Baaghi TV

Tag: pakistan

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔

  • عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    عقلمند سیاستدان تحریر وہاب ادریس خان

    تٹی وی پر نشر ہونے والی خبریں اور اخبار دیکھ کر اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہماری عوام کو تو بس مرنے کا اِک موقع یا بہانہ چاہئےکیونکہ ہماری عوام ایسے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جس میں ان کے جان سے جانے کے واضح امکان موجود ہوں، اب وجہ بھلے ہی کوئی بیماری، پرانی آپسی دشمنی، ٹرین حادثہ ، ہوائی جہازحادثہ یا پھر زہریلا کھانا ہو، عام عوام اکشرہی درجنوں کے حساب مرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہاں پر سیاستدانوں کی عقلمندی پر داد دینا ہوگی،وہ ایسی احمقانہ حرکتیں نہیں کرتے اور عام طور پران حادثات کاشکار بھی نہیں ہوتے۔

    کچھ گولیوں سے مرگئے کچھ وائرس سے مرگئے
    کچھ مرتے لوگوں کو دیکھ کر مرگئے

    کچھ گندا پانی پی کر مر گئے
    کچھ نہ کھانے سے مر گئے

    کچھ زیادہ کھانے سے مر گئے
    جو بچے وہ خود کو زندہ دیکھ کر مر گئے

    اگر کوئی نہیں مرا تو وہ ہے سیاستدان
    ورنہ یقین کیجئے مر گئے سارے ہی مر گئے

    نوٹ: مندرجہ بالا اشعار میں جتنےبھی لوگ اپنی جانوں سے گئے وہ تمام عام آدمی ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مر گئی دنیا ساری مگر بھٹو آج بھی زندہ ہے۔

  • اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟  تحریر وہاب ادریس خان

    اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟ تحریر وہاب ادریس خان

    پہلے جنگ تھی پھر سرد جنگ بھی ہوئی اب آجکل مارکیٹ میں نئی چیزآئی ہے اور وہ ہے تجارتی جنگ۔ان تمام جنگوں کی ایک اہم وجہ دنیا میں اپنی حکمرانی قائم کرنا اور خود کو سُپر پاور منوانا ہے جب بھی سونامی زلزلے یا قدرتی آفات آتی ہیں تو ہمیشہ یہی سوچ آتی ہےکہ کوئی تو ہوگا جو یہ سب روک سکے۔ چائنہ، روس اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی جب آفات آئیں تو میری توقع کے عین خلاف وہ لوگ بھی اس کونہ روک سکے، کیونکہ سپر پاور ہونے کے دعوے اور خواب تو سب کے ہی ہیں لیکن اُس ملک کو میں کیسےسپرپاور مان لوں جوقدرت کی بھیجی ہوئی کسی بھی آفت کے خلاف اپنا دفاع نہ کرسکے۔ لفظ سُپر پاورسن کر تو زہن میں کسی ایسی طاقت کا تصور بنتاہے جودنیا میں سب سے طاقتور ہو اور اس کو نقصان پہنچانا کسی کے بس میں نہ ہو۔ پچھلے کچھ سالوں میں تو ٹیکنا لوجی بہت زیادہ ترقی کر چکی اور خود کو سُپر پاور کہنے والے چاندپر بھی اپنی برتری حاصل کرنے کیلئے زوروشورسے سرگرم ہیں۔

    میں اس فیصلے پر پہنچنے ہی والا تھا کہ اصل سُپر پاور کونسا ملک ہے لیکن ایک سانحہ نے مجھے یقین دلادیا کہ سُپر پاور ہونے کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور یہ لوگ تو خودکو ہی نہیں بچا سکتے۔ واقعہ ہےیہ آج سے قبل کچھ مہینوں کا جب ایک خطرناک وائرس نے چائنہ میں سر اُٹھایا اورپوری دنیا بہت پریشان نظر آئی، مگر میں مطمئن تھا کہ چائنہ جیسا سُپرپاور کااُمیدوار ملک ایک چھوٹے سے وائرس کو گلےسے دبوچ کر بہت جلد اس کا قلعہ قمع کردے گامگر میرے سارے بھرم آہستہ آہستہ ٹوٹتے گئے اور چین میں دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی زندگیاں نِگل لیں اور پورے ملک کا نظام درہم برہم کر دیا اور میں یہ سوچنے پر مجبورہو گیاکہ نہیں یہ سُپر پاور نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی سُپر پاور کو ایک چھوٹا سا وائرس مفلوج نہیں کرسکتااور پاکستان جیسا چھوٹا ملک ادویات بھیج کر اس کی مددکر رہا تھا تو میں نے چائنہ کانام سُپر پاور کی لسٹ میں سے نکال دیا۔

    دیکھتے ہی دیکھتےیہ وائرس پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے بیٹھا اور دنیا کے کئی سربراہان اور کئی دنیا کے شاہی خاندانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ وائرس امریکہ کا کچھ نہیں بگار سکے گا کیونکہ میراذہن امریکہ کوسپر پاور ماننے کے بہت قریب تھااور شاید دل تو مان بھی چکا تھا۔ ایک دن میں نے ٹیلی ویژن پر امریکہ کے صدر کو شیر کی طرح دھارتے دیکھااور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم نہیں ڈرتے اس وائرس سے، یہ عام سا فلو ہی تو ہے۔ یہ سننے کے بعد میرے یقین کو اور تقویت ملی کہ امریکہ ہی وہ سُپر پاورہے جس کی مجھے تلاش تھی مگر ابھی میرا تجسُس پوری طرح ختم نہ ہواتھا کہ وہی صدر جو کچھ روز قبل شیر کی طرح دھار رہا تھااب کسی بھیگی بلی سے کم نہ لگ رہا تھا ، آواز بھی بیٹھی بیٹھی تھی اور کہہ رہاتھا کہ پورا ملک بند کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اور اگر پورا ملک بند نہ کی گیاتولاکھوں لوگ مر سکتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹے سے وائرس نےامریکہ جیسے ملک کومفلوج کرکے رکھ دیا۔

    اس واقع کے بعد میں اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ چین ہو امریکہ یا روس کوئی بھی ملک سُپر پاور نہیں، بلکہ سُپر پاور تو وہ ہےجو بار بار قدرتی آفات اور کورونا وائرس جیسی بیماریاں بھیج کر تمام سُپر پارو ہونے کے دعویداروں کو چیلنج کرتا ہےکہ تم جتنے مرضی طاقت ورکیوں نہ ہو جاو جتنی مرضی ٹیکنالوجی کیوں نہ حاصل کر لو مگر اپنے خالق کے بھیجے ہوئےکسی بھی آزمائش اورعذاب سے نہیں بچ سکتے اور اب میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اگر کوئی سُپرپاور ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • انسان از وہاب ادریس خان

    انسان از وہاب ادریس خان

    دنیا چاند پر پانی ڈھونڈنے میں مصروف ہے اور ہم کراچی کے گٹروں کے پانی کو لے کر پریشان ہیں۔ ہر سال مون سون کا موسم آتے ہی کراچی کے گٹر اُبل پڑتے ہیں اور حسبِ معمول شہری چیختے چلاتے نظر آتے ہیں۔ سینکروں ٹی وی شوز بھی اس موضوع پر کر دئے جاتے ہیں اور اس سال محکمہ موسمیات نے بھی بیس فیصد زیادہ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کراچی کی سٹی گورنمنٹ کا کہنا ہے کہ کراچی کے گٹر صاف کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یہ سننا تھا کہ بس ہمارا دھیان فوراَ اس بات پر چلا گیا کہ ہم نے ایٹم بم بنا یا بھی ہے یاایسے ہی غلط بیانی کی ہے، لیکن پھر جب چاغی کے پہاروں کا بدلہ رنگ یاد آیا تو یقین ہوا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنایا ہےاور وہ علیحدہ بات ہے کہ ہم گٹر صاف نہیں کر سکتے۔ بات صرف کراچی تک ہی محدود نہیں ہے، اسلام آباد میں تو ورلڈ ریکارڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ دنیا کہ تمام ممالک اب تک صرف جہاز اڑانے میں کامیا ب ہوئے ہمارا تو ائیر پورٹ اڑتے اڑتے رہ گیا۔ پچھلے دنوں اِک ہلکی سی آندھی نے جو تباہی مچائی وہ پوری دنیا نے دیکھی۔ یہ سب دیکھ کر تو حیرانی ہی ہوئی تھی لیکن سخت پریشانی اس وقت ہوئی جب لاہور میں دو بزرگوں کا مکالمہ سُنا۔ ایک بزرگ دوسرے بزرگ سے پوچھ رہے تھے اڑے بھائی کورونا وائرس کو تم کہیں دیکھے ہو کیا؟ اور جواب تو اور بھی متا ثر کُن تھا؛ نہیں میاں پتہ نہیں کیا ڈرامہ ہے ہمیں تو کہیں نہیں ملا ابھی تک، تمہیں ملے تو ضرور بتانا۔

    یکِ بعد دیگرِ تین بڑے شہروں کے واقعات بیا ن کرنے کا مقصدیہ ہے کہ ہمارے مسائل علاقائی یا شہری نہیں بلکہ اجتماعی ہیں، اور یہ مسائل ہماری سوچ اور ذہنیت میں پائے جاتے ہیں۔ چاہے وہ کوئی سی گورنمنٹ ہو یا کوئی کنٹریکٹر جو تھوڑے سے پیسے بچانے کی خاطر پورے ملک کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں اور منافع اور سیاست کوانسانیت پر ترجیح دیتے ہیں اور یا چاہےوہ پاکستان کا عام آدمی ہو جو شعور نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے میں ایسی باتیں پھیلا دیتا ہےجس کے نتائج بہت خطر ناک نکل سکتے ہیں۔

