Baaghi TV

Tag: pakistan

  • سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا. وزیر اعظم

    سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا. وزیر اعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے احتساب عدالت کی طرف سے منی لانڈرنگ کیس میں بری ہونے پر رد عمل دیتے اپنے ٹوئیٹر پر لکھا کہ "الحمداللہ، لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ کے سیاسی انتقام پر مبنی جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں آج مجھے اور حمزہ شہبازکو بری کردیا.”


    جبکہ انہوں نے مزید لکھا کہ "جس پر اللہ تعالی کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔سیاسی انتقام میں لتھڑا یہ وہی مقدمہ ہے جس میں برطانیہ کی عالمی ساکھ رکھنے والی نیشنل کرائم ایجنسی نے تین ممالک میں 40 سال کا ریکارڈدو سال تک کھنگالا اور کچھ نہ ملنے پر ہمیں کلین چٹ دی تھی۔ برطانیہ کے ڈیلی میل میں ڈیفیڈ کے فنڈز میں غبن کی جھوٹی خبر دانستہ شائع کرائی گئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں سرخرو کیا اور ڈیلی میل کو معافی مانگنا پڑی۔”

    وزیر اعظم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا "یہ وہی مقدمہ تھا جس میں ناحق مجھے دو مرتبہ گرفتار کیاگیا، حمزہ شہبازکو قید رکھاگیا اور کورونا وبا کے دوران سخت بیمار ہونے کے باوجودحمزہ کو ڈاکٹر کے پاس بھی نہ لیجایا گیا۔ اس کی معصوم بیٹی سے ملنے تک نہ دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’واٹس ایپ‘ احتساب ، بدترین میڈیا ٹرائل اور بے گناہی کی قید کا آج کوئی ازالہ ہوسکتا ہے ؟”
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری
    وزیر اعظم کے مطابق "سیاسی انتقام کی آگ میں جلنے والوں کو دنیا میں تو جواب مل گیا لیکن انہیں آخری اور سب سے بڑی عدالت میں اس ظلم کا حساب دینا پڑے گا۔ انتقامی اندھیرنگری کے اُس سیاہ دور میں ہمارا ساتھ دینے، ہماری بے گناہی پر اعتماد رکھنے اور ہر جگہ ہمارا حوصلہ بڑھانے والے محسنوں، دوستوں، احباب، وکیلوں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں”

  • کرنٹ لگنے سے واپڈا اہلکار جاں بحق

    کرنٹ لگنے سے واپڈا اہلکار جاں بحق

    لاہور کے علاقے مصری شاہ میں واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی [واپڈا] کا ملازم دوران ڈیوٹی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو گیا ہےجبکہ ریسکیو 1122 حکام کے مطابق مصری شاہ کے علاقے شریف مارکیٹ تانگے والا چوک سے کرنٹ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی جس پر بروقت کاورائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ امدادی ٹیم جب جائے حادثہ پہنچی تو ایک شخص بجلی کے کھمبے کے ساتھ چپکا ہوا تھا جسے بجلی کی سپلائی معطل کرنے بعد اتارا گیا جو انتقال کر چکا تھا۔

    خیال رہے کہ متوفی کی لاش کو قانونی کاروائی کے لیے میئو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت 50 سالہ خالد محمود کے نام سے کی گئی ہے، ڈویژنل سپریٹینڈنٹ آف پولیس {ڈی ایس پی] مصری شاہ سرکل شکیل کھوکھر نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ متوفی واپڈا کا ملازم تھا جبکہ شریف مارکیٹ میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی جس پر شہریوں نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو شکایت درج کروائی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری
    شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایل ای ایس سی کی ٹیم علاقہ مین پہنچی تھی۔ فالٹ دور کرنے کے لیے متوفی جیسے ہی کحمبے پر چڑھا تو بجلی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تاہم جائے حادثہ پر موجود افراد نے متوفی کو بچانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے۔ ڈی ایس پی مصری شاہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کر کے زمہ داران کا تعین کیا جا رہا ہے۔

  • عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

    معروف کاروباری شخصیت اور نئی قائم ہونے والی جماعت استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ جہانگیرترین کے بھائی عالمگیر ترین کی موت فرانزک رپورٹ میں خودکشی ثابت ہوگئی ہے جبکہ پستول اور تحریر بھی عالمگیر ترین کی تھی جس میں انہوں نے اپنی موت بارے لکھا تھا، فرانزک رپورٹ میں ثابت ہوگیا ہے کہ عالمگیر ترین نے خود کشی کی تھی۔

    فرانزک رپورٹ کے مطابق عالمگیر ترین کے گھر سے برآمد ہونے والی پستول پر انگلیوں کے نشانات عالمگیر ترین کے ہی ہیں جبکہ خودکشی سے قبل لکھی گئی تحریر بھی عالمگیر ترین کی ہے۔ تاہم یاد رہے کہ 6 جولائی کو جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے پستول سے اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ عالمگیر ترین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عالمگیر ترین کی دائیں کنپٹی پر ایک گولی لگی تھی، کنپٹی پر لگنےوالی گولی آرپار ہوئی جس سے ان کی موت سرزد ہوئی تھی۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ عالمگیر ترین کے جسم کے اندرونی تمام حصے تندرست ہیں، گولی لگنے سے کھوپڑی فریکچر ہوئی جو موت کا سبب بنی، جسم پر تشدد کے کوئی نشانات موجود نہیں تھے۔ رپورٹ کے مطابق موت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث واقع ہوئی، گولی لگنے سے دماغ کے ٹشو بری طرح متاثر ہوئے اور گولی دائیں جانب لگ کر بائیں جانب سے پار ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمگیر ترین لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں موجود تھے، وہاں سے اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق کمرے سے گولی کا ایک خول ملا ہے، سر کے دائیں طرف گولی کا نشان موجود ہے۔ تفتیش میں معلوم ہوا کہ عالمگیر ترین نے صبح 6 سے 7 بجے کے درمیان خودکشی کی، پولیس ذرائع کے مطابق عالمگیر ترین کی لاش فلیٹ کے کمرہ نمبر 3 سے ملی ہے، لاش کے پاس پستول موجود تھا اور ان کے 2 ملازم فلیٹ میں موجود نہیں تھے۔

  • بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کیخلاف نیشنل ڈائیلاگ

    بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کیخلاف نیشنل ڈائیلاگ

    غیر سرکاری تنظیم ایس ایس ڈی او کے زیراہتمام امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے نیشنل ڈائیلاگ کا انعقاد

    نیشنل ڈائیلاگ میں امریکی دفتر خارجہ کے نمائندوں، پارلیمنٹیرینز، ایف آئی اے، پولیس اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اعلی افسران، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا اظہار خیال جبکہ بچوں کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے نیشنل ڈائیلاگ میں مستقبل کا لائحہ عمل طے، بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی اور غیر سرکاری سطح پر کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے اور تجاویز کے تبادلہ خیال کے لئے غیرسرکاری تنظیم (ایس ایس ڈی او) نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کیا۔
    نیشنل ڈائیلاگ کے شرکاء نے بچوں کی سمگلنگ روکنے کے لئے سٹیک ہولڈرز کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے اور سمگلنگ کے شکار بچوں کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ جون 2023 میں امریکا کے سیکرٹری آف سٹیٹ نے انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے پاکستان بھرمیں نمایاں کارکردگی دکھانے والے افسر ظہیر احمد کو ٹی آئی پی رپورٹ ہیرو ایوارڈ سے نوازا۔ بطور ڈائریکٹر ایف آئی اے اینٹی ہیومن سمگلنگ یونٹ ظہیر احمد کے شاندار اقدامات کی بدولت 2022 میں پاکستان کی ٹی آئی پی ٹائیر واچ لسٹ میں نمایاں بہتری آئی۔ سیکرٹری بلنکن نے 2023 میں ٹی آئی پی رپورٹ لانچ کرنے کی تقریب کے موقع پر ظہیر احمد کو انعام سے نوازا۔

