Baaghi TV

Tag: pakistan

  • حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    زیر نظر تصویر یقیناً مغلیہ دور کی نہیں جس میں کنیزیں بادشاہ سلامت کے استقبال کے لئے کھڑی ہوں۔ یہ ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس میں ہماری طالبات جناب ایم این اے فرخ حبیب صاحب کا استقبال فرما رہی ہیں۔ اور یہ وہ نمائندہ ہیں جو طلبہ تنظیم کو ہیڈ کرتے رہے۔
    وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب کی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سمن آباد میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی ،میاں فرخ حبیب نے پرچم کشائی کی اور طالبات سے پر جوش خطاب کیا

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • انگلینڈ نے آخری ٹیسٹ جیت کر ایشز سیریز برابر کر دی

    انگلینڈ نے آخری ٹیسٹ جیت کر ایشز سیریز برابر کر دی

    لندن: انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے ایشز سیریز 2019 کے آخری اور فیصلہ کن میچ کو جیت کر ایشز سیریز 2-2 سے برابر کر دی ، 1972 کے بعد پہلی دفع ایسا ہوا ہے ایشز سیریز برابری پر حتم ہوئی ہے،
    پانچویں ٹیسٹ کے آخری روز کھیل کا آغاز انگلینڈ نے کیا اور صرف 20 منٹ میں انگلش کھلاڑی 398 کے مجموعے پر پویلین لوٹ گئے ، اس کے بعد آسٹریلوی بیٹنگ لائن شدید لڑکھٹراتی نظر آئی، آسٹریلیا کے اوپنرز کو انگلش پیسر سٹورٹ براڈ نے چلتا کیا ، اس کے مارنس لابوس شین جیک لیچ کا شکار ہو گئے، اس کے اسٹیو اسمتھ نے کچھ مزاحمت کی لیکن 23 رنز پر وہ بھی ہمت ہار گئے، اس کے بعد میتھیو ویڈ نے 117 رنز کی شاندار اور زمہ دارانہ اننگز کھیلی اور آسٹریلیا کا کل سکور 240 تک پہنچا دیا لیکن کوئی بلے باز ان کے ساتھ زیادہ دیر تک کھڑا نہ رہ سکا اور 260 کے آسٹریلوی مجموعے پر ویڈ بھی آؤٹ ہو گئے اور یوں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 263 کے مجموعے پر آؤٹ ہو گئی،

  • قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان نے خیبر پختونخوا کی پوزیشن مستحکم  کردی

    قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان نے خیبر پختونخوا کی پوزیشن مستحکم کردی

    ناردرن اور خیبرپختوانخوا کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری میچ کے دوسرے روز خیبرپختوانخوا کے بلے بازوں نے مزید 183 رنز جوڑے۔
    میزبان ٹیم نے 526 رنز پر اننگ ڈکلیئر کردی اور اس کے 9 کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔کپتان محمد رضوان نے 22 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 176 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ عادل امین نے 73 رنز بنائے۔ ناردرن کرکٹ ٹیم کی جانب سے شاداب خان نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ صدف حسین، موسیٰ خان، عماد وسیم اور محمد نواز نے 1، 1 کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی۔ جواب میں ناردرن کرکٹ ٹیم نے دن کے اختتام تک 1 وکٹ کے نقصان پر 109 رنز بنائے۔
    میچ کے تیسرے روز حیدر علی اور عمر امین بالترتیب 56 اور 20 رنز سے خیبرپختوانخوا کی جانب سے اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ سدرن پنجاب اور خیبرپختوانخوا کی ٹیمیں میچ کی پہلی اننگ میں مقررہ 110 اوورز میں 400 رنز بنانے پر 5,5 اضافی پوائنٹس حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں جبکہ سندھ کی ٹیم کو 3 پوائنٹس دئیے گئے۔ سندھ نے مقررہ 110 اوورز میں 301 رنز بنائے تھے۔ پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن 20-2019 میں قائداعظم ٹرافی کے لیے نیا پوائنٹس سسٹم متعارف کروا یا ہے۔

