Baaghi TV

Tag: PTI

  • چیف جسٹس عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا. نواز شریف

    چیف جسٹس عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا. نواز شریف

    چیف جسٹس چیئرمین عمران خان کو بچانے کی کوششیں کررہا ہے اور اس کے لئے وہ اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگارہے ہیں جبکہ لندن میں میڈیا سے گفتگو میں میاں نواز شریف نے کہا سب جانتے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کرپٹ ہیں اور انہوں نے پاکستان کو تباہ کیا ہے جس میں دستور کی بار بار خلاف ورزی کی گئی اور کون نہیں جانتا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو لانے والے جنرل باجوہ اورجنرل فیض ہی تھے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ اس شخص یعنی عمران خان نےپاکستانی قوم کے اخلاقیات کو تباہ کیا ان کو غنڈہ گردی سکھائی، اوراپوزیشن میں سوائے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے سوا کچھ نہیں کیا،اس کے باوجود ہم نے قوم کی خدمت کی جبکہ اقتدار میں آکر اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    پشاور،نگران وزیر اعلی کےپی کے کا صحت کارڈ سہولت بند کرنے کا نوٹس
    ائی جی پی خیبر پختونخوا کا نوشہرہ اور مردان میں پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول روم کا افتتاح
    نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص دھرنوں کے وقت کہتا تھاکہ نواز شریف کو پرائم منسٹر ہاؤس سے گھسیٹ کر نکالوں گا،اور نواز شریف کے جیل میں کمرے سے پنکھا اور اے سی اتروادوں گا ،اورثاقب نثار رکارڈ پر ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جیل میں ڈالنا ہے اور عمران کو لانا ہے۔

  • ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    ہمارے سیاستدانوں نے کبھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ معروف صحافی

    صحافی ارشاد بھٹی نے کہا ہے کہ عطا تارڑ میرے لیے بہت محترم ہیں وہ صحیح بول رہے ہیں ہونگے جوکچھ ان کے کیساتھ ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہیں نہیں کہا بلکہ ایک ڈیوٹی جج گئے انہوں نے کہا کہ واش روم جو اڑھائی تین فٹ کا ہے اس کے بالکل اوپر 6 فٹ پر کیمرہ لگا ہوا ہے، اگر وہ واش روم استعمال بھی کریں تو ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ جج صاحب نے کہیں یہ نہیں کہا کہ میں جوں ہی گیا تو چیئرمین پی ٹی آئی میرے پائوں پڑ گئےاور کہنا شروع کر دیا کہ مجھے مٹن اور انواع واقسام کے کھانے دو ، میری سپیشل ٹائلیں لگائو، مجھے ڈرائنگ یا فرسٹ کلاس لائونج میں لے جائو، یا میں بہت بڑا کارنامہ کر کے آیا ہوں مجھے اس کا صلہ دو، یا مجھے 3 ہسپتالوں میں لے جائواورمیری تیرہ میڈیکل رپورٹس بنائو۔

    انہوں نے مزید کہا مجھے نواز شریف کی طرح جاتی امرا 8 ہفتوں کیلئے بھیجو، نواز شریف کی طرح لندن بھیجو، انہوں نے شہباز شریف کی طرح جج کے سامنے نہیں کہا کہ میری دو شکائتیں ہیں، یا پھر سعد رفیق طرح نہیں کہا کہ انڈہ کچا تھا، سلائس ٹھنڈا تھا، اور نہ ہی انہوں نے آصف علی زرداری کی طرح مساجر چیئر مانگی ہے جبکہ ہم نے پھر بھی سیکھنا نہیں ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے جو کیا وہ بھگتیں،اگر انہیں سزا ہوئی ہے تو عدالتیں سزا کو ختم کریں گی۔

    ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عطا تارڑ نے جو کہا کہ ان کیساتھ غلط ہوا، میں ان کیساتھ ہوں بالکل نہیں ہونا چاہیےتھا لیکن مجھے بتائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا کہا تھا؟ میں اے سی اور ٹی وی اتروا دوں گا اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہاں اے سی اور ٹی وی لگے ہوئے تھے، گھر سے طرح طرح کے کھانے آرہے تھے۔ جبکہ سینئر تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس ملک میں ہزاروں قیدی ایسے ہیں جن کے بدتر حالات ہیں، انہیں سردرد کی گولی تک نہیں ملتی، میں نہیں کہتا چیئرمین پی ٹی آئی کو سہولیات دیں لیکن اتنا تو کریں کہ جب وہ کسی واش روم میں جائیں تو سامنے کیمرا لگا ہوا نہ ہو۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    نجی ٹی وی کے مطابق سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ میں عطا تارڑ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کے کی طرف سے کہ ان کے فائدہ کیلئے آپ نے نیب قوانین میں ترمیم کی، شکریہ آپ نے اپنے گھر کے سارے پیسے لگا کر موٹرویز بنائیں، شکریہ اس کیلئے بھی کہ آپ نہ ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو ،غلام اسحاق خان، ڈاکٹر عبد القدیر، ثمر مند مبارک اور باقی ہزاروں خاموش مجاہدین ہیں ان کا تو کوئی کام ہی نہیں تھا اصل کام تو آپ نے کیا ہے، آپ نے دھماکے کیے آج ہم ناقابل تسخیر ہو گئے ہیں۔ جبکہ ارشا بھٹی نے مزید کہا کہ اس کیلئے بھی شکریہ ہے کہ آپ نے نیب ختم کیا جلد ہی آپ بزنس کی دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، آپ نے بہت اچھا سسٹم سیٹ کیا،زرداری ،مولانا صاحب اور آپ سارے ملے، اور اس ملک کو آپ نے بدترین حکومت دے کر ریکارڈ مہنگائی اور ریکارڈ بیروزگاری،ریکارڈ غربت دے کرآج آپ لندن میں بیٹھے ہیں اور یقینا ہمارے لیے سوچ رہے ہوں گے، شکریہ اس کیلئے بھی آپ نے نااہلی ختم کروائی اور آئین کو دھوکہ دیا،سپریم کورٹ کے فیصلوں کو دھوکہ دیا،پارلیمنٹ اور عوام کو دھوکہ دیا۔

  • ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے. خرم دستگیر

    خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ اسے درست طریقے سے گنا جائے اور اسمبلیوں میں سیٹیں دی جائیں جبکہ آئین یہ بھی کہتا ہے نئی مردم شماری پر انتخابات ہوں گے، پچھلی مردم شماری میں گجرانوالہ میں ایک قومی اسمبلی کی سیٹ کم ہوئی تھی اور انہوں نے کہا ہے کہ انتخابات کی حتمی اور آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، نگران حکومتیں صرف الیکشن کمیشن کی معاونت کیلئے ہوتی ہیں۔

    تاہم آئند عام انتخابات کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ اگلے سال کے شروع میں الیکشن ہو جائیں گے، ہم کہتے ہیں کہ ملک میں آئین کی پاسداری ہونی چاہیے جبکہ انکا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سیکیورٹی اور مالی حالات کا سامنا تھا، پنجاب اسمبلی کے الیکشن پر چھوٹے صوبوں نے اعتراض کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر
    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کا ریکارڈ پہلے سے ہی خراب ہے ، صدر مملکت نے بہت سارے معاملات پر آئین پر عمل نہیں کیا ، صدر مملکت نے نیشنل فنانس کمیشن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، صدر مملکت نے الیکشن کمیشن کے ممبران کو خود لگانے کی کوشش کی جبکہ خرم دستگیر نے کہا ہے کہ صدر مملکت کو آئین تیسرا کوئی آپشن نہیں دیتا، پارلیمنٹ دوبارہ بل کو منظور کر ے تو صدر مملکت نہیں روک سکتے، صدر اپنے ٹوئٹ میں اعتراف جرم کر رہے ہیں ، صدر مملکت پارلیمان کے پاس کئے گئے بل غیر موثر نہیں کر سکتے۔

  • عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے. سرفراز بگٹی

    عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے. سرفراز بگٹی

    نگراں وزیرداخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سانحہ نو مئی پر ریاست اپنے طور پر پاکستان تحریک انصاف سے منسلک شواہد جمع کررہی ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں لگا ہے جبکہ عمران خان سائفر کیس میں گرفتار نہیں ہیں۔

    نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدالت فیصلہ کرے گی چیئرمین پی ٹی آئی ملزم ہیں یا مجرم جبکہ پی ٹی آئی پر پابندی کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا لیکن 9 مئی حملہ منظم سازش تھی، ریاست اپنے طور پر 9 مئی پر پی ٹی آئی سے منسلک شواہد جمع کررہی ہے، ایف آئی اے اور دیگر ادارے اپنے طور پر کام کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سائفر سے متعلق دنیا بھر میں پاکستان کا تماشا لگایا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کیس میں گرفتار نہیں ہیں، سکیورٹی کے پیش نظر عمران خان کو اٹک جیل میں رکھا ہے علاوہ ازیں سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں 4 ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ حکومت پنجاب نے چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے بیت الخلا کا انتظام کیا ہے، ”عمران خان کے سیل کے سامنے واش روم پر کوئی کیمرہ نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    نگراں وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات دی گئی ہیں، وکلا کی جیل میں ملاقات ہوتی ہے، انھیں پڑھنے کیلئے کتابیں بھی دی گئی ہیں، وکلا کی ملاقات کم ہوسکتی ہے مگر ملاقات سے منع نہیں کیا گیا تاہم آئندہ عام انتخابات سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے، یہ مینڈیٹ پاکستان کی پارلیمنٹ نے اسے دیا ہے، اتفاق رائے ہے کہ حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات ہوں۔ خیال رہے کہ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حلقہ بندیاں ضروری ہیں، حلقہ بندیوں کے بعد الیکشن ہونے چاہئیں، جب تک حلقہ بندیوں کا معاملہ حل نہیں ہوتا الیکشن نہیں ہونگے، لگتا ہے کہ 7 یا 8 ماہ میں عام انتخابات ہو جائیں گے۔

  • صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    صدر مملکت پوسٹ کے بجائے قانونی طریقہ اختیار کرتے. شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ صدر مملکت ایکس پوسٹ نہ کرتے تو بہتر ہوتا کیونکہ انہیں معاملہ قانونی طریقے سے اٹھانا چاہئے تھا جبکہ صدر مملکت کسی پارٹی کی نمائندگی نہیں کر رہے اور دیکھنا ہوگا کہ صدر مملکت ردعمل نہ دیں تو کیا ہوگا، بل پر صدر کے ردعمل نہ دینے پر آئین بھی خاموش ہے اور صدر مملکت اپنے عملے کو تبدیل کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ عارف علوی نئے صدر کے آنے تک عہدے پر رہ سکتے ہیں، صدر مملکت کی مدت میں توسیع کی نظیر نہیں ملتی جبکہ ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بحث نہیں ہوئی، بہت سے بلز عجلت میں پاس کرائے گئے، بلز کی منظوری کیلئے کوئی دباؤ یا مخالفت نظر نہیں آئی۔ اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عجلت میں قانون سازی ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ انتخابات 90 دن میں نہیں ہوسکتے، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے کہ ساڑھے 4 ماہ درکار ہیں جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حلقوں میں وسیع تبدیلیاں آئیں گی، اصل مسئلہ حلقہ بندیوں کا ہے، دسمبر میں الیکشن ہوئے تو 35 نشستیں سردی سے متاثر ہوں گی، شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پرانی مردم شماری پر الیکشن کرنا بھی درست نہیں تھا، 5 سال بعد نئی مردم شماری کرانے کا وقت آجائے گا، مردم شماری کی تاخیر سے منظوری میں بدنیتی نہیں ہے، پی ٹی آئی دورمیں نئی مردم شماری پر الیکشن کا فیصلہ ہوا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو الیکشن کے قریب واپس آنا چاہئے، ووٹ کوعزت دو کا بیانیہ اپنا جگہ قائم ہے، شہباز شریف بتائیں گے کہ الیکشن مہم میں بیانیہ کیا ہوگا، مہنگائی کا بوجھ ن لیگ کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر کیمروں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیرک میں کیمرے لگانا زیب نہیں دیتا، بیرک میں سیکیورٹی دینی ہوتی ہے، جیل مینول کے مطابق سہولیات دی جاتی ہیں، سہولیات کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی جاتی ہے۔

