Baaghi TV

Tag: pakistan

  • مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار

    مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے مشہور سفر نامہ نگار ہیں۔ اب تک پچاس سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی وجہ شہرت سفر نامے اور ناول نگاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈراما نگاری، افسانہ نگاری اور فن اداکاری سے بھی وابستہ رہے۔ مستنصر حسین تارڑ پاکستان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیب ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ بچپن میں قیام پاکستان کو دیکھنے کا موقع ملا ۔
    مستنصر حسین تارڑ کے والد رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔

    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ 01 مارچ 1939ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا جہاں سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ اُنھوں نے مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول میں تعلیم حاصل ک۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ اور یورپ کے دوسرے ممالک کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ برس وہاں گزارے اور ٹیکسٹائل انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرکے وطن واپس لوٹے۔

    ادبی و فنّی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے۔ متعدد سفر کیے۔ آج کل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ، راکھ (ناول)، خس و خاشاک زمانے اور اے غزال شب جیسے شہرہ آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ 1988ء میں صبح کی نشریات صبح بخیر کے نام سے شروع کیں تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ ریڈیو پروگرام کی بھی میزبانی کی ۔

    1957ء میں شوقِ آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گئی۔ (اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شائع ہوئی۔)۔ اس سفر کی روداد پر ناولٹ ”فاختہ“ لکھی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔

    ٹی وی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان لوٹنے کے بعد جب ان کے اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 2014ء میں ایکسپریس ٹی وی پر ”سفر ہے شرط“ کے نام سے سفر نامہ پروگرام بھی کر رہے ہیں۔ جیو ٹی وی پر شادی کے حوالے سے ایک پروگرام بھی کیا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ناول اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے جن میں قابل ذکر یہ ہیں :
    شہپر
    ہزاروں راستے
    پرندے
    سورج کے ساتھ ساتھ
    ایک حقیقت ایک افسانہ
    کیلاش
    فریب

    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    1969ء میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِس کتاب کو ملنے والی پزیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا ۔ 42 برسوں میں 30 سفرنامے شائع ہوئے۔ 12 صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔ ان کے چند نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں:

    نکلے تری تلاش میں
    اندلس میں اجنبی
    خانہ بدوش
    نانگا پربت
    نیپال نگری
    سفرشمال کے
    سنولیک
    کالاش
    پتلی پیکنگ کی
    شمشال بے مثال
    سنہری اُلو کا شہر
    کیلاش داستان
    ماسکو کی سفید راتیں
    یاک سرائے
    نیو یارک کے سو رنگ
    ہیلو ہالینڈ
    الاسکا ہائی وے
    لاہور سے یارقند
    امریکا کے سورنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکاپوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا

    اوائلِ عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے ”لنڈن سے ماسکو تک“ سے انھوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی۔ اس کے بعد ”نکلے تیری تلاش میں“ سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنے کے لیے ایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھے گئے۔ انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب، پُر مزاح، آسان اور سلیس تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی۔ منظر نگاری کرتے ہوئے وہ الفاظ کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے۔ ”نکلے تیری تلاش میں“ کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور اندلس میں اجنبی، خانہ بدوش، کے ٹو کہانی،نانگا پربت، یاک سرائے، رتی گلی،سنو لیک، چترال داستان، ہنزہ داستان، شما ل کے سفرناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پہنچے۔”غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف” ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کیے گئے ہیں۔”نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا سکتے ہیں ۔

    ناول نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سفرنامے کے میدان میں اپنا سکہ جما کر ناول نگاری کی جانب آ گئے۔ اولین ناول "پیار کا پہلا شہر” ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ راکھ اور “بہاؤ” کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً “بہاؤ” میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کرتا ہے۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”بہاؤ“ وادی سندھ کے ایک شہر کا احوال ہے جو ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ناول کی زبان انتہائی منفرد ہے اس میں سندھی، سنسکرت، براہوی اور سرائیکی زبان کے الفاظ جا بجا ملتے ہیں جس سے ناول کا طرزِ تحریر اور اسلوب منفرد ہو جاتا ہے۔ ”بہاؤ“ کی طرزِ تحریرو زبان کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک انوکھی تخلیق ہے بقول مصنف یہ ایک(Myth )متھ ہے۔ ”بہاؤ“ میں مستنصر حسین تارڑ ماہر بشریات Anthropoligist نظر آتے ہیں۔

    راکھ کو 1999ء میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ ’خس و خاشاک زمانے‘ ضخیم ناول ہے جس میں دو خاندانوں کی کئی نسلوں پر پھیلی داستان بیان کی گئی ہے۔

    ”اے غزال شب“ سوویت یونین کے زوال کے بعد، پھیکے پڑچکے سرخ رنگ کی کہانی ہے جس میں لینن کے مجسمے پگھلا کر صلیبیں بنائی جا رہی ہیں اور کرداروں میں اُکتاہٹ بڑھ رہے ہے۔ اکتاہٹ، جو ان میں واپس اپنے وطن آنے کی خواہش جگاتی ہے، وہاں قیام کرنے کی غرض سے نہیں کہ اب وہاں اُن کا اپنا کوئی نہیں، فقط نامعلوم میں جھانکنے کے لیے۔ اور جب وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں، تو شوکی جھوٹا سامنے آتا ہے۔

    ایک عجیب و غریب کردار جس کا تخیل گم شدہ چیذوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور قارئیں ناول کے چار کرداروں ہی کے زمرے میں آتے ہیں، اُس کی زبان سے سنتے ہیں۔ راکھ اور خس و خاشاک زمانے کی طرح یہ ناول بھی پاکستان کی مٹی سے جڑا ناول ہے جس کے کردار جاندار لیکن ماضی گزیدہ ہیں۔ خس و خاشاک زمانے بلا شبہ عظیم ناولوں کی فہرست میں شامل کرنے کے قابل ہے لیکن اے غزال شب بھی اگرچہ ضخامت میں قدرے مختصر ہے لیکن اسے بھی ایک ماسٹر پیس کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جو قاری تارڑ کے اسلوب سے آشنا ہیں انہیں اس ناول میں ان کا فن اپنے عروج پر نظر آئے گا۔ تارڑ نے ماسکو میں اپنے قیام کے دوران میں جن حالات و واقعات کا مشاہدہ کیا اور ماسکو کی سفید راتیں میں تحریر کیا اس کا عکس اگر چہ جا بجا نظر آتا ہے لیکن اس ناول میں انداز بیاں، گہرائی و گیرائی کا جواب نہیں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب آکے تارڑ کا فن اپنے کمال تک پہنچا ہے۔ اس ناول میں تارڑ کے کردار ماضی کے خوابوں کے اسیر اور زندگی کی لایعنیت سے تنگ آئے لوگ ہیں۔

    (1)بہاؤ
    (2)بے عزتی خراب
    (3)پیار کا پہلا شہر)
    (4)راکھ
    (5)قلعہ جنگی
    کالم نگاری
    اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں۔ ان کے کالموں کے مجموعہ مندرجہ ذیل ہیں:
    چک چک
    الو ہمارے بھائی ہیں
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    شطر مرغ ریاست
    تارڑ نامہ 1،2،3،4
    آج کل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقاعدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔.
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خانہ بدوش
    جپسی (ناول)
    اندلس ميں اجنبی
    پیار کا پہلا شہر
    نانگا پربت
    ہنزہ داستان
    شمشال بے مثال
    کے ٹو کہانی
    برفیلی بلندیاں
    سفر شمال کے
    گدھے ہمارے بھائی ہیں
    کالاش
    یاک سرائے
    دیو سائی
    چترال داستان
    کاروان سرائے
    الّو ہمارے بھائی ہیں
    نکلے تيری تلاش میں
    بہاؤ (ناول)
    راکھ (ناول)
    پکھیرو (ناول)
    سنو لیک
    نیپال نگری
    پتلی پیکنگ کی
    یاک سرائے
    دیس ہوئے پردیس (ناول)
    سیاہ آنکھ میں تصویر (کہانہاں)
    خس و خاشاک زمانے (ناول)
    اے غزال شب(ناول)
    الاسکا ہائی وے
    ہیلو ہالینڈ
    ماسکوکی سفید راتیں
    لاہور سے یارقند تک
    خطوط (شفیق الرحمٰن،کرنل محمد خان،محمد خالداختر)
    نیویارک کے سو رنگ
    امریکا کے سو رنگ
    آسٹریلیا آوارگی
    راکا پوشی نگر
    اور سندھ بہتا رہا
    15 کہانیاں
    تارڑ نامہ (1)
    تارڑ نامہ (2)
    تارڑ نامہ(3)
    تارڑ نامہ(4)
    تارڑ نامہ(5)

