Baaghi TV

Tag: politics

  • تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    تحریک انصاف کی مقبولیت کے حقیقی ذمہ دار؟ تجزیہ: شہزاد قریشی

    سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کی ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کی تکرار ان کے اپنے ہی جن عہدوں پر فائز رہے ہیں بے توقیری کا سبب بن رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف اور سابق وزیراعظم کو ملکی سالمیت اور قومی وقار کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ الزام تراشیوں میں مگن موجودہ حکمرانوں اور سابق حکمرانوں کو بھی اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیئے۔

    وقت آ پہنچا ہے کہ تمام اپنے گناہوں سے تائب ہر کر تعمیر وطن اور خدمت خلق کے جذبے سے کام کریں۔ ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس وطن عزیز کے وقار میں اضافہ قرضوں سے چھٹکارا ۔ ایک مستحکم پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ سیاست جس حد تک کھوکھلی اور عوام کی نظر میں بے نقاب ہو چکی ہے یا ہو رہی ہے اس کے اثرات ملک و قوم کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر بھی پڑرہے ہیں۔ ملک میں جس طرح ایک جمہوری حکومت میں آئین کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے جو کبھی آمریت کے دور میں ہوتا تھا آج جمہوری دور میں آئین سے کھلواڑ سمجھ سے بالاتر ہے ۔

    نواز شریف اور مریم نواز جو بیانیہ پیش کررہے ہیں وہ ووٹ کو عزت ، انصاف اور عدل کی شفافیت انسانی حقوق کا بیانیہ ہے ۔ نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز جو بیانیہ عوام کے سامنے پیش کررہی ہیں اُن کی اپنی ہی جماعت میں ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس بیانیے سے کوسوں دور ہیں جو مفاہمتی راستوں کی تلاش میں رہتے ہیں ۔

    بھٹو کو نہ صرف صوبہ سندھ بلکہ پورے پاکستان میں مقبولیت ملی تھی انہوں نے ووٹ کو عزت یعنی طاقت کا سرچشمہ عوام کا نعرہ لگایا تھا لیکن اس کو تاریخی المیہ ہی کہا جائے کہ بعد میں یعنی آج بھٹو کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر بیوپاری اس جماعت پر بُراجمان ہیں۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی کا جو آج حال ہے وہ پاکستان تو کیا صرف صوبہ سندھ تک محدود ہو کررہی گئی ہے۔ کچھ اسی طرح کے راستوں پر نواز شریف کی جماعت چند ایک کو چھوڑ کر چل نکلی ہے ۔

    مریم نواز اپنے والد کی جماعت کی ساکھ بحال کرنے تو نکلی ہیں مگر آج (ن) لیگ میں بھی بیوپاری بُراجمان ہیں اس لئے آج عمران خان کی جماعت کا پنجاب میں طوطی بولتا ہے اگر عمران خان کی جماعت مقبول ہے تو اس کے ذمہ دار پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں ہیں ۔ سیاسی جماعتوں میں نظریات توپہلے ہی دفن ہو چکے ہیں جس کا خمیازہ سیاسی جماعتیں خود بھگت رہی ہیں۔

    (تجزیہ شہزاد قریشی)

  • چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے اعتراضات ،اٹارنی جنرل کا وفاقی وزیر قانون کووضاحتی خط

    سپریم کورٹ میں قومی احتساب بیورو (نیب) قانون میں ترامیم کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے دییے گئے ریمارکس پر سینیٹ اراکین کے شدید اعتراض پر اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کو خط لکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اٹارنی جنرل کی چیف جسٹس عمرعطا بندیال کے محمد خان جونیجو سے متعلق ریمارکس پر وضاحت دی، وزیرقانون کو خط میں اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نیب ترمیمی کیس کے دوران چیف جسٹس نے یہ نہیں کہا کہ واحد محمد خان جونیجو ایماندار وزیراعظم تھے-

    کراچی : ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن

    اٹارنی جنرل نے اپنے خط میں کہا کہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے ریمارکس سے متعلق غلط رپورٹنگ کی گئی ہے جس کے ردعمل میں سینیٹرز نے تنقید کی۔

    وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کوخط میں اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہیٰ نےلکھا ہےکہ چیف جسٹس نےنوازشریف کےحوالے سے کوئی ریمارکس نہیں دیئےچیف جسٹس نےیہ نہیں کہا تھا کہ صرف محمد خان جونیجو ہی ایمانداروزیراعظم تھےوزیراعظم کی دیانتداری سےمتعلق ریمارکس کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، چیف جسٹس کے ریمارکس پر سینیٹرز نے تنقید کی۔

    اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی نے مزید لکھا کہ نیب ترامیم کیس کی سماعت میں، میں خود موجود تھا اور اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ دوران سماعت ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس نے یہ ریمارکس 1988 میں سپریم کورٹ کی جانب سے قومی اسمبلی کی بحالی کا حکم نہ دینے کے تناظر میں دیے تھے اور سابق چیف جسٹس نسیم حسن کے مؤقف کو دہرایا تھا جنہوں نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا تھا۔

    اٹارنی جنرل نے لکھا کہ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ محمد خان جونیجو ایک اچھے اور آزاد وزیر اعظم تھے جن کی حکومت 58 (2) بی کے تحت ہٹائی گئی۔

    انہوں نے اعظم نذیر تارڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس نسیم حسن نے نواز شریف کیس میں اسمبلی بحال نہ کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا، یہ خط اس توقع کے ساتھ آپ کو لکھا جارہا ہے کہ آپ اس حوالے سے ریکارڈ درست کرنے کے لیے بطور وزیرقانون اپنے ساتھی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے حقائق پیش کریں گے۔

  • چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس

    چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس ہوا جس میں پنجاب میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سمیت معاملات پر غور کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں چاروں ممبران، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور قانونی ماہرین شریک ہوئے۔

    اجلاس میں پنجاب میں انتخابات کرانے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا جبکہ انتخابات سے متعلق قانونی و آئینی امور بھی زیر بحث آئے۔

    اجلاس میں انتخابات کیلئے سکیورٹی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا تا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے۔

    شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج

  • پنجاب میں الیکشن کی تاریخ  کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف  توہین عدالت  کی درخواست سائر

    پنجاب میں الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر چیف الیکشن کمشنر اور گورنر پنجاب کیخلاف توہین عدالت کی درخواست سائر

    لاہور: عدالتی احکامات کے باوجود پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے تاریخ کا اعلان نہ کرنے پر شہری نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی : مذکورہ درخواست شہری منیر احمد کی جانب سے اپنے وکیل اظہر صدیق کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی،درخواست میں گورنر پنجاب ، الیکشن کمیشن سمیت دیگرکو فریق بنایا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کی جانب سے الیکشن کرانے کے حکم کے باوجود انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جارہا لاہور ہائی کورٹ نے صوبے میں فوری طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالت نے الیکشن کمیشن کو گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد فوری انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا حکم دیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات پر عمل نہیں کیا۔ اتوار کے بعد اب صرف 60روز باقی رہ گئے ہیں، اس لیے انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی ۔

    درخواست گزار کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے 90 روز اندار الیکشن ہونے ہیں جب کہ اسمبلی تحلیل کو 30 روز گزر چکے ہیں اور اب 60 روز باقی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے نشاندہی کی ہے کہ الیکشن کی تاریخ کے اعلان کے 7 روز کے اندر الیکشن شیڈول جاری کرنا ہوتا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، درخواست گزار نے استدعا کی عدالت کے 10 فروری کو دیے گئے حکم کی خلاف ورزی پر فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے

    خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا فوری اعلان کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جسٹس جواد حسن نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے اور اسی لیے الیکشن کا شیڈول فوری طور پر جاری کیا جائے۔

