Baaghi TV

Tag: police

  • جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا معاملہ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا-

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمہ میں عمران خان، مراد سعید، علی نواز اعوان، فرخ حبیب، شبلی فراز کو نامزد کیا گیا-

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں حسان نیازی، عامر کیانی، شہزاد وسیم، راجہ بشارت، واثق قیوم، میاں اسلم اقبال، غلام سرور خان، حماد اظہر و دیگر قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ 25 افراد گرفتار کرلیے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنماء ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، پی ٹی آئی کارکنان نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئےکھل کر حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ بھاری نفری کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان پیشی کیلئے ریلی کی صورت میں زمان پاک لاہور سے بذریعہ موٹروے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے موٹروے پر جگہ جگہ چیئرمین تحریک انصاف کا استقبال کیا گیا۔ زیروپوائنٹ سے کارکنوں کی ایک بڑی ریلی ٹول پلازہ اسلام آباد پہنچی جہاں سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہا ریلی میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی بھی کی۔

    عمران خان کی انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی، پارٹی کارکنوں کی جانب سے کمپلیکس کے اندرونی حصے میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بدترین بدنظمی ہوئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور علاقہ سیل کرنے کے باوجود وکلاء ہائی کورٹ کا دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے میڈیا کو داخلے سے روک دیا-

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، عدلیہ کی توہین کی، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا، توشہ خانہ کیس میں بھی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود عدم پیشی پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر داخل ہوئے، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں غنڈہ گردی کی گئی ہے اور جوڈیشل کمپلیکس کی بطور ادارے کی توہین کی گئی ہے لہٰذا توڑ پھوڑ کرنے، عدلیہ کی عزت و تکریم کو سبوتاژ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے، پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کا وقت ملزم خود مقرر کر رہا ہے، دوسری طرف ایک عام آدمی چند منٹ تاخیر پر پہنچے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آج توشہ خانہ کیس میں پہلے 9 بجے، پھر 11 بجے اور پھر عمران خان پیش ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔قانون کا احترام نہ کرنے، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

  • حریم شاہ کی نازیبا ویڈیو لیک

    حریم شاہ کی نازیبا ویڈیو لیک

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ویڈیو لیک ہوئی ہے، ویڈیو وائرل ہو چکی ہے، حریم شاہ نے نازیبا ویڈیو وائرل ہونے کی تصدیق کی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق حریم شاہ کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو اصلی ہے اور صندل خٹک یا عائشہ ناز میں سے کسی نے وائرل کی، یہ ویڈیو میرے موبائل سے چوری کی گئی ہے کوئی تیسرا بندہ اس ویڈیو کو لیک نہیں کر سکتا

    حریم شاہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ وائرل لیک ویڈیو میرے گھر کی ویڈیو ہے، میری کسی سے دشمنی نہیں، ویڈیو لیک کرنے والوں کیخلاف کاروائی کروں گی، ایف آئی اے میں درخواست دوں گی

    واضح رہے کہ حریم شاہ متنازعہ ٹک ٹاکر ہیں، انکی نازیبا ویڈیو کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر بات چیت چل رہی ہے جس کی تصدیق حریم شاہ نے میڈیا رپورٹس کے مطابق خود کی ہے، حریم شاہ کے ماضی میں کافی سیکنڈل سامنے آ چکے ہیں حریم شاہ کو ایک سیاسی جماعت کے رہنما اپنے مفاد کے لئے استعمال کر رہے ہیں

    واضح رہے کہ پاکستان کی متنازع اور معروف ٹک ٹاکر اور اداکارہ حریم شاہ نے دعوی کیا تھا کہ شیخ رشید نے میری وجہ سے آج تک شادی نہیں کی۔ایک انٹرویو میں اداکارہ و ٹک ٹاکرحریم شاہ نے داخلہ شیخ رشید احمد کی شادی کے حوالے سے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اب تک شادی میری وجہ سے نہیں کی ہے۔حریم شاہ نے متعدد لوگوں کی ویڈیوز وائرل کرنے کے سوال پر بھی شیخ رشید کا نام لیتے ہوئے کہا کہ متعدد لوگوں کی ویڈیوز اور واٹس ایپ کال سامنے لانے کے بعد مجھے اس لئے جان کا خطرہ نہیں کیوںکہ میرے پیچھے شیخ رشید کا ہاتھ ہے-حریم شاہ نے بتایا کہ شیخ رشید مجھے کہتے ہیں کہ میں پورے پاکستان پر بھاری ہوں، اس لئے میری حفاظت کو انہوں نے اپنی ترجیحات میں رکھا ہوا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے شادی نہیں کی۔

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

    ٹک ٹاک گرلز کے نئے دھماکے، عمران خان کی ساکھ کو شدید نقصان، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

  • کراجی نجی اسکول:  طالبعلم کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا

    کراجی نجی اسکول: طالبعلم کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا

    کراجی نجی اسکول: طالبعلم کے زخمی ہونے کا مقدمہ درج کرلیا گیا
    کراچی کے علاقے ماڈل کالونی کے نجی اسکول میں فن گالا کے دوران مشروب کی بوتل سے طالب علم کے زخمی ہونے کے واقعے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔ جبکہ 24 فروری کو ماڈل کالونی کاظم آباد کے نجی اسکول میں پانچویں کلاس کے طالب علم حذیفہ کے زخمی ہونے پر ڈائریکٹوریٹ آف پرائیوٹ اسکولز نے اپنی رپورٹ جاری کردی۔

    جیو کی رپورٹ کے مطابق واقعے کے روز پانچویں کلاس کا فن گالا نہیں تھا، حذیفہ اکیلا کھانے کے اسٹال پر گیا اور کولڈرنک کی بوتل کھولتے ہوئے اسے کانچ گردن میں لگا تاہم کولڈرنک کا اسٹال لگانے کی اجازت اسکول انتظامیہ نے دی تھی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان جن کے کندھے پر بیٹھ کر آنا چاہ رہا وہ کندھے اب نہیں رہے. مریم نواز شریف
    راجن پور: این اے 193 میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا وقت ختم
    یہ وہی بینچ ہے جس نے عمران خان کےخلاف فیصلہ دیا،پھرشورشرابہ کیوں؟پرویز الہٰی
    ہم کون سی صدی میں رہتے ہیں جہاں طاقتوروں نے نجی جیل بنائے ہوئے؟ شیری رحمان
    بچوں کو سکول چھوڑنے والی سرکاری گاڑی بارکھان سیکنڈل کے مرکزی ملزم کے بیٹے کی ملکیت
    شیخ رشید بتائیں،سسرال میں کوئی روتا ہے؟ حنیف عباسی
    پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار اور جاوید علی کے وکیل کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آ گئی
    پی ایس ایل:ملتان سلطانز کے خلاف کراچی کنگز کی شاندار فتح
    ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ جاوید کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ غیر ذمہ داری اور غفلت برتنے پر اسکول کی رجسٹریشن معطل کر کے 75ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ حذیفہ کے تمام طبی اور کلاس دس تک تعلیمی اخراجات نجی اسکول برداشت کرے گا۔ تاہم دوسری جانب حذیفہ کو شدید تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے آئی سی یو وارڈ منتقل کردیا گیا۔ واقعے کا مقدمہ حذیفہ کے والد کی مدعیت میں اسکول انتظامیہ کے خلاف درج کیا گیا ہے، والدہ کا کہنا ہے کہ بچے کو تاخیر سے اسپتال پہنچایا گیا۔

  • موبائل فون نہ دینے پر ٹک ٹاکر نے باپ کو قتل اور ماں کو زخمی کر دیا

    موبائل فون نہ دینے پر ٹک ٹاکر نے باپ کو قتل اور ماں کو زخمی کر دیا

    لوئردیر: خیبر پختونخوا کے علاقے لوئر دیر میں ٹک ٹاکر نوجوان نے موبائل فون نہ دینے پر فائرنگ کرکے باپ کو قتل اور ماں کو شدید زخمی کر دیا۔پولیس کے مطابق باپ کو سپرد خاک کر دیا گیا جبکہ والدہ کی حالت تشویشناک ہے، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ والدہ زخمی ہو گئیں جنہیں تشویشناک حالت میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال تیمرگرہ منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس نے واقعے کے دو گھنٹے کے اندر ہی ملزم کو گرفتار کر کے پستول برآمد کر لی ہے۔

    تیمرگرہ میں 18سالہ نوجوان نے طیش میں آکر والدین پر فائرنگ کی، نوجوان روزانہ کی بنیاد پر ٹک ٹاک ویڈیو تیار کرنے کے لیے مقامی پہاڑوں میں جایا کرتا تھا۔

    صوبےخیبر پختونخوا کے ضلع لوئر دیر سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ دو روز قبل والد شیر باز خان نے ٹک ٹاکر حسنین سے موبائل فون لے لیا تھا، والدین چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا ٹک ٹاک ویڈیوز نہ بنائے تاہم ملزم حسنین موبائل واپس لینے پر بضد تھا۔

    واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے مزید تحقیقات شروع کر دی گئی۔

    پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر ملزم کا باپ ٹیکسی ڈرائیور تھا، دیرلویر پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کردیا جہاں عدالت نے ملزم کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    اس کی علاوہ بلوچستان میں 22 فروری کو لاپتہ ہونے والے سات سالہ بچے کی لا ش لال قلعہ تھانے کی حدود میں برآمد ہوئی ہے جس کی شناخت ایان خان کے نام سے ہوئی جو سر درگئی کا رہائشی تھا۔

    ایس ایچ او سلیم شاہ کو نامعلوم شخص نے لال قلعہ تھانے کی حدود میں پہاڑی علاقے پر لاش کی موجودگی کی اطلاع دی تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ لاش پر تشدد کے نشانات موجود ہیں تاہم لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

  • عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ

    عمران خان کی گرفتاری کا خدشہ

    اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف کتنے مقدمات زیر التوا ہیں؟ کس میں گرفتاری کا خدشہ ہے، اس حوالے سے بڑی دلچسپ اطلاعات ہیں‌،ان اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان پر اسلام آباد، لاہور کی مختلف عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں 36 سے زائد کیسز زیر التوا ہیں، جس میں مقدمات میں نااہلی، ضمانت، فوجداری کارروائی اور ہتک عزت کے کیسز شامل ہیں جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس، توشہ خانہ فوجداری کارروائی اور ٹیریان نااہلی کیس سب سے اہم ہیں۔

    تھانہ سنگجانی کے دہشت گردی کے مقدمہ میں عبوری ضمانت ابھی کرانا باقی ہے جبکہ دہشت گردی کے مقدمہ میں عمران خان لاہور ہائیکورٹ سے 3 مارچ تک حفاظتی ضمانت پر ہیں۔ اسی طرح چیئرمین پی ٹی آئی کی دو مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری زیر التوا ہے۔

    عمران خان کی ان دو مقدمات میں ضمانت خارج ہوئی تو گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ 25 سے زائد فوجداری مقدمات میں سابق وزیراعظم ضمانت پر رہا ہیں۔ سب سے زیادہ 25 مقدمات اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں زیر التوا ہیں جہاں محض 2 مقدمات کے علاوہ عمران خان باقی تمام میں مستقل ضمانت پر ہیں۔توشہ خانہ فوجداری کاروائی کے کیس میں عمران خان کو سیشن کورٹ نے 28 فروری طلب کر رکھا ہے، جس میں فرد جرم عائد ہونے کا بھی امکان ہے۔

    اسلام آباد سیشن کورٹ کے باقی 23 مقدمات اسلام آباد کے مختلف تھانوں کے درج ہیں، یہ مقدمے گزشتہ سال 25 اور 26 مئی احتجاج ، اگست کی ریلیوں اور توشہ خانہ فیصلے کے احتجاج پر درج ہوئے تھے۔

    اسی طرح ایڈیشل سیشن جج زیبا چوہدری کے خلاف دھمکی آمیز بیان کا کیس بھی زیر التوا ہے، 2014 کے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کے دو مقدمے بھی زیر التوا ہیں۔ بنکنگ کورٹ میں ممنوعہ فنڈنگ کیس کے تناظر میں فارن ایکسچینج ایکٹ کا مقدمہ درج ہے، اس کیس میں بنکنگ کورٹ نے 28 فروری کو عمران خان کو حتمی حاضری کی مہلت دے رکھی ہے۔عمران خان کی بنکنگ کورٹ عدم پیشی کی صورت میں ضمانت خارج ہونے کا بھی امکان ہے جبکہ شریک ملزمان کی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔

    اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں عمران خان کا خواجہ آصف، نجم سیٹھی اور نجی ٹی وی چینل پر ہتک عزت دعویٰ زیر التوا ہے جبکہ لاہور میں عمران خان اور شہباز شریف کے درمیاں ہتک عزت کیس بھی زیر التوا ہیں۔

    عمران خان پر مبینہ بیٹی ٹیریان کو 2018 کے کاغذات نامزدگی میں ظاہر نا کرنے پر نااہلی کیس ہے، توشہ خانہ ریفرنس پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف کیس ہے جبکہ چیئرمین پی ٹی آئی پر توہین الیکشن کمیشن کا کیس بھی زیر التوا ہے۔الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ فیصلے کے تناظر میں پارٹی سربراہی سے ہٹانے جبکہ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں شوکاز نوٹس کیس بھی زیر التوا ہیں۔

  • پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کےپانچویں مرحلےکاآج گوجرانوالہ سےآغاز

    پی ٹی آئی کی جیل بھرو تحریک کےپانچویں مرحلےکاآج گوجرانوالہ سےآغاز

    گوجرانوالہ:پاکستان تحریک انصاف کی جیل بھروتحریک کےپانچویں مرحلےکا آج آغاز ہوگا۔گوجرانوالہ میں پی ٹی آئی کے سٹی صدر خالد عزیز لون کی رہائشگاہ کے باہر جیل بھرو کیمپ لگا دیا گیا، گوجرانوالہ ڈویژن کے تمام اضلاع سے پی ٹی آئی رہنما اپنے کارکنان کے ساتھ گوجرانوالہ پہنچیں گے۔

    سابق وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اور سینیٹر اعجاز چودھری بھی خالد عزیز لون کی رہائشگاہ کے باہر پہنچیں گے، ہر ضلع سے پارٹی رہنما اپنے کارکنوں کے ساتھ گرفتاریاں دیں گے۔جیل بھرو کیمپ سے پولیس نے گرفتار نہ کیا تو پی ٹی آئی رہنما پیدل مارچ کرتے سینٹرل جیل جائیں گے، کارکن سنٹرل جیل کے باہر احتجاج کرتے ہوئے گرفتاریاں دیں گے۔

    اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی جیل بھرو تحریک میں راولپنڈی میں گرفتاری دینے والے پی ٹی آئی کے 47 رہنماؤں اور کار کنوں کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔

    جیل بھرو تحریک کے منتظم اعجاز چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور میں بھی ہزاروں افراد گرفتاری دینے نکلے تھے مگر کسی نے انہیں گرفتار ہی نہیں کیا۔

    ادھر یہ بھی معلوم ہواہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی جیل بھرو تحریک میں پولیس کس قانون کے تحت کارکنان اور سپورٹرز کو گرفتار کرے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت، کارکنان اور سپورٹرز کی گرفتاری دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ہی مممکن بنائی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ کسی کے کہنے پر اسے گرفتار نہیں کرسکتے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سڑک بلاک کرنے کی صورت میں دفعہ 290اور 291 کے تحت مقدمات درج ہوں گے جبکہ امن و امان خراب کرنے اور نعرے بازی پر 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج ہوگا۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارکنوں کی گرفتاری کے بعد مثل اور ضمنیوں میں وجہ لکھنا لازم

    خیال رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے بدھ 22 فروری سے جیل بھرو تحریک لاہور سے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

  • ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے: وزیراعظم

    ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ دہشتگرد سزا سے بچ نہیں سکتے، ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔وزیراعظم نے بارکھان کے علاقے رکھنی بازار میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے نقصان پر دکھ اور افسوس جبکہ اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سزا سے بچ نہیں سکیں گے، ناحق خون بہانے والوں کو عبرت کی مثال بنائیں گے۔انہوں نے وزیراعلیٰ اور آئی جی پولیس بلوچستان سے رپورٹ بھی طلب کر لی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے دھماکے میں جاں بحق افراد کی مغفرت، اہل خانہ کے لئے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

    یاد رہے کہ بارکھان واقعہ نے ظلم وتشدد کرنے والے ایسے حقائق تک پہنچا دیا ہے کہ ہرکوئی ان ظالموں سے بدلہ لینے کے لیےپکاررہاہے

    یہ واقعہ بہت دردناک ہے ، جس کے بارے میں خان محمد مری کی اہلیہ بی بی گرانازاپنی بے بسی کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں "میرے دونوں بچوں کی لاشوں کو مجھے دے دو تاکہ میں ان کو دیکھ سکوں اور مجھے یقین ہو کہ وہ لاشیں میرے بچوں کی ہیں۔‘بی بی گراناز نے یہ الفاظ تقریبا چار سال بعد اپنے شوہر خان محمد مری سے ملاقات کے بعد ادا کیے۔

    واضح رہے کہ 20 فروری کو بلوچستان کے علاقے بارکھان کے ایک کنویں سے ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ گراناز بی بی اور ان کے دو بیٹوں کی لاشیں ہیں۔بی بی گراناز کے شوہر خان محمد مری نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی اہلیہ اور سات بچے بلوچستان کے وزیر مواصلات سردار عبدالرحمان کھیتران کی نجی جیل میں قید ہیں۔تاہم لیویز فورس نے جمعرات کی صبح کوہلو کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے بی بی گراناز کو ان کی بیٹی اور چار بیٹوں سمیت بازیاب کروا لیا تھا۔

    ایک جانب جہاں کنویں سے ملنے والی خاتون کی لاش کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی، وہیں محمد خان مری نے ہلاک ہونے والے دونوں نوجوانوں سے متعلق دعوی کیا تھا کہ یہ ان کے بیٹے ہیں۔بازیابی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بی بی گراناز،ان کی بیٹی اور چار بیٹوں کی ملاقات جمعہ کے روز پولیس لائن میں کرائی گئی جہاں گراناز کے شوہر خان محمد مری بھی موجود تھے۔

    اپنے بیوی اور بچوں سے خان محمد مری کی یہ اندازاً چار سال بعد پہلی ملاقات تھی۔تاہم اس موقعے پر گراناز کے منہ سے صرف چند ہی الفاظ نکل سکے۔صحافیوں سے ملاقات کے بعد گراناز کی ایک چھوٹی سی ویڈیو جاری کی گئی جس میں انھوں نے مختصر بات کی۔بلوچی زبان میں انھوں نے کہا کہ ’میرے دونوں بچوں کی لاشوں کو مجھے دے دو تاکہ میں ان کو دیکھ سکوں اور مجھے یقین ہو کہ یہ ان کی لاشیں ہیں۔‘ان چند جملوں کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔

    واضح رہے کہ خان محمد مری کا کہنا ہے کہ ان کی بیوی اور سات بچے بلوچستان کے وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمان کی نجی جیل میں 2019 سے قید تھے جن میں سے دوبیٹوں کو ہلاک کیا گیا۔انھوں نے اپنے بیٹوں کی ہلاکت کا الزام بھی سردار عبدالرحمان کھیتران پر لگایا تھا تاہم سردار عبدالرحمان کھیتران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    یاد رہے کہ عبدالرحمن کھیتران کو بدھ کے روز پولیس نے حراست میں لیا تھا اور جمعرات کی دوپہر انھیں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر کے پولیس نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی جس کے بعد ان کو 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر کوئٹہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

  • معروف ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرکےفریج میں رکھ دیے

    معروف ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرکےفریج میں رکھ دیے

    ہانگ کانگ:چینی ماڈل کوسابق شوہرنےقتل کرنےکےبعد جسم کےٹکڑے کرکےفریج میں رکھ دیے،اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ میں 28 سالہ معروف چینی ماڈل آبے چوئی کو مبینہ طور پر ان کے سابق شوہر نے بہیمانہ قتل کا نشانہ بنایا اور لاش کے ٹکڑے کر کے انہیں فریج میں رکھ دییے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق مقتولہ کے سابق شوہر سمیت تین افراد کو ہانگ کانگ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کے مطابق ماڈل کا سابق شوہر کے خاندان کے ساتھ مالی تنازع تھا۔پولیس نے انکشاف کیا کہ معروف ماڈل کی لاش کے ٹکڑے ایک گاؤں کے گھر میں ملے تھے جہاں انسانی گوشت کو کاٹنے والی مشین اور لکڑی کاٹنے کے اوزار بھی موجود تھے۔