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مستنصر حسین تارڑ کی ادبی خدمات کے بدلے صدارتی تمغا حسن کارکردگی اوران کے ناول ”راکھ“ کو 1999 میں بہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا اور آپ کو 2002ء میں دوحہ قطر میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔

    متاثر کرنے والے لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔اردو میں قرۃالعین حیدر ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول ”آخری شب کے ہمسفر“ اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ ”برادرز کرامازوف“ کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمن کی کتاب ”برساتی کوے“ کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی ”میرا داغستان“ اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمن کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔

    تارڑ کہتے ہیں’’دوستوفسکی سے مَیں نے صبر سیکھا کہ کیسے لکھا جاتا ہے، کیسے کردار نگاری کی جاتی ہے۔ مَیں کوئی اوریجنل شخص نہیں ہوں بلکہ میرے اندر اُن بہت سے ادیبوں کی جھلک نظر آتی ہے، جنہیں مَیں نے پڑھا ہے اور جو آہستہ آہستہ مجھ میں سرایت کرتے گئے ہیں۔ آیا میرا اپنا کوئی اَنگ بھی بنا ہے یا نہیں، یہ مَیں نہیں کہہ سکتا۔ دوستوفسکی، چیخوف اور ٹالسٹائی کے بعد مَیں نے کافکا، کامیو اور کئی فرانسیسی ادیبوں کے ساتھ ساتھ جرمن ادیب ہرمن ہیسے کو بھی پڑھا، جن کے ناول ”سدھارتھ“ کو تو ایک بائبل کی طرح پڑھا جاتا ہے‘‘ ۔

    تاثرات و تبصرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے ناول جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست ”بہاؤ“ کا نام آتا ہے جووادئ سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہےاردو ادب کے مشہور ناول نگار عبداللہ حسین بہاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے- رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی "عبد اللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

    ” نکلے تری تلاش میں“ سفرنامہ 71ءمیں شائع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا: “ اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں! ”اندلس میں اجنبی“ پڑھ کر شفیق الرحمن نے کہا: ”تارڑ کےسفرنامےقدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!“

    اس کے علاوہ ”راکھ اورخس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی۔تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناول ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے، “خس و خاشاک زمانے“” کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے۔ جب کے ”پیار کا پہلا شہر“ اور ”قربت مرگ میں محبت“ مقبول عام ہیں۔ ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہر پڑھ نہ رکھا ہو۔ اس کے علاوہ ڈاکیا اور جولاہا، سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی، قلعہ جنگی، فاختہ اور اے غزال شب کے نام بھی ان کے ناولوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بقول عبداللہ حسین اے غزال شب اُن کا پسندیدہ ترین ناول ہے۔

  • خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد

    کوئٹہ : خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی-

    باغی ٹی وی : ایس ایچ او سول لائن مٹھا خان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق سول لائن تھانے کے علاقوں جناح روڈ ،کوئلہ پھاٹک اور دیگر مقامات پر خواجہ سرا رات بھر پھرتے نظر آتے ہیں ، جس کی وجہ سے کافی مسائل جنم لے رہے ہیں۔

    ایس ایچ او سول لائن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سول لائن تھانے کی حدود میں خواجہ سرا ؤں کے رات 12 بجے کے بعد گھر سے نکلنے پر پابندی عائدکردی گئی  ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 12 بجے کے بعد شہر میں پھرنے والے خواجہ سراؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ خواجہ سرا ؤں کوبے نظیر کفالت پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کو ہر سہ ماہی میں 7000 روپے دیے جائیں گے۔