  • پی ٹی آئی کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت پر پی ٹی آئی کا ردعمل آگیا ہے جس میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    جبکہ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پی ٹی آئی کور کمیٹی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے خود کو مقدمے کی سماعت سے فوری علیٰحدگی اور معاملہ کسی دوسرے بنچ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے قانون و انصاف کو محض ایک مذاق اور عدالت کو تماشہ بنا دیا، وہ چیف جسٹس کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں کور کمیٹی تحریک انصاف نے کہا کہ معاملے کو التواء میں ڈالنے کا واحد مقصد چیئرمین عمران خان سے روا رکھے جانے والے انتقام و تشدد کے سلسلے کا دوام ہے، چیف جسٹس آف پاکستان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے اندازِ فیصلہ سازی کا نوٹس لیں جبکہ کور کمیٹی تحریک انصاف نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کیخلاف سپریم جیوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • احسن اقبال نے جڑانوالہ واقعہ کو  سازش قرار دے دیا

    احسن اقبال نے جڑانوالہ واقعہ کو سازش قرار دے دیا

    سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے جبکہ ہمارے نبیﷺ امت کو امن کی تعلیم دی ہے لہذا جڑانوالہ کا دلخراش واقعہ یقیناً ایک سازش ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے نارووال کے سینٹ پال کاتھولک چرچ کا دورہ کیا۔ انہوں نے کریشن کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا مذہب ہے ۔ ہمارے نبیؐ نے امت کو امن کی تعلیم دی اور خاص طور پر ہر اسلامی ممالک میں جو غیر مسلم ہیں انکے حقوق کی بھی اسی طرح پاسداری کرنے کی تلقین کی ۔ جیسا کہ ریاست مسلمانوں کے جان ومال کی ذمہ درار ہے ۔

    علاوہ ازیں احسن اقبال نے کہا کہ یہ دلخراش واقعہ یقینا سازش کا حصہ ہے ۔جس نے ہمارے لوگوں میں ایسے مذہبی جذبات بڑکاے جس کے نتیجہ میں اسطرح کا واقعہ پیش آیا جبکہ احسن اقبال نے کہا کہ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں ایسی سازشوں سے باخبر رہنا چاہے ۔ اب پاکستان کے اندر قانون موجود ہے اور وہ قانون صرف مسلمانوں کے عقیدوں کے تحفظ کا دفاع نہیں کرتا بلکہ دیگر عقیدوں کے تحفظ کا بھی دفاع کرتا ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    واضح رہے کہ لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ تم دوسروں کے مقدس عقیدے کو برا نہ کہو چونکہ اگر ایسا کرو گے اور وہ تمہارے مقدس عقیدے کی توہین کرے گا ۔اسلام ہمیں بقائے باہمی اور امن کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ بھائی چارہ مذہبی ہم آہنگی اور مسلکی ہم آہنگی ہر سطح پر ایسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک جس کے اندر مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف زبانوں کے بولنے والے بستے ہیں ہرلحاظ سے محفوظ رہ سکیں ۔

  • بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان کی آٹھ رکنی نگران صوبائی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے جس کے بعد پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے جبکہ تین مشیروں کو بھی قلمدان تفویض کردیئے گئے ہیں علاوہ ازیں بلوچستان کی نگران کابینہ میں شامل پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے اور حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ہوئی جس میں گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگران صوبائی وزراء سے حلف لیا۔

    واضح رہے کہ تقریب میں نگران وزیراعلیٰ میرعلی مردان ڈومکی ، قبائلی و سیاسی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی اور نگران کابینہ میں شامل کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی کووزارت داخلہ، امجد رشید کو خزانہ، پرنس احمد علی کو صنعت و حرفت ،ایکسائز ، جان اچکزئی کو اطلاعات، ڈاکٹر قادر بخش کو وزارت تعلیم اور سیاحت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ شانیہ خان ، میر دانش لانگو اور میر عمیر محمد حسنی کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں شانیہ خان کو سوشل ویلفیئر اوروویمن ڈویلپمنٹ ، میر دانش لانگو محکمہ ایری گیشن اور میر عمیر محمد حسنی مائنز اینڈ منرلز کے قلمدان تفویض کردیے گئے جبکہ گورنر ہاوس کوئٹہ میں نگران صوبائی وزراء کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےنگران وزیراعلیٰ بلوچستان میرعلی مردان ڈومکی کا کہنا ہے کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں ۔ اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہے ۔ دوسرے مرحلے میں مزید وزراء اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان پہلی ترجیح ہے ، جو ناراض بلوچ بات کرنا چاہتا ہے ان سے بات کریں گے ۔ لیکن زبردستی کسی سے بات چیت نہیں کریں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کی جائے گی جبکہ نگران وزیراعلی علی مردان ڈومکی نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے محنت کریں گے اور صاف شفاف الیکشن یقینی بنائیں گے ، ہمارا کام صرف صاف شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے ۔امن وامان اور ترقیاتی منصوبے ترجیحات میں شامل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہیں۔ صوبائی کابینہ کی تشکیل دینے کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔۔ جلد ہی دیگر وزراء بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

  • صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    صدر مملکت معاملہ، شفاف تحقیقات کرنی چاہئے. سابق وزیراعظم

    سابق وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے بیان کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ سابق وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (نواز) کے قائد نوازشریف سے ملاقات کے لیے ایون فیلڈ ہاؤس پہنچے ہیں، جبکہ اس موقع پر شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صدر مملکت عارف علوی نے جو بیان دیا ہے اس کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیئں، تاکہ شفاف تحقیقات کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہونا چاہیئے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ صدر جس بل کو چیک کرتے ہیں اس پر دستخط بھی کرتے ہیں، اس میں زبانی کلامی والی کوئی بات نہیں ہوتی، پاکستان کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر بیٹھے شخص کو زبانی کلامی بات نہیں کرنی چاہیئے۔ تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر مملکت صاحب نے اتنے دن انتظار کیوں کیا؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلوں پر دستخط نہ کرنے والا معاملہ اتنا آسان نہیں، اس پر صدر عارف علوی کو جواب دینا پڑے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں آرمی اور آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی۔ اور پھر آج صدر مملکت عارف علوی کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردی گئیں جبکہ ایوان صدر نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے نام خط لکھ دیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ صدر مملکت کے سیکرٹری وقار احمد کی خدمات مزید درکار نہیں ہیں لہذا وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کی جاتی ہیں۔

  • عمران خان کو تمام سہولیات میسر، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب

    عمران خان کو تمام سہولیات میسر، محکمہ جیل خانہ جات پنجاب

    ایڈیشنل سیشن جج اٹک کی جانب سے جاری کردہ ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے دورے کی رپورٹ کے متعلق ترجمان محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے وضاحت جاری کی ہے جس میں ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں قید چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو پاکستان پریزنز رولز 1978 کے رول 257 اور 771 کے مطابق تمام تر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

    مزید کہا گیا ہے چئیرمین پی ٹی آئی کے لئے انکے کمرے میں بروز ہفتہ نیا واش روم تعمیر کیا گیا ہے اور واش روم میں ویسٹرن کموڈ اور واش بیسن بھی لگائے گئے ہیں جبکہ واش روم میں باتھ سوپ ، پرفیوم ، ائیر فریشنر ، تولیہ اور ٹیشو پیپر بھی موجود ہیں علاوہ ازیں واش روم کی دیواریں 5 فٹ اونچی رکھی گئی ہیں اور باتھ روم کو نیا دروازہ لگایا گیا ہے۔

    وضاحت کے مطابق چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے کمرے میں بیڈ ، تکیہ ، بیڈ میٹرس ، میز ، کرسی ، ائیر کولر ایگزیکٹ فین ، فروٹ ، شہد ، کھجوریں ، جائے نماز انگریزی ترجمے کے ساتھ قران مجید ااور مطالعہ کیلئے ایک درجن کے قریب کتابیں ، چائے تھرماس ، اخبار اور ٹیشو پیپر موجود ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی منگل کے روز فیملی اور جمعرات کے روز وکلاء سے قانون کے مطابق ملاقات کرائی جاتی ہے۔ جبکہ عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے پانچ ڈاکٹر تعینات کئے گئے ہیں۔ آٹھ گھنٹے ڈیوٹی پر ایک ڈاکٹر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اسپیشل خوراک دی جاتی ہے ، جسے ڈاکٹر کی چیکنگ کے بعد سپیشل ٹیم کے ذریعے مہیا کیا جاتا ہے۔ اور چئیرمین تحریک انصاف اور جیل سیکیورٹی کے لئے انکے کمرے کے باہر برآمدے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