    سپرنٹنڈنٹ ایلن چنگ نے بتایا کہ ’مقتولہ کا سر غائب ہے، جس کی تلاش جاری ہے‘۔پولیس نے انکشاف کیا کہ مقتولہ ماڈل کے جسم کے اعضاء فریج سے ملے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ گاؤں کے گھر کو حال ہی میں کرائے پر دیا گیا تھا، ایسا لگتا ہے کہ یہ گھر ماڈل کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پولیس نے مزید بتایا کہ قتل کے الزام میں ماڈل کے سابق شوہر کے والد، والدہ اور بڑے بھائی کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ’ مقتولہ ماڈل اور ان کے سابق شوہر کے خاندان کے درمیان بھاری رقم کےمالی تنازعات تھے۔’

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ ماڈل آبے چوئی 22فروری کو لاپتا ہوئی تھی، انہیں آخری بار اس کے سابق شوہر کے بھائی نے دیکھا تھا، جو ماڈل کا ڈرائیورر بھی تھا۔پولیس نے بتایا کہ ماڈل کے سابق شوہر کے اہل خانہ نے تفتیش کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے جھوٹ بولا تھا۔ماڈل آبے چوئی نے حال ہی میں معروف میگزین لورائیل موناکو کے لیے ماڈل کے طور پر کام کیا اور رواں سال پیرس فیشن ویک میں بھی شرکت کی تھی.

  • بارکھان: رکھنی بازار میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بارکھان: رکھنی بازار میں دھماکا، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    بارکھان:بلوچستان کے ضلع بارکھان میں دھماکے سے 3 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکا بارکھان کے علاقے رکھنی کے بازار میں ہوا جس میں 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    دھماکے میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق دھماکا بارکھان کے رکنی بازار میں صبح کے اوقات میں ہوا، جب لوگ خریداری کیلئے جائے وقوع پر موجود تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں تین افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 10 افراد زخمی ہیں، نعشوں کو ضروری کارروائی، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا۔

    سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور شواہد جمع کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔پولیس کے مطابق دھماکے میں متعددگاڑیوں، موٹرسائیکلوں اور دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • لاہور:پرتشدد واقعات میں ملوث کم عمر لڑکوں کے گینگ 102 کا انکشاف

    لاہور:پرتشدد واقعات میں ملوث کم عمر لڑکوں کے گینگ 102 کا انکشاف

    لاہور:صوبائی دارالخلافہ لاہور میں نجی تعلیمی اداروں کے لڑکوں کے گینگ کا انکشاف ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مختلف اسکولوں کے کم عمر طالب علموں کے 35 رکنی گینگ کو 102 کے نام سے آپریٹ کیا جاتا ہے، جو مختلف اسکولوں کے باہر لڑکوں پر تشدد کرتا ہے۔

    پولیس کے مطابق گلبرگ میں ایک نوجوان پر تشدد کے الزام میں گینگ پر مقدمہ درج کر کے 2 طلبہ کو گرفتار کیا گیا۔ گروہ کے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
    چند روز قبل ملزمان نے 1 طالب علم کو اسنوکر کلب میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ لڑکے تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے خوف و حراس پھیلاتے ہیں۔ گینگ کی پرتشدد سرگرمیوں کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں۔

    سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی ماڈل ٹاؤن سے رپورٹ طلب کرلی اور مکمل تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔

    سربراہ لاہور پولیس نے کہا کہ ایسے کسی بھی گینگ کی پرتشدد اور غیر قانونی سرگرمیوں پر ملوث افراد کی فوری گرفتاری عمل میں لائیں، لاہور پرامن لوگوں کا شہر ہے، سٹریٹ گینگز کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے،والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں، انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہونے دیں۔