پنجاب حکومت نے صوبے میں جدید اور ڈیجیٹل پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے eTransit Punjab App اور T-Cash Card متعارف کرا دیا ہے، جس کے ذریعے میٹرو بسوں اور الیکٹرک بسوں میں سفر اب مکمل طور پر کیش لیس ہو جائے گا۔
اس نئے نظام کا مقصد شہریوں کو تیز، محفوظ اور سہل سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔ مسافر اب نقد رقم یا فزیکل ٹوکن کے بغیر اپنے موبائل فون یا ٹی کیش کارڈ کے ذریعے کرایہ ادا کر سکیں گے، جس سے لمبی قطاروں اور انتظار کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل کرایہ نظام کو پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB)، محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب اور پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے باہمی اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس اقدام کو صوبے میں اسمارٹ ٹرانسپورٹ نظام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت مسافر ای ٹرانزٹ پنجاب ایپ کے ذریعے اپنے سفر کا انتظام، کرایے کی ادائیگی اور دیگر سفری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ ٹی کیش کارڈ مختلف میٹرو اور الیکٹرک بس سروسز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام سے نہ صرف عوام کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ کرایوں کی وصولی میں شفافیت، آپریشنل کارکردگی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا۔ مستقبل میں اس نظام کو مزید پبلک ٹرانسپورٹ منصوبوں تک توسیع دینے کا بھی امکان ہے۔
Category: اسلام آباد
-

پنجاب میں میٹرو اور الیکٹرک بسوں کا سفر مکمل کیش لیس، ای ٹرانزٹ ایپ اور ٹی کیش کارڈ متعارف
-

سابق سی سی ڈی ایس ایچ او پر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کا الزام
راولپنڈی میں سابق سی سی ڈی تھانے کے ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ پر ایک کاروباری شخصیت کے مبینہ ٹارگٹ کلنگ کیس میں سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے انکوائری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
درخواست کے مطابق مقتول محمد ارشاد خان کی بیوہ نے سی پی او راولپنڈی کو تحریری درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے شوہر کو مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کرایا گیا۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سابق ایس ایچ او انسپکٹر محسن شاہ نے اس قتل کی منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا۔
درخواست گزار کے مطابق آزاد کشمیر کے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے مبینہ طور پر اس واردات کے لیے رابطہ کیا، جبکہ قتل کی کارروائی میں مردان اور سخاکوٹ سے تعلق رکھنے والے مبینہ سہولت کاروں اور شوٹرز کو استعمال کیا گیا۔
درخواست میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعد میں ایک جرگے کے دوران مبینہ سہولت کاروں نے قتل سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ ان کے مطابق انہیں مبینہ طور پر محمد ارشاد خان کو نشانہ بنانے کے لیے کہا گیا تھا اور بعد ازاں طے شدہ رقم کی ادائیگی پر بھی تنازع پیدا ہوا۔
درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ نے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے بعد بعض مواصلاتی ریکارڈ بھی اکٹھے کیے، جنہیں وہ اپنی درخواست کے ساتھ متعلقہ حکام کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق انسپکٹر محسن شاہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جن افراد کے نام سامنے آ رہے ہیں وہ ان کے مخبر تھے اور ان کا اس قتل کی منصوبہ بندی یا عمل درآمد سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق اگر متعلقہ افراد آپس میں کسی معاملے پر ملے تھے تو وہ ان کی موجودگی کے بغیر ہوا۔
واضح رہے کہ اس ٹارگٹ کلنگ کیس میں ملوث قرار دیے جانے والے چار مبینہ شوٹرز اس سے قبل ایک علیحدہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم مقتول کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں۔ -

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بھارت سے مبینہ گٹھ جوڑ سامنے آ چکا ہے،عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک پاکستان مخالف سوشل میڈیا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا ہے، جبکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بھارت سے مبینہ گٹھ جوڑ بھی سامنے آ چکا ہے۔
اپنے ایک ویڈیو بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ سوشل میڈیا پر منظم انداز میں ایسی پوسٹس شیئر کی جاتی رہیں جن کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا تھا کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسند عناصر کو اپنے طرزِ عمل پر پوری قوم کو جواب دینا ہوگا،پاکستان کے خلاف غلط معلومات اور گمراہ کن مہم چلانے والے نیٹ ورک کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں اور اس پروپیگنڈا کا مقصد ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما واقعی کشمیر کے مفادات سے مخلص ہیں تو انہیں جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے انتخابات لڑنے چاہییں، اسلحے اور ڈنڈوں کے زور پر چلائی جانے والی کسی بھی تحریک کا کشمیر کاز سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا،سیکیورٹی فورسز نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی آڑ میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہاکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ شخص کو بھارت سے مواد فراہم کیا جا رہا تھا، جس کا زیادہ تر تعلق ایکشن کمیٹی سے متعلق مہم اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے بیانیے سے تھا،مس انفارمیشن پھیلانے والے پورے نیٹ ورک کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کے تانے بانے بھی بھارت سے جا ملتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
-

کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی
کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے-
کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے ایک فرمانِ قانون جاری کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے لیے قانونی فریم ورک باقاعدہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔
کویتی سرکاری گزٹ کویت الیوم میں شائع ہونے والے فرمان کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانا اور فوجی تربیت، عسکری تعلیم، مسلح افواج کے باہمی تعاون اور دیگر دفاعی شعبوں میں اشتراک کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے پر دونوں ممالک کے قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔
معاہدے میں فوجی تربیت، لاجسٹک تعاون، فوجی اہلکاروں، تکنیکی ماہرین اور ماہرینِ دفاع کے تبادلے، سائنسی و تکنیکی تعاون، فوجی انٹیلی جنس اور باہمی اتفاق سے طے پانے والے دیگر شعبوں میں تعاون شامل ہےمعاہدے پر عمل درآمد کے لیے دونوں ممالک سالانہ منصوبے اور ایگزیکٹو پروٹوکول مرتب کریں گے، جبکہ مختلف سطحوں پر سرکاری وفود کے تبادلوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے پاکستان اور کویت پر مشتمل ایک مشترکہ فوجی کمیٹی بھی قائم کی جائے گی، جو معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی اور رابطہ کاری کی ذمہ دار ہوگی۔ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے نامزد نمائندے اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے، جبکہ کمیٹی سال میں ایک بار اجلاس منعقد کرے گی۔
معاہدے میں خفیہ معلومات کے تحفظ سے متعلق خصوصی شقیں بھی شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے سے حاصل ہونے والی خفیہ دستاویزات، معلومات یا مواد کو تحریری اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کے ساتھ شیئر نہیں کریں گے، یہ رازداری معاہدے کے خاتمے کے بعد بھی برقرار رہے گی،مالی امور سے متعلق معاہدے میں باہمی مساوات کے اصول کو اپنایا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری دوروں کے دوران میزبان ملک مہمان وفود کے اندرونِ ملک سفری اخراجات، رہائش اور ہنگامی طبی سہولیات فراہم کرے گا۔
معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس کی کسی شق سے دونوں ممالک کے دیگر بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل حقوق اور ذمہ داریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، جبکہ معاہدے کی تشریح یا عمل درآمد سے متعلق کسی بھی اختلاف کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا اور اسے کسی ملکی یا بین الاقوامی عدالت یا تیسرے فریق کے پاس نہیں لے جایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور کویت کے درمیان یہ دفاعی تعاون کا معاہدہ 11 جون 2023 کو کویت میں طے پایا تھا۔
-

وینزویلا کی ٹانک حملے کی مذمت، پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اظہار
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں دہشتگرد حملے پر اظہارِ تعزیت اور یکجہتی پر وینزویلا کا شکریہ ادا کیاہے-
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسینسیا گونزالیز کے تعزیتی پیغام کو شیئر کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے کہا کہ ٹانک میں ہونے والے بزدلانہ دہشتگرد حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارِ تعزیت اور یکجہتی کے لیے وینزویلا کے شکر گزار ہیں، وینزویلا کی جانب سے حمایت کا یہ جذبہ پاکستان کے لیے حوصلے اور تسلی کا باعث ہے، جسے ہم دل کی گہرائی سے سراہتے ہیں۔
اس سے قبل وینزویلا کے وزیر خارجہ فیلکس پلاسینسیا گونزالیز نے اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حملے میں کم از کم 15 افراد جان کی بازی ہار گئے، وینزویلا اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہے اور دعاگو ہے کہ خطے میں امن، استحکام اور سلامتی قائم رہے۔
-

قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت،تجزیہ شہزاد قریشی
قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت
دنیا میں کم، پاکستان میں زیادہ قومی اداروں پر مسلسل بحث کے اثرات اور چیلنجز
قومی اداروں کا وقار اور ریاستی استحکام عالمی تجربات پاکستان کو کیا سبق دیتے ہیں؟
دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قومی سلامتی کے دیگر ادارے ریاست کے بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں ان اداروں کا بنیادی مقصد سرحدوں کا دفاع، داخلی و خارجی خطرات کی نگرانی، اور قومی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، بھارت، ترکی اور دیگر ممالک میں بھی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں، لیکن وہاں عمومی طور پر ان اداروں کو روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا مستقل موضوع نہیں بنایا جاتا۔
بین الاقوامی سطح پر سول و عسکری تعلقات (Civil-Military Relations) کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ حیثیت اور سیاسی غیرجانبداری کسی بھی ریاست کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں قومی سلامتی کے معاملات پر بحث ضرور ہوتی ہے، مگر یہ بحث عموماً پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، بجٹ، یا آئینی و قانونی دائرہ کار تک محدود رہتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس ادارے سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات کا حصہ نہ بنیں، کیونکہ اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد قومی سلامتی کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایٹمی طاقت ہے، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے، اور دنیا کے حساس ترین جغرافیائی خطوں میں واقع ہے۔ ایسے ماحول میں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید، سوال یا احتساب کی گنجائش اپنی جگہ موجود رہتی ہے، لیکن جب یہ موضوع مسلسل سیاسی محاذ آرائی، سوشل میڈیا مہمات، یوٹیوب مباحث اور جماعتی بیانیوں کا مرکز بن جائے تو اس کے اثرات ریاستی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، بین الاقوامی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب فوج یا قومی سلامتی کے ادارے شدید سیاسی پولرائزیشن کا حصہ بن جائیں تو سول و عسکری تعلقات پر دباؤ بڑھتا ہے اور قومی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کئی جمہوری ممالک میں فوج کی غیرجانبداری اور اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کو ایک بنیادی قومی اصول سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق گفتگو ذمہ دارانہ، حقائق پر مبنی اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ایسا طرزِ گفتگو جو اداروں کو مستقل سیاسی تنازعات کا مرکز بنا دے، وہ قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے سودمند نہیں سمجھا جاتا، قومی سلامتی کے ادارے کسی فرد، جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست اور قوم کے ادارے ہوتے ہیں، اور ان کے بارے میں رائے دیتے وقت قومی مفاد، ادارہ جاتی وقار اور ریاستی استحکام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
مختصراً، دنیا کی کامیاب ریاستوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط جمہوریت، مستحکم قومی سلامتی اور باوقار ادارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قوتیں، میڈیا اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں تو قومیں مضبوط اور ریاستیں مستحکم بنتی ہیں۔
-

پاکستان کی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعظم
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کو ناکام بنانے اور 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے بہادر جوانوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا کر ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی پوری قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، حکومت اور سکیورٹی فورسز آپریشن ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے-
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے چوکی پر دہشت گرد حملہ ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی کے دوران خودکش بمبار سمیت چار خوارج کو ہلاک کر دیا تھا۔
-

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے-
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا،گفتگو کے دوران علاقائی پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن، استحکام اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا تسلسل ناگزیر ہے،اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی مشاورت جاری رکھنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
-

سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے 16 سال بعد دنیا نیوز سے استعفیٰ دیدیا
سینئر صحافی، کالم نگار اور معروف تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے دنیا نیوز سے 16 سالہ وابستگی کے بعد استعفیٰ دے دیا۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے جمعہ کے روز اپنا تحریری استعفیٰ چینل کی انتظامیہ کو ارسال کر دیا۔
مجیب الرحمان شامی طویل عرصے سے دنیا نیوز کے پروگرام "نقطۂ نظر” میں بطور سینئر تجزیہ کار اپنی خدمات انجام دے رہے تھے اور ملکی سیاست، معیشت اور قومی امور پر اپنی رائے کے باعث میڈیا حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔مجیب الرحمان شامی پاکستان کے سینئر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں اور روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ ان کا مستقل کالم "جلسہ عام” بھی قارئین میں مقبول رہا ہے۔
تاحال دنیا نیوز یا مجیب الرحمان شامی کی جانب سے استعفے کی وجوہات یا مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم ان کے استعفے کو میڈیا حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
-

عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے، محمد اورنگزیب
لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، جبکہ ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس پالیسی اور ٹیکس نظام کی بہتری کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بہتری کے لیے نئے ماڈل متعارف کرا رہے ہیں ایف بی آر میں اصلاحات اور کیش لیس اکانومی پر کام کر رہے ہیں اور ہم سب مل کر ادارے میں تبدیلی لے کر آئیں گے عوام کے لیے آسانیاں حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات پروگرام نہایت اہم ہے اور تمام پارٹنرز کے مشکور ہیں جبکہ ادارے میں تبدیلی کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں انڈسٹری اور مارکیٹ کی صورتحال میں بہتری ترجیح ہے آج مصنوعی ذہانت کا دور ہے، اور ایف بی آر افسران کو اس سے فائدہ اٹھانا ہے چینی اور سیمنٹ کے شعبے میں ٹیکس میں اضافہ ہوا ہے،اداروں کے ساتھ مل کر اپنے ڈیٹا بیسز کو بہتر بنا رہے ہیں،اور ہمیں بدلتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو بھی بدلنا ہو گا۔