  • قائداعظم ٹرافی:  سدرن پنجاب کے سمیع اسلم کی ڈبل سینچری

    قائداعظم ٹرافی: سدرن پنجاب کے سمیع اسلم کی ڈبل سینچری

    قائداعظم ٹرافی کے دوسرے روز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جاری میچ میں سدرن پنجاب نے اپنی اننگز کا دوبارہ آغاز 291 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے کیا توسمیع اسلم کی مزاحمت جاری رہی۔
    اوپنرسمیع اسلم نے 410 گیندوں پر 243 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 29 چوکے اور 1 چھکا شامل تھا۔ سمیع اسلم قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانیوالے فرسٹ کلاس کرکٹ میچ میں بیٹ کیری کرنے والے 12ویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔دوسری جانب عدنان اکمل 113 اور عامر یامین 64 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ سدرن پنجاب کی پوری ٹیم 467 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی۔ سنٹرل پنجاب کی جانب سے وقاص مقصود نے 83 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حسن علی نے 3، بلال آصف نے 2 اور ظفر گوہر نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ جواب میں سنٹرل پنجاب نے 4 اوورز میں 17 رنز بنائے تھے کہ کم روشنی کے باعث میچ روک دیا گیا۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں روشنی بہتر ہونے پر سنٹرل پنجاب کے اوپنرز احمد شہزاد اور اظہر علی نے اننگز کا دوبارہ کیا اور دن کے اختتام تک ٹیم کا مجموعی اسکور 47 رنز تک پہنچادیا۔ میچ کے تیسرے روز احمد شہزاد 22 اور اظہر علی 20 رنز سے اننگز کا دوبارہ آغاز کریں گے۔

  • 24 ویں نیشنل سیونزرگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی

    24 ویں نیشنل سیونزرگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی

    لاہور (سپورٹس رپورٹر) پاکستان رگبی یونین کے زیراہتمام 24 ویں نیشنل سیونز رگبی چیمپئن شپ2019ء پاکستان آرمی نے جیت لی، فائنل میں دلچسپ مقابلے کے بعد پاکستان ایئرفورس کو 5-0 سے جیت لی۔
    تفصیلات کے مطابق پاکستان رگبی اکیڈمی لاہور کینٹ میں دو روزہ ٹورنامنٹ میں 12 ٹیموں نے حصہ لیا۔گزشتہ روز آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلوے نے سیمی فائنلز کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔ اس موقع پر مہمان خصوصی ڈائریکٹر سروس ٹائرز چودھری عارف سعید تھے۔ اس موقع پر پاکستان رگبی یونین کے چیئرمین فوزی خواجہ،ٹورنامنٹ ڈائریکٹر شکیل احمد ملک، رگبی سروسز مینجر سید معظم علی شاہ، عاصم علی، پنجاب رگبی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں اور سابق کھلاڑیوں سمیت سینکڑوں تماشائی گراؤنڈ میں موجود تھے۔ پہلے سیمی فائنل میں پاکستان آرمی نے ریلوے کو 52-0 سے ہرایا جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں پاکستان ایئرفورس نے پاکستان واپڈا کی ٹیم کو 21-5 سے ہرا دیا۔تیسری چوتھی پوزیشن کے میچ میں پاکستان واپڈا نے ریلویز کو 50-0 سے ہرا کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
    اس طرح فائنل دونوں سروسز کے درمیان ہوا جو پاکستان آرمی نے 5-0 سے جیتا۔ پہلے ہاف میں آرمی کے انجم نے خوبصورت ٹرائی سکور کرکے آرمی کو برتری دلا دی جو آخر تک قائم رہی۔ ایئرفورس کی ٹیم نے کچھ اچھے موو بنائے مگر ٹرائی کرنے میں ناکام رہے۔ اس طرح نیشنل گیمز 2019ء پشاور کیلئے چاروں صوبوں کے علاوہ آرمی، ایئرفورس، واپڈا اور ریلویز نے کوالیفائی کرلیا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان رگبی یونین فوزی خواجہ نے سروس ٹائرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو روزہ چیمپئن شپ کو سپانسر کیا۔ فوزی خواجہ کا کہنا تھا کہ پورے پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں ٹیموں کی شمولیت رگبی کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  • پروٹیز اور بھارتی سورماؤں کے درمیان آج پہلا ٹی ٹوئنٹی

