Baaghi TV

Tag: PTI

  • بلاول بھٹو کس منہ سے قومی اسمبلی میں تقریر کررہے تھے؟ خرم شیر زمان

    بلاول بھٹو کس منہ سے قومی اسمبلی میں تقریر کررہے تھے؟ خرم شیر زمان

    پی ٹی آئی کے رہنماء خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کس منہ سے قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے؟

    خرم شیر زمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 14 سالوں میں سندھ کے ہزاروں بچے انتقال کر گئے ہیں، ہزاروں لوگ سندھ کے زہریلی شراب پی کر مر رہے ہیں، بلاول زرداری کس منہ سے قومی اسمبلی میں تقریر کر رہے تھے؟

    انہوں نے کہا کہ ہر عزاب سندھ میں سب سے پہلے نازل ہو رہا ہے، زہریلی شراب پینے سے 10 لوگ ٹنڈو جام میں انتقال کر گئے ہیں، ان شراب خانوں کی نگرانی کون کر رہا ہے؟ انہیں اجازت کس نے دی ہے؟ ایکسائز کے وزیر شراب کی کوالٹی چیک کرتے ہیں یا نہیں؟ وزیر ایکسائز اور سیکرٹری کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اسلامی ریپبلک کی زمین پر شراب کا گھناؤنا دھندہ چلایا جا رہا ہے، ہمارا مطالبہ ہے یہ کس قانون کے تحت شراب خانے چلائے جا رہے ہیں بتایا جائے؟ اس معاملے پر خاموش رہنا افسوسناک ہوگا۔

    خرم شیر زمان نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کل شرمناک بیان دیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے لوگ مر تو نہیں رہے، 10 لوگوں کی اموات وزیر اعلیٰ کے منہ پر تماچہ ہے، ہمارا وزیر ایکسائز کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ ہے، شراب خانوں سے پیپلز پارٹی کے وزیر پیسہ اکھٹا کرتے ہیں، یہ پیسے کی وجہ سے شراب خانوں پر کارروائی نہیں کرتے۔

    پی ٹی آئی کے رہنماء خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ شاہ رخ جتوئی ایک قیدی ہے، لیکن اس قیدی کو سسٹم کے ذریعے وسائل پہنچائے گئے، سندھ میں حکومت نہیں سسٹم ہے، یہ شراب کو شہد بنانے کے ماہر ہیں، چیف جسٹس سے ہاتھ جوڑ گزارش کرتا ہوں 10 لوگوں کی اموات کا نوٹس لیں، چیف جسٹس صاحب کو اس سسٹم کو پھیلنے سے روکنا ہے۔

  • میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی متنازع ترین اور خبروں میں رہنے والی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی ایک نئی ویڈیو سامنے آئی ہے

    نئی ویڈیو حریم شاہ نے انسٹا گرام پر جاری کی ہے جس میں حریم شاہ کا کہنا تھا کہ فاروق ستار اور فیاض الحسن چوہان میرے متعلق بے بنیاد باتیں بناکر لوگوں کو گمراہ کرنے اور اپنے صادق و امین ہونے کے دلائل دے رہے ہیں۔ میں فیاض الحسن چوہان کی بہت عزت کرتی تھی، میں نے میڈیا کو ہمیشہ یہی کہا کہ فیاض الحسن بہت اچھے انسان ہیں مجھے اور اللہ کو معلوم ہے کہ آپ کیسے انسان ہیں۔

    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کے حوالہ سے حریم شاہ کا کہنا تھا کہ فاروق ستار جھوٹ نہ بولیں کہ میں کسی کے ساتھ آپ سے ملنے آئی تھی ہماری ملاقات کراچی کے ایک ہوٹل کے کمرے میں ہوئی تھی آپ خود مجھ سے ملنے کے شوقین تھے۔فاروق ستار چھ ماہ سے درخواست کر رہے تھے کہ آپ جب بھی کراچی آئیں تو میری مہمان ہوں گی جب میں کراچی آئی تو فاروق ستار خود چل کر ہوٹل میں میرے کمرے میں آئے اب عوام کے سامنے جھوٹ نہ بولیں۔ بہت جلد آپ کی بیویوں کو آپ کے کرتوت بتاؤں گی پھر ان کو معلوم ہوگا کہ آپ دونوں کس قسم کے لوگ ہیں اور کسی حرکتیں کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ حریم شاہ کے متعلق بچھلے دنوں یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ حریم شاہ نے نکاح‌ کرلیا ہے اور ایسی تصاویر بھی تھیں . جس میں عروسی جوڑا پہنے ہوئے تھی اور مہندی والا ہاتھ کسی انگوٹھی والے ہاتھ میں ملا ہوا تھا . اس بعد بہت سی چہ مگوئیاں ہوئیں ،