    حکومتِ پاکستان نے احساس پروگرام تو شروع کر دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ پورے پاکستان میں "انسان” پروگرام شروع کیاجائے جس پر انسانوں کی ذہنی سوچ پرکام ہونا چاہئےجس کے تحت انسانوں کو حقیقی معنوں میں انسان بنایا جائے۔ میرا ایمان ہےجس دن ہم مکمل انسان بن جائیں گے پاکستان دن دُگنی رات چُگنی ترقی
    کرے گا

    غالب نے بھی کیا خوب کہا ہے۔

    بس کے دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا
    آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

  • کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق
    بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت
    ویب ڈیسک 16 جون 2020

    لندن: برطانوی ماہرین صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کے علاج میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے.
    برطانوی میڈیا رپورٹ کے
    مطابق ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کرونا علاج کے لیے اب تک کی سب سے اہم دوا دریافت ہوگئی، جس سے تشویشناک مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوگا۔
    ماہرین صحت کے مطابق اس دوا کو وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں پر بھی آزمایا گیا، 12 میں سے 11 مریض صحت یاب ہوئے، علاوہ ازیں مجموعی طور پر ایک تہائی مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیکسا میتھاسون نامی دوا کوئی خاص نہیں بلکہ یہ عام ہے اور ماہرین اسے کرونا مرض کے علاج کے لیے مؤثر بھی قرار دے رہے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دوا کی آزمائش کے لیے 2100 مریضوں کا انتخاب کیا جن میں سے تیس فیصد ایسے تھے جو وینٹی لیٹر پر موجود تھے‘۔

    تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ’ڈیکسا میتھاسون کے استعمال سے مریضوں کی موت کی شرح تیس فیصد کم ہوئی جبکہ جو مریض مصنوعی طریقے سے سانس لے رہے تھے اُن کی موت کی شرح نصف حد تک کم ہوگئی‘۔

    آکسفورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں پہلے اس دوا کی افادیت کا علم ہوتا تو برطانیہ کے پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکتی تھیں‘۔

    ماہرین نے تحقیق کا آغاز مارچ میں کیا اور اس ضمن میں 175 اسپتالوں میں داخل ہونے والے گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

    انہوں نے بتایا کہ ’حیران کن طور پر دوا کی کم خوراک بھی مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کی قیمت بھی مناسب ہے اور یہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہے‘۔

    مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’اب ہم تمام اسپتالوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ شام سے ہی مریضوں پر دوا کا استعمال شروع کردیں‘۔

    دوسری جانب برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی اسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    بھارتی پنجاب حکومت نے موہالی سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے صحافی کی بے رحمی سے پٹائی کرنے والے دونوں پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے. مقامی پنجابی اخبار کے صحافی میجر سنگھ پنجابی ایک مقامی گرودوارے میں دو گروپوں کی ایک مفاہمتی میٹنگ کی کوریج کے لئے گئے. جب کہ اسی دوران موہالی پولیس اسٹیشن فیز 1 کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں (اے ایس آئی) نے ان کی پٹائی کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میجر سنگھ پنجابی کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی کئی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا جس کے بعد ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ میجر سنگھ اس وقت موہالی کے سول ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ میجر سنگھ نے کہا کہ 22 مئی کی دوپہر کو وہ گرودوارے میں دو گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ کو کور کرنے گئے تھے جب وہ وہاں پہنچے تواے ایس آئی اوم پرکاش اور امرناتھ کو دیکھا، جو ایک شخص جسپال سنگھ کو پکڑ کرکمرے سے باہر لا رہے تھے. انہوں نےاپنے موبائل فون سے اسے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جسپال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں ویڈیو بناتے سے روکا لیکن انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور کوریج کے لئے آئے ہیں اس کے باوجود دونوں پولیس اہلکارزبردستی انہیں ایک نجی گاڑی میں بٹھاکرموہالی کے فیز 1 پولیس اسٹیشن لے گئے۔ انہیں جس گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا نمبر پلیٹ ہریانہ کا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اے ایس آئی اوم پرکاش نے ڈنڈے سے ان کی پٹائی شروع کر دی۔ دونوں انہیں گھسیٹ کر لاک اپ میں لے گئے، جہاں نہ صرف انہیں پیٹا کیا گیا بلکہ بے عزت بھی کیا گیا۔ ان کی پگڑی بھی کھول دی جب کہ وہ باربار پولیس والوں کو کہتے رہے کہ ان کی پگڑی کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی. اس کے ساتھ ساتھ ان کی جیب میں موجود کنگا بھی پھینک دیا.انہوں نے کہا کہ ان کے بائیں پیر، دونوں بازو اور پیٹھ میں شدید چوٹیں آئیں. موہالی کے ڈپٹی کمشنر گریش دیالن کا کہنا ہے کہ انہوں نے موہالی کے ایس ڈی ایم جگدیپ سہگل کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر کے تین دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔اس دوران چنڈی گڑھ پریس کلب اور چنڈی گڑھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدربلوندر سنگھ اور ڈوسرے نے پنجابی پر حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