    اس موقع پر کراچی آرٹس کونسل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر شازیہ عطا مری نے کہا تھا کہ خواجہ سرا ملک کے پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔خواجہ سراؤں کے رہنما آواز اٹھانے پر تحسین کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا نادرا میں اپنا رجسٹریشن کروائیں۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار بڑھا رہے ہیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کیلئے بلدیات میں نشستیں مختص کیں۔ خواجہ سرا لوکل گورنمنٹ کا حصہ ہوں گے سرکاری ملازمتوں میں خواجہ سراؤں کا کوٹہ بڑھایا گیا ہے-

  • اسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ ،25 افراد گرفتار

    اسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ ،25 افراد گرفتار

    اسلام آبادجوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ ،25 افراد گرفتار

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ یہ مقدمہ 353/7ATA اور دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے. ترجمان نے مزید کہا کہ ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ ایک منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ اور اس میں ملوث 25 افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں جبکہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
    مزید یہ پڑھیں؛ مریم نواز کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ کے ججز پر تنقید،چیف جسٹس کو خط ارسال
    زمان پارک سے عمران خان کے جاتے ہی سیکورٹی بیریئر ہٹانے کا کام شروع
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی

    ترجمان نے بتایا کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ جبکہ سیاسی جماعت کے رہنما ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو نقصان کے لئے اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ اور جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی

    عمران خان کی 3 مقدمات میں ضمانت منظور جبکہ ایک میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتار

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اسلام آباد میں 3 مقدمات میں ضمانتیں ہوگئیں ہیں جب کہ ایک میں ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفترای جاری کردیئے گئے ہیں۔  جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے فوجداری کارروائی کے کیس کی سماعت بھی آج بروز منگل 28 فروری کو ہوئی۔ آج ہونے والی سماعت میں عدالت نے وقفے کے بعد عمران خان کی آج حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

     

    سماء کے مطابق الیکشن کمیشن کے باہر پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران اپنے اوپر ہونے والے حملے پر محسن شاہنواز رانجھا نے عمران خان کے خلاف اقدام قتل کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے عمران خان کو عبوری ضمانت کے لیے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کے حکم دیا۔عبوری ضمانت 9 مارچ تک کےلیے منظوری کی گئی ہے۔

     

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس سے متعلق فوجداری کیس کی سماعت بھی ہوئی۔ عمران خان کے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور سماعت 5 روز کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا کی جبکہ دوران سماعت عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان ابھی لاہور سے نکلے ہیں، انہیں جوڈیشل کمپلیکس کی 2 عدالتوں میں پیش ہونا ہے، وہ آج اس عدالت میں پیش نہیں ہو سکیں گے۔

     