    رمضان المبارک کے مہینے میں‌ حریم شاہ کی نئی ویڈیو وائرل 

    ٹک ٹاک گرلز کے نئے دھماکے، عمران خان کی ساکھ کو شدید نقصان، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

  • سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان

    سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان

    سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،بلاول کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ ہوگا، عوام تیاری کریں،

    کوہاٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سب ملکر نالائق حکومت کےخلاف نکلیں گے،ہم نے حکومت کومجبورکیا اپنےارکان اسمبلی ،اتحادیوں سے بات کرے،اگرآپ حفیظ شیخ کوکامیاب کراتے ہیں تو آپ آئی ایم ایف کاساتھ دے رہے ہیں،اسلام آباد کی سیٹ سےیوسف رضاگیلانی کوبھی کامیاب کرائیں گے،ضمنی الیکشن میں حکومت کی شکست سے پتا چل گیاعوام ہمارے ساتھ ہیں ،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں آج منہگائی افغانستان اور بنگلا دیش سے بھی زیادہ ہے،عوام کے ساتھ ملکر عوامی حکومت بنائیں گے جو غریب کا خیال رکھے،سب کے لئے ایک قانون ہوگا تو پھرکرپشن ختم ہوسکتی ہے ،عمران خان اور پی ٹی آئی نے کرپشن کیخلاف نعرے لگائے ،کٹھ پتلی حکومت میں صلاحیت نہیں کہ حکومت چلا سکے،علیمہ باجی کی سلائی مشین میں بھی کرپشن ہے،بی آر ٹی ملک کا سب سے منہگا اور کرپشن سے بھرا پروجیکٹ ہے ٹرانسپرنسی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت میں کرپشن بڑھی ہے،پاکستانی عوام جمہوریت اور پی ڈی ایم کےساتھ ہیں،پی ڈی ایم اس نالائق حکومت کا مقابلہ کر رہی ہے،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پختونخوا کے عوام کو نالائق و ناجائز حکومت سے بچائیں گے،پیپلزپارٹی نےخیبرپختونخوا کانام دے کر صوبے کوشناخت دلوائی،غریب عوام کو پی پی روزگار دلواتی تھی، لیکن موجودہ حکومت نے روزگار چھین لیا، پاکستان پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں صدر زرداری میں ملک بھر میں روزگار دیئے گئے، نہ صرف روزگار دیا گیا بلکہ تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ کیا گیا،پنشن میں اضافہ کیا گیا، سرکاری ملازمین کوریلیف دیا ،سرحدوں پرلڑنےوالےجوانوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سابق صدرآصف زرداری نے سی پیک منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، ہماری سوچ تھی گلگت سے بلوچستان تک چین کےساتھ معاشی ترقی کریں گے، نالائق حکومت سی پیک منصوبہ ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہم نے سی پیک کی بنیاد عوام کی بھلائی کیلیے رکھی تھی ،پختونخوا کے عوام کو نالائق و ناجائز حکومت سے بچائیں گے،کوہاٹ کے عوام کے مسائل حل کریں گے، عوام کو نالائق اور نااہل حکمران سے چھٹکارا دلائیں گے، پیپلزپارٹی نے 73 کے آئین کو 18 ویں ترمیم کی صورت میں بحال کیا،نالائق حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ختم کرنے کی کوشش کی ،ہم مل کر روزگار میں اضافہ کریں گے

    سینیٹ الیکشن سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گئی، دو اہم ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی ہے

    کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر شمیم آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ 2018 کے الیکشن میں آزاد حیثیت میں منتخب ہو کر سینیٹ پہنچے تھے۔ ان کے علاوہ کوہاٹ سے ہی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی امجد آفریدی بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے ، وہ بھی آزاد حیثیت میں 2018 کا الیکشن جیتے تھے۔

    افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

    پی ڈی ایم کو بڑا دھچکا،حکومت نے ایسا کام کر دیا کہ پی ڈی ایم کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا

    نیب کی کارروائیاں ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہیں،اپوزیشن سینیٹ میں پھٹ پڑی

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کا معاملہ،رضا ربانی بھی عدالت پہنچ گئے

    سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ میں سماعت،کس نے کی مہلت طلب؟

    کوئی ایم پی اے پارٹی کیخلاف ووٹ دینا چاہتا ہے تو….سینیٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس کیس،عدالت کے ریمارکس

