Baaghi TV

Tag: pakistan

  • بابا جی اے  چشتی کا یوم پیدائش

    بابا جی اے چشتی کا یوم پیدائش

    برصغیر کے نامور موسیقار بابا جی اے چشتی کا پورا نام غلام احمد چشتی تھا وہ 17 اگست 1905ء میں (گانا چور) ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے ۔ بابا چشتی نے اپنی فنی زندگی کا آغاز آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے کیا۔ ان کی وفات کے بعد وہ ایک ریکارڈنگ کمپنی سے منسلک ہوگئے بابا چشتی موسیقار کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے اور ان کی دھنوں میں اکثر استھائی اور انترے ان کے تخلیق شدہ تھے جو انہوں نے فلمی شعراء کی معاونت میں ترتیب دیئے ۔

    آغا حشر کاشمیری کے تھیئٹر میں انہوں نے جدن بائی اور امیر بائی کرناٹکی کے چند ریکارڈ تیار کئے۔ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم” دنیا” تھی جو 1936ء میں لاہور میں بنی تھی۔ بابا چشتی نے کچھ وقت کلکتہ اور بمبئی میں بھی گزارا۔ تقسیم ہند کے بعد 1949ء میں وہ پاکستان آئے اس وقت تک وہ 17 فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے جن میں فلم سوہنی مہینوال، شکریہ اور جگنو کے نام سرفہرست تھے۔ پاکستان میں بابا چشتی کی پہلی فلم” شاہدہ” تھی یہاں انہوں نے مجموعی طور پر 152 فلموں کی موسیقی ترتیب دی اور 5000 سے زیادہ نغمات تخلیق کئے۔ ان کی مشہور فلموں میں پھیرے، مندری، لارے، گھبرو، بلو، سسی، پتن، نوکر، دلا بھٹی، لخت جگر، ماہی منڈا، مس 56، یکے والی، گمراہ، خیبر میل، مٹی دیاں مورتاں، سہتی، رانی خان، عجب خان، ڈاچی، چن مکھناں، ماں پتر، قادرا، چن پتر، بھائی چارہ، رب راکھا، غیرت تے قانون، چن تارا اور قاتل تے مفرور شامل ہیں۔ بابا چشتی نے جن گلوکاروں کو فلمی صنعت سے متعارف کروایا ان میں ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، سلیم رضا، نسیم بیگم، نذیر بیگم، مالا، مسعود رانا اور پرویز مہدی کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے شاگرد موسیقاروں میں رحمن ورما اور خیام کے نام سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں بابا جی اے چشتی کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطاء کیا گیا، بابا جی اے چشتی 25 دسمبر 1994ء کو پاکستان کے نامور فلمی موسیقار بابا جی اے چشتی، لاہور میں وفات پاگئے اور لاہور کے سوڈیوالی قبرستان ملتان روڈ میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    بابا جی اے چشتی کے ترتیب دیئے گئے مشہور نغمات

    اے جذبہ دل گر میں چاہوں
    میری چنی دیاں ریشمی تنداں
    چن میرے مکھناں
    تانگے والا خیر منگدا نے

    تفصیل فلمی موسیقی
    اردو ترميم
    سچائی 1949ء
    شاہدہ 1949ء (بہ اشتراک ماسٹر غلام حیدر)
    انوکھی داستان 1950ء
    سسی 1954ء
    طوفان 1955ء
    محفل 1955ء
    نوکر 1955ء
    حقیقت 1955ء
    سوتیلی ماں1956ء
    مس 56 1956ء
    لخت جگر 1956ء
    سردار 1957ء
    نغمۂ دل1959ء
    خان بہادر 1960ء
    خیبر میل 1960ء
    دلِ ناداں 1960ء*
    سلطنت 1960ء*
    بغاوت 1963ء
    پنجابی ترميم
    پھیرے1949ء
    مندری 1949ء
    گھبرو 1950ء
    لارے 1950ء
    بلو 1951ء
    دلبر 1951ء
    بلبل 1955ء
    پتن 1955ء
    ماہی منڈا 1956ء
    گڈا گڈی 1956ء
    مورنی 1956ء
    دلا بھٹی 1956ء
    یکے والی 1957ء
    جگا 1958ء
    جٹی 1958ء
    شیرا 1959ء
    مٹی دیاں مورتاں 1960ء
    رانی خان 1960ء
    آبرو 1960ء
    عجب خان 1961ء
    زرینہ 1962ء
    جمالو 1962ء
    رشتہ 1963ء
    میرا ماہی1964ء
    ڈاچی1964ء
    زمیندار1966ء
    راوی پار1967ء
    چن مکھنا1968ء
    چن ویر1969ء
    خون پسینہ1972ء
    ہیرا 1972ء
    دھرتی دے لال 1974ء
    ماں صدقے 1974ء