    عمران خان کے وکیل نے سماعت 5 روز کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تو جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوں تو ادھر کے لیے ٹائم نہیں رہے گا، یہ کونسا طریقہ ہے؟ ادھر فرد جرم عائد ہونا ہے ادھر آجائیں، فرد جرم عائد ہوجائے پھر چلے جائیں۔ الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن نے بھی سماعت ملتوی کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کا مسئلہ نہیں عمران خان کہاں سے آرہے ہیں، یہ عدالت میں پیش ہی نہیں ہونا چاہتے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ہم اس کیس پر ہر دن سماعت کے لیے تیار ہیں، عمران خان دوسری عدالتوں میں پیش ہورہے تو اس عدالت میں کیوں نہیں؟۔ عدالت نے کیس کی سماعت 7 مارچ تک ملتوی کردی ہے۔ قبل ازیں عدالت نے عمران خان کے پیش نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ واضح رہے کہ 21 اکتوبر 2022 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر کردہ توشہ خانہ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے متفقہ فیصلہ سنایا تاہم فیصلہ سناتے وقت 4 ارکان موجود تھے کیونکہ رکن پنجاب بابر حسن بھراونہ طبعیت خرابی کے باعث آج کمیشن کا حصہ نہیں تھے۔ عمران خان کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ خواجہ حارث اس کیس میں عمران کے وکیل ہیں، وہ آج ڈسٹرکٹ کورٹ نہیں آسکتے، اگر عمران خان عدالتی وقت میں جوڈیشل کمپلیس سے نکل آئے تو ہم پیش ہو جائیں گے۔ عدالت نے توشہ خانہ سے متعلق الیکشن کمیشن فوجداری کارروائی کیس میں وقفہ کرتے ہوئے سماعت ساڑھے تین بجے تک ملتوی کی تھی۔ علاوہ ازیں توشہ خانہ ریفرنس فیصلے کے بعد احتجاج کے تناظر میں عمران خان کے خلاف اقدامِ قتل کی دفعہ کے تحٹ تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی نااہلی کے خلاف احتجاج کرنے پر سابق وزیر اعظم، اسد عمر اور علی نواز سمیت 100 سے زائد کارکنان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    عمران خان کی اسلام آباد کے بینکنگ کورٹ آمد پر جج رخشندہ شاہین نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کا آغاز ہوا تو عمران خان کے وکیل کی جانب سے درخواست ضمانت پر صفائی پیش کی گئی۔ عدالت نے درخواست پر کچھ دیر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے عمران خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ جبکہ اس موقع پر حامی وکلا اور کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی، جس پر جج نے بار بار کمرہ عدالت میں خاموش رہنے کا بھی کہا گیا۔ قبل ازیں عمران خان کی پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی جوڈیشل کمپلیکس میں موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی عمران خان کے استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار تھے۔

    دوسری جانب سنگجانی میں لانگ مارچ کے دوران توڑ پھوڑ کے مقدمے میں عمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی پیش ہوئے۔ اس موقع پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد نے عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت میں عمران خان نے آج 28 فروری کو ہی درخواست ضمانت دائر کی تھی، تھانہ سنگجانی میں درج مقدمے میں عمران خان کی عبوری ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکے کے عوض 9 مارچ تک منظور کی گئی ہے۔

  • مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    مریم نواز کیخلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں مریم نواز کے خلاف خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے توہین عدالت سے متعلق درخواست گزاروں کو عدالتی فیصلے پیش کرنے کی ہدایت کر دی، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کے وکیل کو کل مزید دلائل کے لیے طلب کرلیا،لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے پاس کس طرح براہ راست توہین عدالت کی کارروائی کا اختیار ہے،کیا یہ عدالت سپریم کورٹ کے جج کی توہین کے بیان پر کارروائی کا اختیار رکھتی ہے؟کس آرڈر کی توہین ہوئی،کس قانون کے تحت آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ؟

    دوسری جانب پی ٹی آئی نے شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت سپریم کورٹ میں چیلنج کر دی ، تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کیخلاف درخواست دائر کر دی ہے،درخواست میں شہباز شریف اور مریم نواز کی بریت کے فیصلےکو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ، درخواست سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اعظم سواتی نے سپریم کورٹ میں دائر کی نیب بریت کے خلاف اپیل فائل نہیں کررہا اس لیے پی ٹی آئی اپیل فائل کررہی ہے،

  • ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    ملزم عمران خان پیش ہو کر حاضری لگا دیں گے، دلائل کا آغاز کریں،عدالت کی وکیل کو ہدایت

    بینکنگ کورٹ اسلام آباد،فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت درج ممنوعہ فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی

    عمران خان کے وکیل سلمان صفدربینکنگ کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی حاضری پیش ہونے پر لگا لیں گے آپ دلائل کا آغاز کریں ،وکیل سلمان صفدرنے کہا کہ مجھے کچھ ٹائم درکار ہے کیس کا ریکارڈ لے کر آؤں، عمران خان کے وکیل نے ایک گھنٹے کا وقت مانگ لیا

