پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا گیاجہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں
وائسرائے ہند کی طرح یہ لوگ پاکستان حکومت کرنے آتے ہیں، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کا کہنا ہےتھا کہ ظل سبحانی نے جس ایون فیلڈ سے انکار کیا آج وہاں شان سے مقیم ہیں ، اقتدار سے محرومی پر عوام کو لاورث چھوڑ کر اپنے بچوں کے پاس جانا ان کا وطیرہ ہے۔
ایک طرف دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے تعمیر کئے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایون فیلڈ فلیٹ، جاتی امرا ء محل اور سرے محل تعمیر کئے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ مہیا کر رہی ہے دوسری طرف 35سال تک باریاں لینے والے ظل سبحانی نے پنجاب پر نحوست کو مسلط رکھا اور پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا جہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں۔
نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ظل سبحانی کے کالے کرتوت بین الاقوامی سطح پر عیاں ہوئے، براڈ شیٹ کی چارج شیٹ ن لیگ کے خوشامدیوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ن لیگ والے چوری اور اوپر سے سینہ زوری کر رہے ہیں۔کنیز اول حکومت پر برستی رہتی ہیں، نادان درباریوں سے کہتی ہوں کہ ظل سبحانی ہجرت کرچکے ہیں۔
عوام جواب چاہتے ہیں پریس کانفرنس کے بدلے پریس کانفرنس نہیں چاہتے۔ کشمیر کمیٹی کا چئیرمین ہوتے ہوئے مولانا نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کا اعلان کیوں نہ کیا۔مودی کی بجائے مولانا کا رخ پنڈی کی جانب ہوتا ہے۔ہم منتظر ہیں کہ پی ڈی ایم کب اعتراف جرم کرے گی ۔ پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں،یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے۔عمران خان اور آرمی چیف ایک پیج پر ہیں.دونوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے.
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ مشکل پڑنے پر مولانا کو بھی زرداری اور نواز شریف اپنے پاؤں کے نیچے دبا لیں گے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے داتا دربار پناہ گاہ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت غریب، بے سہارا، نادار اور مستحقین کے حقوق کی پاسدار ہے۔ماضی کے ڈرامے بازوں اور شوبازوں کے برعکس عوام کے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بزدار حکومت معاشرے کے کمزور طبقہ کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پناہ گاہوں اور لنگرخانوں کا قیام عمل میں لائی ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار کی زیرسرپرستی پناہ گاہوں میں مقیم افراد کوبہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔
پناہ گاہوں کا منصوبہ غریب اور مستحق افراد کیلئے ہے۔مخیر حضرات کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے پناہ گاہوں کی تعمیر میں حصہ لیا.پناگاہوں میں معیاری کھانا مہیا کیا جاتا ہے. حکومت نے باہمت بزرگ اور وسیلہ پروگرام کے ذریعے بوڑھے بزرگوں کی ذمہ داری اٹھائی۔حکومت کبھی اپنے پسے ہوئے طبقات کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ معاون خصوصی نے پناہ گاہ میں شہریوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور وہاں مقیم افراد کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔
Tag: pakistan

پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں، یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کی (ن) لیگ کو للکار اورطنزوں کی بوچھاڑ سب مخالفین کے پول کھول دیئے۔

اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح
اسلام آباد میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذیلی ادارے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے تحت اسلام آباد میں فضل سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کردیا گیا ہے۔
فضل سافٹ ویر ٹیکنالوجی پارک سرکاری اور نجی شعبے کے تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں 40،000 مربع فٹ جگہ پر 10 آئی ٹی کمپنیوں نے اپنی خدمات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ جبکہ تین ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح ہے۔
