Baaghi TV

Tag: pakistan

  • عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    عمر فاروق ظہور سے کس نے رابطہ کیاِ؟

    معروف کاروباری شخصیت عمرفاروق ظہور نے پروگرام کھرا سچ کے میزبان اور سینئر صحافی مبشر لقمان کو اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان سے رابطہ خود مرزا شہزاد اکبر نے کیا تھا کیونکہ آفیشل دوروں کے دوران ان سے دوستی ہوئی تھی تو گپ شپ بن گئی اور ایک دن شہزاد اکبر نے کہا کہ ہمیں بہت ساری چیزیں ملتی جب کسی ملک کا دورہ ہوتا تو اگر کوئی دلچسپ چیز ہو تو آپ لینگے تو میں نے کہا کہ کیونکہ نہیں جناب اور ایک دن انہوں کہا کہ فرح گوگی صاحبہ آرہی ہیں اور آپ ان سے مل لیں.
    https://www.youtube.com/watch?v=eExIRUqIPbI
    عمر فاروق ظہور نے مبشرلقمان کو بتایا کہ جب فرح میرے پاس آئی تو انہوں نے مجھے ایک خاص گھڑی دکھائی جسے دیکھ کر میں حیران ہوگیا جبکہ ان سے کہا کہ میں اسے چیک کروا لوں اور جب مارکیٹ لے گیا تو انہوں نے دیکھتے ہی حیرانی ظاہر کی کہ یہ گھڑی آپ کے پاس کیسے آئی کیونکہ یہ تو سعودی شہزادہ نے دو ٹکڑے بنوائے تھے خصوصی طور پر تو خیر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کو اگر ملتی ہے تو لے لو پھر میں نے ساڑھے سات ملین درہم میں یہ گھڑی خرید لی.


    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ صاحبہ (فرح گوگی) پیسے لیکر چلی گئیں اور پھر کچھ عرصے بعد میرے خلاف پاکستان میں وارداتیں شروع ہوگئیں، کیونکہ اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے پہلے مجھ سے ناجائز فرمائشیں کی لیکن جب انہیں منع کیا گیا تو انہوں نے جھوٹے مقدمات بنوا دیئے، جبکہ میری سابقہ اہلیہ کے ساتھ مل کر میرے بچوں کے میرے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کروا دیئے، اور پھر مجھے انٹرپول پر ڈال دیا جبکہ بچوں کو کہا گیا وہ گم شدہ ہیں جبکہ یہ سب حقیقت نہ تھا.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون
    پنجابی فلم "بلو بادشاہ دی رئیل ہیرو” کے دوسرے گانے کا لاہور میں شوٹ
    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کا نگران وزیر اعلی کو ڈاریکٹر اینٹی کرپشن کو ہٹانے کے لئے خط

    فاروق ظہور نے دعویٰ کیا کہ میرا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جبکہ میں ایک پرائیویٹ بندہ ہوں لیکن انہوں نے میرے خلاف کابیبہ سے منظوری لیکر منی لانڈرنگ کے کیس بنادیئے، جبکہ وہ کیس میں کئی عرصہ تک کیس بھگتا رہا جسکے بعد اللہ کا شکر ہوا میں سرخرو ہوا، جبکہ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا میرے پاس سارے ثبوت موجود ہیں اگر کوئی تفتیش کرنے آئے گا تو پھر انہیں مہیاء کردیا گیا.

    ایک اور سوال کے جواب میں عمر فاروق ظہور نے کہا کہ شہزاد اکبر کو جب یہ معلوم ہوا کہ یہ اتنے امیر ہیں کہ ایک مہنگی گھڑی خرید لی تو شائد ان سے کچھ اور مل جائے اس لیئے سابقہ اہلیہ کو استعمال کرکے ایک طرح کی بلیک میلنگ کرنے کی کوشش کی تھی.انہوں نے مزید کہا کہ میری سابقہ اہلیہ صوفیہ مرزا، ان کی بہن اور مرزا شہزاد اکبر ایک ساتھ بیرون ملک لندن میں ایک ساتھ رہ رہے ہیں.

  • مرزا شہزاد  اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    مرزا شہزاد اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست


    معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے سابق معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر سمیت مختلف نام ایک آن لائن درخواست میں درج کیئے ہیں جن کے خلاف 420 سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ روزنامچہ کے متن کے مطابق سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پولیس سٹیشن کی جانب سے خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، مرزا شہزاد، رضابادشاہد، مرزا کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست گزار عمر فاروق ظہور نے اپیل کی ہے.


    جبکہ متن میں درخواست گزار نے کہا کہ ان ملزمان نے میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی تھی جبکہ درخواست گزار ملزمان خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، شہزاد اکبر، عمید بٹ اور علی مردان شاہ کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ کر رہاہے۔ جبکہ عمر فاروق ظہور نے کہا جب لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے درخواست گزار کی سابقہ ​​اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری شروع کی تھی۔ انکوائری کے نتیجے میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں، ایف آئی آر نمبر 36/20، مورخہ
    05.10.2020، اور ایف آئی آر نمبر 40/20، مورخہ 09.10.2020۔ ایف آئی آر نمبر 36/20 میں درخواست گزار اور دیگر پر سوئٹزرلینڈ میں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا گیا تھا تاہم ایف آئی آر نمبر 40/20 میں ان پر ناروے میں بینک فراڈ کا الزام لگایا گیا تھا۔ لیکن ان الزامات کی پہلے ہی پاکستان اور اس میں شامل متعلقہ ممالک دونوں میں تحقیقات گئیں جس کے بعد کچھ نہ ملنے پر وہ بند کر دیے گئے۔ جبکہ ایف آئی اے حکام نے مذکورہ ملزم کے کہنے پر جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپنے دفتر میں تمام لوگوں کی موجودگی میں جعلی دستاویزات تیار کیں تھیں۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ مذکورہ ملزم نے دھوکہ دہی سے سیکشن
    188 CrPC 1898 کے تحت کابینہ سے منظوری حاصل کی، اس حقیقت کو چھپاتے ہوئے کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں تحقیقات کے بعد تمام مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ جبکہ جے آئی ٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیاتھا کہ مذکورہ ایف آئی آر میں الزامات جھوٹے، غیر سنجیدہ اور جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔ نتیجتاً، بورڈ کی منظوری سے، جے آئی ٹی ایف آئی اے نے سیکشن 173 سی آر پی سی کے تحت کینسلیشن رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی تاکہ وہ جھوٹی ایف آئی آر ختم ہوسکیں، جبکہ عدالت نے دونوں کینسلیشن رپورٹس سے اتفاق کیا۔ ملزمان نے وزیر اعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے مبینہ طور پر درخواست گزار خوش بخت مرزا سے بلیک میلنگ اور رقم بٹورنے ایسا کیا تھا جن کی معاونت مذکورہ بالا نے کی.

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات درج کروائے گئے جبکہ جھوٹا مقدمہ درج کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی جبکہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیان دینے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ درخواست گزار کو ملزم کی جانب سے تیار کردہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر متعدد مواقع پر بلیک میل، دھمکیاں، ہراساں
    کرنے اور بھتہ خوری کا نشانہ بنایا گیا۔ لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ درج ذیل جرائم کے لیے مذکورہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے.

    تاہم خیال رہے کہ دوسری جانب شہزاد اکبر نے گزشتہ روز اپنے میں بیان میں کہا کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی نہیں ملا، میں نے کبھی فون پر یا کسی اور ذریعے سے عمر فاروق ظہور سے بات نہیں اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے عمر فاروق ظہور نے بیان دیا تھا کہ میں نے زلفی بخاری کے فون کرنے کا بتایا، جبکہ ٹی وی پر سنا کہ اب یہ شخص کہہ رہا ہے میں نے فرح گوگی کے فون کرنے کا بتایا، یہ شخص ناروے میں پیدا ہوا مگر ناروے میں شہریت ختم کردی گئی.

  • ایف آئی اے نے پی ٹی آئی دور کے چار بیورو کریٹس طلب

    ایف آئی اے نے پی ٹی آئی دور کے چار بیورو کریٹس طلب

    وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحریک انصاف یعنی پی ٹی آئی دور میں تعینات ہونے والے چار بیورو کریٹس کو طلب کرلیا ہے جبکہ بیوروکریٹس کو فرح خان کے خلاف جاری منی لانڈرنگ کیس میں طلب کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق طلب کیئے جانے والوں میں احمد عزیزتارڈ، طاہر خورشید، صالحہ سعید اور عثمان معظم شامل ہیں۔ تمام افسران کو 7 اگست کو طلب کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی دور میں طاہر خورشید وزیراعلی پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کررہے تھے۔ صالحہ سعید ڈی سی لاہور اور ڈی جی ایکسائزکے اہم عہدوں پر تعینات رہی ہیں۔ احمد عزیزتارڑ سنیر ممبر بورڈ آف ریونیو تعینات تھے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے نے تمام افسران کے بنک اکاونٹس، بیرون ملک دوروں، اف شور کمپنیوں کی تفصیلات مانگی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون
    پنجابی فلم "بلو بادشاہ دی رئیل ہیرو” کے دوسرے گانے کا لاہور میں شوٹ
    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کا نگران وزیر اعلی کو ڈاریکٹر اینٹی کرپشن کو ہٹانے کے لئے خط
    جبکہ ایف بی آر سے گوشواروں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ملک خریدی گئی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں ہیں۔ ایف آئی اے نے پاکستان میں اور پاکستان سے باہر خریدی گئی غیرملکی کرنسی کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔

  • اسلام آباد؛ بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ملزمان گرفتار

    اسلام آباد؛ بچیوں کے ساتھ زیادتی کا ملزمان گرفتار

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کی بڑی کارروائی جس میں شہزاد ٹاون کے علاقوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے ملزمان گرفتار جبکہ آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے واقعات کا نوٹس لے کر ملزمان کو جلداز جلد گرفتاری کے احکامات دئیے تھے۔ پولیس نے دو ملزمان کو جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ذرائع سے ٹریس کرکے گرفتار کیا۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ملزمان کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مقدمات میں ملوث تھے، تفتیشی ٹیموں نے 800 گھروں سے کوائف اکٹھے کئے جن کی تصدیق نادرا ڈیٹا سے کروائی گئی۔ علاقے میں مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کیا گیا، ڈی این اے نمونے اکٹھے کیے گئے۔

    گرفتار ملزمان کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے پولیس ٹیموں کو بروقت ملزمان کو گرفتار کرنے پر شاباش دی، جبکہ انہوں نے کہا کہ وقوعہ میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کیلئے قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے، ، آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے مزید کہا خواتین اور بچوں پر تشدد اور زیادتی ناقابل برداشت ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون
    پنجابی فلم "بلو بادشاہ دی رئیل ہیرو” کے دوسرے گانے کا لاہور میں شوٹ
    پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کا نگران وزیر اعلی کو ڈاریکٹر اینٹی کرپشن کو ہٹانے کے لئے خط
    آئی سی سی پی او ڈاکٹر اکبر ناصر خاں کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اسلام آباد پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.

  • ڈیموں کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہوجاتا. وزیر اعلی سندھ

    ڈیموں کی وجہ سے پانی ضائع ہونے کے بجائے محفوظ ہوجاتا. وزیر اعلی سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ڈیم بنانے سے پانی کا ضیاع کم ہو جائے گا جبکہ ہمیں آنے والی نسلوں کیلئےخوشحالی کی بنیاد رکھنا ہوگی لہذا آبادی کے تناسب سے پانی کا انتظام کرنا ہوگا جبکہ قومی آبی پالیسی اپریل 2018 میں منظور کی گئی تھی کیونکہ ہمارے مقامی مسائل، ان کے حل کیلئے ہماری اپنی پالیسی دستاویز کی ضرورت کو سختی سے محسوس کیا گیا تھا۔ صوبے کی واٹر پالیسی کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پانی زندگی ہے، جو ہمارے روح ارض پر موجود تمام جانداروں کو زندہ رکھتا ہے، سندھ میں پانی کی قلت، ناقابل اعتبار بہاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے واقعات کی وجہ ہم سے زیادہ حساس ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ عالمی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پانی کی مانگ میں بھی بڑھ رہی ہے، آبادی میں تیزی اضافے کے باعث پانی کا موثر انتظام اور نظم و نسق انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس جامع واٹر پالیسی دستاویز کو متعارف کرواتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے اور پانی کے انمول وسائل کی حفاظت اور ذمہ داری کے ساتھ انتظام کرنا ہمارے اجتماعی عزم کا ثبوت ہے جبکہ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ میں عوام کیلئے بہت سے منصوبے شروع کیئے، ہمیں آنے والی نسلوں کیلئے خوشحالی کی بنیاد رکھنا ہوگی اور آبادی کے تناسب سے پانی کا انتظام کرنا ہوگا، صوبے کیلئے جامع واٹر پالیسی وقت کی ضرورت ہے، ڈیم بنانے سے پانی کا ضیاع کم ہو جائے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی دستاویز کا وژن پانی سے متعلق مسائل کو حل کرنا ہے، پانی کو بنیادی انسانی حق اور مشترکہ ذمہ داری کے طور پر تسلیم کرنا ہے، واٹر پالیسی دستاویز کا مقصد پانی کے استعمال، ری سائیکلنگ، پانی کے ضیاع کو کم کرنا ہے، یہ مقامی کمیونٹیز اور مقامی لوگوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کرتا ہے، اچھی حکمرانی اور پالیسی فریم ورک کی اہمیت کو واضح کرتا ہے ، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال کی ترغیب دیتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مریم نواز تشدد کا شکار کم عمر بچی کی عیادت کے لیے ہسپتال پہنچ گئیں
    بغداد، پاکستانی سفارتخانے میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ سسٹم کا افتتاح
    انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے،وفاقی وزیر قانون

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پانی کی دستیابی، تقسیم اور معیار کے حوالے سے ہمیں جن چیلنجز کا سامنا ہے وہ کثیر الجہتی اور پیچیدہ ہیں، موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، شہروں کا بڑھنا اور صنعت کاری میٹھے پانی کے ذرائع پر غیرمعمولی دباؤ ڈال رہی ہے، یہ واٹر پالیسی دستاویز ماہرین، تعلیمی اداروں، پبلک سیکٹر کی تنظیموں اور متعلقہ شہریوں کی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے سرحدوں اور نظریات سے بالاتر ہو کر پانی کے انتظام کے لیے ایک روڈ میپ بنانے کے لیے تعاون کیا ہے۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے اس واٹر پالیسی دستاویز کی تیاری میں تعاون کیا ہے، ہم مل کر پانی کے پائیدار انتظام کے اس راستے پر آگے بڑھیں، اور آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی، مساوات اور لچکدار میراث چھوڑیں۔

  • پاکستانی کرنسی کی قدر میں 2 روپے 18 پیسے اضافہ

    پاکستانی کرنسی کی قدر میں 2 روپے 18 پیسے اضافہ

    انٹر بینک میں امریکی ڈالر میں کمی ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ پاکستانی کرنسی کی قدر 2 روپے 18 پیسے بڑھ گئی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں 10 روز بعد امریکی ڈالر کی قدر میں بڑی کمی ہوگئی، پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر 2 روپے 18 پیسے سستا ہوگیا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 289 روپے 38 پیسے سے کم ہو کر 287 روپے 20 پیسے پر آگئی تاہم واضح رہے کہ آج صبح سے ہی انٹربینک میں امریکی کرنسی کی قیمت میں کمی کا رجحان تھا، جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق امریکی کرنسی کے علاوہ سعودی ریال کی قیمت 76 روپے، ملائیشین رنگٹ کی قیمت 63 روپے اور یورو کی قیمت 313 روپے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج 49 ہزار پوائنٹس کی حد برقرار نہ رکھ سکا اور کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 153 پوائنٹس کی کمی سے 48 ہزار 611 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں دن پھر کی تیزی اختتامی مراحل میں زائل ہوگئی ہے علاوہ ازیں منافع کیلئے فروخت کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور کاروبار کا اختتام منفی زون میں ہوا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 49 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوکر گرگئی اور پھر آج 6 سال بعد مارکیٹ میں 49 ہزار پوائنٹس کی حد بحال ہوئی تھی جبکہ اختتام 153 پوائنٹس کی مندی پر ہوا ہے اور انڈیکس 48 ہزار 611 پر بند ہوا لیکن پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا آغاز شاندار رہا اور انڈیکس ایک موقع پر 500 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے 6 سال کی بلند ترین سطح 49 ہزار پوائنٹس پر پہنچ گیا تھا جبکہ پی ایس ایکس میں آخری مرتبہ جون 2017ء میں 49 ہزار کی حد کراس ہوئی تھی۔

    پارلیمنٹ سے 8 ارب ڈالر کے پاکستان خودمختار فنڈ کی منظوری کا اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک مارکیٹ صرف 5 ہفتوں میں 8 ہزار پوائنٹس بڑھ چکی ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ چند روز قبل ہی 100 انڈیکس 2 سال بعد 48 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا تھا۔

    علاوہ ازیں ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت ایک ہزار 936 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ جبکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں دو ہزار 800 روپے کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 220200 روپے ہوگئی ہے۔

    اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 2401 روپے کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 188786 روپے ہوگئی۔ اُدھر فی تولہ چاندی کی قیمت 50 روپے کمی کے بعد 2750 روپے جبکہ دس گرام چاندی کی قیمت 48 روپے کمی کے بعد 2357 روپے پر آگئی۔

  • برطانوی محکمہ برائے ٹرانسپورٹ کے پیٹر رابنسن کی ایویشن حکام سے  ملاقات

    برطانوی محکمہ برائے ٹرانسپورٹ کے پیٹر رابنسن کی ایویشن حکام سے ملاقات

    برطانوی محکمہ برائے ٹرانسپورٹ کے پیٹر رابنسن کی ایویشن حکام سے ملاقات

    برطانوی محکمہ برائے ٹرانسپورٹ کے پیٹر رابنسن کا دورہ پاکستان اور ایویشن حکام سے اسلام آباد میں ملاقات جبکہ پیٹر رابنسن ایوی ایشن سیکیورٹی انٹرنیشنل آپریشنز میں ایوی ایشن سیکیورٹی معاونت کے سربراہ ہیں. ترجمان سول ایوی ایشن سیف اللہ خان کے مطابق پیٹر رابنسن نے سیکرٹری ایویشن سیف انجم، ڈی جی سی اے اے خاقان مرتضٰی اور ڈپٹی ڈی جی ریگولیٹری نادر شفیع ڈار سے ملاقات کی ہے.

    ترجمان نے مزید بتایا کہ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امیور بالخصوص دو طرفہ ایویشن امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے جبکہ پیٹر رابنسن نے حالیہ پاکستان سول ایویشن بل اور پاکستان ائرپورٹس اتھارٹی بل کی منظوری کو خوش آئند قرار دیا اور ان ملاقاتوں میں تربیت، معاونت اور آلات کے ذریعےپاکستان کو ایوی ایشن سیکیورٹی امداد کی فراہمی پر بھی غور ہوا ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ برطانوی محکمہ ٹرانسپورٹ کے حالیہ دورہ اسلام آباد ائرپورٹ کے تناظر میں مستقل کے لائحہ عمل پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور ان ملاقاتوں میں رسمی روابط کے مسودے پر بھی تبادلہ خیال ہوا اور مسٹر رابنسن کل 03 اگست کو اسلام آباد ائرپورٹ کا دورہ بھی کریں گے۔

  • مانسہرہ؛ 95 سالہ دولہا بابا زکریا دلہن بیاہ لے آئے

    مانسہرہ؛ 95 سالہ دولہا بابا زکریا دلہن بیاہ لے آئے

    مانسہرہ میں 95 سالہ دولہے کا نکاح ہوگیا جبکہ احسان اللہ نسیم کے مطابق 7 بیٹے 5 بیٹیاں، پوتے، پوتیاں اور نواسے نواسیوں والا جن کی تعداد 90 سے اوپر بتائی جا رہی ہے، مانسہرہ کے 95 سالہ بابا زکریا دلہن بیاہ لے آئے اور انکا نکاح مولانا غلام مرتظی نے پڑھایا خیال رہے کہ پہلی بیوی 2011ء میں انتقال کرگئی تھی.

    نسیم کے مطابق بابا جی کافی عرصے سے مسلسل شادی کی کوشش کررہے تھے اور پہلے تو بیٹے نہیں مان نہیں رہے تھے لیکن بالآخر چھوٹے بیٹے وقار تنولی نے باباجی کی خواہش پوری کر دی اور انہیں سرائے عالمگیر گجرات سے دلہن مل گئی جنہیں بابا جی بیاہ کر لے آئے ہیں.


    اس پر ایک صارف نے لکھا کہ سعادت مند اولاد وقار تنولی کو سلام،
    13 سال کی تنہائی کاٹنا ایک بزرگ کے لئے کسی سزا سے کم نہیں، دوسرا یہ انسان کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں انہیں شرعی طریقے سے رشتے میں باندھنا نیک اور اچھا عمل ہے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر

    ایک اور صارف نے لکھا کہ بابا جی کو نئی دلہن بہت بہت مبارک ہو۔اللہ پاک ان کی اولاد میں مزید اضافہ فرمائے، علاوہ ازیں اس خبر کو سوشل میڈیا پر کافی پسند کیا جارہا اور کشھ صارفین تو کہہ رہے کہ نوجوان لوگوں کو دلہن نہیں مل رہی لیکن بابا جان کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں کئی سال کی جدوجہد کے بعد دلہن مل گئی ہے

  • منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر گئے، پی ڈی ایم اے

    منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر گئے، پی ڈی ایم اے

    ملک کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں کم نہ ہوسکیں ہیں، اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ اور ملک میں جاری مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مختلف شہروں میں متاثرین کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، علاوہ ازیں لوگوں کے مکانات، مویشی اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئے ہیں۔

    پاکپتن کے علاقوں میں سیلابی ریلوں میں پھنسے لوگ پلاسٹک کے ٹینکوں سے کشتیاں بنا کر متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حویلی لکھا میں دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پرسیلاب نے ہر چیز تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ ننکانہ صاحب میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں سیلابی پانی کے بہاو میں کمی آئی لیکن پانی سے تباہ کاریوں میں کمی نہ آسکی، سیلاب سے درجن سے زائد دیہاتوں میں مال مویشی، ہزاروں ایکٹر پر کھڑی فصلیں برباد ہوگئیں۔

    علی پور میں محکمہ ایریگیشن کے افسران اور عملے کی لاپرواہی کے باعث فلڈ بندوں کی حالت خستہ ہوگئی، جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے، سیلاب کی صورتحال میں فلڈ بند ٹوٹ سکتے ہیں۔ جبکہ سندھ کے شہر دادو میں کچے کے 30 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں ہیں، امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہونے پر سیلاب متاثرین نے سڑک کنارے بسیرا کر لیا ہے۔

    گھوٹکی کے مقام پر دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے شہر جعفرآباد میں بارش کا جمع شدہ پانی تاحال نہ نکالاجاسکا، اور بارش کے پانی کے باعث لوگ مصیبت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر، راوی میں سدھنائی کے مقام پر اور ستلج میں سلیمانکی اور اسلام ہیڈ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں گڈو اور سکھرکے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب کاامکان ہے۔ ترجمان کے مطابق منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 24 گھنٹوں میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے، سیالکوٹ اور نارووال کے ندی نالوں میں اور راولپنڈی نالہ لئی میں اگلے 24 گھنٹوں میں طغیانی کے امکانات ہیں۔ اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب میں تیز ہواؤں اور بارش کا امکان ہے، جب کہ گلگت بلتستان، کشمیر اور اسلام آباد میں بھی گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • وفاقی حکومت کاگوادر یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں.  احسن اقبال

    وفاقی حکومت کاگوادر یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں. احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ لاہور کی گوادر یونیورسٹی نہ تو سی پیک کے تحت ہے اور نہ ہی کسی سرکاری فنڈنگ کی ہے، حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی آف گوادر کے نام سے یونیورسٹی قائم کی ہے۔ جبکہ لاہور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام پر وفاقی حکومت کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بھی گوادر کو لاہور یا کہیں نہیں لے جا سکتا، اگر وہ کر سکتے تو بہت پہلے یہ کام کر چکے ہوتے اور صرف لاہور میں پاک چائنا گوادر یونیورسٹی کے قیام سے مطمئن نہ ہوتے۔ لاہور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی نہ تو سی پیک کے تحت ہے اور نہ ہی کسی سرکاری فنڈنگ کی ہے۔ یہ کسی نے پرائیوٹ یونیورسٹی کا چارٹر منظور کروایا ہے جسکا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    جبکہ اپنی ٹویٹ میں وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی آف گوادر کے نام سے یونیورسٹی قائم کردی ہے، اور اس کے نئے سینکڑوں ایکڑ پہ مشتمل کیمپس کی تعمیر کے لئے فنڈنگ بھی جاری کی ہے۔