Baaghi TV

Author: +9251

  • ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس:  پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت

    ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس: پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت

    منوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس میں پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کی آخری مہلت
    الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ ضبطگی کیس کی سماعت ہوئی، جس میں دو ہفتے کا وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ آخری مرتبہ وقت لیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے موقع پر تحریک انصاف کی جانب سے شاہ خاور پیش ہوئے اور کمیشن کو بتایا کہ بیرون ملک سے بعض دستاویزات ابھی تک نہیں ملیں، تمام دستاویزات موصول ہونے پر ہی جواب جمع کروایا جائے گا۔ سمندر پار پاکستانیوں کے نائیکوپ اور دیگر تفصیلات کا انتظار ہے۔الیکشن کمیشن کے رکن کے پی نے استفسار کیا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کتنا عرصہ چلا تھا؟ ، جس پر شاہ خاور نے بتایا کہ ممنوعہ فنڈنگ کیس 8 سال تک چلا تھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ کیا اس کیس کو بھی 8 سال چلانا ہے؟ ۔

    بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جواب جمع کرانے کے لیے آخری موقع دیتے ہوئے مزید سماعت 19 ستمبر تک ملتوی کردی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پیش ہونے والے شاہ خاور کی 2 ہفتے کا وقت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یقینی بنایا جائے کہ آخری مرتبہ وقت لیا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں فنڈز ضبط ہونے کے نوٹس کا جواب دینے کےلئے الیکشن کمیشن سے 4 ہفتے کا وقت مانگا تھا چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا تھا کہ اتنا زیادہ وقت نہیں دے سکتے،الیکشن کمیشن نے 6 ستمبر تک جواب طلب کیا تھا. چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4 رکنی کمیشن نے پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کے کیس کی سماعت کی تھی.

    چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اتنا وقت نہیں دے سکتے جس پر معاون وکیل نے استدعا کی تھی کہ کم از کم دو ہفتے کا وقت تو دیا جائے،چیف الیکشن کمشنر نے6 ستمبر تک وقت دے دیا تھا.

  • ہماری آزادی اور امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کی مرہون منت ہے. آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    ہماری آزادی اور امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کی مرہون منت ہے. آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    ہماری آزادی اور امن و استحکام شہدا کی قربانیوں کی مرہون منت ہے. آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع کی مناسبت سے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ہماری آزادی اور امن شہدا کی بے مثال قربانیوں کا مرہون منت ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 6 ستمبر یوم دفاع پاکستان سے متعلق اپنے خصوصی پیغام میں مزید کہا کہ شہدا کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ہی ہمارا پرچم سربلند ہے۔ قوم ہمارے ہیروز کو سلام پیش کرتی ہے۔


    آرمی چیف نے کہا کہ 6ستمبر افواج پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔ عظیم قوم کی حمایت سے مسلح افواج تمام مشکلات کے باوجود مادر وطن کی حفاظت کےلیے پرعزم ہے۔

    دریں اثنا امیر البحر ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی جانب سے بھی یوم دفاعِ پاکستان پر خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چھ ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ایک یادگار دن ہے، یہ دن پاکستانی قوم کے بے مثال اتحاد اور پختہ عزم کی یاد دلاتا ہے، پوری قوم نے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ دشمن کی جارحیت کو شکست فاش دی۔

    سربراہ پاک بحریہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دن شہداء اور غازیوں کی بے مثال بہادری اور قربانیوں کو سلام پیش کرنے کا دن ہے، پاک بحریہ عہد حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھی ہمہ وقت تیار ہے۔ نیول چیف کے مطابق پاک بحریہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ ہم وطنوں کی ہرممکن مدد کيلئے کوشاں ہے۔ آج ملکی بحری سرحدوں کے دفاع کیلئے اپنے عزم کو دہراتے ہیں۔

    یومِ دفاع کی مناسبت سے پاک فضائیہ کی جانب سے خصوصی پیغام بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ یوم دفاع ان عظیم قربانیوں کی لازوال داستان ہے جو 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کے جوانوں نے وطن کے لیے لڑتے ہوئے پیش کی۔ ملک کے دفاع اور دہشت گردی کےخلاف جنگ میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو قربانیاں پیش کی ہیں تاریخ میں انکی مثال نہیں ملتی

    واضح رہے کہ 31 اگست کو پاک افواج کے میڈیا ونگ سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی 6 ستمبر کی تقریب منسوخ کردی گئی تھی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 6 ستمبر کو یوم دفاع اور شہدا کے حوالے سے جی ایچ کیو میں تقریب میں انعقاد کیا گیا تھا، جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کو شرکت کرنا تھی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج سیلاب میں پھنسے بھائیوں کی مدد اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف و امداد کے کام کو جاری رکھے گی۔

  • شاہ رخ اور سلمان خان کی ٹائیگر 3 ، رواں ماہ کے آخر میں  شوٹنگ کا آغاز

    شاہ رخ اور سلمان خان کی ٹائیگر 3 ، رواں ماہ کے آخر میں شوٹنگ کا آغاز

    شائقین ہمیشہ ہی شاہ رخ خان اور سلمان خان کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے بے تاب رہتے ہیں جب سے یہ اعلان ہوا ہے کہ شاہ رخ خان اور سلمان خان ٹائیگر 3 میں ایک ساتھ دکھائی دیں گے تب سے ان کے مداح کافی خوش ہیں اور منتظر ہیں کہ کب فلم کی شوٹنگ مکمل ہو اور فلم سینما گھروں‌کی زینت بنے. اب اطلاعات یہ ہیں کہ شاہ رخ خان اس مہینے کے لئے آخر میں فلم ٹائیگر 3 میں اپنے حصے کی شوٹنگ کا آغاز کریں گے. شاہ رخ خان کو دس دن تک مسلسل شوٹنگ کرنی ہوگی.کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ اس فلم میں شاہ رخ خان ایک ٹRAW ٍ افسر کا کردار ادا کریں گے. ٹائیگر 3 میں سلمان خان کے علاوہ کترینہ کیف اور عمران ہاشمی بھی مرکزی کرداروں میں نظر آئیں گے. سلمان خان آج کل کسی کا

    بھائی کسی کی جان کی شوٹنگ میں‌ مصروف ہیں ، جیسے ہی ان کی یہ شوٹنگ ختم ہو گی وہ ٹائیگر 3 کے لئے شوٹنگ کریں گے.فلم کے ڈائریکٹر روہت شرما ان دونوں سٹارز کو کافی برس کے بعد کسی فلم میں اکٹھا کتنے میں کامیاب ہو ہی گئے ہیں اور فلم ہے ٹائیگر 3.
    یاد رہے کہ شار رخ خان اور سلمان خان نے پہلی بار ایک ساتھ فلم کرن ارجن میں کام کیا تھا اس کے بعد کچھ کچھ ہوتا جیسی دیگر فلموں میں ایک ساتھ کام کیا. شائقین ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے کافی پرجوش رہتے ہیں.

  • یوم دفاع: 6 ستمبر 1965 کا تاریخی پس منظر

    یوم دفاع: 6 ستمبر 1965 کا تاریخی پس منظر

    بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے کانگریس کے اجلاس میں پاکستا ن کے خلاف مکمل جنگ کا اعلان کر دیا تھا.

    فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس موقع پر کہا کہ: ”ہم حالت جنگ میں ہیں، ہمارے بہادر سپاہی دشمن کا حملہ پسپا کرنے کیلئے آگے بڑھ چکے ہیں۔ہماری مسلح افواج اپنی جرأت اور بہادری ثابت کریں گی۔ ہماری بہادر افواج کا جذبہ ناقابلِ تسخیر ہے اور ہمارا عزم کبھی کمزور نہیں پڑا۔وہ دشمن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گی“۔ جبکہ برطانوی وزیراعظم ہیر الڈولسن نے بھارتی جارحیت کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت سے جنگ بندی کی اپیل کر دی تھی.
    جنگ کا منظر نامہ
    آئی ایس پی آر کا بتانا ہے کہ: 6 ستمبر1965ء بھارت نے صبح 4بجے کے قریب لاہور پر حملہ کر دیا پاک فوج نے لاہور جسٹر کی طرف سے سیالکوٹ اور فیروز پور کی طرف سے قصور پر کیاگیا بھارتی حملہ ناکام بنا دیا۔ واہگہ اوربیدیاں کے دونوں محاذوں پر پاک فوج نے بھاری جانی نقصان پہنچاتے ہوئے بھارتی حملہ پسپا کر دیا۔ بڑی تعداد میں بھارتی فوجی جنگی قیدی بنا لئے گئے۔ لاہور کے محاذ پر متعدد بھارتی ٹینک، بندوقیں اور دوسرا جنگی سازوسامان تباہ کر دیا گیا۔


    جسٹر کے مقام پر گھمسان کی جنگ کے بعد بھارتی فوجوں کو پیچھے دھکیل دیا گیا اور دریائے راوی کا وہ جنوبی علاقہ آزاد کرالیا گیا جس پر بھارتی فوج نے صبح قبضہ کر لیا تھا۔ بازیاب کیا گیا علاقہ تباہ شدہ بھارتی ٹینکوں، گاڑیوں اور فوجیوں کی لاشوں سے اٹا پڑا تھا۔ لاشوں کی تعداد200گنی گئی جبکہ اصل تعدادتقریباََ800رپورٹ کی گئی ہے۔

    چھمب کے محاذپر بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور میلوں کے علاقے میں دشمن کا اسلحہ بکھرا پڑا تھا۔35بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بنا لیا گیا اور6کی تعداد میں 25پاؤنڈ رفیلڈ گنز بھی قبضہ میں لے لیں گئیں۔ کشمیری مجاہدین نے سرینگر کے قریب 2پُل اور 1سڑک تباہ کر دی۔ راجوڑی اور پونچھ لائن کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق: 6:30پر لاہور پر حملے کی خبر ملتے ہی بحری افواج کو مقررہ اہداف پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ پاک فضائیہ نے پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر کامیاب ترین حملہ کیا۔ پاکستانی فضائیہ نے بھارت کے22جہاز تباہ کر دیے جن میں C119،Mysteres،21ساخت کے طیارے شامل تھے۔ ایکMysteresطیارے کو راہوالی کے مقام پر میزائل مار کر گرا دیا گیا۔
    قومی حوصلہ
    لاہور کے زندہ دلان نے پاک فضائیہ اور انڈین ائیر فورس کے درمیان ہونے والی جنگ کو انتہائی جوش و خروش سے دیکھا۔ ہزار ہا شہری بارڈر کی طرف جانے والی سڑک پر اپنے فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ نکل آئے۔ سینکڑوں لوگ خون کے عطیات دینے کے لئے ہسپتالوں کی طرف دوڑتے ہوئے جا رہے تھے۔ پاکستانی قوم بھارتی فضائی حملے کے خطرے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے نعرے لگا کر فوجی جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بارڈر کی طرف رواں دواں تھی۔

    دوسری جانب چھ ستمبر جب پاک فضائیہ بھارت پر قہر بن کر ٹوٹی تھی، 6 ستمبر 1965 کے تاریخی دن کی مناسبت سے پاک فضائیہ کی مختصر دستاویزی فلم جاری کی گئی جبکہ فلائٹ لیفٹننٹ آفتاب تاریخ کے پہلے پائلٹ جنہوں نے سپرسونک طیارے سے دشمن کے طیارہ مار گرایا۔ 6 ستمبر کا دن ہمیں 1965 کے ان عظیم غازیوں اور شہدا کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملایا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان نے جس جرات اور شجاعت کا مظاہرہ کیا اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

    پاک فضائیہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے یومِ دفاع کی مناسبت سے پاک فضاؤں کے دفاع کے عظیم فریضے کو ادا کرنے والے شاہینوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی غرض سے مختصر دورانیے کی دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں 06 ستمبر کے دن لڑے جانے والے فضائیہ معرکے کا احوال بیان کیا گیا ہے۔

  • اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا

    اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سمیت ملک بھر میں یوم دفاع قومی اور ملی جوش وجذبے کے ساتھ منایا جارہا۔

    یوم دفاع کی مناسبت سے علی الصبح وفاقی دارالحکومت میں 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی ۔ مساجد میں فوج کے شہدا کے لیے قرآن خوانی اور ملکی استحکام کیلئے دعائیں مانگی جائیں گی جب کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں میں بھی دعائیہ تقریبات ہوں گی۔

    یوم دفاع پاکستان کے موقع پر پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے مزار قائد کراچی میں گارڈز کے فرائض سنبھال لئے ہیں۔ اس موقع پر 5 خواتین کیڈٹس بھی فرانض سنبھالنے والوں میں شامل ہیں۔ پاکستان ایئر فورس اکیڈمی ( اصغر خان) کی جانب سے کراچی میں یوم دفاع پاکستان کے سلسلے میں بانی پاکستان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد کی گئی۔

    ائیر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ (ستارہ امتیاز ملٹری) ائیر آفیسر کمانڈنگ اصغر خان اکیڈمی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ پاکستان ائیر فورس اکیڈمی اصغر خان سے تعلق رکھنے والے دستے میں 60 مرد اور پانچ خواتین کیڈٹس شامل تھے۔ مہمان خصوصی نے پریڈ معائنے کے بعد بابائے قوم کے مزار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، جب کہ مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کیے۔

    پاک فضائیہ کے چار گارڈز اندرونی اور چار گارڈز بیرونی حصے میں فرائض سر انجام دیں گے۔ واضح رہے کہ سال میں تین بار مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوتی ہے، جس میں 14 اگست ( یوم آزادی ) ، 6 ستمبر ( یوم دفاع پاکستان ) اور 25 دسمبر ( بانی پاکستان قائد اعظم کا یوم پیدائش ) شامل ہے۔


    یومِ دفاع کی مناسبت سے پاک فضائیہ کی جانب سے خصوصی پیغام بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کا کہنا ہے کہ یوم دفاع ان عظیم قربانیوں کی لازوال داستان ہے جو 1965 کی جنگ میں افواج پاکستان کے جوانوں نے وطن کے لیے لڑتے ہوئے پیش کی۔ ملک کے دفاع اور دہشت گردی کےخلاف جنگ میں افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو قربانیاں پیش کی ہیں تاریخ میں انکی مثال نہیں ملتی۔

    جبکہ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے جی ایچ کیو میں منعقد کی جانے والی 6 ستمبر کی تقریب منسوخ کردی گئی تھی۔

  • ہزاروں گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں ہرطرف پھیلا پانی سمندر کا سماں پیش کرتا ہے ،وزیراعظم

    ہزاروں گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں ہرطرف پھیلا پانی سمندر کا سماں پیش کرتا ہے ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے

    وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج قوم یوم دفاع ایک ایسے وقت میں منا رہی ہے جب ملک کو بد ترین سیلاب کا سامنا ہے ملک بھر میں شہدا کی قبور پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جا رہی ہیں ان کے لئے دعائیں کی جا رہی ہیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جارہاہے یوم دفاع ہمیں 57 سال پہلے اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہمارے مکار دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا لیکن ہماری بہادر افواج کے افسروں ، جوانوں اور سپاہیوں نے لا الہ الاا للہ کا وردکرتے ہوئےاپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج پھر پاکستانی قوم کوایک بڑے چیلنج کا سامناہے مہران کی وادیوں سے لے کر بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں خیبر پختونخوا کے برف پوش پہاڑوں جنوبی پنجاب کے میدانوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر تک ہر جگہ سیلابی ریلوں نے تاریخ کی بد ترین تباہی مچائی ہے کل میں قمبر شہداد کوٹ گیاتھا جہاں ہزاروں گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں ہرطرف پھیلا پانی سمندر کا سماں پیش کرتا ہے لاکھوں گھر تباہ ہو گئے ہیں 1300 افراد سیلاب میں لقمہ اجل بن چکے ہیں جن میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں جبکہ ہزاروں لوگ زخمی اور لاکھوں جانور سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ سندھ کے بعد بلوچستان میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے سوات اور جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں 3 کروڑ سے زیادہ پاکستانی سیلاب کی زد میں ہیں اورہرجگہ پانی نے زندگی اجیرن بنا دی ہے ان حالات میں آج پھر قوم اسی جذبے اور حوصلے سے سرشارہے جس کا مظاہرہ اس نے 1965 میں کیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لسبیلہ میں ہمارے افسروں اور نوجوانو ں نے جام شہادت نوش کیا غذر میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد ریلے کی نذر ہو گئے اورصرف ایک بزرگ اور ان کی معذور بچی باقی بچے ایسی داستانیں ہر جگہ بکھری ہوئی ہیں لیکن پوری قوم ایک بارپھر متحد ہو چکی ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کے لیے 20 ارب روپےکی تقسیم ہوچکی ہے سیلاب متاثرین کے لیے 28 ارب روپے کا پیکج رکھا تھا،سیکریٹری نے بتایا کہ باقی 8ارب روپے بھی متاثرین میں تقسیم کی جائے گی،وفاق کی طرف سے سندھ حکومت کے لیے 15ارب روپے گرانٹ کا اعلان ہوچکا ہے،بلوچستان اورخیبرپختونخوا کے لیے 10،10ارب روپے دیئے جارہے ہیں جہاں راستے کٹ گئے، مواصلاتی نظام متاثر ہوا، وہاں رقم کی تقسیم میں تاخیر ہوئی آگاہی سے متعلق مریم اورنگزیب اور شیری رحمان نے بہترین کردار ادا کیا، سیلاب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10،10 لاکھ روپے دیئے جارہےہیں،سیلاب کے ایک ہفتے بعد پتہ چلا کہ صورتحال گھمبیر ہے،یواے ای کی طرف سے 50 ملین ڈالر کا امدادی سامان آنا شروع ہوگیا سندھ میں جب تک ڈرین سسٹم نہیں بنائیں گے بارش یا سیلابی پانی کھڑ ا رہے گا، سیلاب کے باعث بلوچستان کے 80 فیصد راستے منقطع ہوگئے تھے دوست ممالک اب بھی امداد بھیج رہے ہیں ترکی ،قطر،چین اور دیگر ممالک امدادی سامان بھیج رہے ہیں،پوری قوم اس وقت ایک لڑی میں پروئی جا چکی ہے،بین الاقوامی میڈیا نے بھی دنیا کو پاکستان میں سیلابی صورتحال کے حقائق سے آگاہ کیا، ہماری وزارتوں اور اداروں نے بھی اس بڑے چیلنج کو قبول کیا سوات میں تباہی کی وجہ دریاپر ہوٹلز کی تعمیر بنی بہتر نظام کے ذریعے کام کیا جا سکتا ہے ،کاوشوں پر سب کا مشکور ہوں،یہ سیاست کا نہیں خدمت کا وقت ہے مشکل حالات سے نکلنے کے لیے ہمیں یکسو ہونا ہوگا،کیا اب پوری قوم خاموش تماشائی بنے گی؟ کیا اب بھی قانون کی دھجیاں اڑائی جائیں گی؟ کیا غریب قوم کی محنت کی کمائی ان غلطیوں کی نذر ہوگی، بلوچستان میں گزشتہ روز تک 55 فیصد رقوم کی تقسیم ہو چکی ہے ایف ڈبلیو او نے سوات میں کام کیا،سوات میں لوگوں نے دریا پر ہوٹلز تعمیر کیے تھے جس کے باعث نقصان ہوا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے حالیہ متنازع بیانات کا جائزہ لیا جائے گا، جس کو کابینہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ ممکنہ طور پر کابینہ کو عمران کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کے بارے میں بریف کریں گے

    آج ہونے والے اجلاس میں ملک کی معاشی اور سیاسی صورت حال پر غور ہوگا۔ شرکاء کو سیلاب کی صورت حال اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھی کابینہ کو ملک میں سیلاب کی صورت حال کے بارے میں بریف کرے گی۔ کابینہ کوٹے سے زائد عازمین حج کی بکنگ کے معاملے کا بھی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ توانائی کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز بھی ایجنڈے کا حصہ ہوں گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پیر 5 ستمبر کو فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے 4 مہینے میں ملک کا بیڑا غرق کردیا، یہ صرف کرپشن کیسز ختم کروانے آئے ہیں، الیکشن سے بھاگنے کا مقصد نومبر میں مرضی کا آرمی چیف لگانا ہے۔

    جبکہ گزشتہ روز پاک فوج نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے توہین آمیز اورغیرضروری بیان شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے توہین آمیز اور غیرضروری بیان شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ: فیصل آباد میں ایک سیاسی جلسے کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے پاک فوج کی سینئر قیادت کے بارے میں توہین آمیز اور غیر ضروری بیان پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق: عمران خان کی جانب سے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو ایسے وقت میں بدنام اور کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جب پاک فوج عوام کی سلامتی اور تحفظ کیلئے جانیں دے رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایک سینیئر سیاستدان کی جانب سے آرمی چیف کی تقرری پر تنازعات کو ہوا دینے کی کوشش افسوسناک ہے، جب کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا آئین میں واضح طریقہ کارموجود ہے۔ آئی ی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ فوج کی اعلیٰ قیادت نے اپنی حب الوطنی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کسی شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے کے لیے دہائیوں پر محیط شاندار خدمات انجام دیں۔

    آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا تھا کہ: پاک فوج کی سینئر قیادت پر سیاست کرنا اور آرمی چیف انتخاب کے عمل کو بدنام کرنا ریاست پاکستان اور ادارے کے مفاد میں نہیں ہے۔ پاک فوج آئین کی پاسداری کیلئے اپنےعزم کا اعادہ کرتی ہے

  • عمران خان کی استقبالیہ تقریب میں کارکنان لڑ پڑے

    عمران خان کی استقبالیہ تقریب میں کارکنان لڑ پڑے

    سندھ کے شہر سکھر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی استقبالیہ تقریب میں کارکنان لڑ پڑے۔

    مبینہ طور پر خواتین ورکرز سے مبینہ چھیڑ چھاڑ کرنے پر کارکنان کی تلخ کلامی اور ہاتھا پائی ہوئی۔ لڑائی کے دوران جس کے ہاتھ جو لگا وہ اس نے دوسرے کو دے مارا۔ کچھ کارکنان بیچ بچاؤ بھی کرواتے رہے۔

    یاد رہے کہ عمران خان آج ایک روزہ دورے پر سکھر پہنچے تھے، جہاں انہوں نے سیلاب متاثرین سے ملاقات بھی کی۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ میں نے قوم کو تیار کرنا ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں زرداری کو شکست دینی ہے۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان سے شہری نے سوال کیا کہ خان صاحب جب سکھر ڈوب رہا تھا تو آپ کہاں تھے؟پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے سکھر میں سیلاب متاثرین کے کیمپ کا دورہ کیا۔

    عمران خان نے متاثرین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھے، جہاں سیلاب متاثرین نے عمران خان سے عدم سہولیات پر شکایات شروع کردیں۔ شہری نے عمران خان سے سوال کیا کہ جب سکھر ڈوب رہا تھا تو خان صاحب آپ کہاں تھے، عمران خان شور میں سوال ان سنا کرکے گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔

  • آج قوم سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے،وزیراعظم

    آج قوم سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے،وزیراعظم

    6 ستمبر کے دن کو جرأت وبہادری کی علامت اور دھرتی کے بہادر بیٹوں کی عظیم قربانی کے جذبے کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ آج سے 57 سال قبل اس دن ہماری بہادر افواج ِپاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ وہ مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔اس دن پوری پاکستانی قوم بے مثال اتحاد اور پرعزم قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مسلح افواج کی حمایت کے لیے آگے آئی۔ قوم کے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کے مظاہرے نے ہمارے افسروں اور جوانوں، پائلٹوں اور سیلرز کو ہندوستانی جارحیت کے خلاف مادر ِوطن کی حفاظت کی لڑائی میں توانائی بخشی۔

    آج قوم اس سرزمین کے بہادر بیٹوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کر رہی ہے، خاص طور پر ہمارے ان قابل فخر شہداء کو جنہوں نے بے خوفی اور بہادری سے اس دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جو عددی طاقت میں بہت بڑا تھا۔ ہم شہدا کے والدین اور اہل خانہ کا بے حد احترام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کی جدائی کے غم کو ہمت سے برداشت کیا۔ ان ہیروز، غازیوں، پولیس و دیگر قانون نافذ کرنے والے محکموں اور انٹیلی جنس اداروں کے جوانوں کو بھی سلام، جو سخت موسموں اور مخالف ماحول میں مادرِ وطن کی سرحدوں کو بیرونی اور اندرونی خطرات سے محفوظ رکھ رہے ہیں۔

    یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ بہادر مسلح افواج اور بہادر پاکستانی قوم نے اپنی دودہائیوں پرانی جدوجہد میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت کو کامیابی سے شکست دے کر 1965 کی جنگ کے قابل فخر ورثے کو آگے بڑھایا ہے۔

    آج اس موقع پر، میں آپریشن ردالفساد کو کامیابی کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچانے پر عسکری قیادت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخواہ اور جنوبی پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران ہزاروں لوگوں کی جانیں بچانے میں مسلح افواج اور دیگر اداروں کے اہلکاروں کے کردار کو بھی سراہتا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے بینر تلے مختلف ممالک میں قیام امن میں ہماری مسلح افواج کے کردار کا بھی دنیا بھر میں اعتراف کیا جا رہا ہے۔ یہ خاص طور پر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ہمارے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عزم ہماری خارجہ پالیسی کا خاصہ ہے۔ تاہم، پائیدار امن کی خواہش کے ساتھ، پاکستان مشکل معاشی صورتحال کے باوجود اپنے دفاع کی مضبوطی اور جدید دور کے آلات و سامانِ حرب کی خریداری کی ضرورت سے غافل نہیں رہ سکتا۔

    بھارت کے غیر قانونی طور قبضہ کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک فلیش پوائنٹ ہے۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جتنی جلدی حل کیا جائے اتنا ہی علاقائی امن اور ترقی کے لیے بہتر ہے۔ میں بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہوں کہ وہ 5 اگست 2019 کو IIOJ&K کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کو واپس لینے کے لیے نئی دہلی پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

    جب ہم اس سال پاکستان کی آزادی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں، اِس دن میرا دھرتی کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے پیغام ہے کہ وہ 6 ستمبر کے جذبے کو اپنے دلوں میں زندہ رکھیں۔ میں قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر ایسے مذموم عناصر کو شکست دیں تو کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

    ہمارے شہداء کی قربانیوں کو بہترین خراج تحسین یہ ہے کہ ہم اپنے بانیوں کے وژن کے مطابق پاکستان کی تعمیر ِنو کریں۔ ایک ایسا ملک جو معاشی طور پر مضبوط، سیاسی طور پر مستحکم اور سماجی طور پر ہم آہنگ ہو وہ بہتر طریقے سے اپنا دفاع کر سکتا ہے اور اپنی خارجہ پالیسی کے اہم مقاصد کو فروغ اور تحفظ دے سکتا ہے۔ اتحادی حکومت کا وِژن اور ایجنڈا بھی یہی ہے۔
    ٭٭٭

  • منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیئے گئے

    سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق منچھر جھیل میں بند پر مزید دو کٹ لگا دیے گئے۔ کٹ آر ڈی 50 اور آر ڈی 52 پر لگائے گئے ہیں۔ سیہون کے قریب منچھر جھیل میں آرڈی 55 پر لگائے گئے شگاف سے پانی نکلنے لگا ہے۔

    مقامی افراد کے مطابق آر ڈی 55 جھیل کا نشیبی حصہ ہے، آر ڈی 55 پر کٹ لگانے سے جھیل سے پانی کا اخراج تیزی سے ہوگا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ شگاف لگانے کی اصل جگہ یہی تھی۔ آرڈی 55 پر شگاف پہلے لگا دیتے تو صورتحال اتنی خراب نہیں ہوتی.

    اس سے قبل پاکستان کی سب سے بڑی منچھر جھیل پر کٹ لگانے کے بعد سیہون شریف کے متعدد دیہات زیر آب آ گئے۔منچھر جھیل پر کٹ لگانے سے دیہات زیر آب آگئےجھیل کا سیلابی پانی تیزی سے مزید دیہاتوں کی طرف بڑھ رہا ہے،باغ یوسف کے مقام سے کٹ لگانے کے بعد سیلابی ریلے قریبی بستوں تک پہنچ گئے یونین کونسل بوبک، آراضی اور یونین کونسل چنا کے بھی سیکڑوں دیہات ڈوب گئے۔

    باجارا شہر اور جہانگارا شہر بھی مکمل طور پر زیر آب آ گئے علاقہ مکینوں نے کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی شروع کر دی۔ کئی مقامات پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں منچھر کو کٹ لگانے کے باوجود بھی جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہ ہوسکا پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق بوبک بند پر دانستر نہر کے گیٹ بھی کمزور ہوگئے ہیں۔ بوبک بند کو نقصان پہنچا تو ایک لاکھ سے زائد آبادی متاثر ہونے کا خدشہ ہےماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بند ٹوٹنے سے 300 سے زائد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں-

    باغ یوسف آر ڈی 14 سےکٹ لگانے سے منچھر جھیل سے پانی کا دباؤ کم نہیں ہوا، آر ڈی 55 اور آر ڈی 80 سےکٹ لگایا جاسکتا ہے محکمہ آبپاشی ذرائع کے مطابق بوبک میں آرڈی 62 سے دانستر ریگولیٹر کے گیٹ سے پانی اوور فلو ہو رہا ہے۔

  • شمالی وزیرستان میں آپریشن،پاک فوج کے 5 سپوت مادروطن پر قربان

    شمالی وزیرستان میں آپریشن،پاک فوج کے 5 سپوت مادروطن پر قربان

    شمالی وزیرستان کے ضلع بویا کے عام نامی علاقے میں آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 5 اہلکار شہید ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے.

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامی (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے ضلع بویا میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا اور سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن عبدالولی (عمر 26 سال، رہائشی وانا/جنوبی وزیرستان)، نائب صوبیدار نواز (عمر 45 سال، ساکن ایبٹ آباد)، حوالدار غلام علی (عمر 34 سال، رہائشی سرگودھا)۔ لانس نائیک الیاس (عمر 33 سال، میانوالی کا رہائشی) اور سپاہی ظفر اللہ (عمر 29 سال، ساکن میانوالی) نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت نوش کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