    پروٹیز اور بھارتی سورماؤں کے درمیان آج پہلا ٹی ٹوئنٹی

    دھرم شالا: جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم آج بھارت کیخلاف سیریز کا آغاز ٹی ٹوئنٹی سے کرے گی ، دونوں ٹیموں کے درمیان گھمسان کا رن پڑنے کی توقع ہے ، بھارتی ٹیم جارخانہ مزاج کپتان ویرات کوہلی کی کپتانی میں جھنڈے گاڑتی چلی آ رہی ہے ، بھارتی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کیخلاف کیریبین میں کھیلی جانے والی سیریز میں ویسٹ انڈیز کو چاروں شانے چت کیا ہے ، اور جنوبی افریقی ٹیم وکٹ کیپر بلے باز کوئنٹن ڈی کاک کی کپتانی میں پہلی بار میدان میں اترے گی ،جنوبی افریقہ اور بھارت کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی کے بعد 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز بھی کھیلی جائے گی ،

  • پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم اور پاکستان کا خون — تحریرعرفان مہمند

    پی ٹی ایم جس کا خمیر محسود تحفظ موومنٹ سے اٹھا، اس تحریک نے بہت سے پشتون نوجوانوں کو ایک ایسے خواب کی تعبیر کا مژدہ سنایا جس کو لئیے پشتون قوم کے نوجوان، بڑے و بوڑھے کئی سالوں سے ریاست کی طرف آس لگائے دیکھ رہے تھے۔ خواب تھا امن کا، ترقی کا، ریاست سے اس بات کا وعدہ لینے کا جس میں پشتون علاقوں سے دہشتگردوں اور دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور وہاں امن، سکون، تعمیر، ترقی، خوشحالی، کاروبار، تعلیم و صحت جیسے معاملات پنپ سکیں۔

    بہت تیزی سے بہت سے نوجوان اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نےاس تحریک کے لئیے وقت دینا شروع کیا مگر چند ہی ہفتوں میں جب تحریک کے اکابرین نے اپنے آگے پیچھے لوگوں کا جم غفیر دیکھا تو وہ شاید اپنے اصلی ایجنڈا کو زیادہ دیر چھپا نہ سکے اور ان کے پروگرام اور جلسے "یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی’ ہے جیسے واہیات نعروں سے گونج اٹھے۔
    اس کے بعد ریاست پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف ہر وقت اور ہر موقع پر لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کو خوب خوب اچھالا۔

    کبھی منظور پشتین کا جلسے سے خطاب جس میں وہ GHQ کو دہشت گردوں کا گڑھ کہتا ہے اور کبھی اس کا بیان جس میں وہ قائد و اقبال پر تبرا کرتا اور مذاق اڑاتا ہے.کبھی علی وزیر کی بیان جس میں وہ فوج اور عوم کے تصادم کی بات کرتا ہے اور کبھی کہیں وہ فوج کو مارنے اور گھسیٹنے کی بات کرتا ہے۔ کہیں آزاد پشتونستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور کہیں فوج کو قابض کہنے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی گالی دی جاتی ہے۔ کہیں پنجابی کو نسل پرستانہ جملوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کہیں لوگوں کو چیک پوسٹ پر حملہ کرنے پر ابھارا جاتا ہے تاکہ وہ پکڑے گئے دہشت گردوں کو چھڑوا سکیں۔

    کہیں پر یہ دھمکی دی جاتی ہے کہ فوج نکل جائے ورنہ ہم خود نبٹ لیں گے فوج سے۔۔۔ اور کہیں دہشت گردوں کی آمد کو روکنے کے لئیے لگائی جانے والی باڑ کو روکنے کے لئیے آوازیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کہیں ایک معصوم بچی کی لاش پر سیاست کی جاتی ہے اور کہیں ایک مظلوم باپ کی فریاد رسی کو مذاق اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ غرض ہر وہ کام اور معاملہ روا رکھا گیا جس نے امن اور خوشحالی کے خواب کو ریاست سے ٹکراؤ اور خون ریزی کے عمل سے بدل دیا۔ اور اب کل رات شمالی وزیرستان کے علاقے سپین واگ میں دو فوجی اہلکاروں کی پی ٹی ایم کے ہی سپورٹرز کے ہاتھوں شہادت اس بات کی غماز ہے کہ پی ٹی ایم اب ہر وہ حد عبور کرنے کے لئیے تیار ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کے خون کو حلال کروا کر اپنے مقاصد پورے کر سکے۔

