Baaghi TV

Author: +9251

  • پاک فضائیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں

    پاک فضائیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں

    پاک فضائیہ نے خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں مزید تیز کردیں۔ پاک فضائیہ اس مقصد کے لیے ہر ممکنہ حد تک وسائل وقف کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے اہلکار سیلاب متاثرین کی بحالی کے عمل میں سول انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کر رہےہیں۔ علاقے میں راشن، ادویات اور اشیاۓ ضروریہ گرانے کے لیئے ہیلی کاپٹر آپریشنز بھی جاری ہیں۔

    ایئر مارشل حامد راشد رندھاوا، ہلال امتیاز (ملٹری)، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف ایڈمنسٹریشن نے حیدرآباد کے قریب پاک فضائیہ کے ریلیف کیمپ کا معائنہ کیا۔ انہوں نے سیلاب متاثرین کو فراہم کی جانے والی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ایئر آفیسر نے دور دراز علاقوں میں بروقت اور مسلسل جاری امدادی کاروائیوں پر پاک فضائیہ کی ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔

    اس سے قبل، ائیر وائس مارشل حاکم رضا، ستارہ امتیاز (ملٹری)، ائیر آفیسر کمانڈنگ ناردرن ائیر کمانڈ نے بھی اراک، تحصیل مٹہ میں سیدو شریف ڈیٹ کی جانب سے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ علاقہ مَکِینوں اور سول انتظامیہ نے پاک فضائیہ کی جانب سے بحالی اور امداد کے لیئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

    سیلاب متاثرین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیئے پاک فضائیہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1853 خشک راشن کے پیکٹ، 1960 پانی کی بوتلیں اور 11860 پکے ہوئے کھانے کے پیکٹ تقسیم کیئے۔ مزید برآں پاک فضائیہ کی جانب سے لگائے گئے فیلڈ میڈیکل کیمپوں میں پاک فضائیہ کی میڈیکل ٹیموں نے 3644 مریضوں کا طبی معائنہ بھی کیا۔

  • جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی بھی، شوکت یوسفزئی کی انوکھی منطق

    جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی بھی، شوکت یوسفزئی کی انوکھی منطق

    ترجمان خیبر پختونخوا حکومت شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ امپورٹڈ حکومت سیلاب پر سیاست کررہی ہے، ہمارے جلسے بھی ہوں گے اور سیلاب متاثرین کی بحالی اور امداد بھی کریں گے۔

    شوکت یوسفزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے انفراسٹرکچر پر زیادہ فوکس کیا ہوا ہے، جہاں سیلاب آنے کا خدشہ تھا وہ جگہیں پہلے ہی خالی کرانے کی کوشش کی۔

    انہوں نے کہا کہ شانگلہ،چارسدہ،نوشہرہ،کوہستان اور ٹانک بہت زیادہ متاثر ہوئے، جہاں سیلاب کے خطرات ہیں لوگ ان علاقوں میں واپس نہ جائیں۔ترجمان خیبر پختونخوا حکومتنے بتایا کہ وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔

    شوکت یوسفزئی کاکہنا تھا کہ 102.3 ارب روپے کا خیبر پختونخوا میں نقصان ہوا ہے، 1400 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، ایک ہزار اسکول اور 73 اسپتال سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ سوات میں 34،ڈی آئی خان میں 31 اور وزیرستان میں 17 اموات ہوئیں، جبکہ زخمیوں کو ایک لاکھ 60 ہزار روپے دیے جارہے ہیں۔

    شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وارننگ الرٹ صوبے کے اندر دوبارہ جاری کیا جاچکا ہے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے پاس 2 ہیلی کاپٹر ہیں، ایک ہیلی کاپٹرمیں صرف 3 افراد دوسرے میں 17 افراد بیٹھ سکتے ہیں۔

    ان کاکہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت سیلاب پر سیاست کر رہی ہے تحریک انصاف نہیں، صوبے میں 13 اضلاع آفت زدہ،279 جاں بحق اور6 لاکھ 75 ہزار لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

    ترجمان خیبر پختونخوا حکومت نے کہا کہ ہماری انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں پہلے سے تیار تھیں، 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہےشوکت یوسفزئی

    کے پی حکومت نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے 1200 ملین روپے جاری کیے تھے، وزیراعلی نے کوہستان میں پھنسنے والے5 افراد سے متعلق انکوائری کا حکم بھی دیا ہے،شوکت یوسفزئی

    شوکت یوسفزئی نے شکوہ کیا کہ این ایف آر سی سی میں ہم سے تعاون نہیں ہو رہا۔

  • پنجاب رینجرز کی جانب سے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم

    پنجاب رینجرز کی جانب سے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم

    ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز (پنجاب) میجر جنرل سید آصف حسین کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب رینجرز نے سیلاب ذدگان کے لئے فری میڈیکل کیمپس قائم کیے ہیں۔ جہاں نہ صرف مریضوں کا چیک اپ مفت کیا جا رہا ہے بلکہ ادویات بھی بلا قیمت فراہم کی جا رہی ہیں۔

    فری میڈیکل کیمپس کا قیام صوبہ پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں عمل میں لایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات پر پاکستان رینجرز (پنجاب) نے پنجاب بھر کے مختلف اضلاع میں فلڈ ریلیف کیمپ بھی قائم کیے ہیں تاکہ سیلاب زدگان کی غذائی ضروریات کی تکمیل کے لیے اشیائے خوردونوش، ادویات اور روز مرہ استعمال کی دیگر اشیا جمع کر کے انہیں اپنے مصیبت ذدہ بھائیوں تک پہنچایا جا سکے۔

    اس حوالے سے ڈی جی رینجرز کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور پنجاب رینجرز سیلاب زدگان کی مدد کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گی۔

  • بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی،مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی،مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    پی ڈی ایم اے نے ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیش گوئی کر دی، تاہم جنوبی پنجاب میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے۔

    تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بحیرۂ عرب سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جن کے زیرِ اثر لاہور، راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالا، گجرات، شیخو پورہ، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، حافظ آباد، منڈی بہاؤ الدین، جھنگ اور فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں بارش کا امکان ہے، اس دوران مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

     

    سیلاب کے باعث حادثات، مذید 26 افراد جاں بحق ،11 زخمی

     

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل رکھی ہوئی ہیں۔

     

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

  • 300 یونٹ بجلی استعمال کرنیوالوں کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنیکا نوٹیفکیشن جاری

    300 یونٹ بجلی استعمال کرنیوالوں کیلئے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ختم کرنیکا نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کے کم بجلی استعمال کرنے والے شہریوں کے لئے اعلان کردہ ریلیف پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

    فیول چارج ایڈجسٹمنٹ سے متعلق وزیراعظم شہبازشریف کے حکم پر عملدرآمد کا آغاز ہوگیا ہے، اس ضمن میں منسٹری آف انرجی پاور ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے تحت 300 اور اس سے کم یونٹ استعمال کرنے والےصارفین سے بجلی کے بلوں میں ایندھن کی قیمت وصول نہیں کی جائے گی۔

    تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    وزیراعظم کی ہدایت پر نئے بلوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے، بل ادائیگی کی آخری تاریخ میں توسیع بھی کر دی گئی ہے، نوٹیفیکشن کے مطابق جو شہری بل ادا کر چکے ہیں، آئندہ ماہ کے بلوں سے مطلوبہ رقم کم کر دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اگست کے مہینے کے بلوں میں مہنگے ایندھن کی قیمت شامل کی گئی تھی جس پر شہری سراپا احتجاج تھے۔

     

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

  • سیلاب کے باعث حادثات، مذید 26 افراد جاں بحق ،11 زخمی

    سیلاب کے باعث حادثات، مذید 26 افراد جاں بحق ،11 زخمی

    24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 26 افراد جاں بحق اور11 زخمی ہو گئے.

    این ایف آر سی سی کے مطابق 14 جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 1290 ہو گئی،جاں بحق ہونے والوں میں 570 مرد،259 خواتین اور 453 بچے شامل ہیں،مختلف حادثات میں 12588 افراد زخمی بھی ہوئے،24 جون سے اب تک بلوچستان میں ایم 8 موٹروے پر وانگو ہلز کے 24 کلومیٹر سیکشن پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی،خیبر پختونخوا میں قومی شاہراہ این 50 ساگو پل کے سوا ٹریفک کے لئے کھلی ہے.

