Baaghi TV

Tag: pakistan

  • کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق
    بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت
    ویب ڈیسک 16 جون 2020

    لندن: برطانوی ماہرین صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کے علاج میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے.
    برطانوی میڈیا رپورٹ کے
    مطابق ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کرونا علاج کے لیے اب تک کی سب سے اہم دوا دریافت ہوگئی، جس سے تشویشناک مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوگا۔
    ماہرین صحت کے مطابق اس دوا کو وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں پر بھی آزمایا گیا، 12 میں سے 11 مریض صحت یاب ہوئے، علاوہ ازیں مجموعی طور پر ایک تہائی مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیکسا میتھاسون نامی دوا کوئی خاص نہیں بلکہ یہ عام ہے اور ماہرین اسے کرونا مرض کے علاج کے لیے مؤثر بھی قرار دے رہے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دوا کی آزمائش کے لیے 2100 مریضوں کا انتخاب کیا جن میں سے تیس فیصد ایسے تھے جو وینٹی لیٹر پر موجود تھے‘۔

    تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ’ڈیکسا میتھاسون کے استعمال سے مریضوں کی موت کی شرح تیس فیصد کم ہوئی جبکہ جو مریض مصنوعی طریقے سے سانس لے رہے تھے اُن کی موت کی شرح نصف حد تک کم ہوگئی‘۔

    آکسفورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں پہلے اس دوا کی افادیت کا علم ہوتا تو برطانیہ کے پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکتی تھیں‘۔

    ماہرین نے تحقیق کا آغاز مارچ میں کیا اور اس ضمن میں 175 اسپتالوں میں داخل ہونے والے گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

    انہوں نے بتایا کہ ’حیران کن طور پر دوا کی کم خوراک بھی مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کی قیمت بھی مناسب ہے اور یہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہے‘۔

    مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’اب ہم تمام اسپتالوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ شام سے ہی مریضوں پر دوا کا استعمال شروع کردیں‘۔

    دوسری جانب برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی اسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    صحافی کی بے دردی سے پٹائی، دو پولیس اہلکار معطل

    بھارتی پنجاب حکومت نے موہالی سے شائع ہونے والے ایک مقامی اخبار کے صحافی کی بے رحمی سے پٹائی کرنے والے دونوں پولیس اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو معطل کر دیا ہے. مقامی پنجابی اخبار کے صحافی میجر سنگھ پنجابی ایک مقامی گرودوارے میں دو گروپوں کی ایک مفاہمتی میٹنگ کی کوریج کے لئے گئے. جب کہ اسی دوران موہالی پولیس اسٹیشن فیز 1 کے دو اسسٹنٹ سب انسپکٹروں (اے ایس آئی) نے ان کی پٹائی کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ میجر سنگھ پنجابی کی تصویریں اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صحافیوں کی کئی تنظیموں نے سخت احتجاج کیا جس کے بعد ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ میجر سنگھ اس وقت موہالی کے سول ہاسپٹل میں زیرعلاج ہیں۔ میجر سنگھ نے کہا کہ 22 مئی کی دوپہر کو وہ گرودوارے میں دو گروپوں کے درمیان ایک میٹنگ کو کور کرنے گئے تھے جب وہ وہاں پہنچے تواے ایس آئی اوم پرکاش اور امرناتھ کو دیکھا، جو ایک شخص جسپال سنگھ کو پکڑ کرکمرے سے باہر لا رہے تھے. انہوں نےاپنے موبائل فون سے اسے ریکارڈ کرنا شروع کر دیا اور جسپال سے بات کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں ویڈیو بناتے سے روکا لیکن انہوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور کوریج کے لئے آئے ہیں اس کے باوجود دونوں پولیس اہلکارزبردستی انہیں ایک نجی گاڑی میں بٹھاکرموہالی کے فیز 1 پولیس اسٹیشن لے گئے۔ انہیں جس گاڑی میں بٹھایا گیا اس کا نمبر پلیٹ ہریانہ کا تھا۔ انہوں نے بتایاکہ گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی اے ایس آئی اوم پرکاش نے ڈنڈے سے ان کی پٹائی شروع کر دی۔ دونوں انہیں گھسیٹ کر لاک اپ میں لے گئے، جہاں نہ صرف انہیں پیٹا کیا گیا بلکہ بے عزت بھی کیا گیا۔ ان کی پگڑی بھی کھول دی جب کہ وہ باربار پولیس والوں کو کہتے رہے کہ ان کی پگڑی کو ہاتھ نہ لگائیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی. اس کے ساتھ ساتھ ان کی جیب میں موجود کنگا بھی پھینک دیا.انہوں نے کہا کہ ان کے بائیں پیر، دونوں بازو اور پیٹھ میں شدید چوٹیں آئیں. موہالی کے ڈپٹی کمشنر گریش دیالن کا کہنا ہے کہ انہوں نے موہالی کے ایس ڈی ایم جگدیپ سہگل کو معاملے کی آزادانہ تحقیقات کر کے تین دنوں میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔اس دوران چنڈی گڑھ پریس کلب اور چنڈی گڑھ جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدربلوندر سنگھ اور ڈوسرے نے پنجابی پر حملے کی مذمت کی اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا.

  • پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان کی معیشت کے لئے سی پیک کے ثمرات

    پاکستان اور چین ’سدابہار سٹرٹیجک کوآپریٹو شراکت دار‘ ہیں۔ ہم باہمی احترام و مفاد، یکساں نفع مند تعاون اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر خطے میں امن، ترقی اور استحکام کے فروغ کے لئے کاربند ہیں۔ ہمارے تعلقات باہمی گہرے اعتماد اور ہم آہنگی پر مبنی ہیں۔ عوام کی معاشی ترقی اور طویل المدتی خوشحالی ہماری حکومتوں کی اولین ترجیح ہے۔ سی پیک ’ بیلٹ اینڈ روڈ‘ (بی۔آر۔آئی) تصور کا فلیگ شپ منصوبہ ہے جو پاکستان کی قومی ترقی میں مثبت و شفاف نمایاں تبدیلی لانے والا کلیدی منصوبہ ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ خطے کو معاشی بندھن میں باندھنے اور راستوں سے جوڑنے کا عمل پورے علاقے میں وسیع البنیاد شرح نمو کو تیز کرنے کا باعث بنے گا۔ ہم نے بارہا اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ سی پیک منصوبہ جات سے متعلق ہمارا کل قرض ہمارے مجموعی قومی قرض کے 10 فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چین سے لیاجانا والا قرض 20 سال کے بعد ادا کرنا ہے اور اس کا شرح سود2.34 فیصد ہے۔ اگر گرانٹس بھی اس میں شامل کرلی جائیں تو یہ شرح دو فیصد پر آجاتی ہے۔ بعض تبصرہ نگاروں اوررہنماوں کے سی پیک سے متعلق پاکستان کے قرض کے بارے میں دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔
    اعادہ کیاجاتا ہے کہ سی پیک ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، صنعت کے فروغ اور روزگارکے نئے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی مفاد کے امور زیرغور لانے کے کئی طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔ ان امور کو دوطرفہ طورپر نمٹانے کے لئے دونوں ممالک مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • بھارت نے کوئی حرکت کی تو انجام بہت برا ہو گی، پاکستان کی وارننگ

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو للکارتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر بھارت نے کوئی حماقت کی تواسے فوری طور پر مناسب جواب ملے گا۔ ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال دنیا کے سامنے ہے اور کسی سے ڈھکی چھپی نہیں.انہوں نے کہا کہ کورونا کےبعد پوری دنیا کو اس کی توقع تھی کہ بھارت کشمیر میں نرمی کرےگالیکن بد قسمتی سےایسا نہیں ہوابلکہ بھارت نے پاکستان کو بھی آنکھیں دکھانا شروع کردیں. انہوں نے کہا کہ خطے میں بھارت ایڈ ونچر کرنا چاہتا ہے جب کہ حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ امن کیلئے سازگار ماحول قائم کیا جائے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل میں چینی سفیر کی ہلاکت پر ابھی کوئی قیاس آرائی نہیں کروں گا. انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لائے ہیں جب کہ بیرون ملک موجود ایک لاکھ 10 ہزار افراد واپس آنا چاہتے ہیں، باہر سے آنے والوں کو قرنطینہ کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے ان کی وطن واپسی سے قبل ہم قرنطینہ کی گنجائش بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    پاکستان میں ڈیمز اب نہیں تو کب… ڈیمز پر اعتراضات کا جواب دیتی فیصل ندیم کی تحریر

