Baaghi TV

Tag: pakistan

  • ایف بی آر کا جولائی میں  538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا دعویٰ

    ایف بی آر کا جولائی میں 538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا دعویٰ

    ایف بی آر کی طرف سے جاری ایک اعلامیہ دعویٰ کیا گیا ہے نے کہا ہے کہ جولائی میں 534 کے ہد ف کے مقابلہ میں 538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے دعویٰ کیا ہے جبکہ اعلامیہ کے مطابق ایف بی آر نے کہا ہے کہ جولائی 2023 میں 49ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کئے گئے ہیں۔

    جبکہ رواں ماہ کے دوران براہ راست ٹیکسز کی مد میں30 فیصد کا اضافہ ہواہے، گزشتہ سال جولائی کے مقابلہ ان لینڈ ریونیو ٹیکسز کی مد میں 18 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم اس سے قبل جون میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ محصولات اکٹھا کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا.

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جون میں اب تک جمع ہونے والے محصولات سے متعلق بیان جارری کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے 26 جون تک محصولات مد میں 7000 ارب اکٹھا کر لیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید بتایا تھا کہ 30 جون تک اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    جبکہ یاد رہے کہ واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے مالی سال کے بجٹ میں بہت سی ترمیم کی اور حکومت نے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب روپے مقرر کیا، پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کردی گئی تھی اس کے علاوہ فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائدکیےگئے ہیں۔

  • زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    سینئر صحافی حامد میر نے ایک ویڈیو اپنے ایکس (ٹوئیٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "باجوڑ میں زخمی ہونے والا جے یو آئی کا کارکن اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کو سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے اپنے سینے پر زخم کھایا ہے ،ایسے بہادر کارکن سیاسی جماعتوں کا اصل سرمایہ ہیں ان کارکنوں کو اسمبلیوں میں لانا چاہئیے.”

    جبکہ خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دورہ پشاور پر زخمی کارکنان سے فردا فردا خود جاکر ان سے ملاقات کی اور
    زخمی کارکن پارٹی قائد کو اپنے درمیان دیکھ کر ناصرف خوش ہوئے بلکہ چند لہحوں کیلئے زخم کے درد بھی بھول گئے. جمیعت علماء اسلام ف نے اپنے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ "قائد جمعیت فردا فردا ہر زخمی کارکن کے پاس گئے، زخمیوں کو بوسہ دیا ،گلدستہ پیش کیا ،کارکن قائد جمعیت اور قائد جمعیت کارکنوں کو دلاسہ دیتے رہے ۔”


    پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے مزید کہا گیا کہ کارکنوں کے بلند حوصلوں سے ہمارے حوصلے بلند ہیں ۔ایک کارکن نے قائد جمعیت کو کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے گولی سینے پر کھائی ہے. تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ مولانا عبد الواسع رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی ، رکن قومی اسمبلی مولانا محمود شاہ سنیٹر مولانا فیض محمد ، مولانا عطاء الحق درویش و دیگر ارکین پارلیمنٹ نے بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی تھی.

    جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوڑ حادثے میں جے یو آئی کے 60 کارکن شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور باجوڑ دھماکہ افسوسناک ہے، یہ حالات کا ایک جبر ہے اور تاریخ کا سیاہ واقعہ ہے، جبکہ آزمائشیں قوموں پر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آزمائش کی گھڑی میں قوم کا شکر گزار ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    مولانا نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جنہوں نے ٹارگٹ کیا انہوں نے ذمہ داری قبول کی ہے، اسلحے کی جنگ کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں، کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا خون بہائے، پوائنٹ سکورنگ نہیں سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں جب کہ اس معاملے پر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، دلیل کی بنیاد پر یہ جنگ جیتیں گے، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علما اسلام اپنا نظریہ نہیں چھوڑے گی اور ہم نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا پیغام بھی دے دیا ہے تاکہ کسی قسم کی شرانگیزی سے بچا جاسکے اور ہم نے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی کے انداز میں نہیں دینا بلکہ پرامن جدوجہد کرنی ہے.

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم شہبا زشریف نے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا چاہیئے اور مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی۔ تاہم نگران سیٹ اپ کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کروں گا، پاکستان کی معاشی صورتحال کو آگے لے کر جائیں گے، اپوزیشن لیڈر سے مشاورت آئین کا تقاضہ ہے، پر امید ہوں اپوزیشن لیڈر مل کر نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے، الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار نوازشریف ہے۔

    جبکہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ9 مئی کو دوست نما دشمن بن کر یہ حرکت کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا،دو تین ماہ میں کئی بار پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ایک دوبار قیمت بڑھائی،پیٹرول کی قیمت کا دار و مدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر ہے، پیٹرول کی قیمت میرے کنٹرول میں نہیں عالمی منڈی میں کروڈ آئل کی قیمت پر دارو مدار ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں آسمان پر چلی گئی۔

  • ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاں بحق

    ٹریفک حادثے میں 7 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے دوران 7 افراد جاں بحق جبکہ 19 زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پولیس کے مطابق واقعہ راڑا شم کے مقام پر پیش آیا ہے جہاں کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس سامنے سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئی اور حادثے میں چھ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 10زخمی ہو گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انکی شناخت شہزاد ، محمد کاشف ، مجیب ، طابش عصمت اللہ اور محمد اکرم کے ناموں سے ہوئی ہے اور مرنے والوں میں دو کا تعلق بلوچستان جبکہ چار کا پنجاب سے بتایا جارہا ہے پولیس حکام کے مطابق میتیں ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں جبکہ زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے ، حادثے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادھر دوسری جانب کراچی میں مستونگ کے دو نو عمر بھائیوں کو مبینہ مقابلے میں گولیاں مار کر زخمی کرنے کا معاملہ مشکوک ہوگیا ہے جبکہ کراچی کے الفلاح تھانے کی حدود میں دو نوعمر بھائیوں کو پولیس مقابلے میں زخمی کرنے کے حوالے سے سامنے آئی ایک ویڈیو نے معاملہ مشکوک بنا دیا ہے۔

    اہل خانہ کے مطابق بلوچستان کے علاقے مستونگ سے تعلق رکھنے والے دو نو عمر بھائی نور محمد اور فہیم احمد گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کیلئے والدہ کے پاس کراچی آئے ہوئے تھے اور الفلاح کے علاقے گلشن منیر میں اپنی والدہ کے پاس رہائش پذیر تھے۔
    27 جولائی کو پولیس نے مبینہ مقابلے میں نور محمد اور فہیم احمد کو رفاع عام سوسائٹی میں زخمی ظاہر کیا، دونوں بھائیوں کی گولیاں لگنے سے زخمی حالت میں ویڈیوز بھی جاری کی گئیں۔

  • ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    ڈالر کی قیمت میں اضافہ

    انٹربینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروبار میں مثبت رجحان رہا ہے جبکہ کاروبارکے دوران ڈالر 76 پیسے مہنگا ہوا۔ امریکی کرنسی کی قدر میں اضافے کے بعد انٹر بینک میں ڈالرکی قیمت 287 روپے 40 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت دو سو چھیاسی روپے چونسٹھ پیسے ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت پچاس پیسے کمی سے دو سو نوے روپے پچاس پیسے پر آئی۔ دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے دن ٹریڈنگ کے دوران 100انڈیکس میں 195 پوائنٹس اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 48 ہزار 230 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادھر عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے جبکہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ بینالاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 9 امریکی ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 1950 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں استحکام ریکارڈ کیا گیا اور قیمت 222200 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔

    اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی استحکام ریکارڈ کیا گیا اور قدر 190501 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔ اُدھر فی تولہ اور دس گرام کی چاندی بھی استحکام کے بعد بالترتیب 2800 روپے اور 2400.54 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔

  • مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    مختلف بیماریوں میں اضافہ، سندھ زیادہ متاثر

    ملک میں حالیہ دنوں میں مختلف بیماریوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق ان بیماریوں سے سب سے زیادہ افراد صوبہ سندھ میں متاثر ہوئے ہیں لیکن ملک کے باقی حصے بھی مختلف بیماریوں کے کیسز سے ناصرف متاثر ہورہے ہیں جبکہ اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے جبکہ اس بارے میں قومی ادارہ صحت نے رپورٹ بھی جاری کردی ہے۔

    واضح رہے کہ ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 89 ہزار 58 افراد میں ایک ہفتے میں ہیضے کی تشخیص ہوئی ہے، اور ہیضے کے سب سے زیادہ کیسز سندھ سے رپورٹ ہوئے ہیں، ایک اندازے کے مطابق صوب سندھ میں 48 ہزار647 افراد ہیضے کا شکار ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دیگر مختلف بیماریوں کے مریضوں میں بھی سندھ کا پہلا نمبر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہیضے کے علاوہ مچھروں کے کاٹنے سے مریضوں کا دوسرا نمبر رہا ہے اور ملک میں ملیریا سے 81 ہزار 775 مریض سامنے آئے ہیں جبکہ سب سے زیادہ کیسز سندھ سے67 ہزار 301 ریکارڈ ہوئے ہیں، ادارہ صحت کی رپورٹ میں مزید یہ بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں انفلوانزا کے 25 ہزار 482 مریض رپورٹ ہوئے ہیں، بچوں میں سانس کے مسائل کے 12ہزار 288 کیسز سامنے آئے ہیں، جب کہ کتے کے کاٹنے کے 858 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جبکہ ان میں بھی سب سے زیادہ کیسز سندھ سے 513 رپورٹ ہوئے ہیں.

  • جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا  مگر  برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر سے کام لیا مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی. مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء نے ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لیا ہے، مگر برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، کارکنان سے اب بھی کہتا ہوں کہ تحمل اور برداشت سے کام لیں، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سانحہ باجوڑ سے متعلق اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ باجوڑ نے پوری امت کو نڈھال کردیا ہے اور پاکیزہ لوگوں کا اجتماع تھا ، اس اجتماع سے امن کا پیغام دیا جارہا تھا .

    باجوڑ میں امن کنونشن کے نام سے ورکرز کنونشن منعقد کیا تھا، سفاکوں نے امن کے نام سے ہونے والے مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا
    46 لوگ شہید اور سو سے دوسو کے درمیان زخمی ہیں، باجوڑ سانحہ دل کو دہلا دینے والا کر بناک واقعہ ہے ، یہ حملہ صرف جے یو آئی پر نہیں بلکہ پورے پاکستان اور امت مسلمہ پر حملہ ہے. جبکہ جاری اعلامیہ میں مزید کہا کہ امن اور فساد ایک دوسرے کے مقابلے میں آئے، جے یو آئی کے کارکن امن کی آواز بلند کر ہے تھے اور مفسدین نے فساد کا مظاہرہ کیا، اللہ تعالی فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، ہمیں اطمینان ہے کہ ہم امن کے علمبردار ہیں ہم مشیت الہی کے علمبردار ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ہماری آواز قرآن اور رسول اللہ کی آواز ہے، اس طرح کے واقعات سے یہ سلسلہ رک نہیں سکتا، ہم پر حملے ہوئے کارکن شہید ہوئے تمام قربانیوں کے باوجود حق کا پرچم بحال رکھا اور کبھی جھکنے نہیں دیا ہے جبکہ یہ ایک نظریاتی جنگ ہے ایک طرف امن کے علمبردار ہیں اور دوسری طرف فساد کے علمبردار ہیں جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں جبکہ حملہ آور جاہل سفاک قاتل اور اسلام کے دشمن ہیں.

    مولانا کا کہنا تھا کہ ملک دشمنوں کے خلاف ہماری امن کی تحریک جاری رہے گی، ہم امت مسلمہ اور پاکستان کے بقاء کی جنگ لڑیں گے اور ان شاء اللہ اس میں سرخرو ہونگے ، تمام شہداء سے دلی تعزیت کرتا ہوں میں خود مستحق ہوں کہ مجھ سے تعزیت کی جائے، شہید ہونے ولے میرے بھائی ساتھی اور جے یو آئی کے کارکن ہیں، سیاسی محاذ پر جے یو آئی مسلمہ قوت ہے ایسے فساد سے ہمارا راستہ روکا جارہا ہے

    مولانا فضل الرحمان کے کے مطابق اس طرح کے واقعات سے جےیوآئی کا عوام سے رابطہ توڑا جا رہا ہے، تجربہ ہے کہ یک چند دنوں کی ایک لہر ہے جو اپنا بھیانک اور کالا کردار تاریخ کے اوراق پر رقم کرکے فارغ ہو جاتا ہے، جے یو آئی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو اپنی جد وجہد کو جاری رکھے ہوئے ہے تمام تر مشکلات کے باوجود ترقی کی ہے عوام میں مقبولیت حاصل کی ہے، ان گھناونے عمل سے نہ پہلے راستہ روک سکے ہو نہ آج روک سکتے ہو.

    جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ نے کہا کہ چند لوگوں کو حق کس نی دیا ہے سب کو کافر کہنے والے، ان حربوں سے ہمیں اپنی فکر اور نظریے کو نہیں ہٹا سکتے، ہمارا عہد اللہ کے ساتھ ہے اور ہمیں اللہ تعالی اپنے عہد پر پورا اترنے کی توفیق دے، جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری کا اجلاس طلب کرلیا ہے لیکن اس سے پہلے قبائلی زعماء کا جرگہ بلانے کی تجویز ہے، زعماء اور پختون قیادت بیٹھے اور اس خطے کے بارے میں سوچیں، حال میں خیبر ایجنسی میں دو واقعات ہوئے ،جس میں مسلمانوں کا خون بہا ہے ،کچھ عرصہ پہلے کورم ایجنسی میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے اور اس خطے کے مسلمانوں کا خون بہایا گیا، پورا پشتون بیلٹ آج جل رہا ہے بلوچ بیلٹ جل رہا ہے کراچی تک فسادات کی لہر تھم نہیں رہی

    مولانا نے کہا کہ ملک کو کوئے مستحکم کرنا ہے، کیا ہمارے ریاستی ادارے صرف اس بات کے لئے رہ گئے ہیں کہ وہ کسی غریب مولوی صاحب کو تھانے میں لے آئی اور ان پر الزمات لگائیں کہ تمہارے پاس کسی نے کھانا کھایا یا چائے پی ؟ یہی ان کی صلاحیتیں ہیں، چھبیس ادارے ہیں انٹیلیجنس کے وہ کہاں غائب ہیں، اتنا بڑا انٹیلیجنس فیلئر بے گناہوں کو تنگ کرکے اپنی کاروائی ڈالتے ہیں کاغذی کروائی بھرتے ہیں.

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے کیا اعتماد دلا سکتے ہیں کہ ریاست میری جان کی حفاظت کرسکتی ہے یا نہیں یا صرف مجھ سے ٹیکس وصول کریں گے اور میری جان ومال کی حفاظت نہیں کرے گی، مجھے شکایت ہے مجھے کرب ہے میں نے ریاست کو بچانے کے لئے قربانیاں دی ہیں میں نے اس ریاست کے بقاء اور استحکام کے لئے جد وجہد کی ہے ، میں ریاست کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہوں لیکن اکیلے ایک جماعت کیا کرسکتی ہے ۔پوری قوم ریاستی اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے جو ریاست جی حفاظت کے ذمہ دار اور مسؤل ہیں اسی کے لئے وہ تنخواہیں لے رہے ہیں وہ کہاں ہیں آج ؟ کب وہ ہمارے شکوں کا ازالہ کریں گے کب وہ ہمارے زخموں کا مرہم بنیں گے کب وہ ہمارے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گ جبکہ ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے تمام مکاتب فکر کو بیٹھنا ہے ان شاء اللہ ہم سب کو بلائیں گے پی ڈی ایک کو بھی بلانا پڑے گا سیاسی جماعتوں کو اکٹھا بیٹھنا پڑے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    انہوں نے کہا کہ عنقریب اس حوالے سے ہمہ جہت رابطے کرونگا ،ذمہ داروں کے ساتھ گفتگو بھی کرونگا، ساری صورتحال سامنے رکھونگا کہ ہم سالہا سال سے جس کرب میں ہیں اور جس کرب کا اظہار لر رہے ہیں، کرب کا اظہار جرم ہوجاتا ہے لیکن ہمیں کرب میں مبتلا کرنے والے دندناتے پھریں، ان ساری چیزوں پر قومی سطح پر غور کرنا ہے، ہم بری طرح دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن دہشت گردی کا خاتمہ مقصود ہونا چاہیے اس پر تجارت جی اجازت نہیں دی جا سکتی، جرم کا خاتمہ چاہیے اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود بہت بڑا جرم ہے

  • سولیسیٹرز واچ ڈاگ کے تین قانونی فرم ڈرامائی طور پر بند

    سولیسیٹرز واچ ڈاگ کے تین قانونی فرم ڈرامائی طور پر بند

    برطانوی ادارے میل آن لائن کے انکشاف کے بعد سولیسیٹرز واچ ڈاگ نے تین قانونی فرموں کو ڈرامائی طور پر بند کر دیا ہے جو ہزاروں پاؤنڈ کے عوض جھوٹے کیس بنا کر سیاسی پناہ دلوانے کی آفرز کرتے تھے جبکہ میل آن لائن کے مطابق وکیلوں کے نگران ادارے نے آج ڈرامائی طور پر ان تین کمپنیوں کو بند کر دیا ہے جن کا انکشاف میل نے ہزاروں پاؤنڈز میں سیاسی پناہ کے جھوٹے دعوے جمع کرانے کی پیشکش بارے کیا تھا.

    جبکہ ریگولیٹر نے ایک قانونی مشیر پر وکیلوں کی فرموں کے لئے کام کرنے پر بھی پابندی عائد کردی ہے کیونکہ اس نے غیر قانونی تارکین وطن کے کی شکل میں موجود ہمارے خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ وہ اسے رقم کے بدلے سیاسی پناہ دلوائیں گے جبکہ اس کے بدلے جھوٹے تشدد اور فیک دھمکیوں کی کیس فائل بنائی جائے گی.

    جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک اور لارڈ چانسلر الیکس چاک نے کہا تھا ایسی غیر قانونی حرکت پر ان کے خلاف قانون کے مطابق نمٹا جائے گا، جبکہ میل نے لکھا کہ وزیر داخلہ سوئیلا بریورمین، شیڈو اٹارنی جنرل ایملی تھورن بیری اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ہوم افیئرز کے ترجمان ایلسٹر کارمائیکل ان تمام سیاست دانوں میں شامل تھے جنہوں نے قانونی حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ لارڈ چانسلر کے ایک خط کے جواب میں سالیسیٹرز ریگولیشن اتھارٹی بورڈ کی چیئرمین اینا بریڈلی نے کہا کہ وہ میل کے ذریعہ شناخت کیے گئے وکیلوں کے ظاہری رویے سے ‘حیران’ ہیں۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ریگولیٹر نے فوری طور پر کارروائی کی ہے جس میں تین فرموں میں کام کرنے والے وکیلوں کو معطل کرنا اور ان فرموں کو بند کرنا شامل ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ایس آر اے نے ایک اور فرم میں کام کرنے والے ایک غیر منظم شخص کے خلاف بھی ایک حکم جاری کیا ہے جو اسے کسی بھی ایس آر اے ریگولیٹڈ فرم کے ساتھ یا اس کے لئے کام کرنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واچ ڈاگ نے مزید شواہد جمع کرنے کے لیے ملوث دو فرموں کا فوری معائنہ بھی شروع کر دیا ہے اور ہمارے اقدامات کو مربوط کرنے کے لیے دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    بریڈلی نے مزید کہا کہ ریگولیٹر اپنی نئی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے امیگریشن سیکٹر کا وسیع پیمانے پر معائنہ بھی شروع کر رہا ہے۔ اس کا آغاز آئندہ چند ہفتوں میں ہوگا اور اس میں پناہ کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کے مختلف طبقوں کو شامل کیا جائے گا اور ڈیلی میل کی تحقیقات میں اٹھائے گئے مسائل کو مدنظر رکھا جائے گا۔ جبکہ ایس آر اے ہمارے قوانین اور قانونی فرموں کے لئے دستیاب بہترین طریقہ کار کے بارے میں معلومات کو وسعت اور فروغ دے گا۔

  • قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظور کرلیا

    سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 منظورکثرت رائے سےمنظور کرلیا۔

    قومی اسمبلی میں وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے بل پیش کیا جس کے مطابق سرکاری حیثیت میں پاکستان کی سلامتی اورمفاد میں حاصل معلومات کا غیر مجاز انکشاف کرنے والے شخص کو پانچ سال تک سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ جبکہ ترمیمی بل کے مطابق آرمی چیف یا بااختیار افسر کی اجازت سے انکشاف کرنے والے کو سزا نہیں ہوگی، پاکستان اور افواج پاکستان کے مفاد کے خلاف انکشاف کرنے والے سے آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت نمٹا جائے گا۔

    آرمی ترمیمی بل کے مطابق اس قانون کے ماتحت شخص سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا، علاوہ ازیں عام عہدے پر تعینات افسر ریٹائرمنٹ، استعفیٰ ، برطرفی کے دو سال بعد تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    ترمیمی بل کے مطابق حساس ڈیوٹی پر تعینات اعلی افسران ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ سال تک سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے، خلاف ورزی کرنے والے کو دو سال تک سخت سزا ہو گی۔ بل میں کہا گیا ہےکہ آرمی ایکٹ کے ماتحت شخص اگر الیکٹرانک کرائم میں ملوث ہو جس کا مقصد پاک فوج کو بدنام کرنا ہو تو اس کے خلاف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 کے مطابق آرمی ایکٹ کے تحت شخص اگر فوج کو بدنام کرے یا اس کے خلاف نفرت انگریزی پھیلائے تو اسے دو سال تک قید اور جرمانہ ہو گا۔

  • گھریلو ملازمہ تشدد معاملہ؛ سول جج کا موقف سامنے آگیا

    گھریلو ملازمہ تشدد معاملہ؛ سول جج کا موقف سامنے آگیا

    گھریلو ملازمہ رضوانہ پر مبینہ تشدد کرنے والی خاتون کے شوہر سول جج عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب بچی گھر گئی تو بالکل ٹھیک تھی، میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے، بچی کے والدین پیسوں کی لالچ یا کسی کی ہدایت پر الزامات لگا رہے ہیں۔ جبکہ گھریلو ملازمہ 14 سالہ رضوانہ پر مبینہ بہیمانہ تشدد کرنے والی خاتون کے شوہر سول جج عاصم حفیظ نے نجی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میری اہلیہ نے گھر کے کاموں کے لئے اپنی دوست کو ملازمہ کا کہا تھا، جس پر رضوانہ کو ہمارے گھر لایا گیا جبکہ بچی کے والدین اس کی عمر 14 سال بتارہے ہیں، لیکن جب وہ ہمارے گھر آئے تو بتایا تھا کہ رضوانہ کی عمر 16 سے 17 سال ہے، اور ضلعی قوانین کے تحت یہ عمر ملازمت کے قابل تھی، جس پر بچی کو گھر میں ملازمت پر رکھا، اور اس کے گھر والوں کو 10 ہزار یا اس سے زیادہ رقم بھجواتے تھے۔

    سول جج کا کہنا تھا کہ میں بچی سے کوئی چیز لانے کا کم ہی کہتا تھا، اور بات بھی کم ہی کرتا تھا، وہ ملازمت کے دوران متعدد بار اپنے والدین سے ملنے گئی، تاہم وہ گھر جانے سے ڈرتی تھی، مجھے اہلیہ نے بتایا تھا کہ بچی کہتی ہے کہ وہ گھر گئی تو اسے والدین ماریں گے، کیوں کہ تنخواہ بند ہوگی اور انہیں اس کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔ سول جج نے بتایا کہ بچی کا تعلق غریب خاندان سے تھا، وہ گندی رہتی تھی اور چہرے اور سر پر خارش کرتی تھی، جس کی وجہ سے اس کے سر میں زخم بن گئے تھے، 8 جولائی کو اسے انفیکشن ہوا تو میں نے اس کا علاج بھی کروایا۔

    عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ میری اہلیہ کا مسئلہ ہے کہ وہ سخت مزاج ہیں، اور کبھی سخت بول دیتی ہیں، لیکن بچی کے حوالے سے اہلیہ نے بتایا ہے کہ انہوں نے کبھی مار پیٹ نہیں کی۔ سول جج نے بتایا کہ رضوانہ جس دن اپنے گھر واپس جارہی تھی اس کی حالت ایسی نہیں تھی جو میڈیا پر دکھائی گئی، اس کے جاتے ہوئے میں ناشتہ کررہا تھا، وہ میرے پاس سے گزری اس نے سامان بھی اٹھا رکھا تھا، اس کے بازو یا چلنے میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔

    عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ کہا جارہا ہے کہ ہم بچی کو بھوکا رکھتے تھے، بچی کے والدین پیسوں کی لالچ یا کسی کے کہنے پر الزامات لگا رہے ہیں، انہیں اس حوالے سے کوئی ہدایات دے رہا ہے، میرے حوالے سے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں جا کر پوچھ لیں، جہاں مجھے ملنے والا خاکروب بھی کھائے پیے بغیر واپس نہیں جاتا، اور میرے گھر میں کوئی بھوکا رہے تو مجھے مر جانا چاہئے۔

    سول جج نے کہا کہ میڈیا ٹرائل کی وجہ سے میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سے اپنی پوسٹنگ کھو دی ہے، آپ جا کر معلوم کرسکتے ہیں کہ میرے جانے پر لوگ افسردہ اور اور ان کی آنکھیں نم ہیں، میرے حلقہ احباب سے پوچھا جائے کہ میں کس شخصیت کا مالک ہوں۔ عاصم حفیظ کا کہنا تھا کہ میں اور میرا پورا خاندان سفاکانہ میڈیا ٹرائل کا شکار ہیں، ہمارا ذہنی سکون اور عزت سب برباد ہوچکا ہے، سول سوسائٹی اور میڈیا کو سمجھنا چاہیے کہ جج اور ان کے اہلِ خانہ بھی انسان ہیں، وحشیانہ میڈیا ٹرائل سے بہتر ہے کہ ہمیں ذبح کردیا جائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    سول جج نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں ہم بااثر اور طاقتور ہیں، لیکن ہم عام مزدور کی طرح ایسے حالات میں اپنا دفاع بھی نہیں کر پا رہے، ملازمت کے ضابطہ اخلاق کے تحت میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں جو ان کی بدقسمتی ہے، رضوانہ کے جسم پر چوٹوں کا فیصلہ وقت کرے گا، لیکن اگر ہم بے قصور ثابت بھی ہوگئے تو ہمارے خاندان پر لگنے والے وحشیانہ زخموں کا ازالہ کون کرے گا، ہمارے بچے مستقبل میں معاشرے کا سامنا کیسے کریں گے۔ تاہم واضح رہے کہ جنرل اسپتال لاہور میں مالکن کے تشدد کی شکار گھریلو ملازمہ رضوانہ کا 7 روز سےعلاج جاری ہے، بچی کی حالت مسلسل کبھی بگڑ اورکبھی سنبھل رہی ہے، اسپتال انتظامیہ کے مطابق رضوانہ کو مسلسل سانس میں دشواری کا سامنا ہے، ان کی برونکوسکوپی دوبارہ کی گئی ہے، اس کے آئندہ 48 گھنٹے اہم ہیں انہیں وینٹیلیٹر پر منتقل کیا جاسکتا ہے۔