Baaghi TV

Tag: PTI

  • حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    حکمران جماعت کے وزیر جمہوری دور میں بادشاہت کی مثالیں ہیں

    زیر نظر تصویر یقیناً مغلیہ دور کی نہیں جس میں کنیزیں بادشاہ سلامت کے استقبال کے لئے کھڑی ہوں۔ یہ ہمارے آج کے معاشرے کی تصویر ہے، جس میں ہماری طالبات جناب ایم این اے فرخ حبیب صاحب کا استقبال فرما رہی ہیں۔ اور یہ وہ نمائندہ ہیں جو طلبہ تنظیم کو ہیڈ کرتے رہے۔
    وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ریلوے میاں فرخ حبیب کی گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین سمن آباد میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی ،میاں فرخ حبیب نے پرچم کشائی کی اور طالبات سے پر جوش خطاب کیا

  • وزیر خارجہ کا کشمیر متنازع بیان: پی ٹی آئی کا ردعمل سامنے آگیا

    وزیر خارجہ کا کشمیر متنازع بیان: پی ٹی آئی کا ردعمل سامنے آگیا

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے وزیر خارجہ کے متنازع بیان (جس میں انہوں نے جموں و کشمیر کو بھارتی ریاست قرار دیا تھا) پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "شاہ محمود کی زبان پھسل گئی تھی”. یہاں اصل بات یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی کو خود اس پر ردعمل دینا چاہیئے اور قوم سے فوری طور پر معافی مانگنی چاہیئے.

    تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر شاہ محمود کے کشمیر متنازع بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ان کی زبان پھسل گئی تھی” لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف کی نہیں ہے کہ وہ شاہ محمود کے بیان پر ردعمل دے بلکہ اس غیر ذمہ دارانہ بیان پر انہیں خود سامنے آنا چاہیئے اور قوم سے معافی مانگنی چاہیئے. ساتھ ہی ساتھ انہیں اپنے اس بیان پر ردعمل بھی دینا چاہیئے.

    واضح رہے کہ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں خطاب کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے جموں و کشمیر کو بھارتی ریاست قرار دیدیا. شاہ محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت دنیا کو ظاہر کروا رہا ہے کہ کشمیر میں صورتحال معمول کے مطابق ہے، اگر جموں و کشمیر کی صورتحال واقعی بہتر ہے تو بھارت اپنی ریاست (جموں و کشمیر) میں میڈیا کو کیوں نہیں جانے دے رہا”

  • صحت انصاف پروگرام: وزیراعظم نے کتنے کارڈ تقسیم کردیئے؟ جانئے

    صحت انصاف پروگرام: وزیراعظم نے کتنے کارڈ تقسیم کردیئے؟ جانئے

    اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم کے صحت انصاف پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پانچ لاکھ صحت انصاف کارڈ تقسیم کردیئے گئے ہیں.

    تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے صحت انصاف پروگرام کے تحت خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں پانچ لاکھ صحت انصاف کارڈ تقسیم کر دیئے گئے، وزیراعظم کی ہدایت پر قبائلی اضلاع کے تمام خاندانوں کو صحت انصاف کارڈ فراہم کیے جارہے ہیں، ابتدائی طور پر 3 لاکھ روپے تک تمام امراض کا علاج کروایا جاسکتا ہے تاہم کسی بڑے مرض کی صورت میں صحت انصاف کارڈ کو 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک علاج کروایا جاسکے گا۔ وزیراعظم کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ یہ صحت کے شعبے میں بڑی تبدیلی رونما کرے گا.

  • نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: ایسی خبر آگئی جس سے غریبوں کے چہرے کھل اٹھے

    نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم: ایسی خبر آگئی جس سے غریبوں کے چہرے کھل اٹھے

    اٹک (اے پی پی) مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے اٹک میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا دورہ کر تے ہوئے کہا کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام موجودہ حکومت کا انقلابی قدم ہے.

    وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے کہا ہے کہ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام موجودہ حکومت کا انقلابی قدم ہے. جس کی وجہ سے غریب طبقے کوسہولت حاصل ہوگی اور ان کو کم قیمت میں شاندار گھر میسر آئیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اٹک میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ پروگرام کے لیے حاصل کی گئی اراضی کا دورہ کر تے ہوئے کیا۔ ان کے ہمراہ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اٹک عشرت اللہ خان نیازی، اسسٹنٹ کمشنر اٹک جنت حسین اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ مشیر وزیراعظم پاکستان کو اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ چار سو کنال اراضی نےا پاکستان ہاﺅسنگ پر وگرام کے لیے حاصل کی گئی اور محکمہ ہاﺅسنگ کے حوالے کر دی گئی ہے،سیکرٹری ہاﺅسنگ پنجاب اور ڈی جی ہاﺅسنگ نے بھی سائٹ کا دورہ کیا اور اس کو پرا جیکٹ کے لیے موزوں قرار دیدیا ۔حاصل کی گئی اراضی پر متعلقہ محکمہ جلد تعمیرات کا آغاز کر دے گا۔