    کافی عرصہ ہوا میں پنڈی سے بذریعہ بس حیدرآباد آرہا تھا ایک صاحب جنہوں نے میہڑ ضلع دادو جانا تھا میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جب ہم میانوالی کے قریب چشمہ کے مقام پر پہنچے جہاں پاکستان نے ایک بڑا ذخیرہ آب جمع کیا ہوا ہے تو وہ صاحب مجھے کہنے لگے دیکھیں یہ پنجاب نے ظلم کیا ہوا ہے میں نے پوچھا بھائی وہ کیسے تو فرمانے لگے اتنا سارا پانی یہاں روکا ہوا ہے تو سندھ تو سارا خشک ہوجائے گا اور اس کی زراعت بالکل تباہ ہوجائے گی میں نے عرض کیا حضرت ایک ذاتی سا سوال پوچھ لوں کہنے لگے پوچھیں میں نے کہا آپ نے اپنے گھر میں پانی کا ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی زیر زمین یا چھت کے اوپر کوئی ٹنکی بنائی ہے تو کہنے لگے بالکل بنائی ہے میں نے پھر پوچھا کیوں ؟؟؟
    جی ہر وقت لائٹ بھی نہیں ہوتی اور واٹر سپلائی کا پانی بھی مقررہ وقت پر آتا ہے اس لئے پانی جمع کرنا پڑتا ہے تاکہ سارا دن استعمال ہوسکے میں نے عرض کیا بھیا آپ کے چھوٹے سے گھر کو تو ذخیرۂ آب کی ضرورت ہو اور اتنے بڑے ملک کو پانی ذخیرہ کئے بغیر چلا لیا جائے کچھ عجیب سی بات نہیں ہے ۔۔۔۔؟؟؟
    حضرات ایسے وقت میں کہ جب ساری دنیا سینکڑوں نہیں ہزاروں چھوٹے بڑے ڈیم بنا رہی ہے چائنہ چار ہزار سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے ہمارا ازلی دشمن بھارت پندرہ سو سے زیادہ ڈیم بنا چکا ہے یہ پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ تربیلا اور منگلا کے بعد ہم کوئی قابل ذکر ڈیم نہیں بنا سکے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم شاندار نہری نظام رکھنے کے باوجود دن بدن خشک سالی کی طرف بڑھتے چلے جارہے ہیں
    بھارت ہمارا وہ ازلی دشمن ہے جس نے مقبوضہ کشمیر میں ہمارے دریاؤں پر قبضہ کرکے متعدد ڈیم بناکر ہمارا پانی روکا تاکہ جہاں وہ ہمارے پانی پر اپنی بنجر زمینوں کو سیراب کرسکے وہیں ہمیں پانی کے قطرے قطرے کا محتاج بناکر اپنا باج گزار بنالے
    عجیب تماشہ یہ ہے کہ ایسے وقت میں کہ جب بھارت ہمارے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنائے چلا جارہا تھا اس نے ہمارے بیچ ایسے لوگ کھڑے کردئیے جنہیں پاکستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا کوئی ذخیرۂ آب برداشت نہ تھا قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے یہ لوگ بظاہر اپنے اپنے ہم زبان لوگوں کے ہمدرد تھے لیکن حقیقت میں دشمن کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوئے ہمیشہ ان کے ساتھ دشمنی پر آمادہ نظر آتے تھے
    ان لوگوں نے سندھ اور کے پی کے کے بھولے بھالے عوام کو پروپیگنڈے کے جال میں اس طرح پھنسایا کہ انہیں لگنے لگا کہ پاکستان کی سرزمین پر بننے والا کوئی بھی ذخیرۂ آب ان کی تباہی کا سبب بنے گا نتیجتاً ایک بڑا عوامی ردعمل ڈیموں کی تعمیر کے ان منصوبہ جات کے خلاف کھڑا ہوگیا جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت تھے ان کی پاکستان دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کے ہر ڈیم کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کرنے اور ان کے خلاف لمبے لمبے بھاشن جھاڑنے والے ان لوگوں کو کشمیر میں بننے والے کسی بھی ڈیم یا کینال کے خلاف بولتے ہوئے کبھی بھی نہیں سنا گیا یعنی تماشہ یہ تھا کہ یہ ایک طرف پاکستان کی ترقی کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کررہے تھے تو دوسری طرف بھارت کو موقع فراہم کررہے تھے کہ وہ پاکستان میں موجود انتشار کا فائدہ اٹھا کر پاکستانی دریاؤں کا رخ اپنی منشا کے مطابق موڑ لے
    پاکستانی عوام کی ایک اور بڑی بدقسمتی یہ تھی کہ انہیں کوئی ایک بھی حکومت اس طرح کی میسر نہیں آئی جو اس پاکستان دشمنی پر مبنی اس مذموم مہم کا کما حقہ مقابلہ کرسکے کیا اس سے بڑا ظلم کیا ہوسکتا ہے کہ بجائے ان بدبخت عناصر کا قلع قمع کرنے کے انہیں اقتدار کے ایوانوں میں لا بٹھایا جائے ولی خان اسفندیار ولی محمود خان اچکزئی اور سندھ کے کئی بدبو دار قوم پرست سیاستدان اس کی عملی مثال ہیں ۔۔۔۔
    حضرات پاکستان اپنے قیام کے وقت فی کس پانی کی دستیابی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شامل تھا لیکن ہماری نااہلیوں اور دشمنوں کی سازشوں نے ہمیں اس جگہ لا پہنچایا ہے کہ ہم دنیا کے ان پندرہ ممالک میں شامل ہوگئے ہیں جو بڑی تیزی کے ساتھ قلت آب کا شکار ہورہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ پاکستان نے اگر ہوش کے ناخن نہ لئے تو پاکستان کا حشر صومالیہ جیسے خشک سالی کے مارے ملکوں جیسا ہوسکتا ہے
    یہ بات خوش آئند ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے نئے ذخیرۂ آب تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مہمند ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر بھی بہت جلد شروع ہونے جارہی ہے ان ڈیموں کی تعمیر کے اعلان کے ساتھ ہی پاکستان دشمن قوتیں ایک بار پھر متحرک ہوچکی ہیں اور ان ڈیموں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا ہے اس وقت میں جہاں حکومت وقت کو چاہئے کہ وہ اس مذموم پروپیگنڈے کا سدباب کرے وہیں پاکستانی عوام کو بھی اس حوالہ سے میدان میں آنا چاہیے اور سوشل میڈیا کے محاذ پر پاکستان اور اس کے عوام کی ترقی کے ان دشمنوں کو دانت کھٹے کردینے والا جواب دینا چاہیے جان لیجئے ڈیموں کی تعمیر ہمارے آج اور آنے والے کل کیلئے ہماری بہت بڑی ضرورت ہے ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقا کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دیکر بھی یہ ڈیم تعمیر کرنے چاہئیں تاکہ ہم اپنا اور اپنی آنے والی نسلوں کا تحفظ کرسکیں
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں بات کو سمجھنے کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور پاکستان اور پاکستانیوں کی حفاظت فرمائے
    آمین یا رب العالمین