اس سے قبل اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے اشتراک سے قائم کردہ گلگت آئی ٹی پارک کا افتتاح گذشتہ سال اکتوبر چیف آف آرمی اسٹاف نے کیا تھا ۔
افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی تھے جبکہ تقریب میں صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، وزارت آئی ٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے سینئر عہدیداران شریک تھے۔
اس اہم تقریب کیلئے اپنے خصوصی بیان میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکشن سید امین الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت میں پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، اور ہماری کوشش ہے کہ اس شعبے کے ذریعے پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے کی ترقی اور فروغ کیلئے اس صنعت سے منسلک کمپنیوں اور ماہرین کوانتہائی پرکشش مراعات فراہم کی جارہی ہیں اس ضمن میں متعدد منصوبے ہیں جن کا مقصد آئی ٹی انڈسٹری کو اس کی نمو میں مدد اور مدد فراہم کرنا اور مقامی اور برآمدی آمدنی میں مسلسل اضافے کی رفتار کو یقینی بنانا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق حکومت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے لیئے مقامی صنعت کے فروغ کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے اسی سلسلے میں خصوصی اقتصادی زون اور خصوصی ٹیکنالوجی زون کے قیام کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز کیلئے ، وزارت آئی ٹی نے پرکشش مراعات کا آغاز کیا ہے جس میں انکم ٹیکس ، پراپرٹی ٹیکس ، دیگر ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹیوں سے 10 سال کی چھوٹ شامل ہے۔ اسی طرح ان زونز کی حدود میں خدمات پر 10 سال کیلئے جنرل سیلز ٹیکس سمیت منافع پر دیگر ٹیکسز میں چھوٹ دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر سید امین الحق نے کہا کہ "پاکستانی عوام اس حقیقت پر فخر کرسکتے ہیں کہ پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں کو مصنوعات اور خدمات مہیا کررہی ہیں۔ جدید ترین ٹکنالوجی جیسے اےآئی ، روبوٹکس اور ڈرائیور لیس کاروں پر اسٹیٹ آف دی آرٹ ورک کا انعقاد پاکستان میں کیا جارہا ہے اور امریکی کمپنیوں سمیت بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے پاکستان میں ریسرچ اینڈ ڈٖویلپمنٹ سنٹرز قائم کیے ہیں۔
سید امین الحق کا مزید کہنا تھا کہ ، آئی ٹی انڈسٹری کی عروج کی وجہ سے ملک میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی شدید مانگ ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے کہ آپ کے منصوبے پائیدار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ اس میں نجی شعبوں کو مراعات بھی دی جائیں کہ وہ آگے آئیں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں آج کی یہ تقریب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
تقریب سے اپنے خصوصی خطاب میں سیکرٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ وفاقی وزیر سید امین الحق کی ہدایت پر ہم نے آئی ٹی کے شعبے کی تعمیرو ترقی اور معیشت میں اس کی نمایاں حصہ داری کیلئے جارحانہ انداز اختیار کیا ہے وزارت آئی ٹی اوراس کے ماتحت اداروں کے ایک کے بعد ایک منصوبے اور پراجیکٹس کی تیزی سے تکمیل اس کی روشن مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں تک غیر استعمال شدہ عمارتوں کو جدید ترین سافٹ ویئر پارکس میں تبدیل کرنے کا تعلق ہے تو مزید اچھی خبریں آرہی ہیں۔ جامعات میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام کی راہ میں کام تیزی سے جاری ہے۔
شعیب احمد صدیقی نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری کے پیشہ ور اور کاروباری افراد جو پاکستان کی آئی سی ٹی انڈسٹری کو ملک کے لئے کامیابی کی تاریخ بنارہے ہیں ، انہوں نے ترسیلات زر کی مد میں بے مثال شرح نمو حاصل کی ہے اور اسے پاکستان سے آئی ٹی خدمات کے شعبے کو بڑا برآمد کنندہ بنادیا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی انڈسٹری اور عوامی شعبے کے اداروں کے مابین قریبی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر کی مجموعی ترقی کو یقینی بنائے۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے مینجنگ ڈائریکٹر ، عثمان ناصر نے اپنے استقابلیہ خطاب میں کہا کہ ملک کے ترقی پذیر علاقوں میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لئے آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس کمپنیوں کے لئے پی ایس ای بی رجسٹریشن فیس بشمول ملک کے ترقی پذیر علاقوں سے تعلق رکھنے والے کال سینٹرز اور آئی ٹی اسٹارٹ اپس کیلئے مکمل طور پر معاف کردی گئی ہے۔ یہ عمل پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کیلئے نہایت خوش آئند ہے۔
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گلگت ایس ٹی پی کی کامیابی اپنی مثال آپ بنتی جارہی ہے ابتدائی طور پر اس آئی ٹی پارکس سے 73 آئی ٹی پیشہ افراد نے اپنے کام کا آغاز کیا جنہوں نے خواتین سمیت آئی ٹی گریجویٹس کو مزید تربیت اور سرپرستی فراہم کی ، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 150 آئی ٹی پروفیشنلز نے گلگت میں آئی ٹی انڈسٹری کی نمایاں توسیع میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اسے ایک مثالی پارک بنادیا ہے۔ گلگت کی کامیابی کی بہت سی کہانیوں میں "شی ڈیو” نامی کمپنی بھی ہے جو ایک 17 رکنی خواتین کمپنی ہے جو مقامی اور بین الاقوامی صارفین کو ٹیکنالکوجیکل سہولیات اور اس کی سروسز فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں کرونا کے کیسز اور اموات میں تیزی سے پھر اضافہ ہونے لگا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے. گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے 14 اموات ہوئی ہیں جبکہ 1167 نئے مریض سامنے آئے ہیں
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 849 ہوگئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 260 ہو گئی ہے ،پاکستان میں کورونا کے 3 لاکھ 15ہزار 446 مریض صحتیاب ہوگئے ہیں اور 13 ہزار 965 زیرعلاج ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 27 ہزار 984 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد 20 ہزار243 ہوگئی ہے ۔ پنجاب میں ایک لاکھ 4 ہزار 894، سندھ میں ایک لاکھ 46 ہزار 774، خیبر پختونخوا میں 39 ہزار 749، بلوچستان میں 15 ہزار 977، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 293 اور آزاد کشمیر میں 4ہزار330 کرونا مریض سامنے آئے ہیں
کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار 372 ، سندھ میں 2 ہزار 633، خیبر پختونخوا میں ، ایک ہزار 280، اسلام آباد میں 222، بلوچستان میں 152، گلگت بلتستان میں 92 اور آزاد کشمیر میں 98 اموات ہو چکی ہیں
این سی او سی کے مطابق ملک کے 11شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے ہین کراچی، کوئٹہ ، لاہور ، اسلام آباد، راولپنڈی، حیدر آباد ، گلگت، مظفر آباد اور پشاور بھی کورونا کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر،ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے کرونا کے پھیلاؤ کا انتظام کر لیا
پنجاب میں بھی دوبارہ کرونا کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے، خطرے کی گھنٹی
کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ
کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات
کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سےعمل کرنا ہو گا۔ احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہو کر ہم کورونا کی دوسری لہرسے نمٹ سکتے ہیں
دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہونے کے بعد مزید تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کردیا گیا ہے ،ڈی ایچ او اسلام آباد ضعیم ضیا کا کہنا ہے کہ جو تعلیمی ادارے سیل کیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد نجی تعلیمی اداروں کی ہے۔ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے بھی مزید سات تعلیمی اداروں کو سیل کیا جا رہا ہے۔

بازی پلٹ گئی، نواز شریف کی کہانی ختم،ن لیگ کی قبر کھد گئی،مبشر لقمان کے اہم انکشافات
بازی پلٹ گئی، نواز شریف کی کہانی ختم،ن لیگ کی قبر کھد گئی،مبشر لقمان کے اہم انکشافات
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سیاست کے فری سٹائل دنگل نما ٹی ٹوئنٹی میچ میں گیارہ رکنی اپوزیشن الیون اور بمقابلہ خان الیون کے بارے میں نتایج کے بارے میں قیاس آرائی تو نہیں کہی جا سکتی لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں نتایج حیران کن ہوں گےمبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق کے بیان پر پاک فوج کے ترجمان نے ابھینندن کی رہائی کے بیان کسی اور طرف جوڑنے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا، ہنگامی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بیان دیا گیا جس میں حقائق مسخ کئے گئے، ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کرنا چاہتا ہوں، دشمن نے رات کی تاریکی میں بد حواسی کے عالم میں پہاڑوں پر بم گرائے پاکستان نے دن کی روشنی میں دشمن کے جہاز گرائے، اللہ کی مدد سے ہمیں فتح حاصل ہوئی جس سے دنیا نے بھی تسلیم کیا
نواز شریف نے گوجرانوالہ و دیگر جلسوں میں اداروں پر براہ راست نشانہ بازی کر کے سیاسی ماحول تو گرم کیا لیکن نواز شریف نے وہ کر دیا کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے، زبان درازی کا موسم جاری ہے، کہیں زبان پھسل رہی ہے، گوجرانوالہ، کراچی، کوئٹہ جلسہ میں سب کچھ کہہ دیا گیا اسکے بعد بھی زبان دراز ہے، 11 نکاتی اتحاد، 26 نکاتی منشو، 3 جلسوں مین کیا کچھ نہیں کہا گیا، فوج مجرم، سی پیک پر تنقید، مزار قائد پر چڑھائی، اردو کو نہیں مانتے، آزاد بلوچستان کا مطالبہ اور اب پھر ابھینندن کا شوشہ،
نواز شریف اور انکی بیٹی کی طرف سے حساس معاملات اور اداروں پر بیان بازی جاری ہے، اسوقت سیاسی شطرنج میں عمران خان دور رہ گئے، ن لیگ اور ادارے آمنے سامنے آ گئے، کہنے والے کہتے ہیں کہ عمران خان کی خواہش کو نواز شریف جلال میں آ کر خود عملی جامہ پہنا رہے ہونَ،عمران خان چاہتے ہیں کہ نواز شریف اور اداروں کے درمیان قربتیں پیدا نہ ہوں ،فاصلے بڑھتے رہیں،نواز شریف عمران خان کی عین خواہش کے مطابق کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی پتے دھیان سے اور سمجھداری سے استعمال کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے، گلگت کے الیکشن میں پی پی کو اکثریت حاصل ہوتی ہے تو پی پی اگلے الیکشن میں یقینا کامیابی سے ہمکنار ہوتی دکھائی دیتی ہے، بلاول بہترین آل راؤنڈر کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، انہوں نے پرفارمنس برقرار رکھی اور کوئی حماقت نہ کی تو وہ سپر سٹار ہیں
مریم بی بی مسلسل حماقتوں کی وجہ سے مستقبل تاریک ہے، نواز شریف کے بیانیے سے وہ ایک قدم آگے ہے،نواز شریف آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں لیکن خود اشتہاری ہیں، عدالتیں بلا رہی ہیں لیکن نہیں آتے، لندن میں نواز شریف کرزئی ملاقات میں کیا ڈسکس ہوتا ہے، نواز شریف کن کن ممالک کے لوگوں سے مل چکے، انکے پیچھے آگے کون لوگ ہیں، شہباز شریف کی نیب حراست میں تین لیگیوں کی ملاقاتیں، سب کچھ معلوم ہے، پھر بھی نواز شریف ووٹ کو عزت دو کو نعرہ لگا رہے ہیں،کوئی تو ہے جو اس تحریک کو سپانس کر رہا ہے، جلسوں کے خرچے برداشت کر رہا ہے، کوئی تو ہے جس نے نواز کو یقین کروایا کہ آخری اننگز کھیل لو، کوئی تو چاہتا ہے کہ فوج متنازعہ ہو، سی پیک سے پاکستان کی علیحدگی ہو، کوئی تو ہے، یہ کوئی بھی،جو بھی ہے، پاکستان کا دشمن ہے اور نواز شریف اس دشمن کا یار ہو،
پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب
اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔
یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔
پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔
اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان
تٹی وی پر نشر ہونے والی خبریں اور اخبار دیکھ کر اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری عوام کو تو بس مرنے کا اِک موقع یا بہانہ چاہئےکیونکہ ہماری عوام ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جس میں ان کے جان سے جانے کے واضح امکان موجود ہوں، اب وجہ بھلے ہی کوئی بیماری، پرانی آپسی دشمنی، ٹرین حادثہ ، ہوائی جہازحادثہ یا پھر زہریلا کھانا ہو، عام عوام اکشرہی درجنوں کے حساب مرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سیاستدانوں کی عقلمندی پر داد دینا ہوگی،وہ ایسی احمقانہ حرکتیں نہیں کرتے اور عام طور پران حادثات کاشکار بھی نہیں ہوتے۔
کچھ گولیوں سے مرگئے کچھ وائرس سے مرگئے
کچھ مرتے لوگوں کو دیکھ کر مرگئےکچھ گندا پانی پی کر مر گئے
کچھ نہ کھانے سے مر گئےکچھ زیادہ کھانے سے مر گئے
جو بچے وہ خود کو زندہ دیکھ کر مر گئےاگر کوئی نہیں مرا تو وہ ہے سیاستدان
ورنہ یقین کیجئے مر گئے سارے ہی مر گئےنوٹ: مندرجہ بالا اشعار میں جتنےبھی لوگ اپنی جانوں سے گئے وہ تمام عام آدمی ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مر گئی دنیا ساری مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟ تحریر وہاب ادریس خان
پہلے جنگ تھی پھر سرد جنگ بھی ہوئی اب آجکل مارکیٹ میں نئی چیزآئی ہے اور وہ ہے تجارتی جنگ۔ان تمام جنگوں کی ایک اہم وجہ دنیا میں اپنی حکمرانی قائم کرنا اور خود کو سُپر پاور منوانا ہے جب بھی سونامی زلزلے یا قدرتی آفات آتی ہیں تو ہمیشہ یہی سوچ آتی ہےکہ کوئی تو ہوگا جو یہ سب روک سکے۔ چائنہ، روس اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی جب آفات آئیں تو میری توقع کے عین خلاف وہ لوگ بھی اس کونہ روک سکے، کیونکہ سپر پاور ہونے کے دعوے اور خواب تو سب کے ہی ہیں لیکن اُس ملک کو میں کیسےسپرپاور مان لوں جوقدرت کی بھیجی ہوئی کسی بھی آفت کے خلاف اپنا دفاع نہ کرسکے۔ لفظ سُپر پاورسن کر تو زہن میں کسی ایسی طاقت کا تصور بنتاہے جودنیا میں سب سے طاقتور ہو اور اس کو نقصان پہنچانا کسی کے بس میں نہ ہو۔ پچھلے کچھ سالوں میں تو ٹیکنا لوجی بہت زیادہ ترقی کر چکی اور خود کو سُپر پاور کہنے والے چاندپر بھی اپنی برتری حاصل کرنے کیلئے زوروشورسے سرگرم ہیں۔
میں اس فیصلے پر پہنچنے ہی والا تھا کہ اصل سُپر پاور کونسا ملک ہے لیکن ایک سانحہ نے مجھے یقین دلادیا کہ سُپر پاور ہونے کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور یہ لوگ تو خودکو ہی نہیں بچا سکتے۔ واقعہ ہےیہ آج سے قبل کچھ مہینوں کا جب ایک خطرناک وائرس نے چائنہ میں سر اُٹھایا اورپوری دنیا بہت پریشان نظر آئی، مگر میں مطمئن تھا کہ چائنہ جیسا سُپرپاور کااُمیدوار ملک ایک چھوٹے سے وائرس کو گلےسے دبوچ کر بہت جلد اس کا قلعہ قمع کردے گامگر میرے سارے بھرم آہستہ آہستہ ٹوٹتے گئے اور چین میں دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی زندگیاں نِگل لیں اور پورے ملک کا نظام درہم برہم کر دیا اور میں یہ سوچنے پر مجبورہو گیاکہ نہیں یہ سُپر پاور نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی سُپر پاور کو ایک چھوٹا سا وائرس مفلوج نہیں کرسکتااور پاکستان جیسا چھوٹا ملک ادویات بھیج کر اس کی مددکر رہا تھا تو میں نے چائنہ کانام سُپر پاور کی لسٹ میں سے نکال دیا۔
دیکھتے ہی دیکھتےیہ وائرس پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے بیٹھا اور دنیا کے کئی سربراہان اور کئی دنیا کے شاہی خاندانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ وائرس امریکہ کا کچھ نہیں بگار سکے گا کیونکہ میراذہن امریکہ کوسپر پاور ماننے کے بہت قریب تھااور شاید دل تو مان بھی چکا تھا۔ ایک دن میں نے ٹیلی ویژن پر امریکہ کے صدر کو شیر کی طرح دھارتے دیکھااور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم نہیں ڈرتے اس وائرس سے، یہ عام سا فلو ہی تو ہے۔ یہ سننے کے بعد میرے یقین کو اور تقویت ملی کہ امریکہ ہی وہ سُپر پاورہے جس کی مجھے تلاش تھی مگر ابھی میرا تجسُس پوری طرح ختم نہ ہواتھا کہ وہی صدر جو کچھ روز قبل شیر کی طرح دھار رہا تھااب کسی بھیگی بلی سے کم نہ لگ رہا تھا ، آواز بھی بیٹھی بیٹھی تھی اور کہہ رہاتھا کہ پورا ملک بند کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اور اگر پورا ملک بند نہ کی گیاتولاکھوں لوگ مر سکتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹے سے وائرس نےامریکہ جیسے ملک کومفلوج کرکے رکھ دیا۔
