Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • شاہین آفریدی 400 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستانی ایلیٹ بولرز میں شامل

    شاہین آفریدی 400 وکٹیں مکمل کرنے والے پاکستانی ایلیٹ بولرز میں شامل

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے ایک اور بڑا اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔ بنگلہ دیش کے خلاف ڈھاکا میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی 400 وکٹیں مکمل کر لیں۔
    26 سالہ قومی پیسر نے میچ کی پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرکے یہ اہم سنگ میل عبور کیا۔ اس کامیابی کے بعد وہ پاکستان کے ان چند بولرز کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 400 یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کی ہیں۔
    ‎شاہین آفریدی نے صرف 211 اننگز میں یہ کارنامہ انجام دیا، جسے ان کے کیریئر کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ پاکستان کے پانچویں فاسٹ بولر اور مجموعی طور پر نویں پاکستانی بولر ہیں جنہوں نے 400 انٹرنیشنل وکٹیں مکمل کیں۔
    ‎کرکٹ ماہرین کے مطابق کم عمر میں اس سنگ میل کا عبور کرنا اس بات کی علامت ہے کہ شاہین آفریدی مستقبل میں پاکستان کے کامیاب ترین بولرز میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کی تیز رفتار بولنگ، سوئنگ اور نئی گیند کے ساتھ خطرناک اسپیلز نے انہیں دنیا کے بہترین فاسٹ بولرز میں شامل کر دیا ہے۔
    ‎پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ بین الاقوامی وکٹیں لینے کا اعزاز لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کے پاس ہے، جنہوں نے اپنے شاندار کیریئر میں 916 وکٹیں حاصل کیں۔ اس فہرست میں وقار یونس 789 وکٹوں کے ساتھ دوسرے جبکہ عمران خان 544 وکٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہیں۔
    ‎پاکستان کے نمایاں بولرز کی فہرست میں شاہد آفریدی، ثقلین مشتاق، سعید اجمل، شعیب اختر اور عمر گل جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔ اب شاہین آفریدی نے بھی 400 وکٹوں کے ہندسے کو عبور کرکے اپنے نام کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں نمایاں کر لیا ہے۔
    ‎شائقینِ کرکٹ اور سابق کھلاڑیوں نے شاہین آفریدی کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں مزید ریکارڈز اپنے نام کریں گے۔

  • آئی ایم ایف کا پاکستان سے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر سخت نگرانی کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا پاکستان سے رئیل اسٹیٹ میں مشکوک لین دین پر سخت نگرانی کا مطالبہ

    ‎عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف نے پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے خدشات پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے نگرانی کا نظام مزید سخت اور مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے خاص طور پر رئیل اسٹیٹ اور دیگر غیر مالیاتی کاروباری و پیشہ ورانہ شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی کم تعداد کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ادارے کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں غیر ٹیکس شدہ اور کالے دھن کا بڑا حصہ جائیداد کے کاروبار میں استعمال ہو رہا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ “بینفیشل اونرشپ” یعنی حقیقی مالکان کی معلومات کے تبادلے میں موجود خامیوں کو بھی جلد دور کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی نگرانی کے لیے قائم ڈی این ایف بی پی نظام کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ یہ نظام فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے بنایا گیا تھا تاکہ مشکوک لین دین کی رپورٹس فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو بھجوائی جا سکیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور جائیداد کے کاروبار سے وابستہ اداروں پر چھاپے مار کر فروخت اور آمدنی چھپانے کے الزامات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔ تاہم آئی ایم ایف موجودہ نگرانی کے نظام اور رپورٹنگ کی رفتار سے مطمئن نہیں۔
    ‎مالیاتی ماہرین کے مطابق پاکستان میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر طویل عرصے سے غیر دستاویزی سرمایہ کاری اور کالے دھن کے استعمال کے حوالے سے زیر بحث رہا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ مؤثر نگرانی کے بغیر منی لانڈرنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں جس سے معیشت اور بینکاری نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی نگرانی، بینکاری شفافیت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ ماہرین کے مطابق ان سفارشات پر عملدرآمد سے نہ صرف عالمی اعتماد بحال ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی طویل المدتی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔

  • ‎وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ‎وزیراعظم شہباز شریف اور آذربائیجان کے صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے آج آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور برادرانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎سرکاری ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علییف نے ایک دوسرے کے لیے نیک خواہشات اور تہنیتی پیغامات کا تبادلہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستی اور قریبی تعلقات کو خطے کے لیے اہم قرار دیا۔
    ‎ٹیلیفونک رابطے میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارت، توانائی، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کی پاکستان کے لیے مسلسل حمایت کو سراہا جبکہ صدر الہام علییف نے بھی دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎ذرائع کے مطابق گفتگو خوشگوار ماحول میں ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے اعلیٰ سطح کے رابطے جاری رکھنے پر زور دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات حالیہ برسوں میں مزید مضبوط ہوئے ہیں اور دونوں ممالک عالمی و علاقائی معاملات پر ایک دوسرے کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس رابطے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے، جبکہ مستقبل میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

  • گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    ‎پاکستان میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق پیداواری لاگت، درآمدی اخراجات اور مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث گھی اور کوکنگ آئل مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ نئی قیمتوں کے مطابق گھی کی فی کلو قیمت میں 3 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ 598 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ کوکنگ آئل 618 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔
    ‎مارکیٹ ذرائع کے مطابق اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ ضروریات پوری کرنا اب انتہائی مشکل ہو چکا ہے اور گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
    ‎دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے 10 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 10 سے 20 روپے تک اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد مختلف علاقوں میں آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اچھی کوالٹی کے چاول بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔
    ‎ماہرین معاشیات کے مطابق خوراک کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔
    ‎عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مہنگائی کا یہی سلسلہ جاری رہا تو عام شہری کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو جائے گا۔ لوگوں نے حکومت سے سبسڈی اور قیمتوں کی نگرانی کا مؤثر نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ‎اسکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور لگانے پر پابندی

    ‎اسکولوں میں کتابوں پر پلاسٹک کور لگانے پر پابندی

    ‎قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت کے اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور استعمال کرنے کے خلاف اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس اقدام کو ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎منظور کیے گئے بل کے مطابق اب تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور چڑھانے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی جبکہ اس کے متبادل کے طور پر کاغذ، کپڑے اور بائیو ڈیگریڈیبل مواد کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ماحول دوست پالیسی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
    ‎بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ پلاسٹک کور بظاہر کتابوں کو محفوظ رکھنے کا آسان طریقہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پلاسٹک فضلہ زمین، پانی اور ہوا کو آلودہ کر رہا ہے جبکہ اس کے اثرات جنگلی حیات پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎قانون سازوں نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس میں بڑی مقدار ناقابلِ ری سائیکل مواد پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہی پلاسٹک بعد ازاں ندی نالوں، دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں شامل ہو کر آلودگی میں اضافہ کرتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے پلاسٹک کے استعمال کو محدود کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
    ‎نئے قانون کے تحت تعلیمی اداروں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ طلبہ اور والدین میں ماحول دوست شعور اجاگر کریں اور کتابوں کے لیے ایسے کور استعمال کیے جائیں جو قدرتی طور پر تحلیل ہو سکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے نئی نسل میں ماحول کے تحفظ کا شعور بڑھے گا اور پلاسٹک کے مضر اثرات میں کمی آئے گی۔
    ‎ماہرین تعلیم نے بھی اس قانون کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں سے اس مہم کا آغاز مستقبل میں ملک بھر میں ماحول دوست رجحان پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

  • ’اسپارکو‘کے مطابق پاکستان میں عیدالاضحیٰ کب ہوگی؟

    ’اسپارکو‘کے مطابق پاکستان میں عیدالاضحیٰ کب ہوگی؟

    پاکستان کے تحقیقاتی ادارے ’اسپارکو‘ نے فلکیاتی اعداد و شمار کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کے آغاز کے لیے اہم پیشگوئی کی ہے-

    ’اسپارکو‘ کے مطابق ذوالحج 1447 ہجری کا نیا چاند 17 مئی 2026 کو رات ایک بج کرایک منٹ پر پیدا ہوگا، اسی روز غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 18 گھنٹے 30 منٹ ہوگی،پاکستان کے ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان تقریباً 60 منٹ کا وقفہ متوقع ہے، جو چاند کی رویت کے لیے ایک اہم فلکیاتی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر موسم صاف ہو اور افق کے قریب حدِ نگاہ بہتر ہو تو 17 مئی کی شام ذوالحج کا نیا چاند نظر آنے کے امکانات موجود ہیں لہٰذا یکم ذوالحج 18 مئی بروز پیر اور عیدالاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔

    اسپارکو نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام اندازے مکمل طور پر فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں، جبکہ ذوالحج کے چاند کی رویت اور مہینے کے آغاز سے متعلق حتمی فیصلہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی، جو ملک بھر سے حاصل ہونے والی معتبر شہادتوں اور مصدقہ مشاہدات کی روشنی میں باضابطہ اعلان جاری کرتی ہے۔

  • حکومت کی عیدالاضحیٰ سے قبل سرکاری ملازمین اور پنشنرز  کیلئے خوشخبری

    حکومت کی عیدالاضحیٰ سے قبل سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے خوشخبری

    وفاقی حکومت نے عیدالاضحیٰ سے قبل سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو مئی 2026 کی تنخواہیں اور پنشن پیشگی ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    وزارت خزانہ نے مئی 2026 کی تنخواہوں اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق عیدالاضحیٰ کے پیش نظر وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو 22 مئی کو تنخواہیں اور پنشن ادا کی جائیں گی عیدالاضحیٰ 27 یا 28 مئی 2026 کو متوقع ہے، اسی مناسبت سے ملازمین اور پنشنرز کی سہولت کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہے تاکہ وہ عید کی تیاری بروقت کر سکیں۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ادائیگیاں وفاقی حکومت کے ریسیپٹس اینڈ پیمنٹ رولز 2025 کے تحت کی جائیں گی، جبکہ کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو تنخواہوں اور پنشن کی بروقت اور جلد ادائیگی یقینی بنانے کیلئے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ اداروں کو فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ عید سے قبل ادائیگیوں کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد:سرکاری منڈیوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر مویشیوں کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہوگی

    اسلام آباد:سرکاری منڈیوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر مویشیوں کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہوگی

    اسلام آباد میں 6 مقامات پر سرکاری مویشی منڈیاں قائم کر دی گئی ہیں-

    انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز نے مختلف منڈیوں کا دورہ کیا جہاں پارکنگ، صاف پانی کی فراہمی، صفائی ستھرائی اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنرز نے منڈیوں سے ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کا بھی جائزہ لیا جبکہ بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ڈپٹی کمشنر نے ہدایت جاری کی ہے کہ دور دراز علاقوں سے آنے والے بیوپاریوں کو منڈیوں میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے-

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری منڈیوں کے علاوہ کسی بھی مقام پر مویشیوں کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں ہوگی شاہراہوں یا دیگر مقامات پر عارضی منڈیاں قائم ہونے کی صورت میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز سے بازپرس کی جائے گی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف سرکاری مویشی منڈیوں سے ہی جانور خریدیں۔

  • پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ  مسترد کر دی

    پاکستان نےنور خان ائیر بیس پر ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ مسترد کر دی

    پاکستان نے ایرانی طیاروں سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس کی رپورٹ مسترد کر دی-

    دفترِ خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق دعوے کیے گئے تھے ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ رپورٹ گمراہ کن، سنسنی خیز اور علاقائی امن و استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے جنگ بندی کے بعد اسلام آباد مذاکرات کے ابتدائی مرحلے کے دوران ایران اور امریکا کے متعدد طیارے پاکستان آئے تھے تاکہ سفارتی عملے، سیکیورٹی ٹیموں اور انتظا می اہلکاروں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کی جا سکے بعض طیارے اور معاون عملہ آئندہ مذاکراتی مراحل کی توقع میں عارضی طور پر پاکستان میں موجود رہے۔

    بیان کے مطابق اگرچہ باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوئے، تاہم اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے جاری ہیں اسی تناظر میں ایرانی وزیر خارجہ کے اسلام آباد کے دوروں کے لیے موجودہ انتظامی اور لاجسٹک سہولیات استعمال کی گئیں پاکستان میں موجود ایرانی طیاروں کا کسی فوجی ہنگامی صورتحال یا حفاظتی انتظا م سے کوئی تعلق نہیں، اس حوالے سے کیے جانے والے تمام دعوے قیاس آرائی، گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں، پاکستان نے ہمیشہ غیر جانبدار، تعمیر ی اور ذمہ دار سہولت کار کا کردار ادا کیا ہےاور کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیےاپنی کوششیں جاری رکھےگا-

  • ڈگریوں کی تصدیق کیلئے جدید ڈیجیٹل سسٹم لانچ

    ڈگریوں کی تصدیق کیلئے جدید ڈیجیٹل سسٹم لانچ

    اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے طلبا کی سہولت کے لیے ڈگریوں کی تصدیق کا مکمل طور پر آن لائن اور پیپر لیس نظام متعارف کرا دیا۔

    ہائر ایجوکیشن کمشین (ایچ ای سی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا ہے کہ نئے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم (ڈی اے ایس) کے تحت اب امیدواروں کو ڈگری تصدیق کے لیے ایچ ای سی دفاتر کے چکر لگانے یا اصل دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہو گی یہ جدید نظام بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہےجس کا مقصد تصدیقی عمل کو تیز، محفوظ اور شفاف بنانا ہےاس منصوبے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی سفارشات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔

    نئے سسٹم کے تحت طلبا ایچ ای سی کے ای سروسز پورٹل کے ذریعے 24 گھنٹے کسی بھی وقت اپنی درخواست آن لائن جمع کرا سکیں گے امیدواروں کو پورٹل پر اکاؤنٹ بنا کر تعلیمی تفصیلات اور اسناد اپ لوڈ کرنا ہوں گی جن کی جانچ پڑتال ایچ ای سی اور متعلقہ جامعات آن لائن کریں گی،فیسوں کی ادائیگی کو بھی ون لنک کے ذریعے آن لائن نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ تاکہ طلبا کو بینکوں میں طویل انتظار سے بچایا جا سکے۔

    ایچ ای سی کے مطابق اب حتمی جانچ مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کو ڈیجیٹل ای سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ جبکہ منظوری سے متعلق آگاہی ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے دی جائے گی۔ امیدوار اپنے پورٹل اکاؤنٹ سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ بھی کر سکیں گےاس اقدام سے نہ صرف وقت اور اخراجات کی بچت ہو گی بلکہ انسانی مداخلت کم ہونے سے شفافیت میں بھی اضافہ ہو گا۔