  • کسی طبقہ کی بیوقوفی اور اس پر حکومتی مجرمانہ غفلت کب سے ہمارے لیے معیار ہو گئی ؟ تحریر، طہ منیب

    ہم ردعمل کا شکار ہی کیوں ہوں ؟ کیا ہم میں عقل خرد سمجھ بوجھ نہیں رہی جو ہم کسی کے عمل کے ردعمل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کریں؟ کسی کا کنویں میں کودنا ہمارے لیے کب سے کودنے کی دلیل بن گیا؟ جو جس نے جتنا غلط کیا اسکی سزا خود کو دینا کسی صورت دانش مندی کا تقاضہ نہیں۔ وائرس پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ان کے ان جلوسوں سے یقیناً بڑھے گا اور اسکے ردِعمل کا شکار ہم ہونگے تو پھلے پھولے گا جسکا نتیجہ پوری قوم بھگتے گی،

    وائرس نا رکا تھا نا رکا ہے، کسی کے جاننے والے کو ہوا یا نہیں سے اب اکثر کو یہ لگ چکا ہے، اب ہر طبقہ میں اسکے متاثرین موجود ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے حکومتی وسائل اب ناکافی ہوچکے، قرنطینہ مراکز بھر چکے، اب یہ آپ پر ہے آپ ردِعمل کا شکار ہوکر سب سے پہلے خود، اپنی فیملی، حلقہ احباب ، ملک و قوم کو اسکا شکار بناتے ہیں یا عقلمندی و خرد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزباتیت اور ردعمل کا شکار ہوئے بغیر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے سب کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی کو بروئے کار کر درست فیصلوں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین