Baaghi TV

Author: +9251

  • پہلی فلم کی ناکامی کا سوگ عالیہ بھٹ نے کیسے منایا؟

    پہلی فلم کی ناکامی کا سوگ عالیہ بھٹ نے کیسے منایا؟

    بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کا شمار بھارتی سنیما کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو فلمی بزنس میں ایک دہائی مکمل کرنے والی ہیں۔ انہوں نے کرن جوہر کی ہدایت کاری میں بننے والی اسٹوڈنٹ آف دی ایئر سے ڈیبیو کیا جس میں عالیہ سدھارتھ ملہوترا اور ورون دھون کے ساتھ اداکاری کرتی دکھائی دیں.اس کے بعد انہوں نے آہستہ آہستہ وہ 2 اسٹیٹس، ہائی وے، اڑتا پنجاب، ڈیئر زندگی، رازی، گلی بوائے گنگو بائی کاٹھیواڑی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا.عالیہ اب صرف اداکارہ نہیں ہیں بلکہ پرڈیوسر بھی ہیں ان کی بطور پرڈیوسر فلم ڈارلنگز حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے. عالیہ ایسی اداکارہ ہیں جنہوں نے اپنے کیرئر میں زیادہ تر کامیابی کا مزہ ہی چکھا ہے. عالیہ نے حال ہی میں ایک

    انٹرویو دیا ہے اور بتایا ہے کہ جب ان کی پہلی ناکام ہوئی تو انہوں نے کیا کیا. عالیہ نے کہا کہ ان کی فلم ”شاندار” جب ناکامی سے دوچار ہوئی تو مجھے ایک جھٹکا لگا اور مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میری فلم ناکام ہو گئی ہے. فلم کی ناکامی کا سن کر میرا دل ٹوٹا ہوا تھا اس دوران میرے والد واحد وہ شخص تھے جن کے ساتھ میں نے اپنی تکلیف شئیر کی اور اس فلم کی ناکامی کا دکھ منانے کےلئے والد کے ساتھ چھٹیوں پر چلی گئی اس دوران کوئی کام نہ کیا . یہ میرے کیرئیر کی پہلی فلم تھی جو ناکام ہوئی تھی لیکن اس کے بعد میں نے خود کو سمجھایا کہ کام کروں گی تو کبھی کامیابی ملے گی اور کبھی نہیں.

  • فلمیں اچھی بنی ہوں تو بائیکاٹ کلچر کچھ نہیں بگاڑ سکتا راکیش روشن

    فلمیں اچھی بنی ہوں تو بائیکاٹ کلچر کچھ نہیں بگاڑ سکتا راکیش روشن

    اداکار سے فلمساز بنے راکیش روشن نے بالی ووڈ کی حالیہ فلموں کی باکس آفس پر ناکامی کی وجہ پر بات کی ہے انہوں نے فلم سازوں کی طرف سے موضوعات کے انتخاب پر سوال اٹھانے کے علاوہ، اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ گانوں اور میوزک میں ہم کس طرح‌سے پیچھے رہ گئے ہیں. اگرچہ پورا بالی وڈ یہ سمجھتا ہے کہ بائیکاٹ کے کلچر نے بالی وڈ کو بہت نقصان پہنچایا ہے لیکن راکیش روشن زرا اس سے مختلف خیال رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ” اگر فلم اچھی بنی ہو تو یقینا وہ چلے گی”. راکیش روشن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ اس وقت جو فلمیں بن رہی ہیں ان کی کہانیوں میں لوگوں‌کو دلچسپی نہیں ہے. ایسی فلمیں نہیں بن رہیں جنہیں لوگ پسند کریں اور دیوانہ وار جا کر سینما گھروں میں

    دیکھیں. راکیش روشن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کس طرح سے گانوں نے فلموں‌ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا. یاد رہے کہ راکیش روشن نے اپنے بیٹے ہرتیک روشن کو اپنی ہی ڈائریکٹ کردہ فلم کہو نہ پیار سے ہے لائچ کیا یہ فلم بہت بڑی ہٹ ثابت ہوئی اور ہرتیک روشن راتوں رات سٹار بن گئے. راکیش روشن نے کرش جیسی فلمیں بھی بنائیں. راکیش روشن بالی وڈ کے ایک کامیاب فلمساز مانے جاتے ہیں.

  • اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں بارے بہتری کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے. ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے چین کے صوبے سنکیانگ میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد بیجنگ کی جانب سے ایغور مسلمانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    ایک خبر کے مطابق: اقوام متحدہ کی جانب سے یکم ستمبر کو جاری رپورٹ میں طویل عرصے کے بعد جاری ہونے والی رپورٹ میں چین کے دور دراز مغربی خطے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے ذکر کے ساتھ ساتھ سرگرم گروپوں، مغربی ممالک میں جلاوطن ایغور کمیونٹی کی طرف سے طویل عرصے سے لگائے جانے والے بہت سے الزامات پر اقوام متحدہ کی مہر لگائی گئی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایغور کمیونٹی اور دیگر مسلمان برادریوں کے اراکین کے ساتھ ناروا سلوک اور امتیازی حراست بین الاقوامی جرائم، خاص طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کو جنم دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اب دنیا کو سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
    تحریر جاری ہے‎

    اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشل بیچلیٹ نے فیصلہ کیا کہ سنکیانگ کے ایغور خود مختار خطے میں صورتحال کی مکمل تشخیص کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار ہونے میں ایک سال لگا اور رپورٹ جاری ہونے کی چین نے سخت مخالفت کی ہے۔

    اے ایف پی کو لکھی گئی ای میل میں مشل بیچلیٹ نے کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ اپنی مدت پوری ہونے سے قبل میں یہ رپورٹ جاری کروں گی اور میں نے کر دکھایا۔‘ انہوں نے کہا کہ کچھ ریاستوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو سیاست کی نظر کرنا مددگار ثابت نہیں ہوگا۔

    اس رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذمہ دار رکن کی حیثیت سے کثیرالجہتی عزم کے ساتھ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے ان تمام اصولوں و ضوابط پر یقین رکھتا ہے جن میں سیاسی آزادی، خودمختاری اور ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا احترام شامل ہے۔

    ڈان کے مطابق: دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ مستقل مؤقف ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی احترام کو فروغ دینے کے لیے سیاست سے بالاتر، عالمگیریت، معروضیت، مکالمہ اور تعمیری بات چیت اہم ترین ذرائع ہونے چاہییں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان سنکیانگ میں سماجی و معاشی ترقی، ہم آہنگی اور امن و استحکام کے لیے چین کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ چین نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران 70 سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، اس طرح سے وہاں کے عوام کے حالات زندگی میں بہتری آرہی ہے اور وہ بنیادی انسانی حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نظام کے ساتھ چین کے تعمیری کردار کو سراہتے ہیں۔ دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تمام انسانی حقوق کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے اپنے مستقل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال اگست میں سبکدوش ہونے والی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے قبل چین کے صوبہ سنکیانگ میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق پہلے سے تیار رپورٹ جاری کی تھی۔

    خیال رہے کہ: چین پر کافی عرصے سے اپنے اس خطے میں ایغور برادری سمیت دیگر 10 لاکھ افراد کو حراست میں رکھنے کا الزام عائد کیا جارہا ہے جبکہ بیجنگ سختی سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور وضاحت پیش کی ہے کہ انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے پیشہ ورانہ مراکز چلائے جارہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ جبکہ تشخیص میں چین کے نام نہاد پیشہ ورانہ تعلیمی اور تربیتی مراکز میں قید لوگوں کے علاج پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد یا بدسلوکی کے الزامات، بشمول جبری طبی علاج اور حراست کے منفی حالات، قابل اعتبار ہیں، جیسا کہ جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد کے انفرادی واقعات کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

    تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ چین کے پیشہ ورانہ تعلیمی و تربیتی مراکز میں کتنے لوگ متاثر ہیں مگر اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پورے خطے میں یہ سسٹم وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا ہے۔
    جنیوا میں چین کے مشن نے اس رپورٹ پر سخت تنقید کی اور اسے جاری کرنے کے خلاف اپنی سخت مخالفت کو برقرار رکھتے ہوئے سنکیانگ کی صوبائی حکومت کی جانب سے خطے میں بیجنگ کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والی 121 صفحات پر مشتمل دستاویز شیئر کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چین مخالف قوتوں کی طرف سے من گھڑت جھوٹ اور غلط معلومات کی بنیاد پر مبنی نام نہاد ‘تشخیص’ چین کے قوانین اور پالیسیوں کو مسخ کرتی ہے، اور چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی کرتی ہے، جبکہ یہ چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔‘

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’سنکیانگ میں تمام نسلی گروہوں کے لوگ امن اور اطمینان کے ساتھ خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، یہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا تحفظ اور انسانی حقوق کا بہترین عمل ہے۔‘ غیر سرکاری تنظیموں اور مہم گروپوں کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو مزید کارروائی کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

    ایغور کون ہیں؟

    چین کے جنوبی صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتی برادری ‘ایغور’ آباد ہیں جو صوبے کی آبادی کا 45 فیصد ہیں۔ سنکیانگ سرکاری طور پر چین میں تبت کی طرح خودمختار علاقہ کہلاتا ہے۔ کئی سال سے ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ایغور سمیت دیگر مسلم اقلیتوں کو سنکیانگ صوبے میں قید کرلیا جاتا ہے لیکن چین کی حکومت ان خبروں کو مسترد کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی اور انسداد انتہا پسندی کی حکمت عملیوں کے اطلاق کے تناظر میں سنکیانگ کے خود مختار ایغور خطے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

  • اوپن مارکیٹ میں ڈالر 232 روپے کا ہوگیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 232 روپے کا ہوگیا

    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 232 روپے کا ہوگیا ہے.

    آئی ایم ایف سے قرض کی قسط ملنے کے باوجود روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے اور ڈالر مزید مہنگا ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب 16 کروڑ دالر قرض مل گیا ، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اس سے روپے کی گرتی قدر کو سہارا ملے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ڈالر کو لگام نہ دی جاسکی۔

    منگل کے روز بھی ملک کی کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپیہ بے قدری کا شکار ہے۔ پیر کو انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 88 پیسے بڑھ کر 219 روپے 86 پیسے ہوگئی تھی، منگل کے روز اس میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور ایک امریکی ڈالر 222 روپے کی سطح پر آگیا۔

    دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی اونچی اڑان جاری ہے اور ایک ڈالر کی قیمت فروخت 232 روپے پر جاپہنچی ہے۔ کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب میں مسلسل اضافہ اس کی قدر میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو 1.16 ارب ڈالر موصولی اور اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے مالی امداد آنے سے ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کی تنزلی کا سلسلہ جاری ہوا تھا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر سستا ہوگیا تھا. اس وقت ماہرین کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ طے پانے سے ایرانی تیل کی سپلائی بحال ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں نمایاں کمی کے امکانات روشن ہوگئے تھے جس سے پاکستان بھرپور انداز میں استفادہ کرسکے گا اور ملک کا آئل امپورٹ بل میں بھی نمایاں کمی سے معیشت کو سہارے کی امید کی گئی۔