    اسامہ ستی قتل کی: مجرم پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’الیکشن کمیشن کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صوبے کے آئینی سربراہ گورنر پنجاب سے مشاورت کے بعد پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نوٹیفکیشن کے ساتھ فوری کرے اور یقینی بنائے کہ انتخابات آئین کی روح کے مطابق 90 روز میں ہوں‘۔

  • شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج

    شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے سابق وزیرخزانہ شوکت ترین کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔

    باغی ٹی وی: شوکت ترین کیخلاف پیکا قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،ایف آئی آر کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کو ناکام کرنے کیلئے شوکت ترین نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے وزرائے خزانہ کو کال کی-
    FIR 42 2023 (2)
    ایف آئی اے کے مطابق شوکت ترین کی گفتگو آئی ایم ایف ڈیل کو نقصان پہنچانے کیلئے تھی،شوکت ترین قومی مفادات اور سیکیورٹی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں –

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل شوکت ترین کی آئی ایم ایف سے تعاون نہ کرنے کے حوالےسے آڈیو لیک وائرل ہوئی تھی جس میں وہ پنجاب اورخیبرپختونخوا کے اس وقت کے وزرائے خزانہ سے بات کر رہے تھے،وفاقی حکومت نے شوکت ترین کی آڈیو لیک کی تحقیقات کیلئے معاملہ ایف آئی کو بھجوایا تھا-

    یاد رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کتھا کہ آڈیو لیک کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حکومت نے ایف آئی اے کو شوکت ترین کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ہے

    پی ایس ایل 8: سکیورٹی کے لیے فوج اور رینجرز تعینات کرنےکی منظوری

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا تھا کہ شوکت ترین عمران خان کے بہکاوے میں آگئے تھے، ایف آئی اے نے آڈیو لیک کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کی اجازت مانگی جو حکومت نے دے دی۔ وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ادارے عمران خان کے خلاف بھی تحقیقات کررہے ہیں اور عنقریب ان کی گرفتاری کا مرحلہ بھی آنے کو ہے۔عمران خان نیازی کی چوریاں پکڑی گئی ہیں ثبوت بھی موجود ہے عدالتیں فیصلہ بھی کریں گی بہت جلد عمران خان کی گرفتاری بھی ہوسکتی ہے ۔

  • کراچی : ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن

    کراچی : ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن

    کراچی: ضمنی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کی اسکروٹنی کا آخری دن،189 نامزدگی فارم جمع کرائے گئے-

    باغی ٹی وی : الیکشن کمیشن کے مطابق مجموعی طور پر 189 نامزدگی فارم جمع کرائے گئے ،این اے 241 کراچی میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد 24 رہی،کراچی این اے 242 میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد19 رہی،این اے243 کراچی شرقی میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد17 رہی-

    الیکشن کمیشن کے مطابق کراچی این اے 244 میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد 19 رہی،این اے 247 میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد 24 رہی،این اے 250 میں جمع کاغذات نامزدگی کی تعداد19 رہی،این اے 252 میں 24 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ،این اے 254 میں 23 اور 256 کے لیے 19 نامزدگی کاغذات وصول کئے-

    الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ آج کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی،16فروری تک منظور یا مسترد کیے جانے کے خلاف اعتراضات جمع کرائے جاسکیں گے،22 فروری تک امیدوار دستبردار ہوسکیں گے،23 فروری کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے،کراچی میں قومی اسمبلی کے 9 حلقوں پر 16 مارچ کو پولنگ ہوگی

  • خاتون جج  دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    خاتون جج دھمکی کیس: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا مسترد

    اسلام آباد کی عدالت نے خاتون جج کو دھمکانے کے کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی پراسیکیوٹر کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کے وکیل نعیم پنجوتھا اور پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

    فواد چوہدری الیکشن کمیشن کیس: کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں گے،عدالت

    عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پرحاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائرکردی گئی جس میں ان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت اجازت نہیں دے رہی کہ اسلام آباد آئیں، ڈاکٹرز نے ان کو آرام کا مشورہ دیا ہے۔

    پراسیکیوٹر نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ہی اسپتال کی میڈیکل رپورٹ لگا کر عمران خان پیش نہیں ہورہے، شوکت خانم اسپتال تو کینسر اسپتال ہے، عمران خان کا مسئلہ الگ ہے-

    پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ عمران خان کی فریکچر کے باعث صرف سوزش ہے، عدالت نے عمران خان کو سیڑھیاں چڑھ کر آنے کا نہیں کہا، وہ کچہری کے باہر آئیں، ان کی حاضری لگائی جاسکتی ہے۔

    اسامہ ستی قتل کی: مجرم پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرکے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔

    پراسیکیوٹر نے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی بھی مخالفت کی جس پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا جسے کچھ دیر بعد سناتے ہوئے پراسیکیوٹر کی استدعا مسترد کردی۔

    سیشن کورٹ اسلام آبا نے چیئرمین پی ٹی آئی کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو منظورکرتے ہوئے خاتون جج کو دھمکی سے متعلق کیس کی مزید سماعت 9 مارچ تک ملتوی کردی،سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 9 مارچ تک توسیع کردی-

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں شہبازگِل کی بریت کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ جاری

  • فواد چوہدری الیکشن کمیشن کیس: کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں گے،عدالت

    فواد چوہدری الیکشن کمیشن کیس: کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں گے،عدالت

    اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری الیکشن کمیشن سے متعلق نفرت پھیلانے کے کیس میں عدالت میں پیش ہوئے-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کی سیشن عدالت میں فواد چوہدری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں پی ٹی آئی رہنما اپنے وکلا علی بخاری اور فیصل چوہدری کے ہمراہ پیش ہوئے۔

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں شہبازگِل کی بریت کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ جاری

    فواد چوہدری نے عدالت کے جج سے مکالمہ کیا کہ حاضر ہیں جناب جس پر عدالت نے وکلا سے سوال کیا کہ مقدمے کا چالان جمع ہوا؟

    فواد چوہدری کے وکیل نے جواب میں کہا کہ تفتیشی افسر کی جانب سے اب تک مقدمے کاچالان جمع نہیں کروایا جاسکا، جج نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کو بلا لیتے ہیں، 14 روز بعد بھی چالان جمع کیوں نہیں ہوا؟

    وکیل علی بخاری نے کہا کہ ہمیں 3 مارچ کے بعد کی تاریخ دے دیں تاکہ استثنیٰ کی درخواست دائر نہ کرنی پڑے اس پر جج نے کہا کہ تفتیشی افسر سے معلوم کرلیتے ہیں پھر تاریخ دیں گے۔

    دورانِ سماعت عدالت نے فواد چوہدری کو جانے کی اجازت دے دی اور کہا کہ کیس کی اگلی تاریخ تفتیشی افسر کے پیش ہونے پر دیں گے۔

    بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن سے متعلق نفرت پھیلانے کے کیس میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، ہم جیل بھرو تحریک کے لیے تیار ہیں، الیکشن کے لیے یہ لوگ تیار نہیں، موجودہ حکومت عمران خان کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج غداری کیس میں پیشی تھی، ابھی تک پولیس چالان پیش نہ کرسکی، چالان پیش کریں تاکہ ہمیں بھی پتہ لگے کہ ہم نے غداری کیا کی ہے، اگر میں غدار ہوں تو میرے سارے ووٹر غدار ہیں۔

    رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کچھ ناسمجھ لوگ ہیں جنہیں تاریخ کا نہیں پتہ، ہمارے اوورسیز پاکستانی ان سے کیوں نفرت کرتے ہیں، اس حکومت نے گرین پاسپورٹ کی عزت ختم کردی ہے۔

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

  • عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    عمران خان کے گھر سے دفتر تک سفری اخراجات شیلٹر ہومز سے 6 گنا زیادہ

    اسلام آباد : ٕ عمران خان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے جیو کی رپورٹ کے مطابق پناہ گاہوں (شیلٹر ہومز) کو عمران خان کے ٹریڈ مارک پروجیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ وہ غریبوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں تاہم دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی رہائش گاہ (بنی گالہ) سے وزیر اعظم ہاؤس تک ان کے سفری اخراجات ان شیلٹر ہومز کے کل اخراجات سے تقریباً 6 گُنا زیادہ ہیں۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا کہ دستاویزات پاکستان بیت المال (پی بی ایم) کی زیر نگرانی ملک بھر میں کل 39 احساس پناہ گاہیں قائم کی گئیں، اس پروگرام کےتحت بےگھرافراد کو بنیادی طورپرصحت کی دیکھ بھال، رہائش کیلئے محفوظ ماحول، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار خوراک وغیرہ سمیت متعدد پہلوؤں کا خیال رکھتے ہوئے قابل احترام انداز سے معیاری خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

    پروگرام کے آغاز سے اب تک 39 احساس پناہ گاہیں فعال ہیں، اب تک، مالی سال 2022 کے مارچ مہینے تک 18 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہےبیت المال (پی بی ایم) نے ڈونرز کے ذریعے خوراک کی فراہمی کیلئے گاڑیاں خریدیں، ’’احساس۔ کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ (ای کے بی این ایس) پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 40 گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار

    پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مارچ 2022 تک 161.088 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، غریبوں کے بھلے کیلئے کیے جانے والے اخراجات کے مقابلے میں دیکھیں تو عمران خان نے اپنی رہائش گاہ سے دفتر تک کے سفر کے ذریعے قومی خزانے سے 984؍ ملین (98 کروڑ 40لاکھ سے زائد) روپے خرچ کیے۔

    یہ تفصیلات پی ڈی ایم کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سابق وزیراعظم کے ہیلی کاپٹر استعمال کے اخراجات کے حوالے سے جاری کی تھیں، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی جانب سے گزشتہ سال اپریل میں جاری کی گئی دستاویزات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کے سفری اخراجات 472.36 ملین روپے تھے جبکہ سفر سے زیادہ ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال پر زیادہ اخراجات ہوئے جو 511.995 ملین روپے رہے۔

    ان دستاویزات کے مطابق اگست 2018 سے دسمبر 2018 تک عمران خان کے سفری اخراجات 37 کروڑ 93 لاکھ روپے تھے۔ اسی طرح، خان کے سفر پر 2019 میں 131.94 ملین روپے، 2020 میں 143.55 ملین روپے، 2021 میں 123.8 ملین روپے اور جنوری سے مارچ 2022 کے دوران 35.14 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو، پاکستان سپر لیگ کا آج سے آغاز

    سفری اخراجات کے علاوہ دیکھیں تو صرف مالی سال 2018-19کے دوران وزیر اعظم ہاؤس اور وزیراعظم سیکریٹریٹ کا بجلی کا بل 149.19 ملین روپے تھا۔

  • آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    آصف زرداری پر الزام تراشی:شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری

    اسلام آباد: آصف زرداری پر عمران خان کے مبینہ قتل کی سازش کے الزام کے کیس میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر مدعی مقدمہ اور پولیس کو نوٹس جاری کردیئے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی کے روبرو شیخ رشید کی جانب سے درخواست ضمانت کے لیے وکیل سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ آصف زردای کیخلاف بیان پر میرے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ آصف زرداری نے کوئی شکایت نہیں کی، تیسرے فریق کی شکایت پر مقدمہ بنا۔ جیل میں ہوں اب مزید کسی تفتیش کے لیے پولیس کو میری ضرورت نہیں۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 16 فروری تک جواب طلب کرلیا۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں،منشیات برآمد،ملزمان گرفتار