Baaghi TV

Tag: PTI

  • تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا ہے اور نگران حکومت کے قیام پر بات چیت کی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی اور میر خالد خان مگسی بھی سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی سینئر سیاسی قیادت سے بھی رابطے کیے ہیں ، بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کے لیئے جمیعت علماء اسلام ف کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی کا نام دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے گودار سے رکن اسمبلی حمل کلمتی کو نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میرعلی حسن زہری، سینیٹر کہدہ بابر اورسابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی اور وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے رشتے دار نصیر بزنجو بھی بھی نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں شامل ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف فراڈ کے الزام پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف فراڈ کے الزام پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف خیانت کےالزام پر مقدمہ درج

    تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیرراجہ راشد حفیظ کیخلاف امانت میں خیانت کےالزام پر مقدمہ درج کر دیا گیا ہے جبکہ رپورٹس کے مطابق مقدمہ امانت میں خیانت کے الزام کے تحت تھانہ نیوٹاؤن میں درج کیاگیا ہے، مقدمہ عثمان پورہ راجہ بازار کے رہائشی ذیشان خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    جبکہ ایف آئی آر کے متن میں راجہ راشد حفیظ نے برطانیہ بھجوانےکےعوض 8لاکھ70ہزار روپےوصول کئے تھے۔ برطانیہ بھجوانےکیلئےراشد حفیظ کے پاس شیخ فہد لےکر گیاتھا۔پی ٹی آئی رہنما کےدفترکےچکرلگانےکےبعد اب شیخ فہد نےمدد سےانکارکردیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم خیال رہے کہ راجہ راشد حفیظ 9مئی واقعات کے بعد تاحال روپوش ہیںسابق صوبائی وزیرحساس ادارےکےدفترپرحملےکےمقدمہ میں نامزدمرکزی ملزم بھی ہیں

  • حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    حافظ حمد اللہ نے عمران خان کی گرفتاری کو مکافات عمل قرار دے دیا

    جمعیت علماء اسلام ( فضل گروپ ) کے ترجمان حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری مکافات عمل کا نتیجہ ہے۔ جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان جے یو آئی ایف حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت جادو ٹونے کے اثر میں تھی اور یہ ڈائری سے ثابت ہوگیا ہے اور پی ٹی آئی کی حکومت اس وقت کی خاتون اول چلاتی تھیں.

    علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری میں درج ہے ویسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جو اس کی حقیقت کا ثبوت ہیں اور 9 مئی کو سب کچھ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا تھا پی ٹی آئی حکومت میں مخالفین پر بے بنیاد مقدمات درج کیے گئے تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    حافظ حمداللہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ان کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے ہوئی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ٹرسٹ کی زمین اور 190 ملین پاؤنڈ کی حقیقت سامنے آنی چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بارے میں اب معلوم ہونا چاہئے علاوہ ازیں نگران وزیراعظم بارے کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعظم وہی اچھا ہے جوایک بیگ میں آئے اور وہی لے کر جائے یعنی یہاں پر ان کا اشارہ بدعنوانی کی طرف تھا کہ وہ کسی قسم کی بدعنوانی نہ کرے.

  • عمران خان کچھ نہیں، 11 سال پی ٹی آئی کیلئے بہت کچھ کیا. علیم خان

    عمران خان کچھ نہیں، 11 سال پی ٹی آئی کیلئے بہت کچھ کیا. علیم خان

    استحکم پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت ہوتے ہوئے کوئی خاص الیکشن نہیں جیتا تھا۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے علیم خان نے بتایا کہ کہ 9 مئی کو یہ معاملہ ہوگیا لیکن اس سے پہلے بھی لوگ پی ٹی آئی سے خوش نہیں تھے۔ جب میں نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ٹیم کا حصہ بننا چھوڑا تو وہ ہمارے ملک کے لیڈر تھے۔ اور ہم نے 10 سال پی ٹی آئی کے لیے بہت محنت کی۔ لہٰذا، کوئی بھی ہم پر پی ٹی آئی چھوڑنے کا الزام نہیں لگا سکتا ہے کہ انہوں نے اس وقت چھوڑا جب حالات مشکل تھے بلکہ اس وقت پی ٹی آئی اقتدار میں تھی۔

    ہم چیئرمین پی ٹی آئی کی اہلیہ اور ان کی بہنوں کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ تمام خواتین کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا ضروری ہے اور ان کے بارے میں یا ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں غلط باتیں نہ کہیں۔ جب آپ عورت کی بات کرتے ہیں تو لوگ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی رہنما نے مریم نواز کے بارے میں جلسے اور عدالتی کیس میں کیا کہا اور کیا نہیں کہا۔

    میں اس شخص کے بارے میں نہیں جانتا جو پہلے پی ٹی آئی کا لیڈر ہوا کرتا تھا لیکن اس کی اہلیہ نے لوگوں کو ٹکٹ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ عثمان بزدار نے کچھ برے کام کیے ہیں ان کا جواب پولیس کو لینا چاہیے۔ وہ اپنی ملازمت میں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرا۔ انہیں اس سے پوچھنا چاہئے کہ اس کے پاس پیسہ کیسے آیا اور کس نے اسے دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علیم خان نے مزید کہا پی ٹی آئی کو اپنا پیسہ اس لیے نہیں دیا کہ مجھے کسی نے کہا، بلکہ اس لیے دیا کہ میں واقعی پاکستان کو بہتر بنانے میں مدد کرنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ پاکستان ایک امیر اور ترقی یافتہ ملک ہو، جب دوسرے ممالک نے دیکھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے تو وہ پاکستان کو اس سے بھی بہتر کرنے میں مدد کرنا چاہتے تھے اور میں نے پی ٹی آئی کے لیے بہت کوششیں کی ہیں جو میں نے اس شخص کے لیے نہیں کی جو 2018 سے پہلے پاکستان میں پی ٹی آئی کا لیڈر تھا۔ 2018 کے بعد پی ٹی آئی کے لیڈر بدل گئے اور اب وہ بہت مختلف ہیں۔

  • پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔  بیرسٹر سیف

    پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی۔ بیرسٹر سیف

    تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر سیف کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کی ڈائری جھوٹ کا پلندہ ہے، ان الزامات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیئے، آڈیولیکس کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، پرویز خٹک کے واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو خیال آیا نگراں کابینہ سیاسی ہے، الیکشن کمیشن کو 6 ماہ پہلے یہ خیال آجاتا تو بہتر تھا، نگراں حکومت کا مقصد پی ٹی آئی کو ختم کرنا تھا۔

    بیرسٹر سیف کامزید کہنا تھا کہ بالآخر الیکشن کمیشن کل خواب خرگوش سے جاگی ہے، نگراں حکومت کا کام 90 دن میں الیکشن کرانا تھا، نگراں حکومت غیر آئینی طور پر بیٹھی رہی، پالیسی معاملات چلانا نگراں حکومت کا کام نہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کے فیصلے واپس لینے چاہئیں، پرویز خٹک کی واپس آنے کی خواہش پوری نہیں ہوگی، پرویزخٹک الیکشن تک نہیں جیت سکیں گے، ہوسکتا ہے پرویزخٹک کے لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ غیرجانبدار کابینہ بنائیں، پرویز خٹک کی خواہش تھی وہ وزیراعلیٰ بنے رہیں، پرویز خٹک 5 سال اسلام آباد میں منہ بناکر بیٹھے رہے، پاکستان میں کسی کے خلاف کرپشن کی فائل بنانا مشکل نہیں۔ بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری منظرعام پر آنے کے حوالے سے بیرسٹر سیف نے کہا کہ کیسے ثابت ہوگیا یہ بشریٰ بی بی کی ڈائری ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش ہے، ان الزامات کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیئے، بشریٰ بی بی کی ڈائری جھوٹ کا پلندہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ آڈیو لیکس کے حوالے سے بیریسٹر سیف کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی، سابق وفاقی وزیر نے آڈیو لیکس کی فرانزک کیوں نہیں کرائی، ان معاملات کو اٹھانا صرف بدنام کرنے کی کوشش ہے، یہ اپنی چوری پر پردا ڈالنا چاہتے ہیں۔

  • نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    نگران وزیر اعظم کا نام بہت جلد طے کرلیں گے. وزیر اعظم

    وزیر اعظم میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ آج رات یا کل تک ہو جائے گا جبکہ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا کہ صدرمملکت کو کس بات کی جلدی ہے جو خط لکھ دیا ہے، خط لکھنے سے قبل صدر مملکت کو آئین پڑھ لینا چاہیے تھا، میرے پورے 8 دن ابھی باقی ہیں، لہذا صدر مملکت عارف علوی کو چاہئے آئین پڑھیں۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعظم کی تقرری تک میں وزیراعظم ہوں، تین دن میں فیصلہ نہ ہوا تو پارلیمانی کمیٹی تین دن میں فیصلہ کرے گی اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی فیصلہ نہ کرسکی تو الیکشن کمیشن معاملہ دیکھے گا۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج رات اتحادیوں سے مشاورت کروں گا، تمام اتحادیوں کو مشاورت کیلئے آج بلایا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    علاوہ ازیں ان کا مزید کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت مشکل ترین حکومت تھی، سابق حکومت نے معیشت کے ساتھ خارجہ تعلقات کوبھی نقصان پہنچایا، امریکہ کے ساتھ گزشتہ دورمیں تقریبا تعلقات ختم ہو چکے تھے، اب تعلقات بہتری کی طرف آئے ہیں اور انسان وہ کام کرے جس کے نتائج وہ برداشت کرسکے، دو دن میں سائفر کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی ملکی ترقی کا مکمل ویژن ہے، سول اور عسکری قیادت نے ملک کو پھر ترقی کی راہ پرگامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ مقننہ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سارے ججزنہیں، وہ ججز قابل احترام ہیں جو آئین کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں نہ سنتے ہیں، چند ججز نے جان بوجھ کرپارلیمنٹ کےساتھ محاذ آرائی کی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کوئی شک نہیں کہ ہمارے 16 ماہ کے اقتدار میں مہنگائی بڑھی، چیئرمین پی ٹی آئی کےدورمیں مہنگائی ساڑھے 3 فیصد سے 12 فیصد تک گئی، ہمارے پاس کوئی جادو منتر نہیں تھا، تیل کی قیمتیں گرتی تھیں تو ہم قیمتیں کم کرتے تھے، ہمارے 16 ماہ میں کئی مرتبہ قیمتیں بڑھیں اورکم ہوئیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے دور میں گندم کی پیداوار کم ہوئی تھی، اس کے بعد ہمیں مجبوراً گندم درآمد کرنا پڑی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی تھیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بڑے چیلنج کو ہینڈل کیا، ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا اگر ڈیفالٹ ہوتا تو تباہی ہو جاتی، رمضان میں 40 یا 50 ارب روپے کا پنجاب میں مفت آٹافراہم کیا گیا، بجلی کی قیمتوں کی ری بیسنگ آئی ایم ایف کی وجہ سے کرنا پڑیں، اضافے کے باجود 63 فیصد بجلی صارفین پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے ملک میں تباہی کی، 9 مئی ریاست، فوج اور سپہ سالار کے خلاف بغاوت تھی، بغاوت ہوجائے اور معیشت اچھی چلے یہ کیسے ممکن ہے، 9 مئی ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوا، تعیناتی کی سمری آئی تو اس میں 6 نام موجود تھے جن میں سے جنرل عاصم منیرکا نام پہلے نمبر پر تھا۔ جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اچھے وقت اورچیلنجز دیکھے، ہم نے سیاست کو قربان کر کے ریاست کو بچانےکا فیصلہ کیا تھا، ریاست بچی ہے تو سیاست بھی بچ جائے گی، اچھا وقت آئے گا۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ قانون بنانا مقننہ کا کام ہے، سپریم کورٹ قانون نہیں بناسکتی، سپریم کورٹ صرف قانون کی تشریح کرسکتی ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ اس وقت آیا جب پارلیمنٹ مدت پوری کرچکی، سمجھ آتا ہے فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ اس پر نئی قانون سازی نہ ہو، مقننہ کو قانون سازی کا پورا اختیار ہے، کبھی نہیں ہوا ایک بینچ مقننہ کا قانون سازی پر عملدرآمد کا حق روک دے، قانون بننے کے بعد چیلنج کرنا الگ بات ہے، قانون پر عملدرآمد روکنے کا واقعہ کبھی نہیں دیکھا، نہ ہوگا، قانون پرعملدر آمد روکنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قائد مسلم لیگ ( ن ) نوازشریف اگلے ماہ وطن واپس آئیں گے، قوم ان کا بھرپور استقبال کرے گی، وہ وطن واپس آ کر قانون کا سامنا کریں گے، وہ اپنی نااہلی کی 5 سال کی مدت پوری کر چکے ہیں۔

    جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مردم شماری نتائج مکمل ہونے کے بعد ہم نے سی سی آئی کی میٹنگ بلائی، سی سی آئی فیصلےمیں لکھا ہے آئندہ الیکشن نئی مردم شماری پرہوںگے، چاہتاہوں کہ الیکشن جلد از جلد ہوں، میں نے اور نگراں حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں، آئین کے مطابق حکومت چھوڑ رہا ہوں، کوشش کی جائے تو مارچ 2024 سے پہلے الیکشن ہوسکتے ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کے حوالے سے تاریخی جھوٹ بولا، پینترا بدلا کہا کہ امریکا نے سازش نہیں کی، پھر جھوٹ بولا کہ سائفر گم ہوگیا ہے، سائفر گم ہو گیا تھا تو اسٹوری کہاں سے چھپ گئی؟، اسدمجید نے بطور سفیر میٹنگ میں کہا تھا حکومت گرانے کی سازش نہیں، سائفر کیسے لیک ہوا اس کاعلم نہیں، ایف آئی اے تحقیقات کر رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے خلاف کیسز سب نیب نیازی گٹھ جوڑ تھا، ہم دن رات پیشیاں بھگتے رہے، چیئرمین پی ٹی آئی کا معاملہ عدالت میں ہے، انہیں عدالتیں سزادیتی ہیں تو میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں۔

  • صدر مملکت  خط؛  12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت خط؛ 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام مانگ لیا

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیرِ اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کو 12 اگست تک نگران وزیرِ اعظم کا نام دینے کا کہہ دیا جبکہ صدر مملکت کا وزیراعظم میاں محمد شہبار شریف اور تحلیل شدہ قومی اسمبلی کے قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ریاض احمد کو خط میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں.


    جاری اعلامیہ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے۔

    صدرمملکت کا خط میں کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 224 ایک اے کے تحت صدر مملکت وزیراعظم اور قائدِحزب ِاختلاف کے مشورے سے نگران وزیرِ اعظم کی تعیناتی کرتے ہیں، اور آئین کے تحت وزیرِ اعظم اور قائدِحزب اختلاف کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے 3 دن کے اندر نگران وزیرِ اعظم کا نام تجویز کرنا ہوتا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    جبکہ صدر مملکت نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی ، 9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دی ہے اور وزیرِ اعظم اور قائد حزبِ اختلاف 12 اگست تک موزوں نگران وزیر اعظم کا نام تجویز کریں.

  • غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ

    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ

    مسلم لیگ ن کے رہنماء عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کے سوا سال میں کسی سے سیاسی انتقام نہیں لیا گیا، نہ کسی پر منشیات ڈالی نہ کسی کو بلاوجہ جیل میں ڈالا۔ جبکہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بارے کہا آپ کو چوری کے اوپر تین سال قید ہوئی اور واویلا کیا جا رہا ہے، بڑے بڑے وکلاء کو فیس آفر کی جا رہی ہے کہ آکر اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کروائیں۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ پیرنی صاحبہ نے کوئی منتر پڑھا اور سامنے مائیکس گرگئے جبکہ توشہ خانہ کیس میں ایک نہیں دو جج تبدیل کیے گئے، ٹرائل کئی مہینے تک چلا اور اس میں تاخیر ہوئی۔ انھوں نے مزید کہا کہ توشہ خانہ کے تحائف کی رقوم کو ذاتی استعمال میں لایا گیا، اور جب آپ غیر قانونی کام کریں تو اس کا جواب دینا پڑتا ہے۔

    لیگی رہنما عطاء یہ بھی کہنا تھا کہ تحفوں سے آنے والی رقوم کو ڈکلیئر کیوں نہیں کیا گیا، کچھ بد نصیب ہیں جو گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے کے عادی ہیں،جبکہ نو مئی کے روز اپنے ہی ملک میں اپنی ہی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل

    خیال رہے کہ عطاءاللہ تارڑ نے مزید کہا کہ ایک جج کیخلاف بین الاقوامی مہم چلائی گئی جبکہ چوری کی ہے تو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، سابق وزیراعظم منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتے تھے اے سی اتار دوں گا۔ جبکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کیوں کی گئی، سائفر کے معاملے پر من گھڑت کہانیاں گھڑی گئیں جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

  • نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

    نگراں وزیراعظم کی سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں. خرم دستگیر

    رہنماء مسلم لیگ ن خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے لیے باقاعدہ کوئی نام سامنے نہیں آیا ہے تاہم اسحاق ڈار بھی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں جبکہ جلیل عباس جیلانی کے نام پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے، نگراں وزیراعظم کا سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں اور امید ہے پہلے مرحلے میں معاملات طے پاجائیں گے جبکہ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خرم دستگیر نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے باقاعدہ کوئی نام سامنے نہیں آیا،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر 3،3 نام پیش کریں گے، امید ہے پہلے مرحلے میں معاملات طے پاجائیں گے۔

    خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ بڑی مشکل سے ملک میں معاشی استحکام آیا ہے نگراں سیٹ اپ ایسا ہونا چاہیئے جو معاشی استحکام آگے لے کر چلے، غیرملکی سرمایہ کاری متاثر نہیں ہونی چاہیئے، اور ترقی کے سفر میں تعطل نہیں آنا چاہیئے۔ نواز لیگ کے رہنما نے مزید کہا کہ اسحاق ڈار سینیٹر ہیں، انہوں نے قومی اسمبلی کا الیکشن نہیں لڑنا اس لیے ان پر نگراں وزیراعظم بننے کے لیے کوئی قدغن نہیں، الیکشن میں حصہ لینے والا نگراں سیٹ اپ میں نہیں ہوسکتا، اسحاق ڈار بھی مضبوط امیدوار ہوسکتے ہیں، ضروری ہے کہ اتحادی جماعتیں بھی ایک نام پر متفق ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ کیا ایساشخص لاسکتے ہیں جو کبھی کسی پارٹی سے منسلک نہ رہا ہو، نگراں وزیراعظم کا سیاسی جماعت سے وابستگی نہ ہونا ممکن نہیں، نگراں وزیراعظم کے نام پر مشاورت آج شروع ہوجائے گی، جلیل عباس جیلانی کے نام پر بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔ خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عہدے کے لیے نام آنا بھی اعزاز کی بات ہوتی ہے، ن لیگ کی خواہش ہے کہ شاہد خاقان عباسی پارلیمنٹ میں آئیں، خواہش ہے شاہد خاقان پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوں۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اداروں کی نجکاری قانونی عمل ہے، سرمایہ کاری پر نگراں حکومت کام کرسکتی ہے، پی آئی اے اور اسٹیل مل کی نجکاری منتخب حکومت کرےگی، 1990میں لگے بجلی گھروں کے معاہدے جلد ختم ہونے والے ہیں، کوشش ہوگی بجلی کے ایسے منصوبے لگائیں جو مقامی توانائی سے بجلی بنائیں۔

  • امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا

    ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔


    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا.


    ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ اس دستاویز کو ‘خفیہ’ کا نام دیا گیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے حکام بشمول جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ یہ دستاویز ذرائع نے "دی انٹرسیپٹ” کو فراہم کی، جبکہ انٹرسیپٹ ذیل میں کیبل کی باڈی شائع کر رہا ہے ، متن میں معمولی ٹائپوز کو درست کر رہا ہے کیونکہ ایسی تفصیلات دستاویزات کو واٹر مارک کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

    دی انٹرسیپٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مندرجات پاکستانی اخبار ڈان اور دیگر جگہوں پر شائع ہونے والی رپورٹنگ سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں ملاقات کے حالات اور کیبل میں ہی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس میں انٹرسیپٹ کی پریزنٹیشن سے حذف کیے گئے درجہ بندی کے نشانات بھی شامل ہیں۔ کیبل میں بیان کردہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حرکات کو بعد میں واقعات سے ظاہر کیا گیا۔ کیبل میں امریکہ یوکرین جنگ پر عمران خان کی خارجہ پالیسی پر اعتراض کرتا ہے۔ ان کی برطرفی کے بعد ان موقف کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد، جیسا کہ اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا.

    جبکہ ویب نے مزید لکھا کہ دستاویز کے مطابق؛ ملاقات میں، لو نے تنازعہ میں پاکستان کے موقف پر واشنگٹن کی ناراضگی کے بارے میں واضح الفاظ میں بات کی۔ اس دستاویز میں لو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی فکرمند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) اتنا جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے،۔ یہ ہمارے لئے اتنا غیر جانبدار موقف نہیں لگتا ہے۔ لو نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ داخلی بات چیت کی ہے اور "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔

    ویب نے دعویٰ کیا کہ لو نے دو ٹوک انداز میں عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ اٹھایا: "میرے خیال میں اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو واشنگٹن میں سب کو معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم ایک فیصلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بصورت دیگر،” انہوں نے مزید کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ لو نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال حل نہ کی گئی تو پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں پسماندہ ہو جائے گا۔ لو نے کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر خان عہدے پر رہے تو انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے "تنہائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    لیکن فرحان ورک کے مطابق تحریک انصاف کا سائفر بیانیہ جعلی جعلی ہے کیونکہ اگر امریکہ روس جانے پر پی ٹی آئی حکومت ہٹاتا تو امریکہ کے تین ہی فوائد ہوسکتے تھے

    1۔ پاکستان روس یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دے
    2۔ پاکستان اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دے
    3۔ پاکستان روس سے دور ہوجائے

    اسکے علاوہ تحریک انصاف ہٹانے کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ہٹنے کے بعد کیا امریکہ کو ان تینوں فائدوں میں سے ایک بھی فائدہ ملا؟ نہیں۔
    فرحان ورک نے مزید کہا ثبوت حاضر ہیں
    1۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری صاف صاف واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان روس یوکرین جنگ میں نیوٹرل ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    2۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس یوکرائن جنگ پر نیوٹرل موقف رکھا۔ یہ وہی موقف تھا جو عمران خان دور کا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ امریکہ کے پریشر کے باوجود یوکرائن کے حق میں ووٹ نا دیا
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    3۔ پاکستان روس سے قطع تعلقی کرلیتا لیکن یہاں تو پاکستان روس سے تیل منگوا رہا ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)

    انہوں یہ بھی کہا کہ ان تمام ثبوتوں کو دیکھ کر آپ خود بتائیں کہ اگر امریکہ نے روس سے تعلقات پر تحریک انصاف حکومت ختم کروائی تو پھر اس حساب سے تو پی ڈی ایم حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تو پھر امریکہ کوعمران حکومت ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا؟ لیکن وقت نے اس جماعت کے تمام جعلی پراپیگینڈا کو بے نقاب کر دیا ہے۔