  • کیا سشمیتا سین اور للت مودی کی دوستی ٹوٹ گئی ؟

    کیا سشمیتا سین اور للت مودی کی دوستی ٹوٹ گئی ؟

    آئی پی ایل کے بانی اور بزنس ٹائیکون للت مودی نے رواں برس 14 جولائی کو سوشل میڈیا پر سابقہ مس یونیورس سشمیتا سین کے ساتھ اپنی دوستی کا اعلان کیا، اس اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر اداکارہ کے ساتھ اپنی پروفائل پکچر بھی لگائی تھی. سوشل میڈیا پر کافی شور مچا بالی وڈ میں بہت سارے نامور ستارے سشمیتا سین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کی للت مودی کے ساتھ دوستی کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ سشمیتا سین ہو یا کوئی بھی اور ہر کسی کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے. لیکن لگتا ہے اب یہ دوستی ختم ہو گئی ہے کیونکہ للت مودی نے اپنے انسٹاگرام پر سشمیتا کے ساتھ لگائی پروفائل پکچر ہٹا دی ہے اور سشمیتا سین کے بارے میں انہوں نے جو بھی

    لکھا تھا وہ بھی ڈیلیٹ‌کر دیا، للت مودی کے اس عمل کے بعد گمان کیا جا رہا ہے کہ دونوں کے درمیان تعلقات پہلے جیسے نہیں رہے. تاہم
    دونوں نے ابھی تک کوئی سرکاری بیان نہیں دیا اور نہ ہی ایسا کچھ کہا ہے کہ ہماری دوستی اور راہیں الگ ہو چکی ہیں۔دوسری طرف سشمیتا سین ایک بار پھر اپنے سابق بوائے فرینڈ روہمن شال کے ساتھ دیکھی جا رہی ہیں اور ان کو روہمن کے ساتھ دیکھ کر بھی گمان کیا جا رہا ہے کہ شاید للت مودی کے ساتھ دوستی چیپٹر کو سسمیتا سین کلوز کر چکی ہیں. یاد رہے کہ سشمیتا سین للت مودی کے ساتھ دوستی کے تعلق کا اعتراف کرکے خبروں میں رہیں ان کو تو تنقید کرنے والوں نے لالچی تک کہہ دیا جس پر سشمیتا سین نے لمبی چوڑی وضاحتیں دیں.

  • نجکاری کمیشن بورڈ کی پاور فرم کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی منظوری

    نجکاری کمیشن بورڈ کی پاور فرم کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی منظوری

    بورڈ آف پرائیویٹائزیشن کمیشن (پی سی) نے نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ (این پی پی ایم سی ایل) کی نجکاری سے متعلق معاملات کو تیزی سے آگے بڑھانے کی تجویز کی متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی ہے۔

    ڈان کے مطابق بورڈ آف پرائیویٹائزیشن کمیشن کے اجلاس کی صدارت وزیر برائے نجکاری عابد حسین بھایو نے کی، بورڈ کو این پی پی ایم سی ایل ٹرانزیکشن کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا، یہ ادارہ نجکاری کی فہرست میں شامل بڑے سرکاری اداروں (ایس او ای) میں سے ایک ہے۔

    جون میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) نے اسٹیک ہولڈرز کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں وزارت خزانہ اور وزارت توانائی، پی سی اور این پی پی ایم سی ایل کے ارکان شامل کیے گئے تھے تاکہ نجکاری کے معاملات کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔ 2020 میں وبائی مرض کووڈ19 کے پھیلاؤ کی وجہ سے نجکاری سے متعلق جاری معاملات شیدید متاثر ہوئے جب کہ مشرق وسطیٰ، چین، جاپان، کوریا، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے 12 پارٹیاں پری کوالیفائی کرچکی تھیں۔

    پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری پری کوالیفائڈ اہل سرمایہ کاروں کی جانب سے سائٹ کے دوروں اور خریداروں کی جانب سے تکمیل کے قریب پہنچ چکی تھی، ممکنہ سرمایہ کاروں نے پاکستان میں دو ہفتے اسلام آباد میں اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات اور پی ایس ایم سائٹ کا دورہ کرنے میں گزارے تھے۔ بورڈ کو ایس او ای نجکاری کی مجموعی پیشرفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا، اور اراکین نے ایچ بی ایف سی ایل نجکاری میں ہونے والی پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔

    سندھ انجینئرنگ لمیٹڈ (ایس ای ایل) اور پاکستان انجینئرنگ کمپنی (پی ای سی او) کے ساتھ مختلف مسائل کو حل کرنے کی حکمت عملی پر پی سی بورڈ کی منظوری طلب کی گئی جنہوں نے اپنی نجکاری کا عمل روک دیا ہے۔ ایس ای ایل بورڈ کی تشکیل اور مستقل ایم ڈی کے تقرر سے نجکاری سے متعلق ضروری فیصلوں پر عمل درآمد ممکن ہو سکے گا۔ بورڈ کے اراکین نے تجویز پیش کی کہ اس معاملے کو سی سی او پی کے سامنے اس کے آئندہ اجلاس میں رکھا جائے۔

    پی سی بورڈ کو جناح کنونشن سینٹر (جے سی سی) کی موجودہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے بورڈ ممبران نے اس کے لیے منظور کیے گئے ٹرانزیکشن اسٹرکچر سے اختلاف کے بعد نجکاری سے متعلق کارروائی روک دی تھی۔ وزیر نجکاری نے حال ہی میں سی ڈی اے چیئرمین کے ساتھ معاملے کو حل کرنے کے لیے تفصیلی میٹنگ کی، میٹنگ کے دوران باہمی طور پر اتفاق کیا گیا کہ پی سی جے سی سی کے لیے قابل عمل پلان تشکیل دیا جائے گا۔

    نجکاری کمیشن سی ڈی اے کی مشاورت سے ٹرانزیکشن کے اسٹرکچر پر بھی نظر ثانی کرے گا، پی سی بورڈ ممبران نے تجاویز کی توثیق کی اور سفارش کی کہ اس معاملے کو سی سی او پی کے سامنے رکھا جائے۔ نجکاری کمیشن بورڈ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اپنے اختیارات کے مطابق ہر ممکن کوشش کر رہا ہے لیکن اسے ان اداروں کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے دیگر متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز سے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہورہا۔

  • الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے عمران خان بیان دے کر توڑنے مروڑنے کا الزام حکومت پرلگا دیا

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے عمران خان بیان دے کر توڑنے مروڑنے کا الزام حکومت پرلگا دیا

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے سابق وزیر اعظم عمران خان نے بیان دے کر توڑنے مروڑنے کا الزام حکومت پرلگا دیا ہے.

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کہتے ہیں کہ میں ان سب کو بھرپور جواب دوں گا جو مجھے بدنام کرنےکے لئے میرے الفاظ جان بوجھ کر توڑ مروڑ رہے ہیں۔ بس بہت ہوگیا! اپنی ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم نامی مجرموں کے گروہ کی جانب سے کئے جانے والے منفی پروپیگینڈے پر میری کڑی نظر ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث پی ڈی ایم خوف میں مبتلا ہے اور ان کے منفی پروپیگینڈے کی وجہ بھی یہی خوف ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ پشاور کے آج کے جلسےمیں میں ان سب کو بھرپور جواب دوں گا جو مجھے بدنام کرنےکے لئےمیرے الفاظ کوجان بوجھ کر توڑ مروڑ رہےہیں۔ بس بہت ہوگیا!

    عمران خان نے اتوار کے روز فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کے دوران نومبر میں آرمی چیف کی تقرری سے متعلق باتیں کی تھیں۔ سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری چاہتے ہیں کہ وہ اپنا فیوریٹ آرمی چیف لگائیں کیونکہ اگر کوئی تگڑا محب وطن آرمی چیف آگیا تو وہ ان سے ان کی چوری کے بارے میں پوچھے گا۔

