Baaghi TV

Tag: pakistan

  • ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے سائفر کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے عمران خان کو نوٹس جاری کردیا ہے اور یہ نوٹس بنی گالہ اور زمان پارک کے پتہ پر جاری کیا گیا ہے تاہم نوٹس کے متن کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر تحقیقات جاری ہیں اور ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم سائفر معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔


    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ جوائنٹ انکوائری ٹیم قومی سلامتی اور ریاستی مفادات خطرے میں ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 جولائی دن 12 بجے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز طلب کیا گیا اور انہیں متعلقہ دستاویزات اور شواہد ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تاہم خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے جس میں انہوں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا.

    دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کو بھی طلب کرلیا ہے جبکہ سائفر پبلک کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے نے دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کو 24 جولائی کو طلب بھی کرلیا ہے اور اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو تمام دستاویزات اور شواہد کے ساتھ لانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ”سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا“ اور اس مقصد کےلیے سائفر کو ملکی سلامتی اداروں اور امریکہ کی ملی بھگت کا جان بوجھ غلط دیا گیا۔ اعظم خان کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی نے سائفر ڈرامے کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر میرے سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گھما دیا، منع کرنے کے باوجود ایک سیکرٹ مراسلے کو عوام میں ذاتی مفاد کے لیے لہرایا۔

  • سعودی عرب اور ایران کا  اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    سعودی عرب اور ایران کا اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے بعض امور پر سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین امیرعبداللہیان نے بتایا:’’میراسعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ یہ سمجھوتا ہوا ہے کہ اس مرحلے پر ہمیں بعض امور پرمختلف سیاسی نظریات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ تہران ایک مستحکم اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے جو دونوں اطراف میں اقتصادی خوش حالی کا باعث بنے گا۔اس طرح کی مشترکہ کوششوں سے الریاض کے ساتھ مفاہمت کے عمل مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں چین کی ثالثی میں سات سال کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے شہروں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل ہونے والے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد سے اتفاق کیا تھا۔

    حسین امیر عبداللہیان نے بتایا کہ سعودی عرب میں حال ہی میں مقرر کیے گئے ایرانی سفیر آیندہ دنوں میں الریاض میں اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ایران نے گذشتہ ماہ الریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولاتھا۔ تہران میں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا نظام الاوقات ابھی تک نہیں دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے اس سال حج کے بہ طریق احسن انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ فیصل کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے کسی بھی ’’معمولی مسئلہ‘‘کو فوری طور پر حل کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے ان مسائل کی نوعیت کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    گذشتہ ماہ سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل نے تہران کا تاریخی دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر ایرانی حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے اور سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔

  • 19 جولائی  ساغر صدیقی کا یوم وفات

    19 جولائی ساغر صدیقی کا یوم وفات

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ساغر صدیقی

    19 جولائی 1974: یوم وفات

    محمد اختر المعروف ساغر صدیقی جدید اردو ادب کے شاعر تھے،نئے زمانے کی شاعری کرتے تھے ،جس زمانے میں ساغر صدیقی نے شاعری شروع کی ،اس وقت جدید اور ترقی پسند ادب و شاعری کی جڑیں بہت گہری ہو چکی تھیں ،اس لئے ساغر کی شاعری میں جدیدت اور ترقی پسندیت نظر آتی ہے۔ساغر 1928 میں مشرقی پنجاب کے علاقے انبالہ میں پیدا ہوئے ،،ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ،ماں کا تعلق دلی اور باپ کا پٹیالہ سے تھا۔غریب گھرانے سے تعلق تھا ،اس لئے بچپن میں چند درجے ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔

    اس زمانے میں ان کے پڑوس میں ایک انسان رہا کرتے تھے جن کا نام حبیب حسن تھا ،عالم و فاضل انسان تھے ،اس لئے ساغر ان سے تعلیم و تربیت لیتے،کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر سات سے دس برس کے درمیان تھی ،اس وقت سے ہی انہوں نے مشاعروں میں شاعری پڑھنا شروع کردی ۔انبالہ میں غربت سے تنگ آگئے تو پندرہ برس کی عمر میں محنت و مزدوری کے لئے امرتسر چلے گئے ۔اب محنت مزدوری کرتے ،جہاں کام ملتا ،وہ سوجاتے ،لیکن شعر بدستور کہتے رہے ،اب چند غریب دوست تھے ،انہیں شعر سناتے ،اپنا تخلص ناصر حجازی رکھ لیا ،بعد میں تخلص بدلا اور ساغر صدیقی ہو گئے ۔

    سولہ سال کی عمر میں انیس سو چوالیس میں امرتسر میں اس بچے نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل پڑھی اور پھر کیا تھا ہر طرف سے بھرپور داد ملی ۔سمجھ لیں ساغر نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔یہی سے دنیائے ادب میں ان کی پہچان بننا شروع ہوئی ۔اب فنی سفر کا آغاز ہو چکا تھا ،مزدوری چھوڑ دی ،باقاعدہ شعر و شاعری شروع کردی ۔لطیف انور گرداسپوری سے شاعری کے حوالے سے تربیت حاصل کی ۔1947 میں ہندوستان تقسیم ہو گیا ،پاکستان کی تخلیق ہوگئی ،ساغر اب امرتسر سے لاہور آگئے ۔اب ان کی عمر 19 سال تھی ۔داتا کی نگری میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ان کا کلام اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونے لگا۔وہ مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گئے تھے ۔اب ساغر بیس سال کا تھا ،خوبصورت نوجوان ،جس کے لمبے سنہرے گھنگریالے بال تھے ،لمبا قد ،حسین آنکھیں ،کھلتا رنگ ،خوبصورت باتیں ،حسن و جوانی ،ناز و انداز ،یہ تھے ساغر صدیقی جنہیں جنہیں اردو شاعری کا شہزادہ کہا جاتا تھا ،وہ دنیائے ادب کے شہزادے بن گئے تھے ۔اب وہ بھارت اور پاکستان کے فلم سازوں کی فلموں کے لئے گانے لکھ رہے تھے ،وہ نغمے مشہور بھی ہورہے تھے ۔پچاس کی دہائی کے اوائل میں محمد رفیع نے ایک گانا گایا تھا جو بہت مقبول ہوا،گانا تھا ،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی ،مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ۔یہ ساغر کی عزت اور شہرت کا زمانہ تھا ۔1947 سے 1952 تک کا زمانہ ساغر صدیقی کا سنہری دور تھا ۔یہ زمانے انہیں کامیابی ،شہرت ،اور دولت کی بلندیوں پر لے جانے والا تھا ۔کاش ایسا ہوتا ،لاابالی طبعیت تھی ،لاہور میں رہنے کے لئے ایک گھر تک نہ بنایا انہوں نے شادی بھی نہیں کی ،انہیں کہا گیا کہ متروکہ جائیداد کا دعوی کرکے مفت گھر حاصل کر لیں ،کہا کہ وہ جائیدار ترک کرکے نہیں آئے تھے ،اس لئے گھر نہیں لیں گے ۔سسٹی ہوٹلوں میں رہتے تھے ،کرائے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ،کھانا بازار سے کہیں بھی مل جاتا ،کھا لیتے ،اپنا خیال کبھی نہ رکھا ۔پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،لیکن پھر حالات بدلنے لگے ،کہا جاتا ہے 1952 میں ایک ادبی مہانامے کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ شدید سردرد ہوا،درد سے نجات کے لئے معرفین کا کسی نے انجیکشن لگادیا ۔

    سردرد تو ختم ہو گیا ،لیکن نشے سے آشنا ہو گئے ۔اوپر سے بدقسمتی دیکھیں کہ جس دوست فوٹو گرافر کے ساتھ کرائے کے کمرے میں رہتے تھے ،وہ ہر قسم کا نشہ کرتا تھا ۔شراب ،افیون ،چرس ،بھنگ وہ سب نشے کرتا تھا ،ساغر بھی اسی راستے پر چل نکلے ۔ا سلئے ساغر شکستہ کھنڈر بنتے چلے گئے ۔اب ہوش و حواس میں شاعری کررہے تھے ،لیکن زمانے کی ستم ظریفیاں ان کا مقدر بن گئیں تھی۔دوستوں نے آنکھیں پھیر لی ،دوستوں کے ظلم وستم سہہ رہے تھے ۔انہیں محسوس کررہے تھے ،لیکن خاموش تھے ۔کبھی شکوہ نہیں کیا ۔اب ان کی شاعری دکھ کی آواز بن گئی تھی ۔ان کے کلام میں بہت نغمگی تھی ،اس لئے ان کے کلام کو جس نے بھی گایا وہ مشہور ہو گیا اور خوب دولت سمیٹی ،لیکن ساغر کی حالت بدترین تھی ۔عزیر میاں قوال کی گائی گئی مشہور قوالی،کون بشر ہے اللہ جانے ،ان کی تحریر کردہ ہے ۔اسی طرح نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ غزل تو سب نے سن رکھی ہوگی ،میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا ،یہ بھی ساغر صدیقی کی غزل ہے ۔استاد غلام علی نے تو ساغر صدیقی کے غزلوں کی مکمل کیسٹ ریلیز کی ۔

    ان تمام گلوکاروں کو معاوضے ملتے ،لیکن ساغر کو کوئی پیسہ نہ ملا ۔ریڈیو پر ساغر کے لکھے گانے چل رہے ہوتے اور ساغر لاہور کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہوتا ،یہ تھا وہ کرب جس کا وہ شکار تھے ۔اب وہ داستان عبرت بن گئے تھے ۔اب ساغر صدیقی نشے کی علت پوری کرنے کے لئے بلیک میل ہورہا تھا ،لوگ ان سے غزل اور نظم لکھواتے ،اور نشہ لیکر دیتے ،فلمساز ان کے گانوں سے پیسہ کمارہے تھے ،لیکن ساغر لاہور کی سڑکوں پر بدحال تھا ۔لوگ ان کے کلام کو جمع کرکے چھپوا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے ۔ساغر نظم اور غزل کا عظیم شاعر ہے ،جس نے کبھی بھی اپنی شاعری میں کسی فلسفے کی تبلیغ نہیں ،غم پسندی ،حسن و عشق ،ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ساغر نے وطن سے محبت کی خاطر غیر سرکاری قومی ترانہ بھی لکھا تھا ،وہ قومی ترانہ ایک زمانے میں سینما گھروں میں دیکھایا اور سنایا جاتا تھا ،بیس سال تک لوگ ساغر کو ایک ملنگ ،درویش ،مجذوب اور پاگل کہتے رہے ،لیکن ان کا کلام کہیں سے بھی کسی دیوانے کا کلام نہیں لگتا ۔بھاٹی،لوہاری،داتا دربار،میکلوڈ روڈ گوال منڈی میں وہ خون تھوک رہا تھا ،وہ جس نے عظیم گیت لکھے ،وہ اب مررہا تھا ،جانے کیسا سفر ہے میرا ،جہاں ہے منزل وہی لٹیرا ۔اب پڑھے لکھے لوگ ساغر کو نشے کی پوریا ،بھنگ ،چرس اور شراب اس شرط پر دیتے کہ وہ انہیں نظم یا غزل لکھ کردیں گے ،ساغر انہیں لکھ کر دیتا اور وہ اپنے نام پر چھپواتے ۔

    سب نے آنکھیں پھیر لی تھی ۔ساغر اب مکمل طور پر نشے کی پناہ میں تھا ۔وہ نوجوان جو حسین و جمیل تھا ،اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔جسم پر میلے کچیلے بدبودار کپڑے تھے ۔میلی سی چادر میں لپٹا یہ شاعر ننگے پاوں لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھوم رہا تھا ۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے ۔اور زمانے پر وہ مسکرارہا تھا ۔کہتے ہیں اسی زمانے میں ایک کتا بھی ان کا رفیق بن گیا تھا ،اب وہ جہاں جاتے ،وہ کتا بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔ایک حسین اور حساس شاعر اس دنیا میں ایک کتے کے ساتھ رہ رہا تھا ۔عمر اب 46 برس تھی ،دن تھا 19 جولائی سال تھا 1974 جب صبح لوگوں نے دیکھا کہ لاہور کی ایک سڑک کے کنارے پر ساغر کی لاش پڑی ہے ۔زمانے کے ظلم نے عظیم شاعر کو برباد کردیا ،وہ جو اپنی شاعری ترنم سے پڑھتا تھا ،وہ جو ہر دور کا شاعر ہے ،وہ جو خوش پوش نوجوان تھا ،وہ جو بوسکی کے ملبوسات پہنتا تھا ،وہ جو دلچسپ باتیں کرتا تھا ،اس کی لاش سڑک کنارے ملی ،یہ ہے ہمارا سماج جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اشر ف المخلوقات سمجھتے ہیں ۔وہ جس کا سینا امنگوں اور حوصلوں سے بھرا تھا ،اس سماج نے اسے سڑک کے کنارے جانور سے بھی بدترین موت دیدی ۔اس سماج نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا تھا ۔وہ اپنی زات میں سمٹتا چلا گیا اور دور ہو تا چلا گیا ،یہاں تک کے ایک آوارہ کتے نے اسے اپنا دوست بنا لیا تھا ۔کتے کو بھی انسانیت کی شناخت تھی ،لیکن انسانوں نے اسے کتے کی موت دی ۔سوال یہ ہے کہ وہ تو اپنی زات کو تسخیر کر گیا ،لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو ،

    بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ،
    ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے ،

    مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ،
    ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے ،

    اب کہاں ایسی طبعیت والے ،
    چوٹ کہا کر جو دعا کرتے تھے ،

    بکھری بکھری زلفوں والے
    قافلے روک لیا کرتے تھے ،

    آج گلشن میں شگوفے ساغر ،
    شکوے باد صبا کرتے تھے ۔

    میلی چادر ،نحیف جسم ،چپل سے محروم ،روٹی سے محروم ،دن رات سڑکوں کی خاک،نشے کی لعنت میں غرق،ہم نے ایسے کیسے ہونے دیا ؟کیا کبھی سوچا کہ ہم کتنے ظالم ہیں ؟جس کے شعر سینوں میں سنسنہاہٹ اور دلوں کو گداز بخشتے تھے ،وہ کتے سے بھی بدترین موت کا شکار ہو گیا ؟ساغر کا ایک شعر ہے کہ ۔۔

    چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں ،
    دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ،
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تحریر ‘ نامعلوم
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے کرنا ضروری ہیں اور کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا کیونکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ وزارت خارجہ میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے ضروری ہیں، دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ڈپلومیٹک سروس کے اصول و ضوابط پر پوری طرح عملدرآمد ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا اور ملکی خارجہ پالیسی میں وزارت خارجہ کا اہم کردار ہوتا ہے جبکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی مشنز ملک کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی میں نرمی کررہے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت واضح ہے، ہم ہر ملک سے برابری کی سطح پر برادرانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں‘ کوپ 27 کانفرنس میں لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام کے لیے وزارت خارجہ کا کردار قابل قدر رہا، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم اہم کردارادا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تقریب میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہتری اورسیکیورٹی کے لیے بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وزارت خارجہ کے افسران پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، ٹیم ورک سے کسی بھی چیلنج سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک سروس میں شامل ہونے والے نئے افسروں کو زبان و بیان کی تربیت حاصل کرنا چاہیئے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے ترقی کرتی دنیا کے ساتھ ہمیں شامل ہونا ہے۔

  • زرعی ترقیاتی بینک نے  اربوں روپے کے قرضے معاف کردیئے

    زرعی ترقیاتی بینک نے اربوں روپے کے قرضے معاف کردیئے

    زرعی ترقیاتی بینک نے پچھلے بارہ سال میں اربوں روپے کے قرضے معاف کردیے ہیں جبکہ صرف دو ہزارانيس ميں بینک نے چوبيس ارب روپے کے قرضے معاف کردیئے ہیں۔ جبکہ بینک 2018 ميں66 کروڑ، 2019 ميں ساڑھے17ارب روپے قرض کی وصولی میں ناکام رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق زرعی ترقیاتی بینک 2 سال ميں18ارب سےزائد نقصان کاسامنا کرچکا، نقصان کھاتے داروں کے مرنے، دیوالیہ ہونے یا پھر عدالت میں کیسز چلنے سے ہوا ہے۔

    جبکہ ريکارڈ کے مطابق قرض ہڑپ کرنيوالوں ميں بيشتر کا تعلق لاہور، اوکاڑہ، جھنگ، ملتان، کوئٹہ اور سکھرسے ہے، بینک انتظامیہ کا اپنے موقف میں کہنا ہے کہ زیرو ریکوری ایک باقاعدہ پراسیس ہے، تمام کیسزکوقانون کے مطابق دیکھ رہے ہیں، غبن یا دیگر کارروائیوں میں ملوث ملازمین کیخلاف بھی قانونی کاروائی کی جارہی ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم

    دوسری جانب ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشین ڈیویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے دیگر ملکوں کے مقابلے پاکستان کو کم ترقی، زیادہ مہنگائی کا سامنا رہا ہے۔ پاکستان کو نئے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات جاری رکھنا ہوں گی۔ رپورٹ میں مالی سال 2023 کی طرح 2024 میں بھی معاشی شرح نمو سست رہنے کی پیشگوئی کردی۔ سست معاشی گروتھ کی بڑی وجہ سیلاب، سخت مانیٹری مالیاتی پالیسیاں قرار دی گئی ہے۔

    اے ڈی بی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ سال مہنگائی تخمینے سے زیادہ رہی، اشیاء کی طلب بڑھنے کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں شرح نمو 6.7 فیصد اور سری لنکا میں 1.3 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ سال 2023-24 میں بنگلہ دیش 6.5 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گا۔

  • روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ

    روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ

    ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر میں اضافہ تاحال جاری ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 76 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔


    اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 283 روپے 4 پیسے سے بڑھ کر 283 روپے 80 پیسے ہو گئی ہے جبکہ مرکزی بینک کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر میں 0.27 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تاہم دوسروی جانب اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت 287 روپے کی قریب پہنچ گئی ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق کینیڈین ڈالر کی قیمت 215 روپے، سعودی ریال 75 روپے، ملائیشین رنگٹ 62 روپے، کویتی دینار 925 روپے، بھارتی روپیہ 3.45 روپے، قطری ریال 77 روپے کی سطح عبور کر گیا ہے۔

  • دودھ میں چھپکلی گرنے سے دو بچے جانبحق

    دودھ میں چھپکلی گرنے سے دو بچے جانبحق

    ساہیوال میں زہریلا دودھ پینے سے ایک ہی گھر کے دو بچے جاں بحق، جب کہ 3 بچیاں اور ان کے والدین کی حالت غیر ہوگئی ہے جبکہ ذرائع کے مطابق واقعہ ڈسپنسری روڈ غلہ منڈی میں واقع ایک گھر میں پیش آیا ہے جہاں مبینہ طور پر دودھ میں چھپکلی گر گئی تھی، اور گھر والوں نے اسی دودھ سے ملک شیک بنا کر پیا، جس پر ان کی حالت خراب ہوگئی۔

    ریسکیو 1122 نے تمام افراد کو ساہیوال ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا، جہاں دو بچوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسپتال انتطامیہ کے مطابق مرنے والوں میں ایک بچہ اور ایک بچی جو آپس میں بہن بھائی ہیں، جب کہ ان کی 3 بہنیں اور والدین زیر علاج ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پشاور ، حیات آباد میں دھماکا، 8 افراد زخمی
    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور
    ہمارے ہاں 80% لوگ بے مقصد زندگی گزارتے ہیں زیبا بختیار
    اسلام آباد؛ 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج

    دوسری جانب مظفرگڑھ: تھرمل کالونی سے تین لڑکیوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ جبکہ پولیس کے مطابق یہ واقعہ مظفر گڑھ کی تھرمل کالونی میں پیش آیا جہاں سے تین لڑکیوں کی لاشیں ملیں جو تینوں بہنیں ہیں۔ پولیس کا بتانا ہےکہ تینوں لڑکیوں کی لاشیں محلے کے ایک خالی پلاٹ سے ملی ہیں، بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں بہنیں گزشتہ رات لاپتا ہوئی تھیں۔