اس واقع کے بعد میں اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ چین ہو امریکہ یا روس کوئی بھی ملک سُپر پاور نہیں، بلکہ سُپر پاور تو وہ ہےجو بار بار قدرتی آفات اور کورونا وائرس جیسی بیماریاں بھیج کر تمام سُپر پارو ہونے کے دعویداروں کو چیلنج کرتا ہےکہ تم جتنے مرضی طاقت ورکیوں نہ ہو جاو جتنی مرضی ٹیکنالوجی کیوں نہ حاصل کر لو مگر اپنے خالق کے بھیجے ہوئےکسی بھی آزمائش اورعذاب سے نہیں بچ سکتے اور اب میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اگر کوئی سُپرپاور ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

انسان از وہاب ادریس خان
دنیا چاند پر پانی ڈھونڈنے میں مصروف ہے اور ہم کراچی کے گٹروں کے پانی کو لے کر پریشان ہیں۔ ہر سال مون سون کا موسم آتے ہی کراچی کے گٹر اُبل پڑتے ہیں اور حسبِ معمول شہری چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔ سینکروں ٹی وی شوز بھی اس موضوع پر کر دئے جاتے ہیں اور اس سال محکمہ موسمیات نے بھی بیس فیصد زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے گٹر صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ سننا تھا کہ بس ہمارا دھیان فوراَ اس بات پر چلا گیا کہ ہم نے ایٹم بم بنا یا بھی ہے یاایسے ہی غلط بیانی کی ہے، لیکن پھر جب چاغی کے پہاروں کا بدلہ رنگ یاد آیا تو یقین ہوا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنایا ہےاور وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گٹر صاف نہیں کر سکتے۔ بات صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے، اسلام آباد میں تو ورلڈ ریکارڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ دنیا کہ تمام ممالک اب تک صرف جہاز اڑانے میں کامیا ب ہوئے ہمارا تو ائیر پورٹ اڑتے اڑتے رہ گیا۔ پچھلے دنوں اِک ہلکی سی آندھی نے جو تباہی مچائی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ سب دیکھ کر تو حیرانی ہی ہوئی تھی لیکن سخت پریشانی اس وقت ہوئی جب لاہور میں دو بزرگوں کا مکالمہ سُنا۔ ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھ رہے تھے اڑے بھائی کورونا وائرس کو تم کہیں دیکھے ہو کیا؟ اور جواب تو اور بھی متا ثر کُن تھا؛ نہیں میاں پتہ نہیں کیا ڈرامہ ہے ہمیں تو کہیں نہیں ملا ابھی تک، تمہیں ملے تو ضرور بتانا۔
یکِ بعد دیگرِ تین بڑے شہروں کے واقعات بیا ن کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے مسائل علاقائی یا شہری نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، اور یہ مسائل ہماری سوچ اور ذہنیت میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی سی گورنمنٹ ہو یا کوئی کنٹریکٹر جو تھوڑے سے پیسے بچانے کی خاطر پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور منافع اور سیاست کوانسانیت پر ترجیح دیتے ہیں اور یا چاہےوہ پاکستان کا عام آدمی ہو جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسی باتیں پھیلا دیتا ہےجس کے نتائج بہت خطر ناک نکل سکتے ہیں۔
حکومتِ پاکستان نے احساس پروگرام تو شروع کر دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان میں "انسان” پروگرام شروع کیاجائے جس پر انسانوں کی ذہنی سوچ پرکام ہونا چاہئےجس کے تحت انسانوں کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا جائے۔ میرا ایمان ہےجس دن ہم مکمل انسان بن جائیں گے پاکستان دن دُگنی رات چُگنی ترقی
کرے گاغالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔
بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا
مارخورسےحرام خور تک کا سفر
مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔
کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔
میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان
لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔
عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔
ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔
اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔








