Baaghi TV

Tag: police

  • شوہر کے ہاتھوں بھارتی نژاد گوگل انجینئر قتل

    شوہر کے ہاتھوں بھارتی نژاد گوگل انجینئر قتل

    امریکی ریاست جارجیا میں بھارتی نژاد گوگل کی سینیئر انجینیئرنگ ایگزیکٹو شیتل ورزیسن کو مبینہ طور پر ان کے شوہر نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا، جبکہ ان کا 23 سالہ بیٹا بھی اس واقعے میں زخمی ہو گیا، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    امریکی ریاست جارجیا کے شہر سمرنا میں بھارتی نژاد گوگل ٹیکنالوجی ایگزیکٹو شیتل ورزیسن اپنے گھر میں فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئیں، جبکہ ان کا بیٹا جیسن ورزیسن زخمی ہو گیاپولیس کو منگل کی رات مقامی وقت کے مطابق تقریباً 8 بجے فائرنگ کی اطلاع ملی، پولیس کے گھر پہنچنے پر 57 سالہ شیتل ورزیسن کو گولیوں کے زخموں کے ساتھ گھر کے اندر پایا گیا، تاہم وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

    جبکہ ان کا 23 سالہ بیٹا جیسن ورزیسن گھر کے باہر زخمی حالت میں ملا، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا پولیس نے 56 سالہ کرک بی ورزیسن کو گرفتار کر لیا ہے، ان پر قتل، 2 سنگین حملوں اور جرم کے دوران آتشیں اسلحہ رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں انہیں کوب کاؤنٹی ایڈلٹ ڈیٹینشن سینٹر میں بغیر ضمانت کے رکھا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ گھریلو تشدد کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے اور عوام کے لیے کسی مزید خطرے کی اطلاع نہیں ملی، حکام نے فائرنگ کی وجہ یا ممکنہ محرک کے بارے میں ابھی کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں، جبکہ جیسن کی طبی حالت کے بارے میں بھی تازہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    شیتل ورزیسن گوگل میں انجینیئرنگ لیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں انہیں 2 دہائیوں سے زائد تجربہ حاصل تھا، گوگل میں شمولیت سے قبل انہوں نے HomeDepot.com میں موبائل اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن منصوبوں کی قیادت کی تھی۔

    انہوں نے انگلینڈ، بھارت اور گھانا میں پرورش پائی اور بعد ازاں امریکا منتقل ہو کر جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کی وہ دو سافٹ ویئر پیٹنٹس کی شریک موجد بھی تھیں اور جارجیا ٹیک کالج آف کمپیوٹنگ کےمشاورتی بورڈ اور جارجیا ٹیک ایلومنائی ایسوسی ایشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن رہ چکی تھیں، پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

  • ڈی جی خان: بازیاب متاثرہ لڑکی کو دوبارہ دھمکیاں، دو ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے

    ڈی جی خان: بازیاب متاثرہ لڑکی کو دوبارہ دھمکیاں، دو ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے

    ڈیرہ غازی خان میں چھ ماہ قبل بازیاب ہونے والی متاثرہ بچی کو نامزد ملزمان کی جانب سے مسلسل دھمکیاں دیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق واقعے میں ملوث تین ملزمان میں سے صرف ایک کو گرفتار کیا جا سکا ہے جبکہ دو ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں۔متاثرہ بچی اور اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ باقی ملزمان انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، مفرور ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔اہل علاقہ اور سماجی حلقوں نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

  • پولیس افسران کو پلاٹس دئیے جانے کی خبروں پر پنجا ب پولیس کا  مؤقف

    پولیس افسران کو پلاٹس دئیے جانے کی خبروں پر پنجا ب پولیس کا مؤقف

    اسلام آباد:آئی جی پنجاب ڈاکٹرعثمان انور اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ سمیت دیگر پولیس افسران کو کم قیمت پر مہنگے پلاٹس دئیے جانے کی خبروں پر پنجا ب پولیس کا بھی مؤقف سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل پولیس فاؤنڈیشن (NPF) نے پولیس افسران کے لیے پلاٹ الاٹمنٹ پالیسی کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے بتا یا ہے کہ ہر افسر اپنے کیریئر کے دوران صرف ایک پلاٹ کا اہل ہے، بشرطیکہ وہ مخصوص شرائط پر پورا اترے اور متعلقہ اخراجات ادا کرے۔

    حکام کے مطابق، پلاٹ کی الاٹمنٹ خودکار نہیں ہوتی اور عام طور پر 29 سالہ سروس کے بعد NPF کی منظوری سے مشروط ہوتی ہے، افسران کو زمین کی اصل قیمت اور ترقیاتی چارجز ادا کرنے ہوتے ہیں، جیسا کہ 2016 کے عدالتی فیصلے کے تحت مقرر کیا گیا ہے تاکہ تنظیم کو اس عمل سے کوئی منافع نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا NPF پلاٹ کے لیے اہلیت اکثر سنیارٹی پر منحصر ہوتی ہے، جیسے گریڈ 21 حاصل کرنا یا ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) کے طور پر خدمات انجام دینا، وہ افسران جو مخصوص مدت کے لیے دیگر محکموں، جیسے IB، میں خدمات انجام دیتے ہیں، ان تنظیموں کی سکیموں میں پلاٹ کے اہل ہو سکتے ہیں۔

  • چوری کے پیسوں پر 2 نوجوانوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین

    چوری کے پیسوں پر 2 نوجوانوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین

    پشاور میں چوری کے پیسوں میں حصہ نہ دینے پر دوستوں نے 2 دوستوں کو قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کےمطابق پشاورکےعلاقہ دائودزئی میں 2 نوجوانوں کے قتل کیس کا ڈراپ سین ہو گیا، مقتولین کے قاتل قریبی دوست نکلے ، واردات میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے مقتول داؤد نے اپنے دوست سجاد کےہمراہ سسرالیوں کےگھر سے پیسے چوری کیے تھے، جس میں سے حصہ نہ دینے پر دیگر 2 دوستوں نے دو ہفتے پہلے دؤاد اور سجاد کو قتل کیا 2 نوجوانوں کے قتل کا ڈرامہ یکم ستمبر کو ہوا تھا-

    قبل ازیں کراچی بن قاسم ٹاؤن میں دوست نے موبائل فون کے لیے دوست کو قتل کر دیا تھا واقعہ 16ستمبر کو پیش آیا تھا پولیس نے دعوی کیا ہے ملزم کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے مقتول کا موبائل فون اور دیگر کاغذات برآمد کرلئے گئے ہیں۔

    مسلم ‏ن لیگ کے سینیٹر رانا مقبول احمد انتقال کرگئے

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کو سر پر وزنی چیز کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ملزم نے اپنے دوست سے26 ہزار میں موبائل خریدا اور8 ہزار کی ادائیگی کی تھی،دوست مسلسل رقم کا تقاضا کر رہا تھا کہ، پیسے واپس دویا موبائل واپس کرو،ملزم نے اپنے دوست کے سر پر بھاری چیز سے وار کیا، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

    لاہور ہائیکورٹ،سیکرٹری قومی اسمبلی کی اپیلیں غیر موثر

  • زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جو پاکپتن کے علاقہ گلشن فرید کالونی کی اور اس واقعہ میں چار کنال زمین کے لالچ میں بیٹا فہد رسول اپنے بوڑھے باپ غلام رسول پر بہیمانہ تشدد کرتا نظر آیا تھا جس میں ایک مزید نوجوان اور ایک عورت بھی انکے ساتھ شامل تھیں جبکہ باپ کے منہ پر لاتیں تک ماری گئی.
    https://twitter.com/MalikRamzanIsra/status/1695807974306906234
    جبکہ اس حوالے سے اب پاکپتن تھانہ فرید نگر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے جائیداد کے تنازعے پر ساتھی کے ہمراہ بوڑھے والد پر تشدد کرنے والے ملزم گرفتار کرلیا ہے.

    جاری اعلامیہ کے مطابق تھانہ فرید نگر کے علاقہ گلشن کالونی میں بدبخت اور نافرمان بیٹے فہد رسول نے اپنے ساتھی طیب کے ہمراہ جائیداد نام نہ لگانے پر اپنے بوڑھے حقیقی والد غلام رسول کو تشدد کا نشانہ بنایا اور قتل کر کے نعش نہر میں پھینکنے کی دھمکیاں دیں تھیں.


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب
    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا
    پیپلز پارٹی نے بھی کارکنان کو بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کا کہہ دیا

    تاہم پولیس نے افسوس ناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او پاکپتن طارق ولایت نے تھانہ فرید نگر پولیس کو فوری طور پر ملوث ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اور تھانہ فرید نگر پولیس نے واقعہ کی اطلاع پر فوری ایکشن لیتے ہوئے تشدد میں ملوث دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، تھانہ فرید نگر پولیس نے تشدد کا شکار غلام رسول کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا جبکہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے.

  • نوجوان لڑکے، لڑکی کے قتل میں اہم پیش رفت

    نوجوان لڑکے، لڑکی کے قتل میں اہم پیش رفت

    کراچی میں قتل نوجوان لڑکے اور لڑکی کے بارے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کے والد نے جب فائرنگ کی تو اس کی بیٹی اور اس کا دوست دونوں گاڑی میں بیٹھے باتیں کررہے تھے تاہم بکھر گوٹھ میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر لڑکا لڑکی کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا تھا ۔ پولیس کے مطابق مقدمہ مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سچل میں درج کیا گیا۔

    تاہم خیال رہے کہ فائرنگ کا واقعہ جمعہ کو علی الصبح پیش آیا تھا۔ ابتدائی طور پر پولیس حکام کا کہنا تھا کہ واقعہ غیرت کے نام پر پیش آیا۔ قتل کی جانے والی لڑکی کی شناخت لاریب اور لڑکے کی حسن وقار کے نام سے ہوئی۔ لڑکی کے والد اور بھائی نے ڈبل کیبن گاڑی پر فائرنگ کی تھی۔ لڑکی کے والد کا نام ڈاکٹر رفیق شیخ ہے۔

    نجی ٹی وی کے مطابق پولیس حکام نے بتایا مقتول نوجوان صبح 5 بجکر 20 منٹ پر گھر سے نکلا تھا جبکہ مقتول نوجوان اور مقتولہ ایک ہی کالج میں ساتھ پڑھتے تھے۔ لڑکا علیٰ الصبح اپنی دوست سے اس کے گھر کے باہر گاڑی میں ملنے آیا تھا۔ علاوہ ازیں واقعہ کے حوالے سے پولیس حکام نے مزید بتایا کہ مقتول نوجوان کے والد کی گارمنٹس فیکٹری ہے، لڑکی کے والد ڈاکٹر رفیق احمد شیخ نے بیٹے کے پستول سے فائرنگ کی۔

    پولیس کے مطابق ڈاکٹر رفیق نے غیرت کے نام پر نوجوان کو 8 جبکہ بیٹی کو 4 گولیاں ماریں۔ مدعی نے مقدمے میں بیان دیا کہ صبح پولیس کے ذریعے اطلاع ملی کہ میرے بھائی کی لاش اسپتال میں ہے، رات تین بجے ہم سے ملنے آنے والے دوست ہمارے گھر سے گئے۔ جبکہ مقتول نوجوان کے بھائی مدعی مقدمہ کے مطابق ساڑھے چار بجے ہم دونوں بھائی سونے چلے گئے، لیکن صبح پولیس کی فون کال موصول ہوتے ہی گھر میں دیکھا تو ہماری سفید ویگو گاڑی موجود نہیں تھی۔

    مقدمے کے متن کے مطابق چوکیدار سے معلوم کیا تو اس نے بتایا کہ صبح 5 بجکر 20 منٹ پر حسن گاڑی لے کر گیا ہے، میں جب دوستوں کے ہمراہ عباسی شہید اسپتال پہنچا تو بھائی اور اس کی دوست کی لاشیں موجود تھیں۔ تاہم واضح رہے کہ فائرنگ کرنیوالے ڈاکٹر رفیق اور بیٹےعبداللہ کو پولیس نے صبح ہی حراست میں لے لیا تھا۔ ابتدائی بیان میں لڑکی کے والد کا کہنا تھا کہ گاڑی میں موجود نوجوان نے مجھ پرفائرنگ کی۔

    پولیس کے مطابق لاریب اور حسن گاڑی میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے جب انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ڈاکٹررفیق اور ان کا بیٹا، لڑکی لاریب کی لاش اپنے گھرلے گئے جبکہ حسن کی لاش کو گاڑی میں چھوڑ دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والا شناختی کارڈ حسن کے بھائی احسن کا ہے۔ علاوہ ازیں پولیس نے جائے وقوعہ سے 2 ہتھیار برآمد کیے تاہم اس بات کی تصدیق لائسنس دیکھنے کے بعد کی جائے گی کہ حسن کے پاس بھی اسلحہ تھا یا نہیں۔ جبکہ قتل کی جگہ سے کم از کم پانچ گولیوں کے خول ملے ہیں۔ پولیس نے آلہ قتل بھی برآمد کرلیا ہے، واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    کینیڈا کی نائب وزیراعظم کرسٹیا فری لینڈ کو حد رفتار سے زیادہ تیز گاڑی چلانے پر پولیس نے 237 ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا ہے جبکہ نائب وزیراعظم اور وفاقی وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ شمالی البرٹا میں میونسپلٹی گرینڈ پریری اور پیس ریور کے درمیان ہائی وے پر 132 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہی تھیں۔

    جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق البرٹا ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جبکہ پولیس نے ان کی گاڑی کو روکا اور جرمانہ عائد کردیا جو انہیں ادا کرنا پڑا۔

    کرسٹیا فری لینڈ کرائے کی گاڑی پر البرٹا اور جنگلات کی آگ سے متاثرہ افراد سے ملاقات کے لیے جارہی تھیں تاہم نائب وزیراعظم نے جرمانہ ادا کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ میں گاڑی زیادہ تیز چلارہی تھی اور آئندہ ایسا نہیں کروں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا

    جبکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعہ کب پیش آیا اور سڑک کے اس حصے پر رفتار کی حد کیا تھی۔ البرٹا ہائی ویز پر زیادہ سے زیادہ رفتار کی حد 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ فری لینڈ ایک قانون ساز ہیں جو کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو کے ایک پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتی ہیں اور اکثر اپنی موٹر سائیکل پر تصویریں کھینچتی رہتی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ صحافیوں کو بتایا تھا کہ ‘ایک حقیقت جو اب بھی میرے والد کو حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ میرے پاس اصل میں کوئی گاڑی نہیں ہے۔

  • نامعلوم افراد نے  کرنسی نوٹوں کو آگ لگا دی

    نامعلوم افراد نے کرنسی نوٹوں کو آگ لگا دی

    گوجرانوالہ میں نامعلوم افراد نے قبرستان میں پاکستانی کرنسی نوٹوں کو آگ لگا دی ہےجبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ تمام نوٹ اصلی ہیں، انہیں جلانے والے کون ہیں، اس بارے میں رپورٹ درج کرکے ہر پہلو سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ جبکہ جلائے گئے نوٹوں میں 500 ، ہزار اور 5 ہزار والے نوٹ بھی شامل ہیں، نوٹوں کو کس نے اور کیوں آگ لگائی پولیس تحقیقات کررہی ہے۔

    تاہم پولیس کے مطابق پاکستانی کرنسی نوٹ جلائے جانے کا واقعہ گکھڑ منڈی کے قبرستان میں گزشتہ رات پیش آیا۔نوٹوں کے ڈھیر میں آگ لگنے سے کچھ جل گئے جبکہ کچھ نوٹ درست حالت میں تھے۔ جبکہ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ نامعلوم افراد بوری میں ڈال کر نوٹ لائے اور زمین پر ڈھیر لگا کر آگ لگادی اور فرار ہوگئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    ہمبنٹوٹا،پاکستان نے افغانستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد میچ اپنے نام کر دی

    اپڈیٹ جاری

  • چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    بھارت کے شہر دہلی کی پولیس نے 200 سے زائد ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث ایک 48 سالہ کروڑ پتی ہوٹل کے مالک کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ گرفتار شخص کی شناخت منوج چوبے کے نام سے ہوئی ہے جو تقریباً 25 سال سے اپنے خاندان سے چھپ کر دوہری زندگی گزار رہا تھا جبکہ چوبے پر دہلی میں 2001 سے 2023 کے درمیان 15 مجرمانہ مقدمات میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہیں.

    بھارتی میڈیا کے مطابق منوج چوبے کا اصل تعلق اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع سے اور اسی علاقہ میں ان کا باقی خاندان بھی مقیم ہے لیکن بعدازاں وہ نیپال میں آباد ہو گئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق وہ پہلی بار 1997 میں دہلی آئے اور کیرتی نگر تھانے میں کینٹین چلانے لگے۔ لیکن کینٹین میں چوری کے الزام میں پکڑے جانے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق رہا ہونے کے بعد انہوں نے کرائے کے مکان میں رہائس اختیار کی اور پھر دوبارہ چوریاں کرنی شروع کردیں جبکہ منوج چوریاں کرتے اور کافی رقم کما کر اپنے گاؤں لوٹ جاتے تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے بتایا کہ منوج کا طریقہ واردات یہ ہوتا تھا کہ وہ پہلے ریکی کرتے اور پھر ماڈل ٹاؤن، روہنی، اشوک وہار اور پتم پورہ جیسے علاقوں میں بنگلوں، مکانات اور فلیٹس کو نشانہ بنایا کرتا تھا، جبکہ منوج نے چوری کی رقم سے نیپال میں ایک ہوٹل بھی بنایا تھا۔ اس دوران انہوں نے اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی میں ملازم ایک سرکاری افسر کی بیٹی سے شادی بھی کرلی اور انہوں نے اپنے سسرال والوں کو بتایا کہ دہلی میں ان کا پارکنگ کا کاروبار ہے اور انہیں ہر سال چھ سے آٹھ مہینے وہاں رہنا پڑتا ہے۔

    جبکہ اترپردیش میں انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤس بھی بنایا ہوا تھا جبکہ منوج چوبے نے اسی قصبے میں اپنا پلاٹ ایک اسپتال کو بھی لیز پر دیا تھا جس کے لیے انہیں ماہانہ 2 لاکھ روپے کرایہ ملتا تھا علاوہ ازیں چوبے نے آخر کار اپنی فیملی کے لیے لکھنؤ میں ایک گھر بھی بنایا تھا جبکہ کروڑوں کی دولت ہونے اور لاکھوں روپے کرایہ وصول کرنے کے باوجود وہ ڈکیتیاں کرنے دہلی آتے رہے۔

    واضح رہے کہ ایک دن ایسا ہوا کہ متاثرین میں سے ایک نے چوری کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی اور ایف آئی آر بھی درج کرلی تھی جسکے بعد پولیس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج ملی، جس سے انہیں چوبے کو شناخت کرنے میں مدد ملی جبکہ ایک سی سی ٹی وی میں انہیں اسکوٹر پر سوار دیکھا گیا تھا، جسے ونود تھاپا نامی شخص نے خریدا تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چوبے نے سپنا نامی نیپالی خاتون سے شادی کی تھی اور اسے دہلی میں چھپا رکھا تھا۔ ونود اور سپنا بہن بھائی تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ونود نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بہنوئی اس کے اسکوٹر پر گھومتا رہتا تھا۔ اور آخر کار 10 جولائی کو پولیس نے چوبے کو گرفتار کر لیا جبکہ چوبے کے خلاف چوری کے 15 مقدمات درج ہیں اور ماضی میں انہیں نو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وہ نام بدلتے رہتے تھے اور واردات کے بعد چوری کی رقم کو جلدی سے چھپا دیا کرتے تھے۔ تاہم یاد رہے کہ فی الحال چوبے جی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

  • گریڈ 19 میں ترقی پانیوالے افسران کا نوٹیفکیشن جاری

    گریڈ 19 میں ترقی پانیوالے افسران کا نوٹیفکیشن جاری

    پنجاب حکومت نے حالیہ دنوں گریڈ 19 میں ترقی پانے والے 15 افسران کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جبکہ دو ہفتے قبل ان افسران کی گریڈ 18سے 19 میں ترقی ہوئی تھی اور جن افسران کی ترقیوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے ان میں فراز احمد، آصف امین اعوان، توقیر نعیم، علی رضا، بلال ٖظفر شیخ، عبداللہ احمد اور علی وسیم وغیرہ شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ ترقی پانے والوں میں رانا عمر فاروق، محمد بن اشرف، محمد افضل، سید ندیم عباس، رضوان احمد خان، ساجد حسین کھوکھر، کامران نواز اور کامران ممتاز بھی شامل ہی جبکہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ بہت جلد آئی جی پنجاب آئندہ چند روز میں ان افسران کی پوسٹنگ کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وفاقی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جس میں پولیس، سیکرٹریٹ اور ایڈمنسٹریٹو سروسز کے 163 افسران کو بھی گریڈ 18 سے گریڈ 19 میں ترقی دی گئی تھی اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا تھا کہ پولیس سروس آف پاکستان کے 44 افسران کو گریڈ 18 سے 19 میں ترقی دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ سیکرٹریٹ گروپ کے 57 افسران اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 62 افسران کو گریڈ 19 میں ترقی دی گئی ہے۔ علاوہ ازیں جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ایم جی گروپ کے گریڈ 18 کے افسر شاہ جہان کی خدمات سی ڈی اے سے واپس جبکہ او ایم جی گروپ کے ثنا اللہ کی خدمات سندھ حکومت سے واپس لے لی گئیں تھیں۔