    جج رخشندہ شاہین نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ دلائل کا آغاز کریں ،پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیا عدالت نے بھی کبھی کسی ملزم کا انتظار کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کو عدالت سے 8 بار حاضری سے استثنیٰ ملا،عمران خان ابھی پہنچے نہیں، کچھ ہی دیر میں عدالت پہنچ جائیں گے،عمران خان کی جانب سے عدالت کے مناسب موقع دینے کو سراہتا ہوںعمران خان کی میڈیکل رپورٹ پر ہر سماعت میں اعتراض اٹھایا جاتا رہا، عمران خان کی میڈیکل رپورٹس پر سوالات اٹھائے گئے، عمران خان کی عمر 71 برس ہے اس عمر میں ریکوری کا پروسس سست ہوتا ہے الزام لگایا گیا کہ عمران خان اپنے پرائیویٹ اسپتال کی رپورٹ پیش کرتے ہیں،شوکت خانم عمران خان کا اسپتال نہیں ہے، انہوں نے کئی سال پہلے وہ بنایا تھا،

  • پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    پشاورہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا اسمبلی انتخابات کیس کی سماعت 2 مارچ تک ملتوی کر دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن شیڈول سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کرانا ہے ،جس نے نہیں کرانا وہ جواب دیں،ہم سپریم کورٹ کے آبزرویشن پر بات نہیں کر ینگے ،ہوسکتا ہے سپریم کورٹ میں کیس آج فیصلہ ہوجائے ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ رپورٹ تیار ہے،عدالت کہیں تو آج ہی جمع کردینگے،عدالت نے کہا کہ ہم نے اپنی تسلی کیلئے کیس کو سننا ہے،سب کو سنے بغیر فیصلہ نہیں دے سکتے،

    واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کی جا چکی ہے، نگران حکومت بھی بن چکی ہے، تا ہم ابھی تک الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ، تحریک انصاف نے الیکشن کا وقت لینے کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے،سپریم کورٹ میں بھی درخواست زیر سماعت ہے، آج بھی عدالت عظمیٰ کیس کی سماعت کر رہی ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ آج ہی درخواست پر فیصلہ دیں گے

  • شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست،فل بینچ بنانے کی سفارش

    لاہور ہائیکورٹ،شہباز گل کا نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے معاملے پر فل بینچ بنانے کی سفارش کر دی ،کیس کی فائل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو ارسال کر دی گئی شہباز گل نے نام ای سی ایل سے نکلوانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے

    درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پاکستانی شہری ہیں ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے عدالتوں نے مقدمات خارج کیے لیکن وزارت داخلہ نے ان کا نام غیر قانونی طور پر ای سی ایل میں ڈالا اس اقدام نے ان کے مؤکل کے انسانی حقوق کو روک دیا ہے شہری آزادیوں کا حق آئین کے تحت محفوظ ہے

    واضح رہے کہ شہباز گل کے خلاف پاکستان کے کئی شہروں میں مقدمات درج ہوئے تھے اور شہباز گل کو گرفتار بھی کیا گیا تھا تا ہم شہباز گل کو بعد میں ضمانت پر رہائی ملی

    جیلیں تیار کھلاڑی فرار

    شیخوپورہ سے ہمیں اسلام آباد لا کر چھوڑ دیا گیا، خاتون کی دکھ بھری کہانی

    بڑے اسکولز میں کس طرح کے بگڑے بچے پڑھتے ہیں؟

    فاٹا کے جرگوں میں لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ 15 لاکھ میں ڈیل ڈن

    مردانہ کمزوری کی حقیقت کیا؟ہم ایسے سوالات کیوں نہیں اٹھاتے؟

  • 27 فروری:آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ:اسکائی ونگزایوی ايشن کا پاک فضائیہ کےشاہینوں کو زبردست خراج تحسین

    27 فروری:آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ:اسکائی ونگزایوی ايشن کا پاک فضائیہ کےشاہینوں کو زبردست خراج تحسین

    کراچی:27 فروری 2019 کو2 بھارتی طیارے گرانے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرنے پر آج کے دن کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے نام سے یاد رکھا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سےقوم پاک فضائیہ کے شاہینوں کے اس مشن اورشاندارفتح پرسلام اورخراج تحسین پیش کرتی ہے

     

    اس تاریخی دن کے موقع پر پاکستان کی صف اول کی ہوابازی کی بنیادی اور مرکزی درس گاہ اسکائی ونگز ایوی ايشن پاک فضائیہ کے شاہینوں کی طرف سے بھارتی غرور کوخاک میں ملانے اوروطن پاک کی سرحدوں‌کی حفاظت کرنے پر آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کوسرانجام دینے والے غازیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کرتی ہے

