Baaghi TV

Tag: pakistan

  • عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے. وکیل پی ٹی آئی

    تحریک انصاف کے سینئر وکیل شعیب شاہین نے کہا ہے کہ صدر کے پاس اختیار ہے یا تو اس بل کو پاس کر دیں یا بغیر دستخط کیے واپس بھیج دیں۔ جبکہ شعیب شاہین نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کہ صدر نے ٹویٹ سے واضح کیا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کو واپس بھجوایا جائے، صدر مملکت کےا سٹاف نے انہیں بتایا بل واپس بھجوا دیئے گئے ہیں، صدر مملکت نے بل پر دستخط ہی نہیں کیے تھے، پہلی بات یہ کہ آرٹیکل 75 کی رو سے یہ خلاف آئین ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا ہے کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس ایکٹ کو واپس لیا جائے، صدر پاکستان نے اپنے ٹویٹ کےذریعے واضح کیا عملے نے خود ہی دستخط کر کے بل پاس کر دیئے،اس طرح قانونی طور پر ان دونوں بلوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ بل پاس کروانے یا واپس بھجوانے کا طریقہ آئین میں واضح ہے، پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کی مشاورت سے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے۔

    تاہم انکا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کی تصدیق کے بغیر بل پاس کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے، اصل سائفر وزارت خارجہ کے پاس ہوتا ہے ، دوسری کاپی نہیں ہوتی۔ شعیب شاہین نے مزید کہا ہے کہ سائفر کوڈڈ شکل میں وزیراعظم، صدر اور آرمی چیف کو بھیجا جاتا ہے، اس کے بعد کیبنٹ کے پاس سائفر کو ڈی کلاسیفائیڈ کیا جاتا ہے، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اس سائفر پر ڈی مارش کا حکم دیتی ہے۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    جڑانوالہ واقعہ؛ ذمہ داران کو نشان عبرت بنایا جائے گا۔ عامر میر

    صوبائی نگران وزیراطلاعات عامر میر کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا۔ جبکہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت ایک چرچ میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم کیا گیا۔

    نگران وزیراطلاعات عامر میر نے اس بارے میں بتایا کہ جڑانوالہ واقعہ کے ذمہ داران کو ہر قیمت پر نشان عبرت بنایا جائے گا، متاثرہ 94 خاندانوں کو اگلے 48 گھنٹوں میں 20 لاکھ روپے فی کس معاوضہ ادا کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں عامر میر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ محسن نقوی کی ہدایت پر متاثرہ دو چرچوں کی بحالی اگلے چند دنوں میں مکمل ہوجائے گی، دیگر متاثرہ چرچوں کی مرمت کا کام بھی جلد مکمل کیا جاے گا جبکہ نگران وزیراعلیٰ 48 گھنٹوں میں دوبارہ جڑانوالہ کا دورہ کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں، سازش کے پیچھے موجود اصل کرداروں کو جلد بے نقاب کیا جائے گا اور زیادتی کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کیا جائے گا۔

  • صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے.  خرم دستگیر

    صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے. خرم دستگیر

    مسلم لیگ (نواز) کے رہنما خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر کے پاس بل واپسی کا آپشن نہیں ہے، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ بل سے متعلق آئین بہت واضح ہے اور صدر بل کو کسی بھی وجوہات کے ساتھ واپس کریں گے، صدرمملکت کے پاس کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر نے رضا مندی دینی یا وجوہات کے ساتھ واپس کرنا ہے، صدر مملکت نے تیسرا آپشن ڈھوندنے کی کوشش کی ہے علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں بہت سی چیزوں کی بے توقیری ہوچکی ہے، عوام کے نمائندوں کا پاس کیا ہوا بل کوئی کاغذ کا ٹکرا نہیں ہے۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ صدر نے پارلیمنٹ کو توقیر کرنا ہوتی ہے، اس معاملے پر آئینی اور قانونی ماہرین رائے دے سکتے ہیں، صدر نے ابہام پیدا کرکے آئین سے روگردانی کی ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی نے کہا کہ صدر بل بغیر ریمارکس کے واپس نہیں کرسکتے، صدر اگر بل سے متفق نہ تھے تو یہ ریمارکس ڈالنے چاہیے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ بل پر کوئی دستخط ضرور موجود تھا جس کی بنیاد پر قانون بنایا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سے دستخط تھے، بغیر دستخط کے قانون کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعجب کی بات ہے صدر کہتے ہیں میں نے دستخط نہیں کیا، لیکن یہ بل دستخط کے ساتھ پہنچ گیا اس میں اسٹاف کا کیا قصور ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    جسٹس (ر) شائق عثمانی نے کہا کہ صدر کہتے ہیں میرے دستخط نہیں تو اس کا ثبوت ہونا چاہیے، صدر کے دستخط کی تصدیق ہونی چاہیے، یہ ایکسپرٹ ہی کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ثابت ہو جاتا کہ دستخط جعلی ہے تو آگے قانونی کارروائی ہوسکتی ہے، جب تک دستخط کے حوالے سے کوئی بات ثابت نہیں ہو جاتی تو یہ قانون رہے گا۔