    واضح‌ رہے گزشتہ روز ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اور غیر ضروری بیان پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
    جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا تھا کہ پاک فوج میں عمران خان کے متنازع بیان پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے فیصل آباد میں پاک فوج سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ سیاسی جلسے میں فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں ہتک آمیز اور انتہائی غیر ضروری بیان دیا گیا، فوج کی سینئر قیادت کو متنازع بنانے کی کوشش انتہائی افسوسناک ہے۔

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں 

    سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ ہر جماعت سے متعلق فنڈنگ کیس برابری کی سطح پر دیکھے۔ چیف جسٹس ۔ چیف جسٹس

    الیکشن کمیشن کو چاہئے کہ ہر جماعت سے متعلق فنڈنگ کیس برابری کی سطح پر دیکھے۔ چیف جسٹس ۔ چیف جسٹس

    پی پی اور ن لیگ کے پارٹی فنڈنگ کیسز کے فیصلے جلد کرنے کی پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن کو ہر پارٹی سے متعلق کیسز برابری کی سطح پر دیکھنے چاہییں۔

    پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی جانب سے دائر درخواست میں وکیل انور منصور خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کے ڈویژن بینچ نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن لیول پلینگ فیلڈ دے گا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے توقع کا اظہار کیا تھا کہ تمام جماعتوں کے کیسز کو ایک نظر سے دیکھے گا. چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کیسے فرض کر سکتی ہے کہ لیول پلینگ فیلڈ نہیں دی جا رہی۔ ایک آئینی فورم ہے، اس کو ہم ریگولیٹ کیسے کر سکتے ہیں۔ اسلام آبادہائیکورٹ پہلے ہی کہہ چکی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔عدالت تمام آئینی اداروں کا احترام کرتی ہے۔

    عدالت نے کہا کہ آپ کو الیکشن کمیشن سے کوئی شکایت ہے تو پہلے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پہلے عدالت کیسے حکم جاری کرسکتی ہے ؟ ۔آرٹیکل 25 کے تحت ہر پارٹی سے متعلق کیسز کو الیکشن کمیشن کو برابری کی سطح پر دیکھنا چاہیے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم موجود ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے محض 3 سال کی فنڈز کی اسکروٹنی کی جارہی ہے۔ اکبر ایس بابر کی درخواست پر 2008 سے پی ٹی آئی کو ملنے والے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کی گئی۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کے حوالے سے اپنا منصفانہ اور شفاف کردار کھودیا۔ عدالت الیکشن کمیشن کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی 2 ہفتوں میں مکمل کرنے اور ساتھ ہی پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ن کی 5 سال کی پارٹی فنڈز کی اسکروٹنی کا حکم دے۔

  • بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافہ کرکے 3 روپے39 پیسے مہنگی کردی گئی

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافہ کرکے 3 روپے39 پیسے مہنگی کردی گئی

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید اضافہ کرکے 3 روپے39 پیسے مہنگی کردی گئی ہے.

    بجلی کی فی یونٹ قیمت میں مزید 3 روپے 39 پیسے کا اضافہ کردیا گیا۔ نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ نیپرا نے بجلی کی قیمت سے متعلق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی سماعت کی۔ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔ قیمتوں میں اضافہ کا اطلاق اکتوبر سے ہوگا اور یہ اضافہ نومبر اور دسمبر میں بھی وصول کیا جائے گا۔نیپرا نے بجلی کمپنیوں کو 95 ارب اضافی وصولیوں کی اجازت دے دی۔

    صارف نے نیپرا سے کے الیکٹرک کی سماعت کیلئے زیادہ وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جس پرچئیرمین نیپرا نے جواب دیا کہ کے الیکٹرک کی سماعت پر بھرپور وقت دیا جاتا ہے۔ چئیرمین نیپرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی کے صارفین اکثر جذباتی ہوجاتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی مہنگائی اور بھاری بھرکم بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک ماہ کے لیے بجلی مزید 4 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی تھی.
    منظوری جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی گئی تھی، اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک اور لائف لائن صارفین پر نہیں تھا، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی۔ نیپرا کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے سے متعلق تفصیلی فیصلہ اور نوٹفیکیشن بعد میں جاری کیا گیا تھا.

    اس وقت فیصلے سے متعلق نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے 7ارب 42 کروڑ روپے کااضافی بوجھ پڑا، ایل این جی کی قلت سے 6 ارب 93 کروڑ روپے کا بوجھ پڑا۔ نیپرا حکام نے اضافے کی وجوہات سے متعلق مزید کہا تھا کہ بلو کی، چائنہ پاور پلانٹ، ہلمور، سفاہر پاور پلانٹ کی جگہ مہنگے پلانٹس چلائے گئے تھے۔ نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ سی پی پی اے کی درخواست سے 35 پیسے کمی کی گئی.

  • 2005 کا زلزلہ اور 2010 کے سیلاب کے 12 سال بعد ملک ایک بار پھر قدرتی آفات کا شکار

    2005 کا زلزلہ اور 2010 کے سیلاب کے 12 سال بعد ملک ایک بار پھر قدرتی آفات کا شکار

    2005کے زلزلے، 2010 کے سیلاب کے 12 سال بعد ملک ایک بار پھر قدرتی آفات کا شکار، ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب، شدید ملک گیر بارشوں اور سیلابوں کے نتیجے میں سرکاری طور پر تو بارہ سو سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی جب کہ جانی نقصان اس سے بھی بہت زیادہ ہے۔

    ایکسپریس کے مضمون کے مطابق: تقریباً تین کروڑ افراد متاثر، بے گھر ہو چکے ہیں۔ ملک بھر میں مالی نقصان کھربوں روپے کا ہوا ہے۔ سبزیوں، پھلوں اور اجناس کی فصلیں تباہ ہو چکیں جس کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو چکے، سبزیوں کی قیمتیں ابھی سے آسمان پر پہنچ چکیں اور اندازہ ہے کہ آنے والے مہینوں میں لوگ غذائی قلت کا شکار ہو کر رقم ہاتھوں میں لے کر اپنی مطلوبہ اشیا ڈھونڈتے پھریں گے اور ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور تاجروں کی اکثریت اشیا کی مصنوعی قلت پیدا کرکے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے اشیائے ضرورت مہنگی اور نہ ملنے کے ڈرامے رچائیں گے اور قیمتوں پر پہلے سے ہی ناکام صوبائی حکومتیں کچھ بھی نہیں کریں گی، وہ کنٹرول کرنا ہی نہیں چاہتیں۔

    سعید آرائیں کے مطابق: موجودہ اتحادی حکومت کے اقتدار کو ڈیڑھ سو دن گزر گئے لیکن حکومتی بے حسی میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے دو قسطیں مل گئیں۔ ڈالر اور عالمی طور پر پٹرول کی قیمت کم ہوچکی مگر پھر بھی سیلابی صورت حال میں حکومت کی بے حسی کم ہونے میں نہیں آ رہی جس نے اگست میں بجلی بے انتہا مہنگی کی اور یکم ستمبر کو پٹرول کی قیمت پھر بڑھا دی۔ اتحادی حکومت بھی سابق عمرانی حکومت کی طرح عوام کو ریلیف نہیں دے رہی اور سب حکومتی اتحادی اپنوں کو نوازنے میں مصروف ہیں۔

    سیلاب میں پھنسے عوام کو کسی صوبائی حکومت سے مکمل امداد نہیں مل رہی، البتہ دعوے بہت ہیں۔ بلوچستان، گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ کا پتا نہیں البتہ کے پی کے وزیر اعلیٰ کو اپنے چیئرمین کی خدمت کے بعد متاثرہ علاقوں کے دورے کا خیال آیا جہاں ایک خوشامدی نے انھیں بتایا کہ متاثرین اتنے پریشان نہیں جتنا بتایا جا رہا ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی نے انھیں بتایا کہ کے پی میں 70 فیصد سیلاب متاثرین جعلی ہیں۔