    بچوں کی سمگلنگ روکنے اور چائلڈ لیبر کے خاتمہ کے لئے منعقدہ نیشنل ڈائیلاگ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے خصوصی مشیر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بچوں کی سمگلنگ روکنے کے لئے پسماندہ اضلاع میں غربت کا خاتمہ کیا جانا ضروری ہے کیونکہ بیشتر والدین غربت سے تنگ آکر خود ہی اپنے چھوٹے بچوں سے مزدوری کراتے ہیں، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے ایس ایس ڈی او کی طرف سے نیشنل ڈائیلاگ کا انعقاد قابل تعریف ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومتی سطح پر تمام وسائل بروئے کار لاکر بچوں کی سمگلنگ، چائلد لیبر کے خاتمے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

    نیشنل ڈائیلاگ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے( ایس ایس ڈی او) کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ پاکستان سے چائلڈ لیبر اور بچوں کی سمگلنگ کا خاتمہ یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام ذمہ دار ادارے مشترکہ طور پر کوشش کریں اور اس نیشنل ڈائیلاگ کے انعقاد کا مقصد اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کو باہمی تبادلہ خیال کے لئے موقع فراہم کرنا ہے۔ سید کوثر عباس نے کہا کہ بچوں کی سمگلنگ اس وقت پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورذیوں کی سب سے بدتر مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کا مقصد ہے کہ ہم شرکاء کے تجربات اور تجاویز کی روشنی میں سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر ایسا ڈیٹا اکٹھا کرکے پالیسی مرتب کرسکیں جو بچوں کی سمگلنگ کی روک تھام میں معاون ثابت ہو۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس
    روپے کی قدر میں 0.47 فیصد کی تنزلی ریکارڈ
    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    نیشنل ڈائیلاگ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو، چیئرپرسن نیشنل کمیشن چلڈرن رائٹس، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو، امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ مسٹر براڈ پارکر نے بھی بچوں کی سمگلنگ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے گفتگو کی۔

    نیشنل ڈائیلاگ کے شرکاء کو چار گروپس میں تقسیم کرکے ان سے تجاویز لی گئیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے تجویز پیش کی کہ بچوں کی سمگلنگ کے کیسز کی شفاف رپورٹنگ، سائبر کرائم کنٹرول کرنے کے لئے وسائل کو بہتر بنانے اور ٹریفکنگ میں ملوث بنیادی کرداروں کی نشاندہی ضروری ہے۔ بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے تجویز پیش کی کہ بچوں کے تعلیمی نصاب اور ٹی وی کے ذریعے بچوں کو سمگلنگ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی میکرز اور قانون سازوں پر مشتمل گروپ نے تمام صوبوں میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے الگ عدالتیں بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل گروپ کے نمائندوں نے تجویز پیش کی کہ انسانی سمگلنگ کے حوالے سے بچوں کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ مدارس کی نگرانی سے بھی اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

  • یونان کشتی حادثہ: ڈی این اے کے بعد میتوں کو پاکستان بھیجا جائے گا

    یونان کشتی حادثہ: ڈی این اے کے بعد میتوں کو پاکستان بھیجا جائے گا

    یونان کے کشتی حادثہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ڈی این اے کی تصدیق ہونے کے بعد 14 میتوں کو پاکستان بھیجنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جبکہ کشتی حادثہ میں جاں بحق افراد کی میتیں 19 جولائی سے پاکستان جانا شروع ہوں گی اور 23 جولائی تک 14 میتوں کو پاکستان روانہ کر دیا جائے گا۔

    میتیں بھیجنے کے ترتیب وار سلسلے میں پہلے 4، پھر 4، پھر 2، پھر 2، پھر 2 میتیں روانہ کی جائیں گی، جبکہ 3 باڈیز اسلام آباد اور 11 لاہور جائیں گی۔ ٹوٹل 14 ڈیڈ باڈیز بھیجی جائیں گی، 15 ویں ڈیڈ باڈی کی تاحال ابھی تک روانگی کیلئے کنفرم نہیں ہے۔ تمام میتیں قطر ائیرویز کے ذریعے پاکستان روانہ کی جائیں گی جس کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کر رہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    لاہور ائیرپورٹ اور اسلام آباد ائیرپورٹ سے میتوں کو ان کے لواحقین وصول کریں گے، جنہیں ایمبولینس کے ذریعے ان کے آبائی گاؤں یا شہروں میں بھیجا جائے گا جس کا بندوبست بھی حکومت پاکستان نے کیا ہے۔

  • عمران خان  سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر نااہل ہوسکتے. مفتاح اسماعیل

    عمران خان سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر نااہل ہوسکتے. مفتاح اسماعیل

    سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے، مگر ان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ اور توشہ خانہ جیسے سنگین مقدمات بھی ہیں، جن میں ان کو سزا ہوسکتی ہے اور پھر آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف کا ایک اور پروگرام لینا ہوگا، آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی اصلاحات کا موقع ملتا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف سکریٹ ایکٹ کیس چل رہا ہے، سائفر بھی ایک خفیہ ڈاکومنٹ ہوتا ہے۔

    مفتاح اسماعیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کا پر خلوص دوست نہیں، امریکا پاکستان سے اپنے مفاد کے لیے تعلقات رکھتا ہے، کوئی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتا، یہ کہنا درست نہیں کہ امریکا نے حکومت تبدیل کرادی ہے۔ عمران خان سے متعلق سوال پر سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے امریکا میں لابی کمپنی ہائر کی ہوئی ہے، پی ٹی آئی نے امریکا سے تعلقات بنانے کی کوشش بھی کی، چیئرمین پی ٹی آئی کا رجیم چینج کا دعویٰ غلط تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 190ملین پاؤنڈ کا مضبوط کیس ہے، یہ کہتے تھے کہ میرے علاوہ سب کرپٹ لوگ ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں کرپشن ختم نہ ہوئی اور کچھ اچھا نہ ہوا، ان کی اہلیہ نے جیولری لی، کہا گیا آڈیو ٹیپ جعلی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے توشہ خانہ کی گھڑی بیچی، 2 کروڑ روپے ادا کرکے گھڑی 20 کروڑ میں بیچی گئی۔ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ، توشہ خانہ اور 9 مئی کے مقدمات اہم ہیں، عمران خان کے دعوے پی ٹی آئی والے بھی تسلیم نہیں کرتے، پی ٹی آئی کا ووٹر جانتا ہے کہ سائفر کوئی سازش نہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ پر یہ نااہل ہوسکتے ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ فواد حسن فواد ڈھائی سال تک بے گناہ جیل میں رہے، فواد حسن فواد آج بھی کہتے ہیں کہ نوازشریف نے کچھ نہیں کیا، فواد حسن فواد پر بھی بہت دباؤ تھا علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا پی آئی اے خسارے میں ہے، چوری نہیں روک سکتے، پی آئی اے کی نجکاری سے آئی ایم ایف نے نہیں روکا، آئی ایم ایف کی شرائط کڑوا سچ ہیں، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ایکسچینج ریٹ ایک ہونا چاہیئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    ان کا کہنا تھا کہ غریب مہنگائی سے پس رکھے ہیں، قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنا مجبوری ہے، مہنگائی کا بوجھ حکومت خود نہیں اٹھاسکتی، آئی ایم ایف پروگرام کے ٹریک پر رہنے سے بہتری ہوگی، ہمیں آئی ایم ایف کے ایک اور پلان میں جانا ہوگا، نئی حکومت کو آئی ایم ایف پروگرام میں جانا پڑے گا۔ آئی ایم ایف پروگرام سے معاشی اصلاحات کا موقع ملا ہے۔ انتخابات کے حوالے سے سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عام انتخابات نومبر میں ہوجائیں گے۔

  • ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا

    ایف آئی اے نے عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے سائفر کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو 25 جولائی کو طلب کرلیا ہے جبکہ ایف آئی اے نے عمران خان کو نوٹس جاری کردیا ہے اور یہ نوٹس بنی گالہ اور زمان پارک کے پتہ پر جاری کیا گیا ہے تاہم نوٹس کے متن کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے پر تحقیقات جاری ہیں اور ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم سائفر معاملے کی تحقیقات کررہی ہے۔


    نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ جوائنٹ انکوائری ٹیم قومی سلامتی اور ریاستی مفادات خطرے میں ڈالنے کے الزامات کی تحقیقات کررہی ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کو 25 جولائی دن 12 بجے ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز طلب کیا گیا اور انہیں متعلقہ دستاویزات اور شواہد ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تاہم خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے سائفر سے متعلق اپنا بیان ریکارڈ کرایا ہے جس میں انہوں نے سائفر کو ایک سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان ریکارڈ کروا دیا.

    دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جوائنٹ انکوائری ٹیم نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کو بھی طلب کرلیا ہے جبکہ سائفر پبلک کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے نے دونوں پی ٹی آئی رہنماؤں کو 24 جولائی کو طلب بھی کرلیا ہے اور اس سلسلے میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو تمام دستاویزات اور شواہد کے ساتھ لانے کی ہدایت بھی کردی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کا کہنا ہے کہ چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ”سائفر کو غلط رنگ دے کر عوام کا بیانیہ بدل دوں گا“ اور اس مقصد کےلیے سائفر کو ملکی سلامتی اداروں اور امریکہ کی ملی بھگت کا جان بوجھ غلط دیا گیا۔ اعظم خان کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی نے سائفر ڈرامے کے ذریعے عوام میں ملکی سلامتی اداروں کے خلاف نفرت کا بیج بویا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر میرے سے 9 مارچ کو لے لیا اور بعد میں گھما دیا، منع کرنے کے باوجود ایک سیکرٹ مراسلے کو عوام میں ذاتی مفاد کے لیے لہرایا۔

  • سعودی عرب اور ایران کا  اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    سعودی عرب اور ایران کا اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے بعض امور پر سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین امیرعبداللہیان نے بتایا:’’میراسعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ یہ سمجھوتا ہوا ہے کہ اس مرحلے پر ہمیں بعض امور پرمختلف سیاسی نظریات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ تہران ایک مستحکم اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے جو دونوں اطراف میں اقتصادی خوش حالی کا باعث بنے گا۔اس طرح کی مشترکہ کوششوں سے الریاض کے ساتھ مفاہمت کے عمل مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں چین کی ثالثی میں سات سال کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے شہروں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل ہونے والے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد سے اتفاق کیا تھا۔

    حسین امیر عبداللہیان نے بتایا کہ سعودی عرب میں حال ہی میں مقرر کیے گئے ایرانی سفیر آیندہ دنوں میں الریاض میں اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ایران نے گذشتہ ماہ الریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولاتھا۔ تہران میں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا نظام الاوقات ابھی تک نہیں دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے اس سال حج کے بہ طریق احسن انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ فیصل کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے کسی بھی ’’معمولی مسئلہ‘‘کو فوری طور پر حل کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے ان مسائل کی نوعیت کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    گذشتہ ماہ سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل نے تہران کا تاریخی دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر ایرانی حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے اور سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔

  • 19 جولائی  ساغر صدیقی کا یوم وفات

    19 جولائی ساغر صدیقی کا یوم وفات

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ساغر صدیقی

    19 جولائی 1974: یوم وفات

    محمد اختر المعروف ساغر صدیقی جدید اردو ادب کے شاعر تھے،نئے زمانے کی شاعری کرتے تھے ،جس زمانے میں ساغر صدیقی نے شاعری شروع کی ،اس وقت جدید اور ترقی پسند ادب و شاعری کی جڑیں بہت گہری ہو چکی تھیں ،اس لئے ساغر کی شاعری میں جدیدت اور ترقی پسندیت نظر آتی ہے۔ساغر 1928 میں مشرقی پنجاب کے علاقے انبالہ میں پیدا ہوئے ،،ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ،ماں کا تعلق دلی اور باپ کا پٹیالہ سے تھا۔غریب گھرانے سے تعلق تھا ،اس لئے بچپن میں چند درجے ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔

    اس زمانے میں ان کے پڑوس میں ایک انسان رہا کرتے تھے جن کا نام حبیب حسن تھا ،عالم و فاضل انسان تھے ،اس لئے ساغر ان سے تعلیم و تربیت لیتے،کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر سات سے دس برس کے درمیان تھی ،اس وقت سے ہی انہوں نے مشاعروں میں شاعری پڑھنا شروع کردی ۔انبالہ میں غربت سے تنگ آگئے تو پندرہ برس کی عمر میں محنت و مزدوری کے لئے امرتسر چلے گئے ۔اب محنت مزدوری کرتے ،جہاں کام ملتا ،وہ سوجاتے ،لیکن شعر بدستور کہتے رہے ،اب چند غریب دوست تھے ،انہیں شعر سناتے ،اپنا تخلص ناصر حجازی رکھ لیا ،بعد میں تخلص بدلا اور ساغر صدیقی ہو گئے ۔

    سولہ سال کی عمر میں انیس سو چوالیس میں امرتسر میں اس بچے نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل پڑھی اور پھر کیا تھا ہر طرف سے بھرپور داد ملی ۔سمجھ لیں ساغر نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔یہی سے دنیائے ادب میں ان کی پہچان بننا شروع ہوئی ۔اب فنی سفر کا آغاز ہو چکا تھا ،مزدوری چھوڑ دی ،باقاعدہ شعر و شاعری شروع کردی ۔لطیف انور گرداسپوری سے شاعری کے حوالے سے تربیت حاصل کی ۔1947 میں ہندوستان تقسیم ہو گیا ،پاکستان کی تخلیق ہوگئی ،ساغر اب امرتسر سے لاہور آگئے ۔اب ان کی عمر 19 سال تھی ۔داتا کی نگری میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ان کا کلام اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونے لگا۔وہ مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گئے تھے ۔اب ساغر بیس سال کا تھا ،خوبصورت نوجوان ،جس کے لمبے سنہرے گھنگریالے بال تھے ،لمبا قد ،حسین آنکھیں ،کھلتا رنگ ،خوبصورت باتیں ،حسن و جوانی ،ناز و انداز ،یہ تھے ساغر صدیقی جنہیں جنہیں اردو شاعری کا شہزادہ کہا جاتا تھا ،وہ دنیائے ادب کے شہزادے بن گئے تھے ۔اب وہ بھارت اور پاکستان کے فلم سازوں کی فلموں کے لئے گانے لکھ رہے تھے ،وہ نغمے مشہور بھی ہورہے تھے ۔پچاس کی دہائی کے اوائل میں محمد رفیع نے ایک گانا گایا تھا جو بہت مقبول ہوا،گانا تھا ،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی ،مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ۔یہ ساغر کی عزت اور شہرت کا زمانہ تھا ۔1947 سے 1952 تک کا زمانہ ساغر صدیقی کا سنہری دور تھا ۔یہ زمانے انہیں کامیابی ،شہرت ،اور دولت کی بلندیوں پر لے جانے والا تھا ۔کاش ایسا ہوتا ،لاابالی طبعیت تھی ،لاہور میں رہنے کے لئے ایک گھر تک نہ بنایا انہوں نے شادی بھی نہیں کی ،انہیں کہا گیا کہ متروکہ جائیداد کا دعوی کرکے مفت گھر حاصل کر لیں ،کہا کہ وہ جائیدار ترک کرکے نہیں آئے تھے ،اس لئے گھر نہیں لیں گے ۔سسٹی ہوٹلوں میں رہتے تھے ،کرائے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ،کھانا بازار سے کہیں بھی مل جاتا ،کھا لیتے ،اپنا خیال کبھی نہ رکھا ۔پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،لیکن پھر حالات بدلنے لگے ،کہا جاتا ہے 1952 میں ایک ادبی مہانامے کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ شدید سردرد ہوا،درد سے نجات کے لئے معرفین کا کسی نے انجیکشن لگادیا ۔

    سردرد تو ختم ہو گیا ،لیکن نشے سے آشنا ہو گئے ۔اوپر سے بدقسمتی دیکھیں کہ جس دوست فوٹو گرافر کے ساتھ کرائے کے کمرے میں رہتے تھے ،وہ ہر قسم کا نشہ کرتا تھا ۔شراب ،افیون ،چرس ،بھنگ وہ سب نشے کرتا تھا ،ساغر بھی اسی راستے پر چل نکلے ۔ا سلئے ساغر شکستہ کھنڈر بنتے چلے گئے ۔اب ہوش و حواس میں شاعری کررہے تھے ،لیکن زمانے کی ستم ظریفیاں ان کا مقدر بن گئیں تھی۔دوستوں نے آنکھیں پھیر لی ،دوستوں کے ظلم وستم سہہ رہے تھے ۔انہیں محسوس کررہے تھے ،لیکن خاموش تھے ۔کبھی شکوہ نہیں کیا ۔اب ان کی شاعری دکھ کی آواز بن گئی تھی ۔ان کے کلام میں بہت نغمگی تھی ،اس لئے ان کے کلام کو جس نے بھی گایا وہ مشہور ہو گیا اور خوب دولت سمیٹی ،لیکن ساغر کی حالت بدترین تھی ۔عزیر میاں قوال کی گائی گئی مشہور قوالی،کون بشر ہے اللہ جانے ،ان کی تحریر کردہ ہے ۔اسی طرح نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ غزل تو سب نے سن رکھی ہوگی ،میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا ،یہ بھی ساغر صدیقی کی غزل ہے ۔استاد غلام علی نے تو ساغر صدیقی کے غزلوں کی مکمل کیسٹ ریلیز کی ۔

    ان تمام گلوکاروں کو معاوضے ملتے ،لیکن ساغر کو کوئی پیسہ نہ ملا ۔ریڈیو پر ساغر کے لکھے گانے چل رہے ہوتے اور ساغر لاہور کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہوتا ،یہ تھا وہ کرب جس کا وہ شکار تھے ۔اب وہ داستان عبرت بن گئے تھے ۔اب ساغر صدیقی نشے کی علت پوری کرنے کے لئے بلیک میل ہورہا تھا ،لوگ ان سے غزل اور نظم لکھواتے ،اور نشہ لیکر دیتے ،فلمساز ان کے گانوں سے پیسہ کمارہے تھے ،لیکن ساغر لاہور کی سڑکوں پر بدحال تھا ۔لوگ ان کے کلام کو جمع کرکے چھپوا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے ۔ساغر نظم اور غزل کا عظیم شاعر ہے ،جس نے کبھی بھی اپنی شاعری میں کسی فلسفے کی تبلیغ نہیں ،غم پسندی ،حسن و عشق ،ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ساغر نے وطن سے محبت کی خاطر غیر سرکاری قومی ترانہ بھی لکھا تھا ،وہ قومی ترانہ ایک زمانے میں سینما گھروں میں دیکھایا اور سنایا جاتا تھا ،بیس سال تک لوگ ساغر کو ایک ملنگ ،درویش ،مجذوب اور پاگل کہتے رہے ،لیکن ان کا کلام کہیں سے بھی کسی دیوانے کا کلام نہیں لگتا ۔بھاٹی،لوہاری،داتا دربار،میکلوڈ روڈ گوال منڈی میں وہ خون تھوک رہا تھا ،وہ جس نے عظیم گیت لکھے ،وہ اب مررہا تھا ،جانے کیسا سفر ہے میرا ،جہاں ہے منزل وہی لٹیرا ۔اب پڑھے لکھے لوگ ساغر کو نشے کی پوریا ،بھنگ ،چرس اور شراب اس شرط پر دیتے کہ وہ انہیں نظم یا غزل لکھ کردیں گے ،ساغر انہیں لکھ کر دیتا اور وہ اپنے نام پر چھپواتے ۔

    سب نے آنکھیں پھیر لی تھی ۔ساغر اب مکمل طور پر نشے کی پناہ میں تھا ۔وہ نوجوان جو حسین و جمیل تھا ،اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔جسم پر میلے کچیلے بدبودار کپڑے تھے ۔میلی سی چادر میں لپٹا یہ شاعر ننگے پاوں لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھوم رہا تھا ۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے ۔اور زمانے پر وہ مسکرارہا تھا ۔کہتے ہیں اسی زمانے میں ایک کتا بھی ان کا رفیق بن گیا تھا ،اب وہ جہاں جاتے ،وہ کتا بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔ایک حسین اور حساس شاعر اس دنیا میں ایک کتے کے ساتھ رہ رہا تھا ۔عمر اب 46 برس تھی ،دن تھا 19 جولائی سال تھا 1974 جب صبح لوگوں نے دیکھا کہ لاہور کی ایک سڑک کے کنارے پر ساغر کی لاش پڑی ہے ۔زمانے کے ظلم نے عظیم شاعر کو برباد کردیا ،وہ جو اپنی شاعری ترنم سے پڑھتا تھا ،وہ جو ہر دور کا شاعر ہے ،وہ جو خوش پوش نوجوان تھا ،وہ جو بوسکی کے ملبوسات پہنتا تھا ،وہ جو دلچسپ باتیں کرتا تھا ،اس کی لاش سڑک کنارے ملی ،یہ ہے ہمارا سماج جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اشر ف المخلوقات سمجھتے ہیں ۔وہ جس کا سینا امنگوں اور حوصلوں سے بھرا تھا ،اس سماج نے اسے سڑک کے کنارے جانور سے بھی بدترین موت دیدی ۔اس سماج نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا تھا ۔وہ اپنی زات میں سمٹتا چلا گیا اور دور ہو تا چلا گیا ،یہاں تک کے ایک آوارہ کتے نے اسے اپنا دوست بنا لیا تھا ۔کتے کو بھی انسانیت کی شناخت تھی ،لیکن انسانوں نے اسے کتے کی موت دی ۔سوال یہ ہے کہ وہ تو اپنی زات کو تسخیر کر گیا ،لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو ،

    بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ،
    ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے ،

    مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ،
    ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے ،

    اب کہاں ایسی طبعیت والے ،
    چوٹ کہا کر جو دعا کرتے تھے ،

    بکھری بکھری زلفوں والے
    قافلے روک لیا کرتے تھے ،

    آج گلشن میں شگوفے ساغر ،
    شکوے باد صبا کرتے تھے ۔

    میلی چادر ،نحیف جسم ،چپل سے محروم ،روٹی سے محروم ،دن رات سڑکوں کی خاک،نشے کی لعنت میں غرق،ہم نے ایسے کیسے ہونے دیا ؟کیا کبھی سوچا کہ ہم کتنے ظالم ہیں ؟جس کے شعر سینوں میں سنسنہاہٹ اور دلوں کو گداز بخشتے تھے ،وہ کتے سے بھی بدترین موت کا شکار ہو گیا ؟ساغر کا ایک شعر ہے کہ ۔۔

    چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں ،
    دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ،
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تحریر ‘ نامعلوم
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    گلوبل چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا. وزیر خارجہ

    وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے کرنا ضروری ہیں اور کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہر وقت تیار رہنا ہوگا کیونکہ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم کردار ادا کیا ہے جبکہ وزارت خارجہ میں انتظامی اصلاحات کے حوالے سے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری نے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے ساتھ اچھے روابط کے لیے اہم فیصلے ضروری ہیں، دنیا کے ساتھ برابری کی سطح پر اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ڈپلومیٹک سروس کے اصول و ضوابط پر پوری طرح عملدرآمد ضروری ہے۔

    وزیر خارجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی بھی گلوبل چیلنج سے نمٹنے کے لیے ہمیں ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا اور ملکی خارجہ پالیسی میں وزارت خارجہ کا اہم کردار ہوتا ہے جبکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی مشنز ملک کے لیے اہم کردار ادا کررہے ہیں، غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پالیسی میں نرمی کررہے ہیں علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت واضح ہے، ہم ہر ملک سے برابری کی سطح پر برادرانہ تعلقات کے خواہش مند ہیں‘ کوپ 27 کانفرنس میں لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے قیام کے لیے وزارت خارجہ کا کردار قابل قدر رہا، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے وزارت خارجہ نے اہم اہم کردارادا کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    تقریب میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہتری اورسیکیورٹی کے لیے بھی اہم کردار ادا کررہی ہے، جس کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وزارت خارجہ کے افسران پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، ٹیم ورک سے کسی بھی چیلنج سے نمٹا جاسکتا ہے۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ڈپلومیٹک سروس میں شامل ہونے والے نئے افسروں کو زبان و بیان کی تربیت حاصل کرنا چاہیئے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تیزی سے ترقی کرتی دنیا کے ساتھ ہمیں شامل ہونا ہے۔