  • تبدیلی کا کیک اور آدھی روٹی ۔۔ ایاز خان

    ایک ملک میں انہتائی کرپٹ حکمرانوں کی حکومت تھی ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت کا بازار گرم تھا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتے جاتے تھے ۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے ۔۔ عوام جتنا کماتے سب خرچ ہوجاتا۔بلکہ مقروض رہتے ۔
    وہاں ایک شخص جس نے ساری عمر کھیل کود میں گزاری تھی اور اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا۔۔لوگوں کی حالت اور حکمرانوں کی بے حسی پر کُڑھتا رہتا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نہ خود بادشاہ بن کر لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے جان چھڑائی جائے ۔ ۔اورپھر اُس نے لوگوں کو قائل کرنا شروع کردیاکہ وہ انہیں ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے گا۔۔جو دولت ان حکمرانون نے لوٹی ہے وہ واپس لا ئے گا ۔۔اور لوگوں اور غذائیت کی کمی کے شکاربچوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کو دے گا ۔پھر کیا تھا کہ لوگوں نے اس شخص کی بات پر یقین کرلیا۔اور کرپٹ حکمرانوں کو ہٹا کر اُسے حکمرانی دے دی گئی جب وہ شخص حکمران بنا تو کیادیکھتاہے کہ خزانہ تو خالی ہے بلکہ ملک کا دیوالیہ نکلا ہواہے۔
    پھر کیا تھا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں پر مقدمات بنے اور انہیں جیل میں ڈالا گیاکہ لوٹی دولت واپس دو۔۔مگر نہ دولت واپس آئی اور نہ ہی خزانہ بھرا۔۔ نئے حکمران نے اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ سر جوڑ لیا۔کچھ نے مشورہ دیا کہ دوست ملکوں سے قرض لیا جائے ۔او ر خزانہ بھر ا جائے تاکہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک مل سکیں ۔۔نیا حکمران کبھی اس ملک بھاگا کبھی اُس ملک بھاگا۔۔کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے لیا ۔۔مگر خزانہ بھر نا تو دور کی بات ۔کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوگیا۔۔پھر کیا تھا کہ فیصلہ کیاگیاکہ اُس آدمی کو لایا جائے جو پہلے حکمرانوں کو بھاری سود پر ر قم کا بندوبست کر کہ دیتاتھا۔اگرچہ نئے حکمران نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ۔وہ خود کُشی کرلے گا لیکن ایسے کام کبھی نہیں کرے گا جو پہلے والے حکمران کرتے آئے ہیں ۔۔مگر اُس نے تو عوام کو روٹی کی جگہ کیک کھلانے تھے ۔اس عظیم مقصد کے لےے اُس نے بھاری سود اور شرطوں سے بھرپور قرض بھی لے لیا۔۔لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آرہے تھے ۔۔کیونکہ خزانہ تھا کہ جتنا مرضی ڈالے جاﺅ بھر تاہی نہیں تھا ۔اور قرض تھا کہ آسمانوں کو چھونے لگا۔۔نئے حکمران نے بڑے بڑے معاشی پنڈت بلا لیے ۔۔اور اُن کے سامنے اپنا مدعا رکھا کہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک کیسے کھلایا جائے ۔کیونکہ ان حالات میں تو ممکن نہیں ۔

