.com/SargaramNews/status/1645764338874220544
    ماہ رمضان کے آخری عشرے کے باوجود تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرملازمین و افسران میں تشویش پائی جارہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے پی آئی اے کے اکاؤنٹس سے ایک ارب 40کروڑ روپے کی وصولی جبکہ وزیرخزانہ کی جانب سے30کروڑ کی رقم جمع کروانے کے سبب مالی بحران پیدا ہوا۔ تاہم ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس کی مد میں مزید 1ارب 70کروڑاگلے ہفتے تک جمع کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم

    صحافی عبدلولی نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی مردم شماری میں نیا انکشاف، کراچی اور حیدر آباد ڈويژن کی آبادی میں صرف 29 لاکھ کافرق رہ گيا۔ کراچی ڈویژن کی اب تک آبادی ایک کروڑ 39 لاکھ اور حیدرآباد ڈویژن کی آبادی ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد شمار کی گئی ہے ۔جبکہ دونوں ڈویژن میں مردم شماری کا کام 95 فیصد تک مکمل ہوچکا ہے۔ اب تک کی گنتی کے مطابق کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری سے بھی کم بتائی جارہی ہے۔

    نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں ساتویں خانہ و مردم شماری کا عمل جاری ہے۔ صوبہ سندھ کے بعض شہروں میں عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا، ادارہ شماریات نے مردم شماری میں 15 اپریل تک مزید توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ کراچی اورحیدرآباد میں مردم و خانہ شماری کا 95 فیصد عمل ہوچکا ہے۔ ڈائریکٹر ادارہ شماریات سندھ منور علی گھانگرو نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ کراچی سے شکایات موصول ہوئی ہیں اس پر دوبارہ ٹیمیں کام کررہی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    ریکارڈ کے مطابق سندھ کی کل آبادی اب تک 4 کروڑ 85 لاکھ سے زائد شمار کی گئی ہے۔ کراچی ڈویژن کی اب تک کی آبادی ایک کروڑ 39 لاکھ شمار ہوئی ہے جو نامکمل ہے جبکہ حیدرآباد ڈویژن ایک کروڑ 10لاکھ، لاڑکانہ ڈویژن 71 لاکھ اور میرپور خاص ڈویژن کی آبادی 46 لاکھ سے زائد شمار کی گئی۔ شہید بینظیر آباد ڈویژن کی آبادی 56 لاکھ اور سکھر ڈویژن کی آبادی 60 لاکھ شہریوں پر مشتمل بتائی گئی ہے۔ تاہم سینسس حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو ڈیٹا 30 اپریل تک ارسال کردیا جائے گا۔

  • عمران خان کے خلاف درج مقدمے کا سمن لیکر اسلام آباد پولیس ٹیم لاہور پہنچ گئی

    عمران خان کے خلاف درج مقدمے کا سمن لیکر اسلام آباد پولیس ٹیم لاہور پہنچ گئی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمے کا سمن لیکر اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم لاہور پہنچ گئی ہے جبکہ زمان پارک میں نوٹس وصول کروانے کیلئے لاہور پولیس اسلام آباد پولیس کی معاونت کرے گی۔ واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف اسلام آباد میں درج مقدمات کے سلسلہ میں اسلام آباد پولیس کی 4 رکنی ٹیم ایک مقدمہ کے سمن لیکر لاہور پہنچ گئی۔

    اسلام آباد پولیس کے تفتیشی سب انسپکٹر تجمل نقوی اپنی ٹیم کے ہمراہ تھانہ ریس کورس پہنچے، پولیس تفتیشی تجمل نقوی عمران خان کی رہائش گا پر جا کر سمن وصول کرائیں گے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس اہلکاروں کے زمان پارک نوٹس وصول کروانے کے لیے لاہور پولیس معاونت کرے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    اس خبر کو مزید اپڈیٹ کیا جارہا ہے

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا پارلیمنٹ جانے پر وضاحت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا پارلیمنٹ جانے پر وضاحت

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پارلیمنٹ جانے پر وضاحت جاری کردیا ہے جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام ججزکو آئین کی گولڈن جوبلی منانے کی دعوت دی گئی تھی۔ دعوت قبول کرنے سے پہلے پوچھا سیاسی تقریریں تو نہیں کی جائیں گی ؟یقین دہانی کرائی گئی کہ صرف آئین اور اس کے بنانے سے متعلق بات کی جائے گی،پہلے میرے عملے اور پھر خود میں نے براہ راست اسپیکر سے اس نکتے کی وضاحت کروائی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روزپارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ اپنے ادارے کی طرف سے کہتا ہوں کہ ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 10اپریل1973کوپاکستان کا متفقہ آئین منظور کیا گیا،آئین کی کتاب ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے،2014 سے آپ کا ہمسایہ ہوں۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پیدل جاتا ہوں اور سوچتا ہوں اندر کیا ہوتا ہوگا،آپ نے پہلی بار دعوت دی اور ہم حاضرہوئے، قانون ہمارا میدان ہے،ہم نے تنقید بھی سنی ہے۔ پارلیمان اور بیوروکریسی کامقصد عوام کی خدمت کرنا ہونا چاہیے،عدلیہ کاکام ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد فیصلے کرے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہاں جو باتیں ہوئی ان کی آئین میں آزادی ہے،جو سیاسی باتیں کی گئیں میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہم کبھی دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں، آئین پاکستان میں عوام کے بنیادی حقوق کاتذکرہ ہے۔

  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا ہے جبکہ اس دورے میں پاک فوج کے سربراہ کو اندرون ملک تیار کیا جانے والا عسکری سازوسامان دکھایا گیا اور انہوں نے اس کا جائزہ بھی لیا. واضح رہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا تو وہاں چیئرمین ایچ آئی ٹی نے ان کا استقبال کیا۔


    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ کیا جہاں انہیں ایچ آئی ٹی کی فنی صلاحیتوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی ضروریات بین الاقوامی معیار کے مطابق پورا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور ایچ آئی ٹی کو جدید ادارے میں تبدیل کرنے کیلئے افسران اور افرادی قوت کے عزم کو سراہا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اپنے اہلکاروں کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایچ آئی ٹی علمی معیشت اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا مرکز ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مزید کہا ہے کہ ایچ آئی ٹی دفاعی پیداوار میں خود انحصاری، قومی برآمدات اور معیشت میں حصہ ڈالنے کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    بنوں میں انیٹلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے ہیں آئی ایس پی آر کے مطابق دس اور گیارہ اپریل کی رات، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع بنوں کے عام علاقے نورار میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تینوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقے کے مقامی لوگوں نے آپریشن کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا ہے۔

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