Baaghi TV

Tag: PTI

  • آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حلقہ بندیوں کی وجہ سے انتخابات کو آئینی حد سے زیادہ ملتوی کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ جاری اعلامیہ میں انہوں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حلقہ بندیوں کا شیڈول انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے اور اس بات کا بھی اظہار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 224 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نوے (90) دن کے اندر عام انتخابات کرانے کا پابند بناتا ہے۔


    واضح رہے کہ وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مذکورہ فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے مطابق مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    جبکہ جاری اعلامیہ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور قانونی برادری نے ہمیشہ ملک کے جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے جبکہ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی بہتر مستقبل حاصل کیا جاسکتا ہے اور اسی میں ہی ملک کی موجودہ بدترین معاشی صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

  • پاکستان  شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف

    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان ایکسپو میں ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے اعنوان سے اختتامی تقریب سے خطاب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ فنڈ کو اس اہم فورم کو منظم کرنے پر مبارکباد پیش کی جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ میں تمام ماہرین ، مقررین اور شرکاء کو گزشتہ تین دن اس اہم تقریب میں شرکت کرنے پر مشکور ہوں ، راجہ پرویز اشرف عالمی سطح پر پاکستان صرف 1فیصد کاربن کا اخراج کرتا ہے ، راجہ پرویز اشرف پاکستان اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا ہے.

    راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال پاکستان میں خوفناک سیلاب سے لاکھوں لوگوں کو نقصان پہنچا ، راجہ پرویز اشرف سیلاب کی تباہ کاریوں کی بحالی میں پاکستان کو عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے ، راجہ پرویز اشرف پاکستان کی تباہ حال معیشت سیلاب کی تباہ کاریوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی.

    راجہ پرویز اشرف تقریب سے خطاب میں یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ قدرتی آفات سے قبل حفاظتی اقدامات انتہائی ضروری ہیں ، راجہ پرویز اشرف ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی میں بروقت فیصلہ سازی کے نظام کو مزید موثر بنانا ہوگا ، راجہ پرویز اشرف مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ وف ڈیزاسٹر منیجمنٹ مکمل فعال ہوگیا ہے ، راجہ پرویز اشرف قدرتی آفات کی تباہی سے نمٹنے کیلئے مضبوط ردعمل نظام کے قیام کے ساتھ ساتھ اس کی وجوہات پر تحقیق کی بھی ضرورت ہے.

    راجہ پرویز اشرف کے مطابق پاکستان کی قومی اسمبلی نے ہنگامی بنیادوں پر قدرتی آفات کے واقعات پر قومی ردعمل پلان تشکیل دیا، راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کی ایس ڈی جیز اور قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے موسمیاتی تبدیلیوں کے قومی پلان تشکیل میں مثبت کردار ادا کیا، راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی متحرک پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے عالمی اور علاقائی چیلنجز کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہی ہے.

    ان یہ بھی کہنا تھا کہ قومی اسمبلی نے اسلام آباد میں بین الپارلیمانی یونین کے ایشیائی پیسفک پارلیمانوں کا موسمیاتی تبدیلیوں پر سیمنار منعقد کروایا، راجہ پرویز اشرف ہم نے دنیا کے سامنے موسمیاتی تبدیلیوں پر اپنا مقدمہ احسن طریقے سے پیش کیا.

  • پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف  جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی کارکن شایان علی کیخلاف جوڈیشل آفیسر کو ہراساں کرنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ مقدمے کے متن کے مطابق برطانیہ میں شایان علی نے جوڈیشل آفیسرکو ہراساں کیا تھا اور شایان علی پر جوڈیشل آفیسر کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا الزام بھی ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکن کے خلاف مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے جوڈیشل آفیسر سے متعلق ویڈیو بنا کر وائرل کی تھی۔


    تاہم واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں سزا سنانے والے اسلام آباد کی مقامی عدالت کے جج ہمایوں دلاور ”ہیومن رائٹس اینڈ رول آف لا“ پر جوڈیشل ٹریننگ کیلئے انگلینڈ کے شہر لندن گئے تھے۔ جج ہمایوں دلاور 13 اگست تک لندن کی یونیورسٹی آف ہل میں ہونے والی ٹریننگ میں شریک ہوئے تھے۔ جبکہ جج ہمایوں دلاور کی انگلینڈ روانگی کی خبر سامنے آئی تو پی ٹی آئی کے حامیوں نے لندن میں ان کے استقبال کا اعلان کیا تھا۔

    تاہم ان حامیوں میں پیش پیش شایان علی اور ان کی فیملی بھی تھی جو جج ہمایوں دلاور کے استقبال کیلئے لندن کے ائرپورٹ پہنچے، لیکن وہاں پانچ گھنٹے انتظار کے باوجود ان کا سامنا جج ہمایوں دلاور سے نہ ہوسکا اور وہاں سے انہیں مایوس ہونا پڑا جبکہ اس کے بعد انہوں نے لندن کی ہل یونیورسٹی کا رُخ کیا، جہاں جج ہمایوں دلاور کو جوڈیشل ٹریننگ کیلئے جانا تھا، لیکن وہاں بھی وہ جج ہمایوں دلاور سے نہ مل سکے، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ میرا مقابلہ ہل یونیورسٹی میں دلاور سے ہوا اور میری ٹیم پر حملہ کیا گیا اور دھمکیاں دی گئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شایان علی یونیورسٹی کے دروازے کی جانب بڑھتے ہیں تو ایک شخص ان کے پاس آتا ہے اور ویڈیو بنانے والے کا فون چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ اور پھر مذکورہ بالا ویڈیو میں یہ واضح نہیں کہ جج ہمایوں دلاور وہاں موجود تھے، یا نہیں۔ لیکن اس کے بعد شایان علی نے بتایا کہ انہوں نے حملہ کرنے والے شخص کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرادی ہے۔ علاوہ ازیں شایان علی نے اپنے دعوے میں لکھا کہ پولیس نے دلاور اور یونیورسٹی آف ہل کے پروفیسر کے خلاف رپورٹ درج کر لی ہے جنہوں نے دلاور کی ریکارڈنگ کرنے پر میری ٹیم پر حملہ کیا ہے.

  • سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو مبارکباد

    سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی نگران وفاقی کابینہ کے وزراء کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا نگران وفاقی کابینہ کے ممبران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ہے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نگران وفاقی کابینہ ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کیلئے اپنا آئینی کردار احسن طریقہ سے ادا کرے گی.

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ملکی بقاء و سلامتی کیلئے جمہوری نظام کا تسلسل اور جمہوری اقدار کا فروغ ضروری ہے جبکہ ملکی تعمیر و ترقی اور جمہوریت کی مضبوطی کیلئے آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے، جبکہ اس کے علاوہ ازیں چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے بھی نگران کابینہ کے اراکین کو کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نگران کابینہ ملکی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لئے اپنی تمام ترتوانائیاں بروئے کار لائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں شامل وزرا قابل، باصلاحیت، تجربہ کار اور ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ان کی کاوشوں سے ملک کے مسائل کےحل میں نمایاں بہتری آئے گی۔ جبکہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے پر بھی مبارکباد دی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    اعلامیہ کے مطابق چیئرمین سینیٹ نے جسٹس (ر) مقبول باقر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس (ر) مقبول باقر ایک قابل، محنتی اور دیانتدار انسان ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ بطور نگران وزیراعلیٰ سندھ اپنی تمام ترکاوشوں سے صوبے کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں. سرفراز بگٹی

    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما، سینیٹر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کی صوابدید ہے، الیکشن کمیشن کو انتخابات سے پہلے حلقہ بندیاں کرنی چاہیئں۔

    سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے بعد انتخابات کی تاریخ دے، نگراں حکومت کی ترجیح ہوگی کہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں، جب تک حلقہ بندیاں نہیں ہوں گی،الیکشن نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں بھی صاف اور شفاف انتخابات کی بنیادی شرط ہے، زمینی حقائق بتارہے ہیں الیکشن 6 سے7 ماہ میں ہوں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا
    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف
    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کے حق کی آڑ میں ریاست پر حملے کی اجازت نہیں ہوگی، سیاسی تشدد کا راستہ کسی کو نہیں دینا چاہیئے، الیکشن سے پہلے دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے، دہشت گردی کے خلاف تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا۔

  • نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم تقرری، روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا. خواجہ آصف

    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تقرری کا عمل جب شروع ہوا تو روز اول سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے تھا کہ کوئی ایسا شخص وزیراعظم نہ بن جائے کہ جس سے انتخابات پر سوالیہ نشان لگ جائے اور الزامات لگیں کہ ان کا کسی پارٹی سے تعلق ہے۔ احتیاط کی گئی کہ پی ڈی ایم سے جڑی کسی پارٹی پر یہ الزام نہ لگے۔ جبکہ نجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعظم جو ہیں، میرا نہیں خیال کہ انہوں نے وابستگی کا ایسا کوئی بوجھ اٹھایا ہوا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ان کا تعلق ضرور ہے لیکن اس پارٹی کا اتنا زور نہیں کہ وہ پورے پاکستان یا انتخابات پر اثر انداز ہوسکے۔

    انہوں نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ کی تقرری کا 48 گھنٹے پہلے سے ہی تمام پارٹیوں کو معلوم تھا اور اس سلسلے میں مشاورت بھی ہوگئی تھی۔ ان کی تعیناتی بلوچستان کے عوام پر اچھا اثر ڈالے گی۔ چاہے وہ نگراں ہی صحیح لیکن تاثر جائے گا کہ صوبے پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے کہ ’آپ بھی قومی دھارے کا حصہ ہیں ایک اہم حصہ ہیں اور برابر کے حصہ دار ہیں‘۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ کہ اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں ڈاکٹر مالک سمیت متعدد ناموں پر بحث ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیبرپختونخوا اور سندھ سے ایک ایک نام اور جنوبی پنجاب سے دو نام فائنل کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انوارالحق کاکڑ اسٹیبلشمنٹ کی پسند ہیں۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو دیگر جماعتوں کے تجویز کردہ بہت سے ناموں پر شدید تحفظات تھے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    نواز شریف کی پاکستان واپسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا آنا ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا، ان کی آمد سے عوامی نظریہ ہمارے لیے بہتر ہوگا، میرے حساب سے الیکشن کا اعلان ہونے کے بعد میاں صاحب کو آنا چاہیے۔ نو مئی سے متعلق مقدمات میں جیلوں میں قید خواتین سے سلوک کے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ نو مئی کے حوالے سے جو خواتین قید ہیں انہوں نے بغاوت میں حصہ لیا تھا اور سیاست میں جب ہم آجاتے ہیں تو پھر جینڈر ایکوالٹی (صنفی برابری) ہونی چاہیے جینڈر پریفرنس (صنفی ترجیح) نہیں ہونی چاہیے۔

  • مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    مہنگائی میں اضافہ کرکے غریب سے جینے کا حق بھی چھیننا چاہتے. عبدالعلیم خان

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے غریبوں سے جینے کا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ جاری ایک بیان میں صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے پٹرول و ریلوے کے کرایوں میں اضافے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی و پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ہر شہری تلملا اٹھا ہے اور مہنگائی ختم کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے بھی عوام سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے.

    صدر آئی پی پی علیم خان کا مزید کہنا تھا کہ غریب کو مزید دن بدن مارا جارہا ہے کیونکہ مہنگائی کی انتہا ہوچکی ہے اور پہلے سے عذاب میں مبتلا عوام کی سانسیں بند ہو رہی ہیں جبکہ پچھلی دونوں حکومتوں نے پانچ سال ضائع کردیئے ہیں جس سے مزید تباہی ہورہی ہے کیونکہ فوری ریلیف نہ ملا تو لوگوں کا جینا مشکل ہوجائے گا۔

    علاوہ ازیں عبدالعلیم خان نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ حکومتیں اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے غریب عوام کا سوچتی تو آج حالات مختلف ہوتے مگر پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں بے شمار اضافہ ہوجائے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی عوامی حقوق کے تحفظ کیلئےغریب عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ماضی کی حکومتوں چاہے وہ تحریک انصاف کی حکومت تھی یا پھر پی ڈی ایم کی دونوں نے تباہی ہی کی ہے اور غریب کا کسی نے کچھ نہیں سوچا ہے