    سیلاب اور بارشوں کے حقیقی متاثرین سخت عذاب میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومتی ٹیمیں اب تک ان کے پاس نہیں پہنچ سکیں ، البتہ نجی ادارے حقیقی طور پر متاثرین کی داد رسی کر رہے ہیں اور انھیں امدادی سامان پہنچا رہے ہیں اور پکی ہوئی خوراک میں زیادہ تر متاثرین کو کھانے کے لیے چاول تقسیم کر رہے ہیں جنھیں کھا کھا کر لوگ بے زار ہو گئے ہیں مگر پیٹ بھرنے کے لیے چاول ہی کھانے پر مجبور ہیں کیونکہ چاول پکوا کر بانٹنا آسان ہیں۔

    سرکاری اعلیٰ حکام، ارکان اسمبلی اور بعض سیاسی رہنما فوٹو سیشن کے لیے کوئی متاثرین میں پچاس پچاس روپے، کوئی صابن کی ٹکیاں بانٹ رہا ہے۔ سکھر کا وفاقی وزیر متاثرین کے پاس سے گزر جاتا ہے اور متاثرین کے پاس رکنے کی فرصت نہیں۔ کسی کو پانی میں گھرااپنا علاقہ وینس نظر آتا ہے۔ سندھ کے قائم مقام گورنر لوگوں کو امداد کے بجائے درس دینے کے بعد جب اپنے ضلع شکارپور متاثرین کے پاس صرف تسلی دینے آتے ہیں تو بھوکے ننگے لوگ ان کی بات نہیں سنتے اور ان کے خلاف نعرے لگاتے ہیں تو وہ واپس چلے جاتے ہیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے وزیروں کو متاثرین سے زیادہ اپنے کپڑوں اور جوتوں کی فکر ہے۔ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں مگر صاحب لوگ منرل واٹر سے اپنے پاؤں دھو رہے ہیں۔

    کے پی میں ایک رضاکار ایک بلی کو بچانے کے لیے دریا میں اپنی زندگی داؤ پر لگا رہا ہے مگر کے پی حکومت نے اپنے پانچ جوانوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر نہیں دیا اور انھیں ڈوبنے کے لیے چھوڑ کر اپنی بے حسی کا ثبوت دے دیا کہ انھیں ہیلی کاپٹر زیادہ عزیز ہے اپنے لوگوں کی جانوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔ وفاقی حکومت اور وزیر اعظم متاثرین کے لیے اربوں روپے دے چکے مگر نقصان اور ضرورت بہت زیادہ ہے اس لیے عالمی امداد کی اپیل کی گئی ہے جس پر عطیات آ رہے ہیں اور ملک کے مخیر حضرات بھی دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں۔

    فلاحی اداروں کی طرف سے متاثرین تک امداد پہنچانا مسئلہ بنا ہوا ہے کیونکہ سڑکوں کے راستے بند، قومی شاہراہیں تک زیر آب، ہر طرف پانی ہی پانی اور گھروں کی تباہی عیاں ہے۔ متاثرین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور پانی خشک ہونے اور حکومتی امداد کے لیے منتظر بیٹھے ہیں اور سرکاری افسران نے اس آفت کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا اور متاثرین کی سرکاری امداد سے بھی دو دو ہزار کم کرکے خود کھا گئے۔

    حقیقی متاثرین میں جعلی متاثرین بھی شامل ہوگئے جو مختلف شہروں میں بھیک مانگتے تھے وہ بھی متاثرہ علاقوں میں راشن جمع کرنے پہنچ گئے باقی کسر ناجائز منافع خوروں نے پوری کردی اور خیموں سمیت ہر چیز کے نرخ ڈبل کرکے اپنی بے حسی کا ثبوت دے چکے مگر انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ہر طرف بے حسی ہی بے حسی کے ڈیرے، لوٹ کھسوٹ کے بازار گرم انھیں حکومت نہیں تو خدا ہی ضرور پوچھے گا۔