    سیاسی پارٹیوں کے آپس کے معاملات ہوں توعدالت ان میں نہیں پڑتی،سپریم کورٹ

    سینیٹ انتخابات، اوپن بیلٹ کے ذریعے ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ الیکشن کمیشن نے جواب جمع کروا دیا

    اک زرداری سب پر بھاری، سینیٹ الیکشن سے قبل بڑا سرپرائیز دے دیا

    سینیٹ الیکشن سے قبل بلاول نے خیبر پختونخواہ میں دو وکٹیں‌ گرا لیں

  • چار برسوں میں چترال کی 14 خواتین پنجاب میں قتل، مصطفی کمال کا بڑا مطالبہ

    چار برسوں میں چترال کی 14 خواتین پنجاب میں قتل، مصطفی کمال کا بڑا مطالبہ

    *مورخہ 6 فروری 2021*
    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے 4 سال کے مختصر وقت میں چترال کی 14 بیٹیوں کے شادی بعد پنجاب میں بیہیمانہ قتل پر شدید غم، غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان 14 بیٹیوں کی قاتل حکومت وقت ہے، گزشتہ 7 سال سے تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود چترال کی بچیوں کو نا تو تحفظ فراہم کیا گیا، نا قتل کی جانے والی لڑکیوں کے لواحقین کو انصاف میسر آسکا اور نا ہی پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ کی حکومت نے پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کےلئے رابطہ کیا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انصاف نام کو نہیں، عوام بے حال ہے، انکا کوئی پرسانِ حال نہیں، ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے، انسانی شکل میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں کیونکہ حکمرانوں کی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو زیر کرنے پر لگی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے کچھ ذہنی بیمار نوسرباز پہلی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے چترالی بچیوں سے شادی کرتے ہیں اور بعد ازاں وہ بچیاں مردہ پائی جاتی ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں چینوٹ میں وقوع پزیر ہونے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چترال کی ایک بیٹی کے ساتھ ساتھ اسکی سات ماہ کی بیٹی کو بھی بے دردی سے زبح کردیا گیا، آج تک قاتلوں کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔ 14 لڑکیوں کے قتل پر چترال کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسا نا ہو کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے پھر حکمرانوں کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ حکومت وقت چترال کی تمام لڑکیوں کے قتل کی شفاف تحقیقات کرائے۔ پاک سرزمین پارٹی تمام مظلوموں کیساتھ کھڑی ہے اور تکلیف کی اس گھڑی میں چترال کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ غریب خاندانوں کی غربت اور شرافت کا فائدہ اٹھانے والے ان انسانیت کے قاتلوں کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ صفت بیٹیوں کیساتھ ایسا سلوک نا کرسکے۔

  • PTI کسی عذاب سے کم نہیں

    PTI کسی عذاب سے کم نہیں

    قصور
    پی ٹی آئی کی حکومت کسی عذاب سے کم نہیں
    راہنما پی ایم ایل این تلونڈی سردار راحیل ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کسی عذاب سے کم نہیں لوگ مہنگائی سے فاقوں پر مجبور ہو گئے اور حکمرانوں کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں کل تک دھرنے دینے والے آج دھرنوں کو حرام کہہ رہے ہیں تاریخ کے اندر اس قدر مہنگائی کبھی نا تھی جتنی موجود دور حکومت میں ہے لوگ تبدیلی کے جھوٹے نعرے کی حقیقت جان چکے ہیں اور اب ان سے تائب بھی ہو رہے ہیں اگلی حکومت ن لیگ کی ہی ہو گی

  • زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ،  فروغ نسیم

    زراعت کے شعبے سے ٹیکس اکٹھا ہو نا چاہیے ، فروغ نسیم

    وفاقی وزیر قاانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے 80 فیصد لوگوں کا زریعہ معاش زراعت کے شعبے سے منسلک ہے اور وفاقی حکومت کو اس شعبے سے ٹیکس اکٹھا کرنا چاہیے ،
    وفاقی وزیر نے ارٹیکل 149 کو لیکر اپوزیشن کی طرف سے مچائے جانے والے شور شرابے کے متعلق کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہمیشہ کیلئے اس ملک کا خزانہ لوٹتے رہیں اور کوئی اس متعلق ان سے ایک سوال بھی نہ کرے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ 20-25 فیصد ہونے والی کاروباری سرگرمیوں کا ٹیکس اکٹھا کیا جا رہا ہے ، اور ان 75-70 فیصد سرگرمیوں کا ٹیکس کون اکٹھا کرے گا جو ہمارے دیہات میں ہوتیں ہیں ؟

  • میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے ایک دن ، تحریر ساجدہ بٹ

    کشمیر میں آج کرفیو لگے چھیالیس روز ہو چکے ظلم و بربریت کی انتہا ہو گئی ۔وہ جس وادی کو ہم جنت نظیر کہتے تھے- وہاں خون کی ندیاں بہتے آج کئی برس بیت گئے۔ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اپنی آزادی کی جنگ اکیلے لڑ رہے ہیں۔ حق خوارادیت کے لیے جان دے رہے ہیں۔ہماری مائیں روز اپنے بیٹوں کو قربان کر رہی ہیں۔
    بھارت نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ۔بھوک پیاس سے بلکتے کشمیری مدد کے لیے پکار رہے ہیں۔

    پچھلے 72 سال سے مسلسل آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی آزادی کا وقت آ ہی گیا۔
    وہ مسلہ کشمیر جو اقوام متحدہ کے ٹیبل کے کسی دراز میں پڑا تھا ۔
    وہ جس کو قرار داد کے طور پر فائل سے نکال کے چائے کے ٹیبل پے رکھ کر ایک دفعہ اسپیکر میں پڑھ لیا گیا تھا۔
    اس مسلے کو پچھلے چھیالیس روز سے بھارت ہوا دے رہا ہے۔ اب اگر ہوا دے ہی دی گئی تو اب یہ طوفان تھمنے والا نہیں ۔

    اب تو پوری قوم بلکہ پوری دنیا سے اٹھنے والی ایک ہی آواز ہے کہ

    ایک نعرہ ایک آواز۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔
    کشمیر سے پنجاب تک ۔۔۔
    سب بنے گا پاکستان۔۔۔۔
    کشمیر بنے گا پاکستان۔۔۔

    اب ہم کیوں انتظار کریں کسی اور مسیحا کا؟؟؟
    کیوں انتظار کریں بڑی عالمی برادری کا؟؟؟

    ہم کمزور نہیں ۔۔۔۔
    اور جن کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت ساتھ ہو ۔۔۔
    وُہ کمزور ہو بھی کیسے سکتا ہے۔ہمیں بھروسہ ہے اپنی طاقت ور فوج پے ۔ہمیں بھروسہ ہے اپنے مجاہدوں پر۔۔۔
    وہ فوج جس نے بڑی عالمی طاقتوں کو شکست دی۔
    جو نا کسی سے ڈرنے والے نا کسی کے آگے جھکنے والے۔
    جن کی اڑان کو آج تک کوئی اور طاقت شکست نا دے پائی۔

    راستے کٹھن بھی ہوں تو سینہ تان کے چلتے ہیں

    ہماری عادت نہیں مشکل راستوں سے منہ موڑنا

    پوری دنیا سن لے کہ ہم ایسی بہادر نڈر فوج کے مالک ہیں جو پہلے کئی طوفانوں کا رخ موڑ چکی ہے۔
    اب بھارت کی باری ہے ۔بھارت سن لے کے ہم موت سے نہیں ڈرتے ۔۔۔پاک فوج کے جوان ہر پل جام شہادت کے لیے تیار ہیں۔ہمارے مجاہد تیار ہیں اب مرنا ہے یا مار دینا ہے۔

    اب ہمارے کشمیری مسلمان اکیلے نہیں اُن کے ساتھ پاکستان کی مصلح افواج کھڑی ہے۔
    پورا پاکستان کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔
    اب اگر دنیا کی بڑی طاقتیں انڈیا کو نہیں روک سکتیں ۔تو ہم خود اب اس طوفان کا رُخ موڑیں گے۔
    اب وہ ہی طریقہ اپنائیں گے جس کی اجازت ہمارا مذہب ہمیں دیتا ہے
    جس کی اجازت ہمارا دین اسلام دیتا ہے۔
    جس کا حکم ہماری دو جہاں کی مقدس کتاب قرآن مجید میں ہے ۔
    ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ مظلوموں کی مددّ کرو۔۔۔

    اب ہمیں کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔
    اب ہم جائیں گے کشمیر میں ۔۔۔۔جہاں ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لاشے اُٹھا رہی ہیں۔خون سے تر وادی ہمیں بولا رہی ہے کہ کوئی تو آئے ہمیں ان درندوں سے نجات دلائے۔۔

    اب ہماری حکومت کو چاہیے کہ اپنی فوج اور مجاہدوں کو اِک بار کشمیر کے لیے لڑنے کی اجازت دے۔
    پھر ہمیں کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں کشمیر ان شاء اللہ آزاد ہو گا۔
    یہ خواب جلد پورا ہو گا
    ہمارے خواب کی تعبیر ہماری پاک فوج کی صورت میں آئے گی۔

    اور پھر کشمیر بنے گا پاکستان۔۔
    میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات