Baaghi TV

Author: +9251

  • زلفی بخاری نے برطانوی شہریت چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    زلفی بخاری نے برطانوی شہریت چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    تحریک انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے برطانوی شہریت چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے ساتھ مل کر حقیقی آزادی کی جدوجہد کروں گا۔

    غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

    میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ذلفی بخاری کا کہنا تھا کہ اب میں باقاعدہ طور پر پاکستانی شہری ہوں۔ جینا مرنا پاکستان میں ہے،کہا جا رہا تھا کہ حکومت کے خاتمے پر پاکستان چھوڑ کر بھاگوں گا، مشکل وقت میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں،پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا۔

     

    سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

     

    زلفی بخاری کاکہنا تھا کہ ملک کو ہماری ضرورت ہے،ہار جیت اللہ کے ہاتھ میں لیکن پاکستان کی خدمت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان چھوڑ کر بھاگنے والے اسائلم لینے کیلئے کوشاں ہے، انہیں بھی پاکستان واپس آنا ہوگا،برطانوی شہریت چھوڑنے کا فیصلہ ذاتی ہے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔

     

    جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

     

    برطانوی ہوم ڈیپارٹمنٹ نے زلفی بخاری کا شہریت چھوڑنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے،1980 سے برطانوی شہریت رکھنے والے زلفی بخاری کاکہنا ہے کہ ان کا پورا خاندان وہیں ہے،برطانیہ میں کاروبار کیا وہاں سے بہت کامیابیاں ملیں۔

     

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

  • لندن سے چوری ہوئی مہنگی گاڑی کراچی کے گھر سے مل گئی

    لندن سے چوری ہوئی مہنگی گاڑی کراچی کے گھر سے مل گئی

    برطانوی دارالحکومت لندن سے چوری ہوئی مہنگی گاڑی (بینٹلی)کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 2 کے ایک گھر سے مل گئی۔لندن کی ایجنسی کی اطلاعات پر کسٹمز انٹیلی جنس اور پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔

    گاڑی کی نمبر پلیٹ جعلی نکلی، گھر کا مالک اس کے کاغذات بھی پیش نہ کر سکا، گاڑی کسی اور ملک کے سفارت خانے کے جعلی کاغذات پر منتقل کی گئی۔

    جس گھر سے گاڑی برآمد ہوئی، اس کے رہائشی جمیل شفیع نے کسٹمز حکام کو بتایا کہ اسے نوید بلوانی نامی شخص نےگاڑی دلوائی ہے، کسٹمز نے دونوں افراد کو گرفتار کرلیا، گاڑی کسٹمز کے ویئر ہاؤس منتقل کردی گئی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق گاڑی بیچنے والے ملزم نور یامین کے گھر سے مختلف اقسام کے 24 ہتھیار برآمد ہوئے، جن میں سے 21 ہتھیاروں کے لائسنس اُس نے پیش کردیے۔

    پولیس حکام کے مطابق دیگر 3 ہتھیاروں کے لائسنس پیش نہیں کیے جاسکے، برآمد ہتھیاروں اور لائسنس کی بھی تصدیق کی جائے گی۔

    حکام کے مطابق ہتھیاروں کی درآمد اور لائسنسوں کی تاریخوں میں فرق پایا گیا ہے، ملزم نوید یامین کے خلاف کراچی اور حیدرآباد کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

    کسٹمز ذرائع کے مطابق لندن سے چوری ہونے والی گاڑی مشرقی یورپی ملک کے سفیر کے نام پر منگوائی گئی، سفارتی سطح پر چوری کی گاڑی برآمد گی کا علم ہونے پر ملک نے اپنا سفیر واپس بلوالیا۔

    کسٹمز ذرائع کے مطابق گاڑی چوری اور کراچی میں موجودگی کی اطلاع برطانوی کرائم ایجنسی نے دی، کراچی میں جسے گاڑی بیچی گئی، اُسے کہا گیا کہ ستمبر 2022ء سے پہلے اسے سڑک پر نہیں لانا۔

    دوسری کارروائی میں کسٹمز حکام نے کلفٹن کی رہائشی عمارت میں چھاپا مار کر کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ گاڑی (رینج روور)تحویل میں لے لی۔

    کسٹمز ذرائع کے مطابق دو دریا پر قائم اپارٹمنٹ سے مزید کئی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں برآمد کی گئیں، کسٹمز انٹیلی جنس اور پولیس کا آپریشن تاحال جاری ہے۔

    کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ (سی سی ای) کی کارروائی میں کراچی کے علاقے ڈیفنس سے برآمد کی گئی مہنگی ترین لندن سے مسروقہ کار 21 مئی 2020 کو حکومت سندھ کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ میں رجسٹر کی گئی تھی۔محکمہ کی ویب سائٹ پر موجود ریکارڈ کے مطابق بینٹلی ملسن ون آٹومیٹک وی 8 کا رنگ گرے، انجن نمبر CKB304693 کو رجسٹریشن نمبر BRS-279 دیا گیا۔

    ریکارڈ کے مطابق 6752 ہارس پاور کی اس گاڑی کی باڈی سیلون ہے، گاڑی کے مالک کا نام ایچ ای الیگزینڈر بوریسوو پاراشکیوو درج ہے۔ریکارڈ کے مطابق ماڈل 2014 کی اس قیمتی کار میں چار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ آن لائن ڈیٹا میں گاڑی کی دیگر تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

    خیال رہے کہ سرمئی رنگ کی گاڑی کے سامنے سفید رنگ کی ہاتھ سے بنی نمبر پلیٹ لگی تھی جبکہ عقبی نمبر پلیٹ بظاہر اصلی اور پیلے رنگ کی تھی۔

    برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی نے محکمہ کسٹمز کراچی کو مصدقہ اطلاع بھیجی کہ ایک گرے Bentley Mulsanne, V8 Automatic, VIN انجن نمبر CKB304693، جو لندن سے چوری ہوئی تھی وہ کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں کھڑی ہے۔

    سی سی ای کی ٹیم نے معلومات کی تصدیق کے لیے مذکورہ مقام پر کڑی نگرانی کی۔ تلاشی کے دوران محکمہ نے گاڑی برآمد کر لی جو گھر کے کار پورچ کے اندر کھڑی تھی۔

  • شوکت ترین آپ آئی ایم ایف کی چھٹی کروارہے تھے یا پاکستان کی؟مفتاح اسماعیل

    شوکت ترین آپ آئی ایم ایف کی چھٹی کروارہے تھے یا پاکستان کی؟مفتاح اسماعیل

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ شوکت ترین جھوٹ بولنا بند کریں، آپ پاکستان کی چھٹی کروارہے ہیں، آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ رکوانے کے لیے خط لکھا جائے، آپ آئی ایم ایف کی چھٹی کروارہے تھے یا پاکستان کی؟

    غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شوکت ترین نے واضح کہا کہ ہم ان کو اسکاٹ فری نہیں جانے دیں گے، آپ کے لیے عمران خان اہم ہوں گے ہمارے لیے ملک کا مفاد مقدس ہے، کیا آپ نے معاہدہ نہیں کیا کہ پیٹرول پر ہر ماہ ٹیکس بڑھائیں گے؟

     

    جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

     

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان تو ملک کا قرض کم کرنے آئے تھے کیا یہ قرضہ کم کیا؟ شہباز شریف نے ایک دن بھی پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی، لوڈشیڈنگ ختم کی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ 40 لاکھ سے زیادہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کو 25 ہزار روپے ماہانہ دے رہے ہیں، 60 سے 70 ارب روپے خرچ ہوں گے لیکن متاثرین کو پیسے دیں گے وہ مشکل میں ہیں، سیلاب سے علاقے، فصلیں تباہ ہوگئیں اور آپ سیاست کررہے ہیں۔

     

    عالمی برادری پاکستان کے قرضے معاف کردے:سید خورشید شاہ

     

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دس سال سے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے پوچھیں وہاں صحت اور تعلیم کا کیا حال ہے؟ روس سے کیا 70 سال میں پاکستان تیل لے کر آیا ہے، کیا وہ تیل یہاں ریفائن ہوتا ہے؟

  • سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

    سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما، سابق وزیراعظم عمران خان سیلاب متاثرہ علاقے میں گئے تو سیلاب متاثرین کی مدد کی بجائے انکو سیلاب کے فائدے بتانے لگے

    عمران خان نے آج جنوبی پنجاب کا دورہ کیا، عمران خان راجن پور گئے، سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ کیا،روجھان میں میڈیا سے گفتگو کی جس میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے جب لوگ زمین میں گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہو گی۔

    عمران خان نے سیلاب کا فائدہ بتایا تو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صارفین نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا،باغی ٹی وی کے سینئر اینکر ،ڈائریکٹر پروگرام عبدالرؤف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ آل یوتھ اس کے فضائل میں بھی کتب تحریر کر دیں گے۔۔۔۔سیلاب کے فوائد پر جلس کتاب بنی گالہ سے ریلیز ہو گی اور آل یوتھ کی سوشل میڈیا بریگیڈ پھر اس پر دھمال ڈالیں گے۔۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وسیم قریشی کا کہنا تھا کہ لوگ مر گئے گھر اجڑ گئے فصلیں تباہ ہو گئیں مویشی سیلاب میں بہہ گے اور جب پانی اترے گا تو لاشیں برآمد ہونگی تو کیا ہوا ؟اس سال سیلاب کی وجہ سے گندم بہت اچھی ہو گی – عمران خان ،یہ انسان پاگل ہے

    https://twitter.com/wasimsh0565534/status/1566059690747887618

    قبل ازیں تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب تک طاقتور ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے نہیں لاتے تو ترقی کو بھول جائیں۔ ہم سب کو اکٹھے ہو کر ملک میں انصاف کا انقلاب لانا ہے، ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے،وزیراعظم کی وزیراعلیٰ کو ہدایت

    وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کا مطلب انصاف ہے، بنانا ری پبلک میں انصاف نہیں ہوتا، ملک میں طاقت ور اور کمزورکے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے۔ جب تک طاقتور ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے نہیں لاتے تو ترقی کو بھول جائیں، دنیا میں امیر اور غریب ممالک میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، 26 سال سے ملک میں انصاف کی جنگ لڑ رہا ہوں، انصاف ہو گا تو ملک میں کرپشن ختم ہو گی۔ غریب ممالک سے پیسہ چوری کر کے لندن میں بڑے، بڑے محلات خریدے جاتے ہیں، پہلے آپ کو جہاد کو سمجھنا ہوگا ورنہ آپ لوگ خودکش حملہ کر دیں گے، بڑے ڈاکوؤں کو قانون کے نیچے لانا ہو گا،

     

    غیر ملکی فنڈز کی رقم 2013 کے انتخابات میں تحریک انصاف کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی

     

    انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کرملک کوحقیقی طورپرآزادی دلانی ہے،مجھ پر اب تک 16 مقدمات درج ہو چکے ہیں، تحریک انصاف کے کارکنوں پر رات کو دوبجے چھاپے مارے گئے، مریم نواز کا لانگ مارچ بھی ہوا جو کسی راستے میں ہی گم ہو گیا تھا، تحریک انصاف کی حکومت میں کبھی مخالفین کے گھروں پر چھاپے نہیں مارے گئے تھے، 25 مئی کو خواتین، بچوں کو شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا، ہمارا آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، بڑے ڈاکوؤں کو مسلط کیا گیا، پرامن احتجاج ہمارا حق ہے،صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، نجی چینل کی نشریات کی بحالی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے شکر گزار ہیں، حلیم عادل شیخ کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے، زرداری، شریف خاندان مافیا ہے ڈیموکریٹ نہیں، انصاف کی جنگ کے لیے مجھے وکلا برادری کی ضرورت ہے۔

     

    پاک فوج کے جوانوں نے جان خطرے میں ڈال کر متاثرین کو ریسکیو کیا،ترجمان پاک فوج

     

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر شوگرمافیاز، لینڈ مافیاز کا قبضہ ہے، ہم سب کو اکٹھے ہو کر ملک میں انصاف کا انقلاب لانا ہے، ہم ملک میں قانون کی بالادستی چاہتے ہیں، اگرکسی نے کوئی جرم کیا ہے تواسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے، صحافیوں کے خلاف مقدمات،جیلیں،بیرون ملک جارہے ہیں یہ جمہوریت نہیں ہے۔ وکلا برادری جسے مرضی ووٹ دے مجھے فرق نہیں پڑتا،وکلا برادری قانون کی بالادستی کے لیے میرا ساتھ دے،انشااللہ انصاف کا انقلاب لیکرآنا ہے،جانوروں اورانسانوں کےمعاشرے میں اصل انصاف کا ہی فرق ہے،میں سرکس والے نہیں اصل شیروں کی بات کررہا ہوں۔

    اس سے قبل روجھان میں سیلابی صورت حال پر بریفنگ لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ کتنا نقصان ہوا ڈیٹا اکھٹا کرنا ہوگا۔ پی ڈی ایم اے کو نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کرناچاہیے، بحالی کے کاموں میں مدد ملے گی۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلاب کے باعث ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب چکی ہے، متاثرین کو مزید امداد کے معاملے پر بات کروں گا۔ قدرتی آفت بڑا چیلنج ہے مگر متحد ہو کر مشکل سے نمٹیں گے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مچھر دانیاں فراہم کی جائیں۔ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی سے کہتاہوں متاثرہ علاقوں میں جائیں، متاثرین کو مدد کی ضرورت ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہر جگہ سیلاب سے متاثر ہے۔ ہمیں ڈیموں کی ضرورت ہے ۔ کارکن نعرے نہ لگائیں، یہ جلسہ نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں بڑے امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ہر جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، تاہم جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے جب لوگ زمین میں گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہو گی۔اس وقت لوگوں پر حقیقی معنوں میں مشکل وقت آیا ہوا ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں چاہیے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی، حکومت اور میں، سب مل کر سیلاب متاثرین کی مدد کریں۔

    اسی دوران صحافی کے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ آئندہ کے لیے ہم چاہتے ہیں کہ 2 ڈیموں کا بننا بہت ضروری ہے۔ اگر ڈیم بنے ہوتے تو سیلاب آنے پر بھی دو تین سال تک لوگوں کا نقصان نہ ہوتا، ہمیں نئی ڈرین کا بھی بندوبست کرنا پڑے گا جو زیادہ پانی کی نکاسی میں مددگار ثابت ہو گا۔

  • جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

    جیسے نواز شریف کیس کا فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،اویس لغاری

    پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور سابق صوبائی وزیر سردار اویس لغاری کی پارٹی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سیاسی، معاشی اور سیلابی صورتحال کے بعد کے حالات بتانا چاہتے ہیں

    انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی سوچ ہے کہ قومی مفاد میں ہر سیاسی جماعت، کارکنوں، جج، فوجی سمیت ہر کسی نے کوشش نہ کی تو حالات ابتر ہو جائیں گے ،سندھ میں 3 کروڑ کی آبادی مکمل تباہ ہو گئی ہے، ان کے مکانات، آمدن ذرائع مکمل ختم ہو گئے

    اویس لغاری کا کہنا ہےجنوبی پنجاب میں 2 اضلاع مکمل تباہ ہوئے ہیں ،اس سیلاب کے ذریعے زرخیز مٹی نہیں بلکہ ریت آئی ہے ،2 اضلاع میں کم از کم 2 لاکھ گھر مکمل ختم ہو گئے ہیں ،ان اضلاع میں دیہاڑی باز لوگ بھی پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے اصل حقداروں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پھنسے عوام تک کشتیوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا لیکن حکومت پنجاب کو کوئی ہوش ہی نہیں ،سیلاب سے پہلے ہی عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا ،آج سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں پر حملے کئے جا رہے ہیں ،آج زمیندار میں کھاد کی بوری خریدنے کی سکت نہیں ہے

    اویس لغاری نے کہا کہ بنکوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے قرضے ہی نہیں ہیں ،دیہات میں قرضے دینے کا بنکوں کا رواج ختم ہو چکا ہے ،آئی ایم ایف کے پروگرام کو فیل کروانے کے لئے وار کئے گئے ،اگر وہ وار کامیاب ہو جاتا تو ہم عالمی طور پر ڈیفالٹر ہو جاتے ،آج وقت ہے کہ ہر سیاسی جماعت، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا معاشی استحکام کے لئے مل کر بیٹھے

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ آج کسان کو پیسہ دینے کی ضرورت ہے ،آج بیرونی ممالک سے قرضے ری شیڈول کروانے کی ضرورت ہے ،سندھ کے سٹوروں سے گندم ختم ہو چکی ہے ،اب گندم بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑے گی ،ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں ،زرعی اصلاحات کے لئے یکجہتی کیسے ہو، اس پر غور کی ضرورت ہے ،ہر علاقے میں پانی جمع کرنے اور دریاوں اور پانی کا بہاو بہتر کرنے کی ضرورت ہے

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پانی کے نظام پر بھی نیوکلیئر پروگرام کی طرح یکجہتی کی ضرورت ہے،زراعت نہیں ہوگی تو جی ڈی پی کیسے گرو کرے گی؟؟،آج اراکین اسمبلی پر کیسز بنائے جا رہے ہیں اور جلسوں میں کنسرٹ کئے جا رہے ہیں، "”میں”” کی سیاست کب ختم ہو گی؟؟؟ جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے ،لوگ کروڑوں روپے کا سامان جنوبی پنجاب بھیج رہے ہیں لیکن لوٹ مار وہاں شروع ہو چکی ہے ،پولیس وہاں تحفظ فراہم کرنے سے انکاری ہے ،عام انتخابات ان حالات میں کیسے ممکن ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر خود غرضی اور حکومت میں بیٹھ کر اپنے لئے سیاست کرنے والوں کے لئے پیغام ہے کہ سب مل کر بیٹھیں اور معاشی ترقی کے لئے کام کریں ،ہم مشکل فیصلے روک کر اپنی سیاست بچا سکتے تھے ،سب کو پانی، زراعت کے لئے مل بیٹھ کا کام کرنا ہو گا ،فروری مارچ میں بڑی مقدار میں خوراک امپورٹ نہ کی گئی تو بہت بڑا بحران آ جائے گا ،آج صوبائی حکومت کدھر ہے، صرف لوگوں پر پرچے کر رہی ہے ،حکومت اپنا فوکس تبدیل کرے

    انہوں نے کہا کہ ہمیں اگلے 10 سال کی پلاننگ کرنا ہو گی ،عدالتوں اور اداروں کو ایسا ماحول بنانا ہو گی کہ کم سے کم کشیدگی ہو معاشرے میں ،جنوبی پنجاب میں رودکوہیوں کے لئے کوئی کام نہیں کیا گیا ،کیا یہ کوئی وقت ہے کہ کوئی نیا ڈویژن بنایا جائے ،جنوبی پنجاب میں سیلاب سے بچاو پر زیرو خرچہ ہوا ہے ،کالا باغ کی بجائے ہر ضلع میں 100 چھوٹے چھوٹے ڈیمز بنائے جاتے تو اتنا نقصان نہ ہوتا ،سب کو چاہیئے کہ مل کر پالیسی بنائے کہ آئندہ 15 سالوں میں ہر سال 300 ارب سالانہ پانی پر خرچ کرنا ہیں.

    اویس لغاری نے کہا کہ ہم پہلے دن سے معاشی استحکام کی بات کر رہے ہیں ،یہ کہتے ہیں کہ اگر میں ان کے ساتھ مل کر بیٹھ گیا تو لوگ کیا کہیں گے ،عمران خان بطور لیڈر نہیں سوچتے ،ہم پٹرول و ڈیزل کو اس لئے بڑھا رہے ہیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے ،پچھلے 2 ماہ میں لمپی سکن کی بیماری جانوروں میں پھیلی لیکن کوئی حل نہیں کیا ،2 ماہ بعد بیماری والا گوشت ملے گا یا گوشت بالکل بھی نہیں ملے گا ،یہ حکومت لائیو سٹاک کے شعبے میں بھی مکمل ناکام ہو چکی ہے ،اسمبلی میں ہمیں کوئی بات نہیں کرنے دیتا .

    مسلم لیگ ن کا واضح موقف ہے کہ ملک میں سب کے لئے انصاف ایک جیسا ہونا چاہیئے،انصاف کا ترازو سیدھا نہیں ہو گا تو معاشرے میں لوگ بولیں گے ،نواز شریف کیس کا جس طرح فیصلہ ہوا، باقیوں کا بھی ویسے ہی ہونا چاہیئے ،ہم نے عمران خان کی نااہلی کی خواہش نہیں کی لیکن ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کے لئے بھی وہی معیار مقرر ہو جیسے باقیوں کے لئے ہے ،ان علاقوں میں جہاں سیلاب ہے، وہاں ضمنی انتخابات ملتوی کر دینے چاہیئیں ،یہ ملک کو تہس نہس کرنے کی بجائے ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں
    ،تحریک انصاف اپنے وزرا کو پولیس کی سکیورٹی لے بغیر جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بھیج کر دکھائیں انہیں لگ پتہ جائے گا.

  • بجلی گھروں سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ

    بجلی گھروں سمیت 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ

    وفاقی حکومت نے موجودہ مالی سال میں 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔

    رواں مالی سال میں حکومت کا 4 سرکاری اداروں کی نجکاری کا منصوبہ ہے، اور ان میں آر ایل این جی پر چلنے والے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس سرفہرست ہیں۔دستاویزات کے مطابق ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی کی نجکاری مارچ 2023ء تک کی جائے گی،اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری جون 2023ء میں متوقع ہے۔

    سماء ٹی وی کے دعوی کے مطابق: دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ شفافیت یقینی بنانے کیلئے بعض اداروں کا خصوصی آڈٹ کیا جائے گا، سوئی سدرن گیس کمپنی،حیسکو اور پیپکو کا بھی خصوصی آڈٹ ہوگا۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ اداروں کی کارکردگی میں بہتری کیلئے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا، اور یہ یونٹ وزارت خزانہ میں جنوری 2023ء تک فعال ہوگا۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ گورنس، شفافیت اور استعداد کار میں بہتری لائی جائے گی۔

    یاد رہے کہ نجکاری کے عمل کی تعریف ماضی بطور وزیر اعظم بھی کرچکے ہیں انہوں نے کہا تھا: وزیراعظم عمران خان نے نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا، قومی خزانے کو نقصان سے بچانے کے ساتھ ساتھ اداروں کی کارکردگی کو ان کی استعداد کے مطابق چلانا، اداروں سے بہترین نتائج کا حصول اور مجموعی طور معیشت کی بہتری نجکاری عمل کی اصل روح ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماضی میں بطور وزیر اعظم نجکاری عمل میں پیش رفت کا جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا تھا۔ اجلاس میں اس وقت کے وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی تھی۔ جبکہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی وسائل میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ شیری رحمان

    عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ شیری رحمان

    عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔ وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب ہے، اور 80 اضلاع آفت زدہ ہیں، جب کہ عمران خان سیلاب متاثرین نہیں بلکہ اپنا بیانیہ زندہ رکھنے کے مشن پر ہیں۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے 3 کروڑ لوگ متاثر ہوچکے ہیں اور لاکھوں لوگ کھلے آسمان تلے امداد کے منتظر ہیں، جب کہ عمران خان جلسوں اور قوم کو انقلاب کیلئے جگانے میں مصروف ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان سیلاب زدگان کو پیغام دے رہے ہیں کہ انھیں بس اپنی سیاست سے غرض ہے، اور انہیں عوام کی مشکلات اور زندگیوں سے کوئی سروکار نہیں۔

    شیری رحمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگ ریسکیو کے منتظر ہیں، اور پنجاب حکومت کا ہیلی کاپٹر عمران کو پک اینڈ ڈراپ دے رہا، عمران خان خود غرضی کی عینک اتار کر ملک کی صورت حال دیکھیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وقت جلسوں کا نہیں بلکہ زندگیاں بچانے کا وقت ہے، لیکن عمران خان اس وقت بھی لوگوں کو نفرت اور انتشار پر اکسا رہے ہیں۔

    دوسری طرف چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ اس وقت ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، حکومت اور مجھے، سب کو مل کر متاثرین کی مدد کرنی ہے۔ روجھان آمد کے موقع پر سابق وزیر اعظم کو سیلابی صورت حال پر بریفنگ دی گئی، جس کے بعد انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے ملک بھر میں تباہی ہوئی ہے۔ سیلاب سے کتنا نقصان ہوا ،اس کا ڈیٹا اکھٹا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو نقصانات کا ڈیٹا اکھٹا کرناچاہیے، اس سے بحالی کے کاموں میں مدد ملے گی۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہزاروں ایکڑ زمین اس وقت پانی میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ سیلاب متاثرین کو مزید امداد کے معاملے پر بات کروں گا۔ سیلاب ہمارے لیے بڑا چیلنج ہے ،مگر مل کر مشکل سے نمٹیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مچھردانیاں فراہم کی جائیں۔ اپنے نمائندوں سے کہتاہوں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جائیں، اس وقت سیلاب متاثرین کو مدد کی ضرورت ہے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہر جگہ سیلاب سے متاثر ہے ۔ ہمیں ڈیموں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کارکنوں کو نعرے لگانے سے روکتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں بڑے امتحان میں ڈالا ہوا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں ہر جگہ پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، تاہم جب یہ پانی اترے گا تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب لوگ اس زمین میں اپنی گندم کاشت کریں گے تو فصل بڑی زرخیز ہوگی۔

  • شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد — بلال شوکت آزاد

    شریعتِ محمدی صل اللہ علیہ والہ وسلم کی خوبصورتی اور حقانیت کی بنیاد جانتے ہیں کیا ہے؟

    اس کا ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہ ہونا اور ہماری فطرت اور جبلت کے عین مطابق ہونا ہے۔

    لچک اور حجت اس دین کا خاصہ ہے جبکہ چمک اور شدت کا اس سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔

    اب ذرا غور کریں کہ ہم اس وقت جس اسلام (کہنا تو مسلک, فرقہ اور جماعت چاہیے پر چلو۔ ۔) پر کاربند ہیں کیا وہ ہماری فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور اس پر ہماری خواہشات اور توقعات اثر انداز نہیں؟

    کیا اس میں لچک اور حجت غالب ہے یا چمک اور شدت سے لبریز اسلام ہے ہمارے پاس؟

    اسلام کوئی راکٹ سائنس نہیں یہ بات ازحد ضروری ہے سمجھنے اور ماننے کے لیے لیکن ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارا اسلام (درحقیقت مسالک وغیرہ یا مبینہ اسلام) اس کسوٹی پر پورا نہ اترے کہ فطرت اور جبلت کے مطابق ہے اور ہماری خواہشات و توقعات کے تابع نہیں بلکہ ہماری خواہشات و توقعات اس کے تابع ہیں۔

    اسلام جذبات کی نمائش کا دین نہیں تھا لیکن ہماری صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ یہ ایک جذباتی دین ہے جو کہ سراسر غلط اور تعمیر شدہ تصویر ہے۔

    ہمارے متشدد جذبات و احساسات کا غلبہ ہمارے دین اور امت کی حالت زار کا اصل ذمہ دار ہے۔

    اسلام نے کسی عمل کو شدت سے جوڑنے اور اس پر فخر کا حکم یا مشورہ نہیں دیا لیکن ہم ہیں کہ ہماری ہر بات ہی کاٹنے پیٹنے اور مار ڈالنے سے شروع ہوتی ہے تو اختتام کیسے اچھا اور خوشنما ہو؟

    بہرحال موحودہ دور میں اسلام سے اسلام کے نام پر مخصوص طبقے کا کھلواڑ جاری ہے جو اسلام کو بطور اوزار اور ہتھیار ذاتی مفادات کی جنگ جیتنے کا ذریعہ بنا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوئے تو اسلام عنقاء ہوجائے گا جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

    اسلام کے تابع ہونا تھا نا کہ اس کو اپنے تابع کرنا تھا, یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہم جان بوجھ کر سمجھنا اور ماننا نہیں چاہ رہے۔

  • شوکت ترین جیسے ملک دشمن  کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ن لیگی رہنما جاوید لطیف

    شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ن لیگی رہنما جاوید لطیف

    شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے.

    مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں جاوید لطیف کا شوکت ترین کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شوکت ترین جیسے ملک دشمن کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے. ملک کو دیوالیہ کرنے، سری لنکا بنانے کی پلاننگ آڈیو لیک میں بےنقاب ہو چکی ہے. انہوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین میڈیا پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں.

    واضح رہے کہ سابق وزیرخزانہ شوکت ترین نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2022 تک آئی ایم ایف کی چھٹی کرادینی تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کبھی نہیں چاہتا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔ کراچی پریس کلب میں مزمل اسلم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتےہوئے شوکت ترین نے سخت انداز میں آئی ایم ایف پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف تو اپنا چورن بیچتا رہے گا اور کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان اس کے شکنجے سے نکل سکے۔

    انھوں نے کہا کہ جنوری 2022 تک ہمارے لئے یہ ہی آئی ایم ایف بہت اچھی رپورٹ دے رہا تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ہم آئی ایم ایف کے سامنے کھڑے ہوجاتے تھے لیکن موجودہ حکمران بالکل لیٹ گئے ہیں۔ شوکت ترین نے تجویز دی کہ اب حکومت یہ کرے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے اور کہیں کہ ملک میں سیلاب کے باعث ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے، آئی ایم ایف سے شرائط نرم کروائی جائیں۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ روس سمیت جہاں سے سستا تیل مل سکتا ہے اس کو حاصل کرنا چاہئے اور ٹیکس کا دائرہ بڑھا کر ٹیکس ریونیو بڑھایا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شوکت ترین کو غدار کہنے والے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ شوکت ترین پاکستان کیلئے تھائی لینڈ سے ایک ملین ڈالر کی نوکری چھوڑ کر آیا۔ اپنی آڈیو سے متعلق انھوں نے کہا کہ جمہوریت میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے اورمیری گفتگو ٹیپ کرنا غیرقانونی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ کے ساتھ گفتگو کٹ اینڈ پیسٹ اور ڈاکٹرڈ تھی۔اس لیک ٹیپ کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ کارروائی کروں گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے ٹیپ خود لیک کرکے آئی ایم ایف پروگرام خطرے میں ڈالا اور اگر ان کی نیت صاف ہوتی تو یہ آڈیو ایسے موقع پر لیک نہ کی جاتی،یہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام پر بہت کچھ بول چکے ہیں تو ہم نے تو انہیں غدار نہیں کہا تھا۔

  • سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کا ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے

    پاک فضائیہ کےخیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں تیزی سے کام جاری ہے۔ ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیئے سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہیں، علاقے میں راشن کے پیکٹ گرانے کے لیئے ہیلی کاپٹر آپریشنز بھی جاری ہے، جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 2272 مریضوں کا طبی معائنہ کیا۔

    پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے ضرورتمند خاندانوں میں 3765 خشک راشن کے پیکٹ اور 13800 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے، سیلاب سے متاثرہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو مفت کپڑے بھی فراہم کیئے گئے ہیں، ائیر مارشل حامد راشد رندھاوا، ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف ایڈمنسٹریشن نے ضلع راجن پور میں پاک فضائیہ کے فلڈ ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا۔

    ڈپٹی چیف آف ائیر سٹاف ایڈمنسٹریشن نے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہارکیا ہے، ائیر مارشل حامد رندھاوا نے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کی بروقت اور انتھک امدادی کاروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جب تک سیلاب سے متاثرہ تمام پریشان حال ہم وطنوں کی بحالی مکمل نہیں ہو جاتی، پاک فضائیہ امدادی کاروائیاں جاری رکھے گی.

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق مون سون کی ریکارڈ بارشوں اور شمال کے پہاڑوں میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب آیا جس سے 14 جون سے اب تک کم از کم ایک ہزار 265 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 57 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اب تک زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 12 ہزار 577 ہے

    علاوہ ازیں پاکستان شدید سیلاب سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، جس سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد یا آبادی کا 15 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔اس سلسلے میں اقوام متحدہ نے 16 کروڑ ڈالر امداد کی اپیل کی ہے تاکہ سیلاب کے اثرات سے نمٹنے میں مدد کی جا سکے جسے اس نے ایک ‘بے مثال موسمیاتی تباہی’ قرار دیا۔