    این ایف آر سی سی کے اعداد وشمار کے مطابق ساگو پل کو ملانے کے لئے دونوں جانب سے کام جاری ہے،قومی شاہراہ مدین این 95 بحرین اور لائیکوٹ کے درمیان بلاک ہے،سندھ میں قومی شاہراہ این 55 میہر جوہی نہر سے خیرپور ناتھن شاہ تک ڈوبی ہونے کے باعث بند ہے.

    .سیلاب اور بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ریلوے نیٹ ورک بھی متاثر ہوا ہے،بلوچستان میں کوئٹہ تافتان اور کوئٹہ سبی اور سبی سے حبیب کوٹ تک ریلوے ٹریک بند ہے.پنجاب اور سندھ کے درمیان حیدرآباد سے روہڑی اور ملتان تک ریلوے ٹریفک متاثرہوا ہے.سندھ میں کوٹری سے لکھی شاہ اور دادو تک ریلوے لائن متاثرہے.

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کے سروے کے لئے 29 ٹیمز مصروف عمل ہیں،ٹیمز کوئٹہ، پشین،لورالائی، دکی،سوراب،جعفر آباد، صحبت پور،آواران اور لسبیلہ میں ٹیمز سروے کر رہی ہیں،لسبیلہ، گوادر، قلعہ سیف اللہ، واشک، کوہلو،موسی خیل،زیارت،قلعہ عبداللہ، خضدار اور نصیر آباد میں سروے جاری ہیں.کچھی،سبی،ڈیرہ بگٹی، شیرانی،ژوب،خاران، قلات،مستونگ اور چمن میں بھی سروے کیا جارہاہے،

    این ایف آر سی سی نے قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کی تفصیلات جاری کر دیں ،تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں کوئی ضلع قدرتی آفت سے متاثر نہیں ہوا،بلوچستان میں 31،گلگت بلتستان میں 6 اور خیبر پختونخوا میں 17 اضلاع متاثرہوئے، پنجاب میں 3 اور سندھ میں 23 اضلاع قدرتی آفت سے متاثرہ قرار دیئے گئے ہیں.ملک بھر میں 80 اضلاع بارشوں اور سیلاب کی شکل میں قدرتی آفت سے متاثر ہوئے، آزاد کشمیر میں 53 ہزار 700،بلوچستان میں 91 لاکھ 82 ہزار 616 شہری متاثر ہوئے.

    این ایف آر سی سی کے مطابق خیبرپختونخوا میں 43 لاکھ، 50 490،گلگت بلتستان میں 51 ہزار 500 شہری متاثر ہوئے، پنجاب میں 48 لاکھ 44 ہزار 253 اور سندھ میں 1 کروڑ 45 لاکھ 63 ہزار 770 شہری متاثر ہوئے، جبکہ ملک بھر میں 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار 329 شہری بارشوں اور سیلاب سے متاثرہوئے ہیں.

  • تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا

    پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ میں دریائے سندھ پر واقع تونسہ بیراج سے آنے والا اونچے درجے کا ریلہ سکھر بیراج میں داخل ہو گیا۔انچارج کنٹرول روم سکھر بیراج نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 ہزار کیوسک پانی میں کمی ہوئی ہے، جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح مزید کم ہو گی۔انہوں نے بتایا ہے کہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں 5 لاکھ 44 ہزار 650 کیوسک ریکارڈ ہوئے ہیں۔انچارج کنٹرول روم کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیلاب کی صورتِ حال کے پیش نظر تمام نہریں بند ہیں۔

    دوسری جانب منچھر جھیل پر صورتِ حال مزید خراب ہو گئی جس کے بعد علاقہ مکینوں کو جھیل پر نہ جانے اور قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ منچھر جھیل کو باغِ یوسف کے مقام پر، آر ڈی 14 پر کٹ لگایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں۔علاقہ مکینوں کو جھیل کے قریبی علاقے خالی کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔

    قبل ازیں ڈپٹی کمشنر فرید الدین کا کہنا ہے کہ اس وقت منچھر جھیل پر خطرے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، عوام غیر ضروری طور پر منچھر جھیل کے بند پر نہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ آر ڈی 54 سے آر ڈی 58 تک منچھر جھیل کے بند پر دباؤ ہے، اگلے 24 سے 48 گھنٹے اہم ہیں، منچھر جھیل کو کٹ نہیں لگائیں گے، آخری وقت تک کوشش کریں گے۔

    منچھر جھیل میں طغیانی کے باعث بند پر پناہ لینے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا، طغیانی کی وجہ سے علاقے میں سانپ نکل آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بند آر ڈی 62 پر شہری محمد قاسم ملاح کو سانپ نے کاٹ لیا، متاثرہ شخص کو علاج کے لیے 18 کلو میٹر دور سیہون لے جایا گیا۔

    دوسری جانب ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ دادو میں سیلاب زدہ علاقوں میں تیز ہواؤں کے باعث بندوں میں پانی کی لہریں اٹھنے لگیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جوہی اور میہڑ کے رنگ بندوں پر پانی کی لہروں نے دباؤ بڑھا دیا ہے، جہاں پر بڑی تعداد میں شہری بھی پہنچ گئے ہیں۔

    دوسری جانب ضلع دادو میں میہڑ اور جوہی شہر کے رنگ بندوں پربھی پانی کا دباؤ ہے، شہری بوریوں میں مٹی بھر کر بندوں کو مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔مٹیاری کے قریب روہڑی کینال کے مقام چھنڈن شاخ کا ٹوٹنےوالاگیٹ کئی گھنٹےبعدبھی نہ بن سکا، مٹیاری شہرسمیت قومی شاہراہ زیرآب آنےکا خدشہ ہے۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے.وزیر اعظم مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے کام نگرانی خود کر رہے ہیں،اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے.وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مواصلات اور رابطہ سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے.

    وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہوں کی بحالی کو یقینی بنا رہے ہیں،گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کو بحال کر دیا گیا ہے

    گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ بیشتر قومی شاہراہوں اور موٹر ویز کو بحال کر دیا گیا ہے، قومی شاہراہ N-15 کو مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ، اسی طرح کراچی سے چمن قومی شاہراہ N-25 جو کہ حب سے خضدار تک سیلاب سے متاثر تھی کو بھی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے. قراقرم ہائی وے N-35 جو کہ ٹریفک کے لیے انڈس کوہستان اور ہنزہ کے اضلاع میں بند تھی,کو بھی مکمل بحال کر دیا گیا ہے.

    قومی شاہراہ N-40 کا کوئٹہ -نوشکی سیکشن ، قومی شاہراہ N-45 کا چکدرہ- دیر سیکشن، انڈس ہائی وے N-55 کے راجن پور – تونسہ اور ڈیرہ اسماعیل خان – پیزو سیکشنز ، N-65 کا سبی – کوئٹہ سیکشن، N-70 کا فورٹ منرو سیکشن، N-90 کا الپوری- بشام سیکشن، N-140 کا گلگت-شندور سیکشن اور اسٹریٹجک ہائی وے S-1 کو شنگوس کے مقام پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے.

    تاہم کچھ شاہراہوں پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، قومی شاہراہ N-50 ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن،N-95 فتح پور -کالام سیکشن اور موٹر وے M-8 وانگو ہلز -بانجا سیکشن پر بحالی کا کام جاری ہے ; یہ شاہراہیں بھی جلد ہی ٹریفک کے لیےمکمل بحال کر دی
    جاینگی.

  • عطاء تارڑ، وزیراعظم کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ

    عطاء تارڑ، وزیراعظم کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان لے کر جنوبی پنجاب روانہ ہو گئے.امدادی سامان میں اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کا سامان موجود ہے.

    وزیراعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ نےکہا کہ اللہ پاک کی مدد سے جب تک آخری متاثر شخص اپنے گھر میں آرام و سکون سے نہیں جائیگا تب تک چین سے نہیں سوئیں گے،وزیراعظم شہباز شریف اوران کی ٹیم ساری ٹیم دن رات متاثرین کےریلیف کیلئے کوشاں ہے،ہمیں باتیں نہیں کام کرنا آتا ہے،اوراللہ کے فضل سے کررہے ہیں.

    قبل ازیں اویس لغاری کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں 2 اضلاع مکمل تباہ ہوئے ہیں ،اس سیلاب کے ذریعے زرخیز مٹی نہیں بلکہ ریت آئی ہے ،2 اضلاع میں کم از کم 2 لاکھ گھر مکمل ختم ہو گئے ہیں ،ان اضلاع میں دیہاڑی باز لوگ بھی پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے اصل حقداروں تک امداد نہیں پہنچ پا رہی

    ان کا کہنا تھا کہ سیلاب میں پھنسے عوام تک کشتیوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا تھا لیکن حکومت پنجاب کو کوئی ہوش ہی نہیں ،سیلاب سے پہلے ہی عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا تھا ،آج سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں پر حملے کئے جا رہے ہیں ،آج زمیندار میں کھاد کی بوری خریدنے کی سکت نہیں ہے

    اویس لغاری نے کہا کہ بنکوں کے پاس عوام کو دینے کے لئے قرضے ہی نہیں ہیں ،دیہات میں قرضے دینے کا بنکوں کا رواج ختم ہو چکا ہے ،آئی ایم ایف کے پروگرام کو فیل کروانے کے لئے وار کئے گئے ،اگر وہ وار کامیاب ہو جاتا تو ہم عالمی طور پر ڈیفالٹر ہو جاتے ،آج وقت ہے کہ ہر سیاسی جماعت، ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا معاشی استحکام کے لئے مل کر بیٹھے

    رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ آج کسان کو پیسہ دینے کی ضرورت ہے ،آج بیرونی ممالک سے قرضے ری شیڈول کروانے کی ضرورت ہے ،سندھ کے سٹوروں سے گندم ختم ہو چکی ہے ،اب گندم بیرون ممالک سے امپورٹ کرنا پڑے گی ،ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگ بھوک سے مر سکتے ہیں ،زرعی اصلاحات کے لئے یکجہتی کیسے ہو، اس پر غور کی ضرورت ہے ،ہر علاقے میں پانی جمع کرنے اور دریاوں اور پانی کا بہاو بہتر کرنے کی ضرورت ہے

  • سیلاب متاثرہ اضلاع میں  ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    سیلاب متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پرملک بھر میں سیلاب متاثرین کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے متاثرہ اضلاع میں ہیلتھ کیمپس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے.

    ترجمانِ وزارت صحت کے مطابق کیمپس نیشنل ایمرجنسی آپریشن سیل صوبائی ای اوسیز اور اغاخان یونیورسٹی کے اشتراک سے لگائے جایں گے.

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں تقریبا 1200 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے،ہیلتھ کیمپس میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کی جائیں گی ،کیمپس میں ادویات، اہل بچوں کی ویکسینیشن کی فراہمی کو یقینی بنایں گے.

    وزیرصحت نے کہا کہ جلد کے امراض، آ نکھوں کے انفیکشن، اینٹی ڈائریا کی ادویات بھی فراہم کی جایں گی ، ڈیرہ اسماعیل خان پشاور، ٹانک، کے ہر ضلع میں بھی اسی طرح ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے ، بلوچستان کے 6 اضلاع مجموعی طور پر تین سو کیمپ لگائے جایں گے، بلوچستان کے اضلاع میں لسبیلا جعفر آباد/نصیر آباد، صحبت پور، جھل مگسی، بولان، موسی خیل اور ہرنائی شامل ہیں

    عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ کراچی میں مجموعی طور پر 95 ہیلتھ کیمپ لگائے جائیں گے ،خیبر پختونخوا کے 8 اضلاع ٹوٹل چار سو ہیلتھ کیمپس لگانے جایں گے،ڈیرہ اسماعیل خان پشاور ٹانک نوشہرہ، چارسدہ، سوات، شانگلہ، دیر لوئر شامل ہیں، پنجاب کے 2 اضلاع ڈی جی خان راجن پور ٹوٹل سو کیمپ لگائے جایں گے، اندرون سندھ کے چھ اضلاع میں تین سو ہیلتھ کیمپس لگاے جایں گے ،.سندھ کے اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ/لاڑکانہ، سکھر/خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، سانگر/بدین اور شکارپور/کشمور شامل ہیں.