    27 فروری کے اس یادگاردن کے موقع پراسکائی ونگزایوی ایشن کےچیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے حسب روایت افواج پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کےہیروز کو زبردست خراج پیش کرنے کے لئے ایک بہت ہی منفرد اورقابل رشک اندازاپنایا ہےجس نے 27 فروری 2019 کے دن کی یاد تازہ کردی ہے ، عمران اسلم خان نے سیسنا جہاز کوایسا پینٹ کیا ہےکہ جس سے اس دن کوہونے والے اس واقعہ کا سارا منظرآنکھوں کے سامنے آجاتا ہے

    اس حوالے سے اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے سیسنا جہاز پر بھارت کے پکڑے گئے ونگ کمانڈر ابھی نندن کی تصویر بناکر بھارت سے پوچھا ہے کہ ابھی نندن نے آپ کوبتایا ہوگا کہ پاکستان کی چائےکتنی مزیدار اورشاندار تھی

    اس موقع پرصحافی کے ایک سوال کے جواب میں جس میں وہ پوچھتے ہیں کہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ ابھی نندن کوجب پاک فضائیہ کی طرف سے بڑے احترام کے ساتھ چائے پیش کی گئی توابھی نندن نے چائے پیتے ہوئے کہا کہ چائے توبہت شاندارہے

     

    مگرجوآپ نے یہ لکھا ہے کہ شاندارچائے کا”ایک کپ اور”تواس کا کیا مطلب ہے؟

    اس پراسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھاکہ وہ ابھی نندن اوربھارتی فضائیہ کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگردوبارہ ایسی غلطی کی توپھرمنہ توڑجواب ملے گا اورپھرابھی نندن کی طرح شاندارچائے کے اور کپ بھی پیش کیے جائیں‌گے ،ہم اپنے دشمن کے ساتھ بھی بڑے احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں مگرپاکستان کے دشمنوں کو ایسی حرکتوں سے باز رہنا چاہیے، اس پراسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا انٹریولینے والے صحافی نے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کوبہت پسند کیا

    اسکائی ونگز ایوی ایشن چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے 27 فروری کے دن کی مناسبت کے‌حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیسنا جہاز کو ایک بار کینوس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ طیارہ 27 فروری 2019 کے پاک بھارت تنازعے کی تصویر کشی کرتا ہے

    27 فروری 2019 کے دن کی اس تاریخی فتح کے بارے میں عمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ اس دن وطن پاک کے شاہینوں اورہمارے محافظوں نے دو ہندوستانی لڑاکا طیاروں کو اس وقت مار گرایاجب بھارتی ایئرفورس کےان جنگی طیاروں نے پاکستان کی فضائی حدود میں گھسنے کی کوشش کی۔

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ اسکائی ونگز کا سیسنا 152 ٹرینر ہوائی جہاز جس کو تربیت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے قوم کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ دشمن کوہمیشہ منہ توڑ جواب دیا جائے گا اوراس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کےلیے کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا

     

    عمران اسلم خان نے اس موقع پر پاک فضائیہ اورپاک فوج کے تمام شاہینوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ہیروز کی عزت کرتے ہیں اوردنیا کوبتا دینا چاہتے ہیں کہ پوری قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرنے آج کے اس تاریخی دن کی مناسبت سے سیسنا جہازکوایک خاص رنگ اورایک خاص جہت دینے کے حوالے سے بتایا کہ جہاز پر ایم ایم عالم اور حسن صدیقی کی تصاویر پینٹ کی گئی ہیں،جہاز پر بنی پینٹنگ میں 1965اور2019 میں ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں کو مار گرانے کے دو واقعات کی علامتی عکاسی کی گئی ہے۔

    عمران اسلم خان نے بتایا کہ جہاز پر کشمیر کی وادیوں کو پاکستان اور کشمیر دونوں کے جھنڈوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس دن کی مناسبت کے‌حوالےسے یہ بات عالمی برادری کوگوش گزارکرنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا پُرامن حل نکالا جائےاورخطے کوکسی بھی تنازعے سے دوررکھا جائے