    تحریر و تحقیق
    عامر شیرازی
    چیرمین سُر سیئوا پاکستان
    حوالہ جات
    1: ربط : آئی ایم ڈی بی – آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اگست 2019
    2: موسیقار جی اے چشتی کی 20 ویں برسی، ڈان نیوز ٹی وی، پاکستان، 25 دسمبر 2014ء
    3: عقیل عباس جعفری: پاکستان کرونیکل، ص 755، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
    4: تاریخ پاکستان

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ  نے  حلف اٹھا لیا

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا

    سندھ کے نامزد نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ گورنر کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا ہے جبکہ اب وہ صوبائی کابینہ کا انتخاب کریں گے اور سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس مقبول باقر کا نام تجویز کیا تھا اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم نے دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    جبکہ خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقرکی پیدائش 1957 کو کراچی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، 2002 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور اگلے ہی سال مستقل جج بن گئے۔ جبکہ جسٹس مشیر عالم کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں، وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد آخری جج تھے جو بحال ہوئے۔

    2013 میں ان پر کراچی پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جہنگوی نے قبول کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر 2015 میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیے گئے، جب قومی احتساب بیورو عمران خان کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف گہرا تنگ کر رہا تھا ان دنوں میں انہوں نے نیب کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس میں سعد رفیق کیس مقبویت رکھتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    18 رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا
    صدر مملکت نے نگران کابینہ سے حلف لے لیا
    بھارت میں ونڈر ویمن جیسی فلمیں بننا وقتی ضرورت ہے کاجول

    جسٹس فائز عیسیٰ قاضی پر جب ریفرنس دائر کیا گیا تو وہ آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے، انھوں نے فل بینچ فیصلے میں بھی اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ نگران وزیر اعلیٰ سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ان کا نام احتساب بیورو کے سربراہ کے طور پر بھی دیا گیا تھا۔

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما، سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے، الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں۔

    سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کی تاریخ دے، نگراں حکومت کی ترجیح ہوگی کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، جب تک حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی،الیکشن نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں بھی صاف اور شفاف انتخابات کی بنیادی شرط ہے، زمینی حقائق بتارہے ہیں الیکشن 6 سے7 ماہ میں ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا
    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف
    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی، سیاسی تشدد کا راستہ کسی کو نہیں دینا چاہیئے، الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، دہشت گردی کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے

  • سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کو نگراں وزیر خزانہ مقرر کر دیا گیا ہے جبک نگراں وزیر اعظم انوار الحق کی کابینہ کے اہم ارکان کے چناؤ کا عمل جاری ہے خیال رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں شامل ہے۔جبکہ اس میں 3 ارب ڈالر کے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملک کو گزشتہ ماہ تقریباً 1.2 بلین ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوئی تھی۔

    خیال رہے اس وجہ سے نگراں وزیر خزانہ کی تقرری کو بہت اہمیت دی جارہی تھی جس میں اس عہدے کے لیے کئی اور نام بھی سامنے آئے تھے۔ تاہم واضح رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو رواں ہفتے یوم آزادی کے موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ اور انہوں نے 2 جنوری 2006 سے تین سال تک اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں تھیں اور ملک کے مرکزی بینک کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر اپنی تقرری سے قبل، ڈاکٹر شمشاد اختر نے جنوری 2004 سے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوب مشرقی ایشیا کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں اور اس سے قبل وہ محکمہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی رہی ہیں، شمشاد اختر مشرقی اور وسطی ایشیا میں شعبہ کی ڈائریکٹر، گورننس، فنانس اور ٹریڈ ڈویژن کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    اور ان کے خاندانی پس منظر کا ذکر کریں تو حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی ہے۔ جبکہ شمشاد نے 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی تھی اور پھر ڈاکٹر شمشاد اختر نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ایم ایس سی بھی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے 1977 میں یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس اور1980 میں یو کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

  • امریکی ڈالر  294.93 روپے کا ہوگیا

    امریکی ڈالر 294.93 روپے کا ہوگیا

    ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے دوسرے کاروباری روز کے دوران انٹربینک میں روپے کے مقابلے امریکی ڈالر کی قیمت 3 روپے 42 پیسے بڑھ گئی ہے.


    جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق انٹربینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت 291.51 روپے سے بڑھ کر 294.93 روپے ہوگئی ہے اور امریکی کرنسی کے علاوہ سعودی ریال کی قیمت 78 روپے، جبکہ ملائیشین رنگٹ کی قیمت 63 روپے اور یورو کی قیمت 322 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 30 جون 2023 تک قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں ہیں جبکہ جاری رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمہ قرضوں میں ایک سال میں 13 ہزار ارب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اندرونی و بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 60 ہزار 839 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق جون 2022 میں حکومت کے ذمہ مجموعی قرضوں کا حجم 47 ہزار 832 ارب تھا، جبکہ ان قرضوں کے ایک سال میں 13 ہزار ارب سے زیادہ اضافہ کے بعد مجموعی حجم 60 ہزار 839 ارب روپے تک پہنچ گیا اور مرکزی بینک نے بتایا کہ مقامی قرضے 7 ہزار 723 ارب اضافے سے 38 ہزار 808 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 5 ہزار 282 ارب اضافے سے 22 ہزار 30 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ اعداد وشمار کے مطابق شارٹ ٹرم قرضے 9 ہزار 335 ارب جبکہ طویل مدتی قرضے 21 ہزار 985 ارب روپے ہیں۔

  • نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    نگران وزیراعظم کیلئے نوازشریف منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف دستخط نہ کرتے. رانا ثناء

    مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نگران وزیر اعظم کے نام کی منظوری قائد مسلم لیگ ن، میاں محمد نواز شریف نے دی ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر نوازشریف نگران وزیراعظم کی منظوری نہ دیتے تو شہباز شریف کبھی بھی اس سمری پر دستخط نہ کرتے۔

    سابق وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ نگران وزیر اعظم کے لئے زیر غور دیگر نام زیادہ معتبر اور پسندیدہ تھے مگر کسی وجہ سے ایک غیر اہم نام پہلے درجے پر آگیا۔ تاہم خیال رہے کہ نگران وزیراعظم کے تقررکا فیصلہ سابق وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر راجا ریاض کے درمیان ملاقات میں کیا گیا تھا اور دونوں رہنماؤں نے نگران وزیراعظم کے لیے انوار الحق کاکڑ کے نام پراتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب بتایا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ( نواز ) کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف رواں ہفتے لندن روانہ ہوں گے۔ جبکہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نواز شریف کی وطن واپسی کا پلان ترتیب دے دیا گیا ہے جبکہ اسی سلسلے میں شہباز شریف آئندہ تین روز میں لندن روانہ ہوں گے جہاں ان کی نواز شریف سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    ذرائع کے مطابق ملاقاتوں میں نواز شریف کی واپسی اور پارٹی ٹکٹوں کے حوالے سے اہم مشاورت کے بعد فیصلے کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے شریف خاندان کے وکلا سیاسی رفقا نے نواز شریف کے دورہ متحدہ عرب امارات ( یو اے ای )، سعودی عرب اور یورپ کے فوراً بعد وطن واپس آنے کا مشورہ دیا تھا جبکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں نے ستمبر کے وسط میں آنے پراصرار کیا ہے۔ علاوہ ازیں ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات کے لئے آئندہ تین ہفتوں میں رانا ثناء اللّٰہ، خواجہ آصف، پرویزرشید و دیگر بھی لندن جائیں گے۔

  • نگران حکومت کا پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    نگران حکومت کا پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    نگران حکومت نے پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا ہے جبکہ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 17 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئ قیمت 290 روپے 45 پیسے ہوگئی ہے، نوٹفیکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 20روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے ، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 293 روپے 40 پیسے ہوگئی۔

    تاہم اس کےعلاوہ لائٹ ڈیزل اورمٹی کے تیل کی قیمتوں کو برقراررکھا گیا ہے۔ جبکہ خیال رہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق آج رات 12 بجے سے آئندہ پندرہ روزکیلئے کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    دوسری جانب نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ اورگورنرسندھ کامران ٹیسوری نے جمعیت علماءِ اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی رہائشگاہ پر جاکرخار باجوڑ میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کنونشن پر خود کش حملے پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہار کیا۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر پاکستانی قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے،ملک میں دہشت گردی کی روک تھام اور امن او امان کے قیام کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات یقینی بنائیں گے۔

    نگراں وزیرِ اعظم نے حملے میں جاں بحق ہونے والے کارکنوں کیلئے فاتحہ کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔مولانا فضل الرحمٰن نے انوار الحق کاکڑ کو نگراں وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