    منظور پشتین ہو یا علی وزیر یا محسن داوڑ، عبداللہ ننگیال ہو یا احتشام افغان، ادریس پشتین ہو یا ندیم عسکر، فوزیہ ہو یا ثنا اعجاز اور عائشہ گلا لئی سب کے سب کا چہرہ ایک ایک کر کے بے نقاب ہوا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست ان بھیڑ کی کھال مین چھپے بھیڑیوں سے اس خطے کو نجات دلائے ۔ پشتون اس وقت تک امن اور چین کی بانسری نہیں بجا سکتے جب تک اس طرح کے عناصر کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ پی ٹی ایم کو خون کی لت بہت پہلے سے لگ گئی تھی مگر اب پی ٹی ایم نے کھل کر اس کو بہانا بھی شروع کر دیا ہے۔ اس خون آشام بھیڑئیے کو ایک بلا بننے سے پہلے ہی نبٹ لینا چاہئیے۔۔ورنہ شاید پشتونوں کی ایک اگلی پوری نسل کو دہشت گردوں کے ایک نئے گروہ سے نبٹنا پڑ جائے گا۔
    از قلم عرفان مہمند

  • فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    فضائی میزبان/ ائیر ہوسٹس ، تحریر محمد فہد شیروانی

    دنیا کے سب سے پہلے فضائی میزبان ہونے کا اعزاز جرمنی سے تعلق رکھنے والے "Heinrich Kubis” کو حاصل ہے۔ ہینرچ کو یہ اعزاز مارچ 1912 میں حاصل ہوا جب اس نے جرمن ایئرلائن میں سفر کرنے والے مسافروں کی پہلی بار میزبانی کی۔
    دنیا کی پہلی ایئرہوسٹس ہونے کا اعزاز "Ellen church” کو 25 سال کی عمر میں 1930 میں حاصل ہوا جب “United Airlines” نے ان کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرنیشنل رولز کے مطابق ائیر ہوسٹس بننے کے لئے اُن لڑکیوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی شکل و صورت کی حامل ہوں، جن کا وزن 100 سے 116 پونڈ ہو، جن کا قد 5 فٹ 4 انچ سے کم نہ ہو، ذہنی جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں اور مقامی زبان کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں خصوصا انگریزی پر عبور حاصل ہو۔
    1936 میں ایئرہوسٹس نے باقاعدہ طور پر فضائی میزبان کی اہمیت حاصل کی اور فضائی کمپنیوں نے مرد سٹیورڈز کی نسبت ائیر ہوسٹس کو ہائر کرنے پر ترجیح دینا شروع کردی۔ انتہائی پرکشش تنخواہ و سہولیات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مفت کی سیر کی وجہ سے اس پروفیشن نے جلد ہی لڑکیوں میں مقبولیت حاصل کر لی اور کو اپنی جانب راغب کیا اور ائیر ہوسٹس کی نوکری لڑکیوں کے لئے کشش کا باعث بن گئی۔ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کی زیادہ تر لڑکیوں/خواتین کی خواہش ہوتی/رہی ہے کہ وہ ائیر ہوسٹس بن جائیں۔
    ائیر ہوسٹس اور سٹیورڈز کا شمار جہاز کے عملے میں ہوتا ہے اور ان کا براہ راست تعلق مسافروں کو دی جانے والی سہولیات سے ہے۔ ائیر ہوسٹس کا اہم کردار جہاز میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی امور سے آگاہ کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا ہے۔ ائیر ہوسٹس اور فضائی عملے کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں وہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں رکھیں گے۔ اس کے علاوہ مسافروں کی صحت اور خوارک سے متعلق خیال رکھنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔
    موجودہ ہوائی/فضائی قوانین کے مطابق ہر پرواز سے پہلے ائیر ہوسٹس مسافروں کو حفاظتی بریفنگ دیتی ہیں۔ اس بریفنگ میں حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی کی صورت میں جہاز سے نکلنے کے طریقہ کار اور راستوں کی بارے میں بتایا جاتا ہے۔ ہر پرواز سے قبل مکمل جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور مسافروں کو حفاظتی بیلٹ لگانے کی تلقین کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایئرہوسٹس اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ جہاز کے ایمرجنسی راستوں کے قریب سیٹوں پر بیٹھے مسافر کی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں عملے کے ساتھ مدد کریں گے۔ پرواز کے دوران فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کو دی جانے والی سہولیات مثلاً آئی پیڈ، کمبل، کشن، فوڈ وغیرہ کا خیال رکھنا بھی ایئرہوسٹس کی ذمہ داری میں شامل ہے لیکن ائیر ہوسٹس کی سب سے اہم ذمہ داری مسافروں کی حفاظت کو بہر صورت یقینی بنانا ہے۔
    دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں فضائی میزبانوں میں لڑکیوں کی تعداد مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ ہر ملک کے اپنے قوانین کے تحت میں جہاز میں ایئرہوسٹس کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔ابتدا میں 50 سیٹوں سے کم تعداد کے جہاز میں ایئرہوسٹس کا ہونا لازم نہی تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔ موجودہ دور میں جدید سہولیات اور حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تقریباً ہر جہاز میں ائیر ہوسٹس کا ہونا لازم ہے۔ بلکہ اب تو پرائیوٹ جہاز کے لئے بھی ائیر ہوسٹس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور انہیں جہاز کے عملے میں لازم وملزوم سمجھا جاتا ہے۔
    ائیر ہوسٹس کو دوران پرواز ہونے والی کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کے لئے خصوصی تربیت دی جاتی ہے جن میں ابتدائی طبی امداد، دوران پرواز بچے کی پیدائش، ہائی جیکنگ، کیبن میں دھواں بھر جانا، پانی پر لینڈنگ اور ہنگامی انخلا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں مسافروں کو ائیر ہوسٹس و فضائی عملے کی ہدایات کے مطابق ان کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے تاکہ ایمرجنسی کے صورتحال پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔

  • پاکستانی باکسر محمد وسیم نے فلپائنی حریف کو 62 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا

    پاکستانی باکسر محمد وسیم نے فلپائنی حریف کو 62 سیکنڈ میں ناک آؤٹ کر دیا

    دبئی: پاکستانی باکسر محمد وسیم نے دبئی میں منعقدہ پروفیشنل فائٹ جیت لی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان باکسر محمد وسیم نے یو اے ای میں منعقدہ پروفیشنل فائٹ میں کامیابی حاصل کرلی، محمد وسیم نے فلپائن کے باکسر کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کردیا۔
    محمد وسیم نے پروفیشنل باکسنگ کیریئر کا 9واں مقابلہ جیتا ہے، انہوں نے کامیابی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام کردی۔

    باکسر محمد وسیم نے کامیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائٹ جیتنے پر بہت خوش ہوں، آئندہ بھی پاکستان کا نام روشن کرتا رہوں گا۔ محمد وسیم کا کہنا تھا کہ میرے غیرملکی ٹرینر ڈینی وان نے اسکاٹ لینڈ میں پچھلے چھ سے سات ماہ سخت ٹریننگ کرائی جس کا رزلٹ آج کامیابی کی صورت میں ملا ہے۔ باکسر وسیم کا کہنا تھا کہ ٹرینر نے میری خامیوں پر قابو پانے میں میری بھرپور مدد کی۔ واضح رہے کہ محمد وسیم ایک سال بعد رنگ میں دوبارہ اترے تھے، جیت سے ان کی رینکنگ میں بہتری آئے گی۔
    یاد رہے کہ گزشتہ سال باکسر محمد وسیم کو جنوبی افریقا کے باکسر مورتی متھالنے کے ہاتھوں ورلڈ ٹائٹل فائٹ میں شکست ہوئی تھی۔
    محمد وسیم کو مسلسل آٹھ فائٹ میں کامیابی کے بعد پہلی بار جنوبی افریقی باکسر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