    قانونی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے جسٹس (ر) شائق عثمانی کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے آرٹیکل 75 کے تقاضے پورے نہیں کیے، سب سے اہم بات یہ ہے صدر بغیر ریمارکس کے بل واپس نہیں بھیج سکتے۔ جبکہ انھوں نے کہا کہ لگتا ہے صدر نے پارٹی کے فائدے کے لیے یہ قدم اٹھایا، کسی نے صدر کو یہ غلط ایڈوائس دی، صدر نے اس ٹوئٹ سے اپنی پوزیشن کو متنازع بنایا ہے۔

  • سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    سعودی وزیر حج وعمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ 4 روزہ دورے پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جبکہ سعودی وزیر حج و عمرہ ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں اور نائب وزراء حج عمرہ، سیاحت، سربراہ سعودی ایئرلائنز اور سعودی ایوی ایشن کے نمائندے بھی وفد میں شامل ہیں، نیواسلام آبادائیرپورٹ پرنگران وزیرمذہبی امور انیق احمد نےوفد کا استقبال کیا۔

    ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق ڈاکٹر توفیق حرمین الشریفین کےانتظامی بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں جبکہ سعودی وزیر حج وعمرہ دورہ پاکستان کے دوران پاکستانی حکام سے حج اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے تاہم ڈاکٹرتوفیق بن فوزان الربیعہ اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ، نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے ترجمان محمد عمر بٹ نے عرب نیوز کو بتایا کہ سعودی وزیر برائے حج و عمرہ اور ان کے وفد کا دورہ بہت اہمیت کا حامل ہے اور وہ ریاست کے مہمان ہوں گے۔ان کے دورے میں حج اور عمرہ زائرین کو سہولتیں مہیّا کرنے اور طریق مکہ منصوبے کو پاکستان کے دیگر شہروں تک توسیع دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں انھوں نے بتایا کہ سعودی وزیر کی قیادت میں سعودی محکمہ شہری ہوابازی، ایئر لائنز اور دیگر محکموں کے سربراہان پر مشتمل وفد بھی پاکستان آرہا ہے اور ان کا دورہ مذہبی سیاحت، شہری ہوا بازی اور ایئرلائنز کے لیے تعاون بڑھانے کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جبکہ یادرہے کہ سعودی عرب نے 2019ء میں پاکستان اور چار دیگر ممالک میں طریق مکہ اقدام متعارف کرایا تھا۔اس کے تحت عازمین حج کے روانگی کے ہوائی اڈوں پر حج ویزا، کسٹمز اور صحت کی ضروریات سے متعلق خدمات مہیا کی گئی تھیں۔اس طرح ان کی مملکت میں آمد پر وقت کی کافی بچت ہوئی تھی اور انھیں ہوائی اڈوں سے براہ راست ان کی جائے قیام ہوٹلوں میں پہنچایا گیا تھا۔ رواں سال اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر26 ہزار سے زیادہ پاکستانی عازمین حج نے اس منصوبے سے فائدہ اٹھایا۔

    پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے بتایا کہ مستقبل میں حج انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے سعودی وزیر کے دورے کے موقع پر مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر بھی دست خط کیے جائیں گے۔نیز نئی مردم شماری کے تحت پاکستان کی آبادی کے مطابق حج کوٹا بڑھانے کی بھی بات کی جائے گی اور اگر وہ (سعودی وفد) راضی ہوجاتے ہیں تو نئی مردم شماری کی بنیاد پر پاکستان کا حج کوٹا دنیا میں سب سے زیادہ ہوگا۔ سعودی وزیر برائے مذہبی امور اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کے علاوہ صدرعارف علوی ،نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے بھی ملاقات کریں گے۔ سعودی وفد حج، عمرہ اور مذہبی سیاحت سے وابستہ افراد سے بھی ملاقات کرے گا۔واضح رہے کہ پاکستان سے گذشتہ کئی سال سے عمرہ کے لیے حجاز مقدس جانے والے زائرین کی شرح سب سے زیادہ ہے اور پاکستان حجاج کرام کی تعداد کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔

  • جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش  ملزم گرفتار

    جی ایچ کیو حملہ کیس کا روپوش ملزم گرفتار

    راولپنڈی میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات اور جنرل ہیڈ کوارٹر پر حملے کے کیس میں نامزد ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی پولیس کے مطابق 9 مئی کے واقعات اور جی ایچ کیو پر حملے کے کیس میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل 18 سجاد حیدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، ملزم 9 مئی کو جی ایچ کیو پر حملے کے بعد سے روپوش تھا ۔

    جبکہ پولیس نے بتایا ہے کہ حملے کا مقدمہ تھانہ نیوٹاؤن میں دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج ہے اور ملزم کو کیس کی تفتیش کیلئے تھانہ نیوٹاؤن منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ خیال رہے کہ سابق صوبائی وزیر راجہ راشد حفیظ بھی نامزد مرکزی ملزمان میں شامل ہیں تاہم انہیں تاحال گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    یاد رہے کہ اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں پیش کی گئی پولیس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حسان نیازی جناح ہاوس حملہ کیس کے مرکزی ملزم ہیں انہیں ملٹری ٹرائل کے لئے فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ملزم کے وکیل فیض اللہ نیازی نے کہا کہ حسان نیازی کو عدالت نے اپنے پاس طلب کیا تھا، تھانہ سرور روڈ پولیس نے حسان نیازی کو ازخود گرفتار کرکے ملٹری عدالت کےسپرد کردیا ہے۔

    جبکہ گزشتہ دنوں چیئرمین پی ٹی آئی کے بھانجے حسان نیازی کے والد حفیظ اللہ نیازی نے بیٹے کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف اور بازیابی سے متعلق لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے حسان نیازی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے جواب طلب کیا تھا۔

  • صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل  قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل قانون بن جاتا. نگران وزیراطلاعات

    نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احمد عرفان اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان آرمی امینڈمنٹ بل 27 جولائی کو سینیٹ نے پاس کیا تھا اور یہی بل 31 جولائی کو قومی اسمبلی نے بھی پاس کیا اور پھر یہ بل ایوان صدر کو دو اگست کو موصول ہوا تھا جبکہ انہوں نے بتایا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل قومی اسمبلی نے پہلی اگست کو پاس کرکے سینیٹ کو بھیجا لیکن سینیٹ نے کچھ اعتراضات لگا کر واپس قومی اسمبلی میں بھیج دیا جسے دور کرکے قومی اسمبلی نے 7 اگست کو منظور کیا اور اسکے بعد یہ بل صدر مملکت کو بھیجا گیا جو 8 اگست کو انہیں موصول ہوا تھا.

    احمد عرفان اسلم کے مطابق قانونی پوزیشن یہ ہے کہ آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت جب کوئی بل صدر مملکت کے پاس منظوری کیلئے بھیجا جاتا ہے تو ان کے پاس دو اختیارات ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس بل پر اپنی رضامندی دے دیں اور وہ قانون بن جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ بل پر اپنی آبزرویشنز تحریری صورت میں واپس بھیجیں تاکہ مجلس شوریٰ ان رہنمائی پر غور کرسکے۔

    تاہم ان کے مطابق آرٹیکل 75 کے تحت کوئی تیسرا اختیار نہیں ہے، اور یہ دونوں اختیارات استعمال کرنے کیلئے قانون میں ٹائم لمٹ 10 دن لکھی گئی ہے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کے پاس 10 دن تھے، ماضی بعید اور ماضی قریب میں صدر مملکت نے کئی مرتبہ 10 دن کی ٹائم لمٹ پر عملدرآمد کیا۔ نگراں وزیر قانون نے کہا کہ صدر مملکت نے 10 دن میں نہ تو بل پر دستخط کیے اور نہ مشاہدات درج کرکے واپس بھجوائے، صدر 10 دن میں کوئی فیصلہ نہیں کرتے تو بل خودبخود قانون کاحصہ بن جاتا ہے۔. علاوہ ازیں ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر آئینی سربراہ ہیں اور ان کی بہت تعظیم ہے، صدر کو آئینی تحفظات حاصل ہیں، صدر کا ریکارڈ لینے جیسی کوئی حرکت ہم نہیں کرسکتے۔

    مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر اپنی ٹویٹ میں کس سے معافی مانگ رہے ہیں وہی بتاسکتے ہیں، اللہ سے ہم سب ہی معافی مانگتے ہیں، اگر کوئی غیر آئینی کام کریں تو اس پر عوام سے مانگنی چاہئے۔ صدر مملکت کے اسٹاف سے انکوائری کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت نامناسب بات ہوگی کہ صدر کے اسٹاف سے پوچھا جائے۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ کوئی فرد یا گروہ ملک کے آئین کے خلاف کوئی بات کرے تو اس کا جواب دینا حکومت کا کام ہے، موجودہ حکومت آئین کے تحت بنی ہے، اگر کوئی غیرآئینی بات کا حکومت جواب دے تو اسے سیاسی بیان قرار نہیں دیا جاسکتا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    اس بل کے تحت شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی گرفتاری کے سوال پر وزیراطلاعات نے کہا کہ کچھ لوگوں کی گرفتاری کی جو بات ہے اس پر ہم اپنا بیان دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی باقیوں کی طرح ٹی وی سے گرفتاریوں کا علم ہوتا ہے۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرتے، ہم سے کوئی بھی توقع نہ کرے کہ ہم صدر کے آئینی عہدے کی تعظیم کے خلاف کوئی بات کریں، صدر صاحب کے اسٹاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرسکتا، یہ صدر کو دیکھنا ہوگا، ہم صدر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیر قانون نے احمد عرفان اسلم نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔

  • عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    عارف علوی ٹوئیٹ؛ پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

    تحریک انصاف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے ٹوئٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ سے فوری رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاہم خیال رہے کہ صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل اور پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل پردستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سےمتفق نہیں تھا۔

    ٹویٹر پیغام میں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا تھا کہ اپنے عملے سےکہا بغیر دستخط شدہ بلز مقررہ وقت میں واپس کردیں تاکہ غیرمؤثر بنایاجاسکے، میں نے کئی بار تصدیق کی اور مجھے یقین دلایا گیا کہ بلز واپس جاچکے ہیں۔ جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ مجھے آج پتہ چلا میرا عملہ میری مرضی اور حکم کیخلاف گیا، میں ان لوگوں سے معافی مانگتا ہوں جو قانون اس سے متاثرہوں گے۔ اللہ سب جانتا ہے وہ انشاءاللہ معاف کردے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاملے پر قومی و عدالتی سطح پر صدر مملکت کے مؤقف کی بھرپور تائید وحمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترجمان پاکستان تحریک انصاف کے مطابق قانونی مسوّدوں کی توثیق کے عمل پر صدر کا مؤقف غیر معمولی اقدامات کا متقاضی ہے، صدر مملکت نے ٹویٹ کے ذریعے ریاستی و حکومتی ڈھانچے کے مرض کی نشاندہی کی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ صدر مملکت کے فیصلوں پر ان کی مرضی کے بغیر عملدرآمد روکنا غیرآئینی ہے، معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے رکھیں گے اور تحقیقات کی استدعا کریں گے۔

  • الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے حقلہ بندیوں کے عمل کو شفاف بنانے کیلئے تجاویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن مساوی آبادی پر مشتمل انتخابی حلقے تشکیل دے اور کسی اسمبلی کے حلقوں میں آبادی کا فرق دس فیصد سے زیادہ نہ بڑھنے پائے جبکہ فافن کا مزید کہنا تھا کہ مردم شماری کی اشاعت کے بعد یکساں آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی تشکیل یقینی بنائی جائے۔

    واضح رہے کہ فافن کے اعلامیہ کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا۔ مساوی آبادی کی بنیاد پر حلقہ بندیاں یقینی بنانے کیلئے اقدامات سے انتخابی عمل کو منصفانہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق اجلاس کیا جس میں الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا، نئی حلقہ بندیاں ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت کی جائیں گی جبکہ نئی حلقہ بندیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت ہوا جس میں ممبران و سیکریٹری کمیشن سمیت دیگر حکام نے شرکت کی تھی۔

    جبکہ اجلاس میں آئینی و قانونی پیچیدگیوں پر غور کیا گیا، جبکہ لاء ونگ نے مذکورہ پیچیدگیوں پر بریفنگ دی، اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا، ساتھ ہی صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے بھی معاونت طلب کرلی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق حلقہ بندیاں 14 دسمبر کو مکمل ہوں گی اور 14 دسمبر کو ہی حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت کی جائےگی۔ الیکشن کمیشن نے پرانی حلقہ بندیوں کو منجمد کردیا ہے۔ جبکہ 21 اگست کوچاروں صوبوں اور اسلام آباد کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔

  • چیف سیکرٹری بلوچستان  برطرف

    چیف سیکرٹری بلوچستان برطرف

    وفاقی حکومت نے چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے جبکہ شکیل قادر خان صوبے کے نئے چیف سیکریٹری بلوچستان تعینات کردیئے گئے ہیں، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹی فکیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے افسران کے تبادلے کرتے ہوئے گریڈ 21 کے شکیل قادر کو چیف سیکرٹری بلوچستان تعینات کردیا ہے اور گریڈ 22 کے افسر عبدالعزیز عقیلی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے ۔

    افسران کے تقرر اور تبادلوں کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے ۔ وفاقی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں، متعدد وفاقی سیکرٹریز کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ کی حلف برداری کے دوسرے روز ہی وفاقی بیو رو کریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کیئے گئے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقرریوں و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق گریڈ 22 کے کامران علی افضل کو سیکرٹری کابینہ ڈویژن تعینات کردیا گیا اس سے قبل کامران علی افضل ڈی جی سول سروس اکیڈمی تعینات تھے۔ علاوہ ازیں گریڈ 21 کے صادق بلوچ کو اسپیشل سیکرٹری کابینہ ڈویژن، گریڈ 21 کے عبداللہ خان سنبل کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج داخلہ، گریڈ 22 کے حسن ناصر جامی کو سیکرٹری آئی ٹی، گریڈ 21 کے مومن آغا کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج پیٹرولیم ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد محمود کو ایڈیشنل سیکرٹری انچارج فوڈ سیکیورٹی، گریڈ 22 کے شہزاد بنگش کو سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس، گریڈ 22 کے آصف حیدر شاہ کو سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی، گریڈ 22 کی حمیرہ احمد کو سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت، گریڈ 22 کے سید علی مرتضیٰ کو سیکرٹری آبی وسائل، داؤد محمد کو چیف سیکرٹری آزاد کشمیر تعینات کردیا گیا ہے اور اس کے علاوہ گریڈ 20 کے محمد انوار الحق کو چیف کمشنر اسلام آباد، گریڈ 22 کے علی رضا بھٹہ کو سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی، گریڈ 22 کی سارہ سعید کو اسپیشل سیکرٹری تجارت تعینات کیا گیا ہے۔ تاہم خیال رہے کہ سیکرٹری آئی ٹی نوید احمد شیخ، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی، چیف کمشنر اسلام آباد نور الامین مینگل کو اسٹیبلمشنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی اور مصطفیٰ جمال قاضی ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ تعینات کیے گئے ہیں۔