    فیصلہ کیا گیا کہ لگان اتنا بڑھا دیاجائے کہ خزانہ بڑھ جائے اور کیک کی فیکٹریاں لگ سکیں ۔اور پھر فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوا۔۔ پھر کیا تھا کہ ہر کمانے والے پر جو پہلے ہی طرح طرح کے تاوان دیتاتھا۔نئے نئے لگان لگادیے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو چار روٹیاں کھاتا تھا ۔مہنگائی بڑھنے اور تاوان کٹنے سے دو روٹیوں پر آگیا۔۔جو دو روٹیاں کھاتا تھاایک ۔۔اور جو ایک روٹی کھاتا تھا ۔اسے مجبور کردیاگیاکہ وہ آدھی روٹی کھائے ۔۔۔رہی بات آدھی اور چوتھائی کھانے والوں کی تو انہیں بھی دو دو تین تین نوالے لگان میں دینے کا کہہ دیا گیا۔۔تاکہ ۔ اُن کے لیے کیک کا بندوبست ہوسکے ۔۔ اُن میں سے ایک مشیر ایسا بھی تھا جو سامنے تو نہیں آتا تھا لیکن فیصلے وہی کرتا تھا کہ کس وزیر کو لگانا ہے اور کسے ہٹانا ہے ۔اس مشیر کا چینی کا دھندہ تھااور چونکہ کیک بغیر چینی کے مکمل نہیں ہوسکتا تو مشیر نے کہا کہ اتنے کیک بنانے کے لیے بہت زیادہ چینی درکار ہوگی ۔اور لوگ سستے داموں چینی لے کر کھا جاتے ہیں ۔۔اس لیے اگر چینی پر بھی تاوان لگا دیا جائے تو اتنے پیسے اکٹھے ہوجائیں گے کہ مستقبل میں کیک بنانے کے لےے چینی وافر مقدار میں موجود ہوگی اور ضرورت پڑنے پر ان پیسوں سے درآمد بھی کی جاسکے گی ۔۔پھر کیا ہوا کہ چینی پر بھی لگان لگا دیاگیااور عوام کے بچوں کو جو پانی میں قطرہ بھر دودھ ڈال کر چینی ملا کر پلا یا جاتا تھا ۔۔وہ بھی ممکن نہ رہا۔۔۔حالات زرہ خراب ہوئے تو صنعتکاروں اور کاروباری حضرات جن کے منافعے زرہ کم ہوئے تو ۔انہوں نے مزدور نکالنے شروع کردےے ۔بچ جانے والوں کو کہا جانے لگا کہ دو دو تین تین لوگوں کا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور وہ بھی آدھی تنخواہ پرجب عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھی تو ملک کا حکمران آئے روز مجمع لگاتا ۔اور لوگوں کو کہتا کہ وہ ےہ سب اس لےے کررہا ہے تاکہ عوام روٹی کی بجائے ”کیک “ کھاسکیں اور بچوں کی نشو و نما اچھی ہوسکے ۔۔انہیں ےہ کچھ عرصہ برداشت کرنا پڑے گا۔۔اور کہتا کہ میں نے خود بھی محل میں رہنا چھوڑ دیاہے ۔۔اور اپنے خرچے پر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتاہوں ۔اس لےے صبر کریں ۔اور لگان دیں ۔
    مگر ےہ جھوٹے دلاسوں سے عوام کے پیٹ کہاں بھرتے ہیں اور ۔اور پھر کیا ”کیک “ کے انتظار میں لوگ کب تک آدھی روٹی پر گزارہ کریں ؟۔۔پھر کیا تھا کہ وہی کرپٹ حکمران جنہوں نے عوام کو بس روٹی تک محدود کر رکھا تھا اور عوام میں اُنکی جگہ نیا حکمران لابٹھایا ، نئے حکمران کے خلاف اکٹھے ہو نا شروع ہوگئے ۔اور عوام کو کہنے لگے ۔۔”دیکھا ہم تمھیں روٹی تو دیتے تھے ۔۔۔اس نئے حکمران نے تو تمھاری روٹی بھی آدھی کردی “۔۔۔اور پھر وہ سارے کرپٹ ملکر نئے حکمران کو ہٹانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔اور ساتھ ہی حکومت کو معیشت کو ٹھیک کرنے کے لےے معاہدوں کی پیشکش بھی کرنے لگے ۔۔۔۔
    کہانی ابھی جاری ہے !

  • حزب اختلاف کا افطار ڈنر ابو بچاؤ مہم ہے. مبشر لقمان

    معروف انویسٹیگیٹو جرنلسٹ مبشر لقمان نے حزب اختلاف کے افطار ڈنر کو ابو بچاؤ مہم قرار دے دیا. یہ بات انہو‍ں نے ہم نیوز کے پروگرام بریکنگ پوائنٹ ود مالک میں گفتگو کرتے ہوئے کی.انکا مزید کہنا تھا کہ حکومت معاملات کو ٹھیک سے نہیں چلا پا رہی جسکی وجہ اپوزیشن کو حکومت کے خلاف متحد ہونے کا موقع ملا ہے.

    اپوزیشن جماعتوں‌ کی پی ٹی آئی حکومت کیخلاف صف بندی کی تیاریاں، بلاول بھٹو کی افطار پارٹی پر نظریں‌ لگ گئیں

    عوام مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں. حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہی ہے جسکا فائدہ اپوزیشن نے اٹھایا اور عید کے بعد تحریک چلانے کا اعلان کیا جسکے بہانے بلاول و مریم کو اپنے ابوؤں کو بچانے کا موقع ملا ہے.

    بلاول اور مریم ملاقات سے متعلق عمران خان نے کیا کہا؟ اہم خبر آ گئی

    انکا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر الزمان کائرہ کے بیٹے کی ایکسیڈنٹ کی ناگہانی موت کے باوجود بھی اپوزیشن نے افطار ڈنر کا پروگرام کیا حالانکہ کے دو چار دن مزید موخر کیا جا سکتا تھا.

    ملک بھر سے تعزیت کیلئے آنے والوں کا مشکور ہوں، قمر زمان کائرہ

    قمر زمان کائرہ کے بیٹے کے ختم قل ادا، ہزاروں افراد کی شرکت