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے پرامن کوششوں کے باوجود کشمیر پر استصواب رائے کے لیے اقوام متحدہ کی 05 جنوری 1949 کی قرارداد پر عمل تاحال زیر التوا ہے،جس سے کشمیریوں‌ کی بے چینی میں‌مسلسل اضافہ ہورہا ہے اورخطے میں دوجوہری طاقتیں تصادم کی طرف بڑھ رہی ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری نے دوہرامعیاراپنا رکھا ہے ، کشمیرپرمجرمانہ خاموشی ہے جبکہ دوسری طرف مشرقی تیمور کے بارے میں اقوام متحدہ کی سپریم کورٹ کی 1999 کی قرارداد 1264 پر بہت تیزی سے عملدرآمد کیا گیا اوردیکھتے ہی دیکھتے مشرقی تیمور کو سوڈان سے الگ کردیا گیا

     

     

    https://twitter.com/ResptectAlways/status/1630103983779110912

    اسکائی ونگز ایوی ایشن کے چیف ایگزیکٹوآفیسرعمران اسلم خان نے آخر میں سیسنا طیارے پر کیئے گئے پینٹ کو امن اور محبت کا نام اورپیغام قرار دیا ہے اور یہ بھی پیغام دیا کہ ہم توامن وبھائی چارے کے خواہاں ہیں اورہمیشہ یہی مقصد رہا ہے بھارت بھی پاکستان کی امن کی کوششوں سے فائدہ اٹھائے اورخطے کوکسی بھی حادثے سے بچانے کےلیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے ، ان کا کہنا تھا کہ اسکائی ونگز کے سیسنا طیارے پر دونوں علامتیں پینٹ کی گئی ہیں یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا مظہرہیں کہ پاکستان امن اورخطے میں سلامتی کا خواہاں ہے ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگربھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا توپھر پاکستان کی طرف سے پہلے سے بھی زیادہ سخت جواب آئے گا ، ابھی نندن سے پوچھیئے کہ پاکستان کے خلاف جارحیت پرکیسا جواب ملا ، ابھی نندن سے یہ بھی پوچھیئے گا کہ باوجود پاکستان کے خلاف جارحیت کے پاکستان نے کس طرح ابھی نندن سے سلوک کیا کہ وہ ابھی تک پاکستان کی چائے نہیں بھولا

    یاد رہےکہ اسکائی ونگز کے اس ہوائی جہاز کو پینٹ مشہور ٹرک آرٹسٹ حیدر علی نے کیا ہے،

  • عمران خان کو سازش کرکے لانا سازش آئین کیخلاف کام تھا. بلاول بھٹو زرداری

    عمران خان کو سازش کرکے لانا سازش آئین کیخلاف کام تھا. بلاول بھٹو زرداری

    عمران خان کو سازش کرکے لانا سازش آئین کیخلاف کام تھا. بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عمران خان کو بطور وزیراعظم لانےکی سازش آئین کے خلاف تھی۔ کراچی میں آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئین بننے کے بعد سے اس پر مسلسل حملے ہوتے رہے ہیں جبکہ کچھ قوتوں سے برداشت نہیں ہوتا کہ صوبوں اور عوام کو حق ملے۔

    علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش تھی ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کرکام کرے، پیپلز پارٹی نےجو کام شروع کیا، ن لیگ نے انہیں مکمل کیا، اس تسلسل کو توڑنے کے لیے ایک مک مکاؤ کیاگیا جبکہ عمران خان کو بطور وزیراعظم لانے کی سازش آئین کے خلاف تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار اور جاوید علی کے وکیل کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آ گئی
    پی ایس ایل:ملتان سلطانز کے خلاف کراچی کنگز کی شاندار فتح

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک شخص نے عدلیہ، میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ کو تقسیم کردیا ہے جبکہ اب وہ شخص توچلاگیا مگر اسے لانے والی سوچ وہیں ہے اور 3 سال کے نقصان کی مشکلات معلوم نہیں کب تک بھگتیں گے۔