    پولیس کے مطابق فرانزک ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس حوالے سے اہل محلہ سے بھی تفیش کی جارہی ہے۔ پولیس کاکہنا ہےکہ ابتدائی شواہد کے مطابق تینوں بہنوں کو تیز دھارآلے سےگلا کاٹ کر قتل کیاگیا ہے۔

  • ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں. وفاقی وزیر

    ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں. وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق نے کہا ہے کہ ایم کیوایم 2023 کی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں پر الیکشن چاہتی ہے، ایم کیوایم عام انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرے گی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امین الحق نے کہا کہ 2023 میں ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، الیکشن کمیشن کو 3 ماہ میں حلقہ بندیاں کرنی چاہئیں، پاکستان میں بیشتر مردم شماری وقت پر نہیں ہوئیں۔ امین الحق نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 90 دن میں الیکشن نہیں ہوئے، تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکوئی راستہ نکالنا ہوگا، ایم کیوایم بروقت انتخابات چاہتی ہے، انتخابات 2023 کی مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں پر ہونے چاہئیں، حلقہ بندیاں نگراں حکومت نہیں، الیکشن کمیشن کرتا ہے۔

    وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت فوری مردم شماری کا نوٹیفکیشن جاری کرے، مردم شماری کے نتائج کے اعلان پر حلقہ بندیوں کا فیصلہ ہوگا، مردم شماری میں بظاہر آبادی میں بڑا فرق ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم اپنے سپوٹرز کی سوچ کے ساتھ چلتی ہے، عام انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ بھی نہیں سکتے، انتخابات کی تیاری کی طرف جارہے ہیں، 2023 کی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پشاور ، حیات آباد میں دھماکا، 8 افراد زخمی
    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور
    ہمارے ہاں 80% لوگ بے مقصد زندگی گزارتے ہیں زیبا بختیار
    اسلام آباد؛ 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
    امین الحق کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہونی چاہیئے، ایم کیو ایم الیکشن سے بھاگنے والی جماعت نہیں، ٹیکنوکریٹ ہو یا سیاستدانوں پر مشتمل سیٹ اپ، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ خالد مقبول صدیقی کی کل وزیراعظم سے ملاقات ہوگی، امید ہے مشاورت سے تمام معاملات طے پاجائیں گے، امید ہے وزیراعظم ہماری بات سنیں گے، قومی سلامتی پرکوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا، تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن لڑنے کا موقع ملنا چاہیئے۔

  • آئی ایم ایف سے معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    آئی ایم ایف سے معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

    پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان معاہدے کی تفصیلات جاری کرتےہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت 3 ارب ڈالر ملیں گے، ملکی معیشت کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے، پاکستان کو نئےمالی سال کےدوران بھاری بیرونی مالی ضروریات کیلئے وسائل مہیا ہونگے، پاکستان کو 9 ماہ کےنئے پروگرام پرثابت قدمی سے عمل کرنا ہوگا۔ جبکہ آئی ایم ایف نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کو مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنا ہوگی، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری ضروری ہے جبکہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے حساب سے ہونا چاہیے۔ پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ توانائی کے شعبے میں سبسڈی بتدریج کم کی جائے گے، اس کے علاوہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں بھی اخراجات کم کیے جائیں گے۔

    آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ سرکلر ڈیٹ 2500 ارب کو پہنچ رہا ہے اور یہ رقم معیشت کے 3 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان کو سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر سختی سے عمل کی ضرورت ہے، غیر ضروری سبسڈیز کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کی معیشت پست شرح نمو کا شکار رہی ہے، آئندہ مالی سال ترقی کی شرح 2.5 فیصد ہو سکتی ہے۔ پاور سیکٹر کو بقایاجات ختم کرنے کی ضرورت ہے، مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے صوبوں کو سرپلس بجٹ دینا ہو گا۔ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ آئندہ مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح 25.9 فیصد رہنے کا امکان ہے جبکہ بے روزگاری کی شرح 8 فیصد ہو سکتی ہے۔

    عالمی ادارے کے مطابق رواں سال معاشی شرح نمو2.5 فیصد، اگلےسال 3.6 فیصد ہوجائےگی، اس سال مہنگائی 25.9 فیصد، اگلے سال کم ہوکر 11.4 فیصد پرآجائے گی، قرضوں کی شرح کا تخمینہ اس سال 70.9 فیصد، اگلے سال 68.5 فیصد ہے، اس مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 1.8 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ منفی 1.7 فیصد پر آجائے گا۔

    آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال سرکاری زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر ہو جائیں گے، اگلے مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 12.9 ارب ڈالر تک جانے کی توقع ہے، حکومت کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا خیر مقدم کرتے ہیں، مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ کی پالیسی برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔ بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس سال مالی خسارہ 3567 ارب، اگلے سال 5444 ارب روپے تک جانے کا خدشہ ہے، رواں مالی سال ترسیلات زر 32 ارب 88 کروڑ ڈالر رہنے کی توقع ہے جبکہ اگلے مالی سال ترسیلات زر بڑھ کر 34 ارب 76 کروڑ ڈالر تک جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس مالی سال برآمدات 30 ارب 8 کروڑ ڈالر تک جا سکتی ہیں، اگلے مالی سال برآمدات کا حجم بڑھ کر 33 ارب 34 کروڑ ڈالر ہو جائے گا۔ رواں سال دفاعی بجٹ 1804 ارب، اگلے مالی سال 2093 ارب ہو جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اگلے 3 سال میں 87 ارب 42 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ درکار ہے، رواں مالی سال 28 ارب 36 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی تعاون کی ضرورت ہے، اگلے مالی سال 27 ارب 16 کروڑ ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہوگی، پاکستان کو سال 2025-26 میں 31 ارب 89 کروڑ ڈالرفنانسنگ درکار ہوگی۔ آئی ایم ایف کے مطابق موجودہ مالی سال ٹیکس ریونیو11 ہزار 21 ارب تک جانے کا تخمینہ ہے، اگلے مالی سال ٹیکس ریونیو 13 ہزار 93 ارب روپے تک جا سکتا ہے، مالی سال 2025-26 میں ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 14 ہزار 738 ارب تک جانے کا امکان ہے۔

  • یکم محرم الحرام 20 جولائی جمعرات کو ہوگا. مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان

    یکم محرم الحرام 20 جولائی جمعرات کو ہوگا. مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اعلان

    نئے اسلامی سال کا چاند نظر نہیں آیا ہے اور اب یکم محرم الحرام 20جولائی جمعرات اوریوم عاشور 29 جولائی بروزہفتہ کوہوگا۔ چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیر صدارت کوئٹہ میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی اجلاس ہوا جس میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی، زونل کمیٹی کراچی کے ممبران سمیت وزارت مذہبی امور، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سپارکو کے ممبران شریک ہوئے۔

    زونل رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے مقامات پر ہوئے ، مرکزی اجلاس میں محرم الحرام کے چاند کی رویت کا فیصلہ کیا جائے گا اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی نئے اسلامی سال کے اغاز کا اعلان کریں گے۔ تاہم یادرہے کہ محکمہ موسمیات نے محرم الحرام کا چاند آج یعنی 29 ذوالحج بروز منگل نظر آنے کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔

    محکمہ موسمیات کا مزید کہنا تھا کہ چاند کی پیدائش 17 جولائی کی رات 11 بج کر 32 منٹ پر ہوگی اور چاند نظر آنے کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں بادل چھائے رہنے کا امکان ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پشاور ، حیات آباد میں دھماکا، 8 افراد زخمی
    لون ایپ سے متاثرہ شہری کی خودکشی کیس،ملزمان کا ریمانڈ منظور
    ہمارے ہاں 80% لوگ بے مقصد زندگی گزارتے ہیں زیبا بختیار
    اسلام آباد؛ 8 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی، مقدمہ درج
    دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں نئے اسلامی سال کل شروع ہوگا۔

    دوسری جانب عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں نئے اسلامی سال کل شروع ہوگا۔